جمہوریت کی تقدیس پر کچھ چون چرا: عثمان سہیل

0
  • 252
    Shares

حنبلی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شیخ تقی الدین احمد ابن تیمیہ  کے نام اور کام  سے بہت سے قارئین واقف ہوں گے۔  جو ناواقف ہیں ان سے اشتراک کے لیے مختصراً بتاتا چلوں کہ شیخ جو امام ابن تیمیہ کے نام سے زیادہ مشہور ہیں ساتویں صدی ہجری (تیرہویں صدی عیسوی) میں ترکی میں پیدا ہوئے بعد ازاں  تاتاری یلغار کے ہنگام سات برس کی عمر میں اہل خانہ کے ہمراہ بلاد شام کے مرکزی شہر دمشق  منتقل ہوگئے۔  شیخ کا علمی کام  نہ صرف ضخیم ہے بلکہ وسیع موضوعات جیسا کہ عقائد، فقہ، تفسیر، کلام، رد اور سیاست وغیرہ پر مشتمل ہے۔  ان کے کام کی نوعیت اور علمی حیثیت انہیں اسلامی تاریخ کے چند عظیم علماء میں لا کھڑا کرتی ہے۔  دور حاضر میں ان کی وجہء شہرت القاعدہ اور اس نوعیت کی دیگر جماعتوں کا ان کے افکار اور فتوی جہاد سے  اپنی جدو جہد کی تاویل لانا  ہے۔  دوبارہ تھوڑا پیچھے جائیں تو اٹھارویں صدی میں محمد ابن عبدالوہاب  پر بھی شیخ کے افکار کی واضح چھاپ ہے۔  قارئین یہ وہی شیخ وہاب ہیں جن کے مذہبی نظریات سے موجودہ سعودی سلطنت رہنمائی لیتی ہے۔  ستم ظریفی ہی کہیں گے کہ کچھ برس پیشتر اسی سلطنت میں شیخ ابن تیمیہ کی کتب پر پابندی لگا دی گئی۔  بہرحال فارسی قول کے بموجب مملکت کی بہتری کے راز بادشاہ ہی سمجھتے ہیں۔

عثمان سہیل

شیخ اپنی کتاب “ﺩﺭ ﺗﻌﺎﺭﺽ ﺍﻟﻌﻘﻞ ﻭﺍﻟﻨﻘﻞ” جو کہ متکلمین (وہ علماء جو مذہبی امور کو عقلی دلائل کے ساتھ ثابت کرتے ہیں) پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ لوگ عقلی دلائل پیش کرتے ہیں مگر اپنے عقلی استدلال سے اختلاف کرنے والوں کی تکفیر بھی کرتے پائے جاتے ہیں.  جبکہ اس کے بر عکس تکفیر کا تصور الہامی عقائد اور پیغمبر ﷺ کی ہدایات کی مخالفت سے مخصوص ہے۔

کچھ ایسی ہی صورتحال فی زمانہ جمہوریت کے معاملہ میں نظر آتی ہے۔  ہمارے ایک مذہبی دوست جو کہ “خلافت” کے بطور نظام حکومت کسی تصور کے قائل نہیں ہیں تاہم ایک جمہوری وزیر اعظم کیلئے ‘اولی الامر’ کی اصطلاح قرآن سے لاتے ہیں اور غالبا حاکم وقت سے کسی بھی نوع کے نزاع کے قائل نہیں ہیں۔  اگر کچھ بدگمانی کی خود کواجازت دی جائے تو اس عاصی کو شبہ ہے کہ یہ اصطلاح وہ اپنے پسندیدہ سیاسی رہنماء کے لیے ہی پسند فرماتے ہیں۔  پانامہ کے ہنگامہ سے قبل ایک سیاسی جماعت کی طرف سے  دھرنا ہنگامہ کا اعلان ہوا۔  جسے چند حکومتی سیانوں نے بھی دل و جان سے کامیاب کرنے کی ٹھانی اور ہمیں اسلام آباد میں جگہ جگہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار دھرنا دیتے ہوئے نظر آئے۔  انہی دنوں کی بات ہے کہ ہمارے ایک دوست جو سوشل میڈیا پر بھی نہایت متحرک ہوا کرتے تھے ان کی ‘جمہوریت مخالف’ عناصر، جن میں مرئی و غیر مرئی ہر دو اجناس کی مبینہ نمائندگی کا ذکر تھا،  پر ایک تحریر نظر آئی۔  موصوف نے ان ‘مذموم’ عناصر کے خاندانوں کی زنانہ اراکین پر کھلا حملہ کیا جس سے آپ موصوف کے جذبات کی شدت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔


پارلیمانی جمہوریت الہامی تقدیس کی حامل نہیں ہے جس پر بات کرنا کفر ہو۔  اس کے تحت تشکیل پانے والی حکومت کے پس پشت کوئی بڑی وسیع عوامی حمایت یا المعروف ہیوی مینڈیٹ کا سراغ بھی نہیں ملتا۔ چنانچہ آپ شوق سے اس ٹھنڈے ماحول کے عادی پارلیمانی جمہوریت نامی پودے کے قلم کی دیسی گرم ماحول میں آبیاری کریں، لیکن اسے باغ بہشت کا پودا بتا کر اس کے ساتھ مقدس کی تختی مت لگائیے


جیسا کہ اکثر لوگ جانتے ہیں فی زمانہ جمہوریت بھی بھانت بھانت کی اقسام میں دستیاب ہے جن میں پارلیمانی، صدارتی اور اور کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر پارلیمانی و صدارتی کے بین بین کچھ نظام ہائے حکومت بھی جمہوریت کے نام سے نافذ ہیں۔ جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ یہ تمام نظام مغرب سے ہی آئے ہیں۔  اسی طور سے ہمارا پارلیمانی نظام حکومت برطانیہ سے ایسے ہی نازل ہوا تھا جیسا کہ تاج برطانیہ کی افواج۔ یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ  ہمارے اجداد یا علمائے مذہب کا برصغیر میں  اس طرز حکومت کی آمد میں کچھ خاص خواہش کا عمل دخل ہوگا یا اس طرز حکومت کی ترقیوں میں بھی کچھ کردار تھا۔

برصغیر میں پہلی سیاسی جماعت کی بنیاد بھی ایک فرنگی نے ہی رکھی تھی۔ غالبا اس پیش رفت  کے پس پردہ  بھی اہل فرنگ کی  برصغیر کے “پسماندہ عوام” کوترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کی نیک نیتی شامل تھی۔  بالکل  ویسی ہی جیسا کہ چند فرنگیوں نے محمد حسین آزاد مرحوم مغفور کی معاونت سے  اردو زبان کو فطرت سے ہم آہنگ کرکے شاہراہ افادیت  پر بگٹٹ بھاگتے دیکھنے کی آرزو کی تھی۔  اس سارے پس منظر میں یہ عاصی پُرمعاصی سمجھنے سے قاصر ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت اور ووٹ کیلیے بالترتیب تقدیس اور حرمت کی اصطلاحات کیسے منسلک ہوگئی ہیں۔ کیا یہ صدر ضیاء الحق کی اسلامائزیشن کے زیر اثر ہمارے دانشور نہاد صحافیوں اور نیم ادیبوں کے دماغوں میں سرایت کر گیا ہے۔  امید کی جاسکتی ہے کہ ایسے کسی تعلق کی کھوج کبھی نہ کبھی محققین کی دلچسپی کا باعث ضرور بنے گی۔

“جمہور پسندوں” کے قلب و ذہن میں  جمہوریت کے تقدس کی ایک وجہ “عوام کی منتخب کردہ حکومت” کا تصور (notion) بھی ہوسکتا ہے۔ آئیے پاکستان الیکشن کمیشن کے مہیا کردہ اعداد شمار پر ایک نظر دوڑا کر ریاضی کے ایک سادہ کلیے کا اطلاق کرکے دیکھتے ہیں۔  ازبسکہ  ریاضی کو فلسفہ میں بالعموم a priori یعنی حسیات کے دھوکے سے پاک  کافی پکا ٹھکا علم سمجھا جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق  2013 کے چناؤ میں 8 کروڑ 42 لاکھ کے لگ بھگ ووٹرز الیکشن کمیشن  کی فہرست میں  تھے یعنی 18 کروڑ آبادی  کا قریب نصف۔ کل ووٹرز میں سے 4 کروڑ باسٹھ لاکھ .ووٹ (55٪) نے رائے دہی کا اپنا حق استعمال کیا جن میں سے 1 کڑوڑ 48 لاکھ ووٹ موجودہ حکمران جماعت نے لئے جو کہ کل آبادی کا محض ٪8 ہیں۔  کل آبادی میں نابالغ افراد بھی شامل ہوتے ہیں اس لیے  ہم “منتخب حکومت” کی تائید کا کل اندراج شدہ ووٹوں سے تناسب دیکھ لیتے ہیں مگر یہ بھی بس ٪18ہی  ہے۔  دوستوں کا معاملہ ہے کچھ بڑھانا پڑے گا  لیکن یہ کیا ! کل آبادی کے حق رائے دہی استعمال کرنے والے ایک چوتھائی نفوس میں سے بھی اس منتخب حکومت کو بس ٪32 ہی ملے۔

مندرجہ بالا دو گذارشات پیش کرنے کا مقصد بھی  دو باتوں کی نشان دہی کرنا تھا۔  اول پارلیمانی جمہوریت الہامی تقدیس کی حامل نہیں ہے جس پر بات کرنا کفر کے برابر ہو۔  دوم اس کے تحت تشکیل پانے والی حکومت کے پس پشت کوئی بڑی عوامی حمایت، المعروف ہیوی مینڈیٹ کا سراغ بھی نہیں ملتا۔  چنانچہ آپ شوق سے اس ٹھنڈے ماحول کے عادی اور پروردہ پارلیمانی جمہوریت نامی پودے کے قلم کی دیسی گرم ماحول میں آبیاری کریں لیکن اسے باغ بہشت کا پودا بتا کر اس پر مقدس کی تختی مت لگائیے۔  یہ ہرا نہ ہو یا ثمر آور نہ ہو تو اس پر اپنے یا دوسروں کے بال نوچنے کی چنداں ضرورت نہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: