قندیل بلوچ: ہم نے منافقت اوڑھی اور ریاست نے خاموشی

0
  • 63
    Shares

ہر نئی بات/ٹرینڈ کی خبر ہمیں تب ہوتی ہے جب وہ پرانی ہونے کے بلکل قریب ہوتی ہے۔ حتی کے سوشل میڈیا کے “وائرلز” بھی ہمیں اینٹی ڈوٹ کے آجانے کے بعد پتا چلتے ہیں عموما۔
وہ بھی ایسا ہی ایک “ٹرینڈ” تھا۔
یونہی ہم نے ایک دن کورس کی کتابوں سے گھبرا کہ نیوز چینلز سے اکتا کہ اور خود سے بیزار ہو کہ اینٹرنیمنٹ چینل لگایا تو وہاں “خبریں” چل رہی تھیں۔
کسی سوشل میڈیائی خاتون کی۔ جو اپنی سیلفی وڈیوز پوسٹ کیا کرتی ہے اور پھر اس پر “داد” پاتی ہے۔
اریٹیٹ ہونا تھا سو ہوئے لیکن اگنور کرنا ہی مناسب تھا سو کیا۔ یوں بھی بہت سے معاملات پر ہم لب نہیں کھولتے وجہ یہ کہ ہم نہیں سمجھتے ہماری رائے اسقدر اہم ہے کہ اس کا لازمی اظہار کیا جائے۔
خیر یہ تو تھی ایک ضمنی بات ہم نے خاتون کو دیکھا تو نہیں لیکن نام سنا اور پھر اگلے کئی ہفتے خاتون کی خبروں سے ہمارے سوشل میڈیا کے نیوز فیڈز بھرنے لگے۔ بہت سے دوست ان کی پوسٹس شئیر کرنے لگے۔وڈیوز فوٹوز ان کے خیالات۔
اس پر ویسی ہی کوفت ہوئی جیسی ایک لیڈی کو ہونی چاہیے۔ جو یہ سمجھتی ہے کہ نیوڈٹی کسی جبر زیادتی ظلم کا جواب نہیں ہوسکتی۔ اور جو یہ سمجھتی ہے ری ایکشن کی نفسیات کبھی مسائل حل نہیں کرتی۔
ذہن میں کوفت دل میں چڑ بھرتی گئی اور نیوز فیڈ میں #قندیل_بلوچ۔ وہ جو فوزیہ تھی میاں والی میں اپنے ابا کی فوزیہ۔
وہ شہروں میں آئی تو خبر ٹہری جلتی ہوئی خبر۔
کبھی مبشر لقمان کے پروگرام میں ان کا کندھوں سے گرتا شرگ تو کبھی کمرے میں موبائل کا ان کے ہاتھوں سے دانستہ پھسلتا کیمرہ۔ تو کبھی گاڑی کے بونٹ پہ بیٹھی دو پونیاں بنائے ٹریک سوٹ پہنے چلا چلا کر اظہار محبت کرتی کیمروں کے ذریعے ٹی وی پر آتی ہوئی۔
ہر روز خاتون ایک نئے کرب میں مبتلا کرتی جاتی تھیں۔ کسی بھی انسان کے لیے باشعور انسان کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ یہ نارمل حرکتیں نہیں ہیں۔ کوئی ڈور کہیں الجھی ضرور ہے ورنہ گھر کا سکھ کون روندتا ہے؟ اگر سکھ ہو تو__
یہ بھی دل چاہا کہ کاش کوئی ایسا ہو جو پکڑ کے بیٹھا لے پاس اور نرمی سے الجھے ہوئے ریشم کو سلجھا دے۔
ایک انسان جیتا جاگتا وجود اپنے تماشے کے اسباب کرتا پھرے اس پر مستزاد تماشائیوں کو سہولت مہیا کرے۔ تو یقینًا کہیں اندر ہی اندر بارش تو ہوتی ہوگی جو وہ اتنی دھند جمع کر بیٹھی تھی اپنے اردگرد۔
کوئی بھی شر کی فطرت لے کہ پیدا تو نہیں ہوتا نا۔
لیکن ہمیں یہ سمجھ آنا تھا نہ آیا۔ ہمیں شعور آگہی سمجھ عقل کچھ نہیں آتی۔ قومی حثیت میں اگر کچھ آتا ہے تو وہ نام نہاد غیرت ہی ہوتی ہے۔
دل چاہتا ہے “غیرت مندوں” کے چہروں سے نقاب نوچ ڈالوں سو گدھوں کے چہرے یہ قوم دیکھ بھی لے جان بھی لے پہچان بجی۔
لیکن پھر اپنے اصل چہرے سے ڈر لگتا ہے سو ارادہ بدل کے مجموعی منافقت کا حصہ بن کر مچھیروں کی بستی کی رکنیت پہ فخر کرنے لگتی ہوں۔
مجھے نہیں پتا کونسی قوت مجھ سے یہ لکھوا رہی ہے۔ لیکن بہر کیف مجھے لکھنا ہے سو لکھ رہی ہوں۔ جیسے کوئی چراغ جلا کہ سر راہ رکھنے کی ڈیوٹی پہ مامور ہو۔ پھر چراغ جانے ہوا جانے اور راہی جانے۔

جب تک وہ زندہ تھی میرا اس سے صرف ہدایت کی دعا کرنے کا تعلق تھا جس کی مجھ سمیت سب کو ضرورت ہے۔
نہ کبھی وال پہ گئی نہ پیج پہ نہ کوئی وڈیو دیکھی۔ بہت سے لوگوں کو البتہ ان فالو ضرور کیا جو ان کی وڈیوز پہ گدھوں کی طرح منڈلاتے اس کو اسکی “اوقات” یاد کرایا کرتے تھے۔
لیکن خاتون سے اتفاق کی کوئی صورت کبھی بھی نہ رہی۔ پھر ایک دن چینلز نے چینختے چنگاڑتے خبر دی کہ فقیہ شہر “طوائف” کے “کوٹھے” پہ جا پہنچا ہے۔ اب تو اسے “مسلمان” کر کے ہی چھوڑا جائے گا/ حواریوں نے جام محبت لٹائے۔ کل تک اس کے جہنم کے ٹکٹ بانٹتے آج اسے حلقہ ارادت میں شمار کرنے لگے۔
لیکن کیا ہونا تھا کیچڑ میں صرف کنول ہی دامن داغدار ہونے سے بچا سکتا ہے۔ پتا ہے کیوں؟ کنول “میں ” کے بوجھ تلے دبا ہوا نہیں ہوتا۔
اب کی بار “طوائف کی بن آئی کلاہ و دستار اچھلنے لگے کوٹھے کی نائیکاؤں سے چہروں والے بہت سے جام عشرت لٹانے لگے۔فقیہ شہر کی دستار اچھلتے دیکھ کر حواریوں کی زبانیں زہر اگلنے لگیں۔ فاحشہ ہے بدکردار مارڈالو۔
زانی ہے جہنمی مارڈالو
پردہ نہیں کرتی جسم دکھاتی ہے مار ڈالو
غیر مرد کو دیکھ کے مسکراتی ہے مار ڈالو
بھائی عزت دار ہے غیرت والا
اسے مار ڈالے۔

اور مار دی گئی۔
ایک جیتا جاگتا وجود لاش بن گیا۔

یہاں اس لے لیے ہمدردیاں نہیں سمیٹنی مجھے نہ اسے فینٹسائز ہی کرنا ہے۔
لیکن یہ ضرور کہنا ہے جس نے مارا ہے جو وجہ بنے جس کسی نے فوزیہ کو قندیل بنایا وہ سب مجرم ہیں سب قاتل۔
ایک انسان لاش بنا دیا گیا۔ غیرت کا پرچم سر بلند ہوا بے غیرت مر گئی۔
فقیہ شہر نے کہا عورتوں کو اس کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ سب نے آمین کہا۔
ہم نے منافقت اوڑھی اور ریاست نے خاموشی۔
خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔
لفظ تھم نہیں رہے جملے رک نہیں رہے۔ لیکن کوئی کب تک الجھی ہوئی زلفوں کو سنوار سکتا ہے؟
یوں بھی اب صرف یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ قندیل رب تمہاری منزلیں آسان کرے اور تمہارے حق میں دعائیں قبول فرمائے
آمین۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: