چہروں کی تبدیلی کا نظام: متناسب نمایندگی

1
  • 433
    Shares

پاکستان کے اقتدار پر جرائم پیشہ ٹولے کا قبضہ ہے۔ یہ دھائی تو ہم آئے روز دے بھی رہے ہیں اور سن بھی رہے ہیں۔ کیا یہ انتخابات کے ذریعے اقتدار اور اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں؟ یا شاندار انتخابی انجنئیرنگ election    engineering کے ذریعے، ایک مستحکم نظام کے تحت قوم پر مسلط کیے جاتے ہیں؟ جس میں عوام الناس کی حثیت بس تماشائی کی ہے؟

یقینا”!!!

 یہ سارے اقتدار تک ایک انتہائی مستحکم و منظم، اور 70 سالوں سے جمی جمائی حکمت عملی کے تحت ہی پہنچائے جاتے ہیں۔  یہ سارا نظام پاکستان کو حقیقی قیادت سے پاک رکھنے کے لیے نہایت عرق ریزی سے بنایا گیا ہے۔ اور اس مشن میں پاکستان کے پریس و میڈیا مالکان نے پوری یکسوئی اور جانفشانی کے ساتھ تعاون کیا۔

کیونکہ!!!

ایسا کرنا انکی لازمی ضرورت تھا اور انکا مفاد اسی میں تھا کہ وہ ایسے لوگوں کی سرپرستی کریں جو لاقانون absolute     secular    &    lawless ہوں، اور انکے میڈیائی محلات media    empires بنانے میں وہ ہر ہر طرح ان پریس و میڈیا مالکان سے صبح و شام تعاون کریں۔ اور تعاون کے نتیجے میں پریس و میڈیا مالکان اور پاکستان کی پست اور زرد صحافت انہیں قومی و عوامی لیڈر کے مرتبے پر سرفراز فرمائے۔

مملکت خدادا کی صحافت شکم و شہوت کےگرد ناچنے والی صحافت ہے۔

قصہ مختصر!!!!

مملکت خداداد میں “کام کے چہروں” کو ڈھونڈ ڈھونڈ کو پروان چڑھایا گیا، وہ چہرے جو اس کرپشن کے نظام کی ہر طرح سے مضبوطی اور دوام کا سبب بنیں۔

اور پھر!!!

گنتی کے ان انتہائی چند چہروں کے الٹ پھیر کا نام رکھا گیا “انتخابات”

ان چہروں کے اپنے اپنے “قلعے” ہیں جنہیں پست صحافت نے انتہائی معصومیت سے بتایا “آبائی حلقے”، اور ان چہروں کے کلب بنے جنہیں پست صحافت نے قوم کو “سیاسی پارٹی” بتایا۔

لیکن ملک میں مقتدر کوئی اور ہیں!!!

دکھاوے کا انتخابی سرکس ہم 70 سالوں سے تو دیکھ ہی رہے ہیں اور اسکا زہر بھی بھگت رہے ہیں۔

سوال؟؟!!!

اب آپ ہی بتائیں کہ انتخابات کے نام پر، گنتی کے چند چہروں کی تبدیلی کا یہ سرکس پاکستان کے پریس و میڈیا مالکان کے تعاون سے مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اور کب تک چلے گا؟؟ 70 سال تو ہو چکے اس کو۔

پھر سوال؟؟؟!!!

کیا اس انتخابی نظام سے جو ملک میں پچھلے 70 سالوں سے رائج ہے، جما ہوا ہے، مستحکم ہے۔ ہم ان چہروں کی تبدیلی کے سرکس سے چھٹکارا پا سکتے ہیں؟؟؟

یقینا نہیں کبھی نہیں!!!

تبدیلی کی ابتدا ملک میں اس انتخابی نظام کی مکمل تبدیلی سے ہونی ہے۔ چہروں کی تبدیلی کے نظام کو جڑ سے اکھاڑنا پاکستان کی اولین ضرورت ہے۔

اور وہ!!!

ملک کو ایسے اتخابی نظام سے ہی حقیقی قیادت مل سکتی ہے جس میں چہروں کو ووٹ نہ ڈالے جاتے ہوں۔

ایک ایسا انتخابی نظام جس میں ووٹر جماعتوں کو ان کے پروگرام اور ان کے ملکی کردار کو سامنے رکھ کر، اس جماعت کو ووٹ ڈالے۔ ووٹر چہروں کو ووٹ نہ ڈالے۔

اور ایسا انتخابی نظام “متناسب نمایندگی” کہلاتا ہے۔ Proportional     Representation

متناسب نمایندگی میں ووٹر کو چہروں سے کوئی سروکار نہیں ہو گا۔ ووٹر نے فقط پارٹی کو ووٹ ڈالنا ہے… اور بس۔ اس طرح چہروں کے تبدیلی کے سرکس کی چھٹی ہو جائے گی۔

کیا متناسب نمایندگی کا طرز انتخاب کوئی نئی، انہونی اور اچھوتی بات ہے؟؟؟!!!

بالکل نہیں!!!

کم و بیش 80 ممالک میں اس وقت متناسب نمایندگی کا نظام ان ممالک کے اپنے اپنے حالات کے تحت ڈھال کر Tailored     to    the    need    of    their country    scenario     and    national    conditions رائج کیا گیا ہے، کہ اس طریقہ انتخاب سے عوام الناس کی حقیقی نمایندگی ہوتی ہے اور حقیقی عوامی نمایندے مراکز اقتدار و اختیار تک پہنچتے ہیں۔

ان ممالک میں کسی نہ کسی طرز پر متناسب نمایندگی کا نظام ان ممالک کے حالات کے مطابق ڈھال کر اس لیے نافذ کیا گیا ہے کہ وہاں پوری دیانت داری سے حقیقی عوامی نمایندگی ہی مطلوب و مقصود ہے۔ جبکہ پاکستان میں چہروں کے کھلواڑ کا انتخابی سرکس چلانا اور پھر کرپشن کے نظام کے کولہو میں عوام کو پیسنا مقصود ہے۔

متناسب نمایندگی میں تمام بڑے بڑے نقطہ ہائے نظر چاہے وہ اکثریت میں ہوں یا اقلیت میں ان کی صحیح نمائندگی ہو جاتی ہے اور پارلیمنٹ قومی رائے عامہ کی سچی تصویر پیش کرتی ہے۔

متناسب نمایندگی ایک ایسا طرز انتخاب ہے کہ اس سے ووٹ کسی کا ضایع نہیں ہوگا پارٹی سربراہان اپنے نمائندگان کی فہرست الیکشن کمیشن کو فراہم کردیں، اس طرح جو پارٹی جتنے ووٹ حاصل کرتی ہے اسکے تحت جتنی نشستیں بنتی ہیں وہ اسے دے دی جائیں اس طرح نہ تو ووٹ ضائع ہونگے اور نہ ہی کوئی پارٹی جو سٹریٹ پاور رکھتی ہے پارلیمنٹ میں نمایندگی سے محروم ہوگی۔ اس سے ملک میں جمہوریت بھی مضبوط ہوگی اور سیاسی پارٹیاں بھی مضبوط ہونگی۔

ہر شخص کو پتہ ہو کہ وہ جس جماعت کو بھی ووٹ ڈالے گا اس کا ووٹ ضائع نہیں ہوگا۔ سیاسی جماعتیں اپنے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے پہلے سے مہیا کردہ لسٹوں کے مطابق پارلیمنٹ میں نمایندگی حاصل کر سکیں گی۔

جب اقتدار کی مسند پرفائز لوگ حقیقی عوامی حمایت یافتہ نہ ہوں تو پھر عوام کے مسائل بھی ان کی زبان پر نہیں ہوتے۔

پاکستان میں ایسی کئی سیا سی پارٹیاں ہیں جن کی عوام میں نفوس پزیری قابل قدر ہے لیکن اسمبلی میں ان کی آواز نہیں پہنچ پار ہی ہے۔ یا اگر ان کو سیٹیں ملتی بھی میں تو بہت کم۔

اس لیے متناسب نمایندگی کے نظام کو اچھی طرح جانتے ہوئے بھی، پاکستان کا پریس و میڈیا اس پر سانس بھی نہیں لیتا۔

کہیے کیا خیال ہے آپکا؟؟؟

چہروں کی تبدیلی کا سرکس یا متناسب نمایندگی کا طرز انتخاب؟؟؟

اور ہاں خاطر جمع رکھیں پاکستان کا پریس و میڈیا اس موضوع پر کبھی بھی مجمع نہیں لگائے گا۔ اور کبھی اس موضوع پر بات کی بھی تو ان لوگوں کو اس کے حق میں دکھائے گا جو اس پر بات کرنے کی صلاحیت ہرگز نہیں رکھتے.

———————————-

متناسب نمایندگی کیا ہے؟

متناسب نمایندگی سے مراد یہ ہے کہ جوسیاسی پارٹیا ں یا گروپ جتنے ووٹ حاصل کرتے ہیں اسی تنا سب سے پارٹیوں میں سیٹوں کی تعداد تقسیم کردی جاتی ہے مثال کے طور متناسب نمایندگی کے نظام کے تحت اگر 30%ووٹروں نے کسی خاص پارٹی کی حمایت کی ہے تو 30%سیٹوں کی جیت اس پا رٹی کی ہو گی۔

متناسب نمایندگی کے طریق انتخاب میں انتخاب میں حصہ لینے والی جماعتیں اپنے اپنے نمایندگان کی فہرست بنا کر الیکشن کمشن کو پیش کر دیتی ہے اور پھر ووٹ کسی فرد کی بجائے ان کی جمع کردہ فہرست کو سامنے رکھ کر جماعتوں کو ڈالے جاتے ہیں۔

سیاسی پارٹیوں سے ان کے منشوروں میں ان کے مجوزہ نمایندوں کے کوائف بھی شائع کروائے جائیں تاکہ عوام ہر پارٹی کے ترقیاتی پروگرام اور ان کے نمایندوں کے کوائف (لیاقت) دیکھ کر پارٹی کو ووٹ دیں۔

الیکشن کمیشن ایسے ناموں کی فہرستیں موصول ہونے کے بعد ان تمام افراد کو اپنے آئین میں درج شرائط رکنیت کے مطابق پرکھے، جو پورا اترتاہے، رکنیت کا استحقاق اسے ہی ملنا چاہیے۔

پارٹی اسمبلی کے لئے اپنے ارکان منتخب کرنے کے لئے باقاعدہ ”انٹرا پارٹی الیکشن“ کروائے اور اس کی نگرانی بھی الیکشن کمیشن کرے۔

اگرچہ اس طریق انتخاب میں پورا ملک بھی ایک حلقہ قرار پا سکتا ہے لیکن ہمارے حالات میں یہ مناسب ہے کہ ہر صوبہ ایک حلقہ انتخاب قرار پائے اس سے چھوٹے صوبوں کے متاثر ہونے کا کوئی خدشہ نہیں رہے گا۔ پھر ہر صوبہ میں جو جماعت جتنے ووٹ لے گی اس کے تناسب سے اسے صوبہ میں اور مرکز میں سیٹیں مل جائیں گی۔

ورنہ مجموعی گنتی ہو تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک صوبے سے ایک جماعت کو بھاری تعداد میں ووٹ ملیں اور باقی صوبوں میں اسے کم سے کم ووٹ پڑیں تو تناسب کے حساب سے اس جماعت کے رکن بن جائیں گے، لیکن یہ نمایندگی مکمل نہیں ہوگی.

اس نظام سے جماعتیں ایک مخصوص علاقے یا خطے کی بنیاد پراپنا پروگرام ترتیب نہیں دے سکتیں بلکہ انھیں پورے ملک اور پوری قوم کو سامنے رکھ کر اپنا پروگرام وضع کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ انتخابی نظام میں آپ نے اکثردیکھا ہوگا کہ بعض حکومتیں اپنی مرضی سے اس اندازمیں حلقہ بندی کرتی ہیں جو ان کے فائدہ میں ہوتی ہیں اور مخالفین کے لئے نقصان دہ۔ تاہم متناسب نمایندگی کا نظام ایسی بدعنوانیوں کو روکتا ہے۔

متناسب نمایندگی کے طریق انتخاب میں دھاندلی اگر بالکل ختم نہ بھی ہو تو بڑی حد تک بے اثر ہو جاتی ہے۔ متناسب نمایندگی میں چونکہ فیصلہ حلقہ انتخاب کے تمام ووٹ جمع ہونے کے بعد متعلقہ فہرست کے مطابق ہوتا ہے لہٰذا ذاتی مفاد کی بنا پر ہونے والی دھاندلی کا امکان نہیں رہتا۔

ہمارے ملک کا ایک بڑا مسئلہ ماضی کا جاگیردار طبقہ ہے جسے انگریز اپنا وارث بنا کر چھوڑ گیا ہے۔ قوم کے دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ ملکیت اراضی کی اصلاحات کے باوجود یہ طبقہ ابھی تک ملک پر مسلط ہے۔ اگر کسی بھی اسمبلی کے ممبران کا جائزہ لیا جائے تو بڑی تعداد اسی طبقہ میں سے نکلے گی۔ اب اس طبقہ میں نیا سرمایہ دار طبقہ بھی شامل ہوگیا ہے جو الیکشن میں پیسہ پانی کی طرح بہاکر اسمبلی میں پہنچ جاتا ہے۔ متناسب طریق انتخاب میں چونکہ اپنے نمایندے سیاسی جماعتیں نامزد کرتی ہیں اور ووٹ سیاسی جماعتوں کو ڈالے جاتے ہیں لہٰذا یہ دونوں طبقات جاگیردار اور سرمایہ دار اپنے صحیح مقام سے آگے بڑھ کر غیر متناسب نمایندگی حاصل نہیں کر سکیں گے۔

ایک رپورٹ کے مطابق

الیکشن 2013ء میں کل 14.8 ملین ووٹ لے کر مسلم لیگ نون کو قومی اسمبلی میں 126 نشستیں (سیٹس) ملتی ہیں جبکہ مسلم لیگ نون کے کل ووٹوں کے آدھے سے بھی تھوڑے زیادہ یعنی 7.6ملین ووٹ لے کر تحریک انصاف کو صرف 28 نشستیں ملیں۔ اگر پاکستانی قوم کی رائے اور تناسب دیکھیں تو پھر تحریک انصاف کی کم از کم مسلم لیگ نون سے آدھی نشستیں ہونی چاہئیں۔ لیکن اس عجب نظام میں ایسا ہے نہیں۔ مزید غور کریں کہ ان دونوں جماعتوں سے بھی کم یعنی 6.9 ملین ووٹ لے کر پیپلز پارٹی کو 32 نشستیں ملیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی کے تحریک انصاف سے ووٹ کم، مگر نشستیں زیادہ ہیں۔ پیپلزپارٹی کی نسبت پاکستانیوں کی زیادہ تعداد تحریک انصاف کو پسند کرتی ہے مگر نشستیں پیپلزپارٹی کی زیادہ ہیں۔

مزید حیرانی تب ہوئی جب ”متحدہ دینی محاذ“ کو مختلف حلقوں سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ ووٹ ملے لیکن ان کا ایک بھی رکن قومی اسمبلی تک نہ پہنچ سکا یعنی ساڑھے تین لاکھ لوگوں کی رائے کو فراموش کر دیا گیا جبکہ قومی وطن پارٹی (شیرپاؤ) کو تقریباً سنتالیس ہزار ووٹ ملے اور ان کا ایک رکن قومی اسمبلی تک پہنچ گیا۔

نظام کی صرف یہی ایک خرابی نہیں کہ عوام کی متناسب نمایندگی نہیں ہوتی اور کم ووٹ لینے والا زیادہ نشستیں حاصل کر جاتا ہے بلکہ اس نظام میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی رائے کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔

اسی بنا پر زمینی حقائق یوں بن چکے ہیں کہ لوگ، خاص طور پر دیہاتی لوگوں کی اکثریت نئے امیدواروں کو ووٹ اسی لئے نہیں دیتے کہ اس نے کونسا جیتنا ہے، اس لئے اسے ووٹ دے کر ووٹ ضائع نہ کیا جائے۔ پاکستان الیکشن 2013ء میں یہ بات بہت زیادہ لوگوں سے سننے میں آئی ہے کہ فلاں بندہ تو بہت اچھا ہے اور ووٹ کا حقدار بھی ہے مگر وہ ”سردار صاحب“ سے جیت نہیں سکتا اس لئے اسے ووٹ دے کر ضائع نہ کریں۔

فرض کریں مسلم لیگ کو 12، تحریک انصاف کو 10 اور پی پی کو 8 ووٹ ملے۔ یوں مسلم لیگ جیت گئی۔ لیکن دیکھا جائے تو مسلم لیگ کو 12 لوگوں نے پسند کیا ہے جبکہ 18 لوگوں نے مسلم لیگ کو ناپسند کرتے ہوئے دوسری پارٹیوں کو ووٹ دیا ہے۔ اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پسند کرنے والے تھوڑے اور ناپسند کرنے والے زیادہ ہوں اور تب بھی وہ پارٹی جیت جائے؟

متناسب نمایندگی کے لئے آئین میں ترامیم ضروری ہے اور اس کے طریق کار پر ملکی ضرورت کو دیکھتے ہوئے طریق کار طے کیا جا سکتا ہے جو ہمارے حالات اور ضرورتوں کے مطابق ہو۔

ہماری اس آواز میں اپنی آواز شامل کیجیے تا کہ اس آواز کو توانا بنا کر ہر شخص تک پہنچایا جائے۔

اچھا ایک اہم سوال؟؟؟!!!

کیا میں، آپ، ہم سب مثبت تبدیلی کے لیے سنجیدہ اور واقعتا تیار ہیں؟؟؟

مثبت تبدیلی کوئی بجلی کا سوئچ نہیں ہے جسے آف سے آن کر دیا جائے تو سارا پاکستان روشن اور منور ہو جائے گا۔ ساری برائیاں اور خرابیاں و جرائم دھڑام سے نیچے آ رہیں گی۔ ان تمام خرابیوں کی جڑ ہمارا قومی اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ اور موجودہ نظام میں اسکا سدھار دیوانے کا خواب ہے۔

مثبت تبدیلی کی طرف پہلا قدم متناسب نمایندگی کا نظام ہے جس کے ذریعے حقیقی عوامی قیادت کو اقتدار تک پہنچانا ہے۔

یاد رکھیں خالی خولی نعروں سے تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ مسائل کا ادراک کر کے قابل عمل حل نکال کر جب تک اسے بروئے کار نہیں لایا جائے گا، تبدیلی کا نعرہ صرف نعرہ ہی رہے گا

کچھ اور احباب مل کر انتخابی اصلاحات کو متناسب نمایندگی سے مشروط کرنے کی ایک مہم چلانے جا رہے ہیں جو کہ ایک انتہائی مثبت، اہم، ضروری اور بروقت قدم ہے۔ آئیے انکا ساتھ دیں۔ انکی آواز میں اپنی آواز کو شامل کر کے اس تحریک کی آواز کو توانا کریں۔

آئیے قوم کو بیدار کریں، ان کی تربیت کریں، انہیں منظم کریں۔۔ ورنہ اپنے بچوں کو تازہ و توانا غلامی میں دے کر رخصت ہونے کی تیاری کریں…

فیصلہ آپ کا ہی ہوگا!!!

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: