مٹی کے پتلے: امّاں … شکور پٹھان

1
  • 179
    Shares

“اے بہن میں کیا کروں گی۔ بڑے میاں کے ہاں بھجوادو۔ “امّاں نے حسب معمول خود سے زیادہ ضرورت مند کو پیش کردیا۔

امّاں بڑی ہی عجیب تھیں۔ جانو انہیں کسی چیز کی حاجت ہی نہیں۔ ایسی غنی طبیعت کہ دنیا کی ہر ضرورت سے بے نیاز۔ کبھی کسی سے اپنی کسی احتیاج کا ذکر نہیں کیا۔ کسی نے کچھ دیا تو جھٹ کہیں اور پہنچا دیا۔

امّاں جگت امّاں تھیں۔ ان کی بھی امّاں تھیں جو خود امّاں سے بڑھ کر دادی اور نانی بن گئیں تھیں۔ ہم بچوں کی تو امّاں تھیں ہی لیکن ہمارے امی ابا بھی انہیں اماں ہی پکارتے تھے۔ آس پاس کے دکان والے، کنجڑے، قصائی، دودھ دہی والے ، غرض جس کسی کے سامنے سے گذرتیں اماں سلام علیکم، اماں کیسی ہو، اماں کہا جارہی ہو کی آوازیں سنائی دیتیں۔اماں کا چھوٹا سا صحن ہم بچوں کا مدرسہ بھی تھا اور کھیل کا میدان بھی۔ شام کو اسی صحن میں کبھی کوئلے سے خانے کاڑھ کر اور ٹھیکرے خانوں میں پھینک کر” پہل دوج” کھیلی جاتی، کبھی لڑکیاں بالیاں پڑھائی سے فارغ ہو کر ” گئے” کھیل رہی ہوتیں، یا دوپٹّے کمر کے گرد لپیٹ کر اور شلوار کے پائنچوں کو اونچا اڑس کر رسی کود رہی ہوتیں۔ یا کبھی ہم بچے زمین پر آلتی پالتی مارے گھیرے میں بیٹھ کر “اکڑ بکڑ بمبے بو ” کھیل رہے ہوتے۔
اماں سے ہم سیپارہ اور قاعدہ پڑھتے ۔ صبح لڑکے اور دوپہر کو لڑکیاں ، کیوں کہ لڑکوں کا اسکول دوپہر کو لگتا تھا۔ شام کو کچھ بچے امّاں سے اسکول کا بھی پڑھتے۔ اسے ٹیوشن یوں نہیں کہہ سکتے کہ کوئی کو ئی بچہ پیسے دیتا تھا لیکن زیادہ تر بغیر پیسوں کے ہی پڑھتے۔ اور وہ غریب دیتے بھی کہاں سے ۔ ان گھروں میں تو دو وقت کی روٹی مل جائے تو غنیمت تھا۔ اور فیس بھی کون سی بڑی تھی ۔یہی روپیہ دو روپیہ ماہانہ۔ اکثر بچوں کو تو اماں ، ان کے گھر والوں سے کہہ کر خود ہی پڑھانے لے آتی تھیں۔
اماں اکیلی تھیں۔ ‘ ماسٹر جی’ ان کے میاں کب کے مرکھپ گئے تھے۔ بیٹی ‘ جبّو’ کی ڈولی ایسی اٹھی کہ پھر اس کا ڈولا اٹھنے کی ہی خبر آئی۔ جبّو یعنی زبیدہ، اچھی بھلی بیاہ کر حیدرآبادگئی تھی۔ اماں اس کی طرف سے کسی خوشخبری پر کان لگائے تھیں کہ اس کے مرنے کی خبر آئی۔ سخاوت، ان کے داماد نے بتایا کہ اسے دق ہوگئی تھی۔ اماں کیا پوچھتیں کہ اسے دق کیوں کر ہوگئی۔ ان کی جبّو تو اب واپس آنے سے رہی۔
سخاوت بھی اکیلا ہی تھا۔ جبّو کے بعد ایک دو بار کراچی اماں سے ملنے آیا۔ اب زمانہ ہوگیا، اس کی کوئی خبر نہ تھی۔
اماں اکیلی کی کیا ضروریات ہوتیں۔ صوفی صاحب کی دکان سے دوپٹّے لے آتیں جن پر گوٹا کناری کا کام کرکے دال روٹی کا خرچ نکل آتا تھا۔ محلے میں اور بھی عورتیں یہ کام کرتیں کہ چار پیسے بن جائیں۔ اماں کے ہاتھ میں صفائی تھی، اور انہوں نے کون سا بچوں کا گو موت کرنا ہوتا تھا۔ وہ دوسریوں سے زیادہ اور اچھا کام کرتیں۔ ان سے کام جلدی بھی واپس مل جاتا۔
” اماں میں تو کہتا ہوں سارا کام تم ہی کردیا کرو” صوفی صاحب کہتے۔
” اے صوفی صاحب کیوں مجھ غریب پر گناہ لاد رہے ہو۔ بے چاریوں کے چار پیسے بن جاتے ہیں ، بچوں والیاں ہیں۔ میرا کیا ہے، اللہ جی کے کرم سے گذارہ ہو ہی جاتا ہے”
” میرا کیا ہے؟ ” کہہ کر اماں نے اپنی ضرورت کو بہت ہی محدود کردیا تھا۔ ماسٹر جی کے زمانے سے گھر میں کچھ مرغیاں پالی ہوئی تھیں۔ ان سے آمدنی تو کیا ہوتی، ان کے دانے دنکے کا خیال رکھنا، دڑبوں کی صفائی، شام کو انہیں گھیر کر بند کرنا اچھا خاصا جوکھم تھا۔ لیکن اماں کو یہ سب اچھا لگتا۔ مرغیوں کی کڑکڑ سے انہیں ایک دسراتھ کا احساس رہتا۔ محلے والے بھی ان سے انڈے لے جاتے، کسی نے پیسے دے دئے تو ٹھیک۔ اماں نے منہ سے کبھی نہیں مانگے۔ پڑوسنیں اکثر کہہ جاتیں کہ ابھی پیسے نہیں ہیں، بعد میں بھیجوں گی، جو کبھی کبھار ہی ملتے، لیکن کوئی اگر دوسری بار انڈے لینے آئی تو اماں نے کبھی پچھلے پیسوں کا یاد نہیں کرایا۔
سلائی کڑھائی اور بچوں کی پڑھائی سے کچھ دیر سستانے کے لئے رکتیں یا بازار سے سودا سلف لاتے ہوئے گلی محلے کی عورتوں سے دعا سلام کرتی آتیں۔
” اماں ذرا فرصت ملے تو ہمارا ہاتھ بٹا دینا۔ رضیہ کی شادی سر پر ہے، بہت کام پڑا ہے، جوڑے سلانے ہیں۔ دوپٹّے ٹانکنے ہیں۔ ”
“اے لو ، تم نے بھلی فکر کی۔ رضیہ کیا میری بیٹی نہیں ہے”تم بے فکر ہوجاؤ” ۔ اور اماں سارا کام اپنے گھر پر لے آتیں یا وہیں بیٹھ کر سلائی کرنے لگتیں۔
شادی بیاہ، چالیسواں، برسی ہر تقریب کے لئے اماں سے مشورے لئے جاتے جیسے کہ وہ نجانے کتنی تقریبات نمٹا چکی ہیں ۔ لیکن اماں کا بتایا ہوا حساب ہمیشہ سولہ آنے ٹھیک بیٹھتا۔ کبھی کسی کو مہمانوں کے سامنے شرمندگی نہیں ہوئی۔
اماں کے گھر میں تو سادہ سی دال یا سبزی ہی پکتی۔ گوشت کا نہ انہیں شوق تھا نہ ہی خریدنے کی طاقت۔ اور انہی کی کیا، محلے میں اور گھروں میں بھی کون سا گوشت پکتا تھا۔ یہاں مستری، مالی، ڈرائیور، منشی، اسکول ماسٹر ، مسجد کے موذن اور اسی قبیل کے لوگ رہتے تھے، گوشت جن کے لئیے عیاشی تھا اور کبھی کبھار ہی پکتا تھا۔ کسی کے ہاں نذرونیاز کا کھانا پک گیا تو پڑوس میں بھی ایک آدھ ڈونگا یا پلیٹ پہنچا دی۔ جب کبھی اماں کے ہاں پلاؤ یا قورمہ کی پلیٹ آئی انہوں نے آنکھ بچا کر بڑے میاں کے ہاں پہنچادی۔
بڑے میاں مسجد کے موذن تھے، پانچ بیٹیوں کا پہاڑ سا بوجھ ۔ کہنے کو توایک جوان بیٹا بھی تھا جو سکنڈری اسکول میں پڑھ رہا تھا لیکن وہ شہر میں اسکول ، کالج کے لڑکوں کے ہوئے دنگوں میں گرفتار ہوکر بند تھا، اس کا جرم تو اتنا بڑا نہیں تھا اور بہت سے لڑکے اپنے گھروں کو واپس آگئے تھے لیکن بڑے میاں میں وکیل کو فیس یا پولیس کی مٹھی گرم کرنے کی طاقت نہیں تھی، وہ غریب تو بس دعا ہی کرسکتے تھے، سو وہی کررہے تھے۔
محلے میں سارے ایک سے دُکھی اور پھٹے حالوں تھے اسی لئے ایک دوسرے کے درد کو پہچانتے تھے۔ وہ دن بھی کچھ اور ہی تھے، آج کی طرح نفسانفسی کا عالم نہیں تھا۔ لوگ باگ ، خاص کر پڑوسی ایک دوسرے کے کام آتے، دوسرے کی خوشی کو اپنی اور دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ جانتے۔
رضیہ کی ماں دوسروں سے ذرا اچھےحالوں میں تھیں۔ ان کے میاں ایک سرکاری دفتر میں بابو تھے اور اچھی ، عزت سے گذر ہورہی تھی۔ اماں نے جی جان سے رضیہ کے جوڑے سی دئے۔ اگر درزی کو دیتیں تو جانے کتنا خرچ آتا۔ لیکن انہیں اماں کی خوددار طبیعت کا پتا تھا۔ انہوں نے اماں کو پیسے تو نہیں دئیے لیکن ایک اچھا سا جوڑا اماں کو یہ کہہ کر دیا کہ رضیہ کی شادی میں پہنیں۔
” اے بہن سکھی رہو، سدا سہاگن رہو اور ہماری رضیہ ہمیشہ خوشیوں میں کھیلے۔ لیکن بہن تم تو جانتی ہو کہ میں ایسے کپڑے کہاں پہنتی ہوں ”
اماں نے ماسٹر جی کے مرنے کے بعد کبھی سفید کے علاوہ کوئی رنگ نہیں پہنا۔
” لیکن تم نے اتنا اپنے پن سے دیا ہے تو میں لے لیتی ہوں” اماں کے دل میں کچھ اور تھا۔
غلام حسین ڈرائیور کی بیٹی سکینہ کی شادی بھی قریب تھی۔ اماں نے رضیہ کی اماں کو بتا کر وہ جوڑا سکینہ کو پہنچا دیا۔ سکینہ کی ماں سے کچھ چھپایا نہیں، اور اماں جھوٹ کبھی بولتی ہی نہیں تھیں۔ سکینہ کی ماں نے اماں اور رضیہ کی ماں کو دعائیں دیں اور جوڑا قبول کرلیا۔ کچھ تو بوجھ ہلکا ہوا۔
اماں ہم لڑکوں سے سودا منگواتیں تو ” یہ تیرا انعام ہے ” کہہ کر ایک پیسہ ہمارے پاتھ پر رکھتیں ۔ یا پھر کوئی کھٹ میٹھی گولی جو انہوں نے ہم بچوں کے لئے ہی رکھی ہوتی ، ہمیں دیتیں۔ ہم اس لالچ میں اماں کا کام کرنے میں ایک دوسرے سے آگے رہنے کی کوشش کرتے۔
چاند رات کو امی نے چند روپے دے کر اماں کے ہاں روانہ کیا۔
” اے بیٹا میں کیا کروں گی ان کا”
” تو ایک کام کر اسے ناظم کی ماں کے ہاں پہنچادے۔ دکھیا بیوہ ہے، دو جوان بیٹیاں ہیں، ناظم ہے۔ ”
لیکن امی نے تو آپ کو دینے کے لئے کہا تھا” میں نے ضد کی۔
” تیری امی کو میں سمجھا دوں گی۔ اور ہاں سن’ ایک روپیہ میری طرف سے بھی لیتا جا’ انہوں نے پلّوُ سے ایک روپیہ کھول کر میرے ہاتھ میں رکھا۔
‘ امی کہہ رہی تھیں ایک آدمی کا فطرہ چودہ آنے ہے۔ یہ تو روپیہ ہے”
” فطرہ تو بیٹا سب پر لازم ہے۔ دوآنے میری طرف سے بچوں کی عیدی”
اور یہ دوآنے اس زمانے میں کوئی کم نہ تھے۔ میرے چچا نے مجھے چار آنے عیدی دی تھی جسے میں دوسرے لڑکوں کے ساتھ مل کر سارادن خرچ کرتا رہا تھا۔
لیکن یوں بھی نہ تھا کہ اماں کے دل میں کوئی ارمان، کوئی خواہش ہی نہیں تھی۔ ان کی کوٹھڑی میں ماسٹر جی کے زمانے کے کعبہ شریف اور مسجد نبوی کی تصویروں کے دو فریم ٹنگے ہوئے تھے جن کا تو اب رنگ بھی اڑ گیا تھا۔ وہ اکثر بیٹھی دیر تک انہیں تکا کرتیں۔ پھر ان کی نظر دوپٹّے کاڑھنے کے فریم پر پڑتی، صوفی صاحب سے ملنے والے پیسے یاد آتے، صحن میں مرغیوں کی کڑکڑ آہٹ سنائی دیتی۔ اپنی بے مائیگی کا خیال آتا اور دو آنسو آنکھوں کے گوشوں سے ڈھلک کر ان کے جھریوں بھرے چہرے میں جذب ہوجاتے اور وہ چوکی پر رکھے تکیہ پر قرآن شریف کھول کر تلاوت شروع کر دیتیں۔
اور شاید اللہ جی ایسوں ہی کے حج ان کی نیتوں پر ہی قبول کرلیتے ہوں گے۔
اب کچھ دنوں سے انہیں دکھائی بھی کم دینے لگا تھا، چشمہ خریدنے کی طاقت تو تھی نہیں ، بس یہ کرتیں کہ کڑھائی والا فریم دالان میں لے آتیں اور جب تک روشنی ساتھ دیتی دوپٹّے کاڑھتی یا گوٹا کناری لگاتی رہتیں۔
اب طبیعت بھی گری گری سی رہتی،پڑوس کے لوگ بساط بھر خیال تو رکھتے لیکن کوئی کس قدر ان کی فکر کرتا۔ سب کو اپنی ہی مصیبتوں سے فرصت نہیں تھی۔
اور ایک دن سخاوت اماں کے ہاں آگیا۔ کئی سالوں کے بعد اس نے منہ دکھایا تھا۔ اسے شیرشاہ میں کسی فیکٹری میں نوکری ملی تھی۔
” اماں ، محلے میں کوئی کوٹھڑی کرائے پر مل جائے تو بتاؤ” سخاوت نے آنے کا مدعا بیان کیا۔ اور یہ حسن طلب بھی خوب تھا۔
” اے بیٹا، کیوں مجھے کانٹوں پہ گھسیٹتے ہو۔ اپنا گھر ہوتے ہوئے تم کیوں کسی کوٹھڑی میں پڑے رہو گے۔”
” اماں لیکن؟ ”
” لیکن ویکن کچھ نہیں، جبّو ہوتی تو کیا تم کہیں اور رہتے۔ بس اب تم یہیں رہو گے”
اور یہی تو سخاوت چاہتا تھا، اماں کی محبت نہیں، اسے اپنی ضرورت یہاں لے آئی تھی۔ اماں کے لئیے بھی اچھا ہوا کہ بڑھاپے میں کسی کا ساتھ میسر آیا،
محلے والے لیکن سخاوت کو اپنا پن نہ دے سکے۔ وہ طرح طرح کی باتیں کرتے۔ انہیں جبّو کا یوں اچانک مرجانا یاد آتا، سخاوت کو دیکھ کر کئی سوال دماغ میں کلبلاتے۔ دن میں تو ہم لوگ اماں کے ہاں آتے جاتے لیکن شام کو سخاوت کے گھر آنے ہر ہم اماں کی طرف جاتے ہوئے کتراتے۔
ہم بھی اب بڑے ہوتے جارہے تھے۔ اماں کے صحن میں کھیلنا کودنا تو کب کا بند ہوچکا تھا، اب ہم گلیوں میں گلی ڈنڈا، لٹو وغیرہ کھیلتے، آپس میں لڑتے، ایک دوسرے کو گالیاں دیتے اور دوسرے دن پھر ساتھ کھیلتے، بڑے ہوتے چلے گئے۔
اماں بوڑھی ہوتی چلی گئیں اور آخر ایک دن وہ بھی ماسٹر صاحب اور جّبو کے پاس چلی گئیں۔
اور اماں جو ہمارے سامنے ساری زندگی اکیلی رہیں، آخری دنوں میں سخاوت آیا بھی تو اپنے مطلب سے، جن کا اور کوئی دنیا میں نہیں تھا، ان کا جنازہ، اس محلے کا سب سے بڑا جنازہ تھا، کریانہ اسٹور، درزی، دودھ دہی والا، سبزی والے، قصائی، مستری، منشی، مالی ، ڈرائیور، بڑے میاں کا بیٹا جو اب رہا ہو چکا تھا، ( بڑے میاں اب نہیں رہے تھے) اور ہم محلے کے سارے لڑکے، کون تھا جو انکی میت پر نہیں تھا، وہ سب کی امّاں جو تھیں،
اماں کو مٹی دے کر آگئے، رسم کے مطابق سب کچھ دیر اماں کے گھر کے باہر بیٹھے رہے، سخاوت سے اوپری دل سے تعزیت بھی کی اور پھر سب اپنی اپنی دنیاؤں میں مگن ہوگئے۔
اماں کا گھر اب بھی اماں کا گھر ہی کہلاتا تھا۔ ہم کھیلتے ہوئے،” یہاں سے اماں کے گھر تک کی” دوڑیں لگاتے، لیکن اب کوئی اس گھر کے دروازے سے اندر داخل نہ ہوتا۔ کچھ دنوں بعد سخاوت نے کسی اور سے بیاہ رچا لیا اور جبّو کی اماں کے گھر جبّو کی سوتن لے آیا۔
محلے والے پہلے ہی لاتعلق تھے، سخاوت اب کچھ بھی کرے، ان کی اماں تو اب رہی نہیں ۔ُ
ہم بھی کچھ عرصہ بعد وہ محلہ چھوڑ گئے۔ اور میں اس محلے اور اماں کو بھول بھال گیا۔

” پتر پاکستان کے جہاز پہ کہاں سے بیٹھنا ہے”
جدہ سے آنے والی ٹرانزٹ فلائٹ کے مسافروں میں ایک جھریوں بھرے چہرے والی مائی کی آواز پر میں چونک گیا۔
” اماں کہاں جائیں گی آپ “
” پتر جانا تو فیصل آباد ہے لیکن پہلے کراچی اترنا ہے” بڑی بی نے بتایا۔
میں نے ان کا بورڈنگ کارڈ دیکھا ۔ اسی پرواز سے میں بھی کراچی جارہا تھا۔
” یہیں بیٹھ جائیں ، میں نے بھی آسی جہاز سے جانا ہے۔ ” بڑی بی نے پنجابی میں دعائیں دیں اور انتظار گاہ کے صوفے ہر بیٹھ کر تسبیح کی گردان شروع کردی۔
پینتالیس پچاس سال میں اماں شاید ہی کبھی یاد آئی ہو، لیکن اس دن دوبئی ایرپورٹ پر جدہ سے آئی ہوئی اس اماں کی جھریوں بھرے چہرے نے جیسے سارے پرت ایک ایک کرکے کھول دئیے۔

اماں حج پر تو نہ جا سکیں لیکن اپنے اللہ جی سے مل کر ان کے جی کو سکون آگیا ہوگا۔ اور جب اللہ جی نے فرشتوں سے کہا ہوگا کہ ان کے لئے جنت میں بہترین جگہ کا انتظام کرو تو اماں نے فورا” بڑے میاں کی سفارش کی ہوگی”
” اے ہے اللہ جی ، دکھیا نے زندگی میں بہت مشکلیں جھیلیں ہیں۔ انہیں وہاں بسا دیں”
” میرا کیا ہے، پڑی رہوں گی یہیں کہیں ، بس آپ کو دیکھتی رہوں گی۔ “

 

 

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. یونس اگاسکر on

    کہانی کے آخری حصے میں اماں کی وفات کے بعد لگا اب کیا باقی رہا مگر ایک جذباتی موڑ نے کہانی کارخ ہی بدل دیا۔نہایت عمدہ مشاہدہ اور نہایت قابل تحسین ہنرمندی کا حامل ہے یہ افسانہ۔ا نجام اس اعتبار سے مثبت ہے کہ ہر دور میں ایک اماں کے وجود کی پرامید فضا قایم کرتا ہے۔مبارک باد !

Leave A Reply

%d bloggers like this: