طارق بلوچ صحرائی کی افسانہ نگاری

0
  • 98
    Shares

طارق بلوچ صحرائی ہمارے عہد میں افسانے کی دنیا کا تیزی سے ابھرنے والا نام ہے ۔ایک عرصہ قبل جب میں نے اس کے ایک افسانوی مجموعے ”بے یقینی کا سناٹا“ کا مطالعہ کیا تو اس کو اپنے گھر مدعو کیا ۔ اس سے مل کر لگا کہ وہ ظاہری و باطنی طور پر اپنے افسانوں ہی کی طرح خوب صورت انسان ہے ۔ تب سے ہم ایک گہری دوستی کے رشتے میں بندھے ہیں ،ایک قلبی ربط ہے جو اس سے ہے اور وہ قلبی ربط ہی پر یقین رکھتا ہے ۔اس کے افسانے پڑھنے سے زیادہ اس کی زبانی سننے میں مزہ آتا ہے۔اور میں نے اس کے کئی افسانے اس کی زبانی سنے ہیں ۔ مجھے اکثر اس کی میزبانی کا شرف حاصل رہتا ہے ۔اور وہ اپنے افسانے اشاعت سے قبل ہی مجھے پڑھنے کے لیے عنایت کرتا ہے یا خود سنا دیتا ہے۔ جوایک مرتبہ اس سے مل لیتا ہے یا اس کے افسانے پڑھ لیتا ہے وہ اسی کا ہوکر رہ جاتا ہے ۔ ابھی کل ہی اس کی نئی کتاب گونگے کا خواب کی تقریب رونمائی داستان سرائے میں انعقاد پذیر ہوئی ۔ صحرائی نے مجھے بہت چاہت سے مدعو کیا۔بعد ازاں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے فرزند اثیر احمدخاں کا بھی فون آگیا کہ آپ نے ضرور آنا ہے۔ اس تقریب میں ڈاکٹر خواجہ زکریا، ڈاکٹر محمد کامران ، ڈاکٹر طارق عزیز، ڈاکٹر غفور شاہ قاسم ،تنویر ظہور ،سعداللہ شاہ ، اثیر احمد خاں اور افضال احمد نے مصنف کے افسانوں پر اظہارِ خیال کیا ۔ کمپئیرنگ کے فرائض نورالحسن نے ادا کیے ۔ نورالحسن نے مجھے بھی خطاب کی دعوت دی جس کے لیے میں ذہنی طور پر ہرگز تیار نہ تھابہر حال میں نے مختصراً اظہار ِ خیال کیا اور بہت سے پہلو تشنہ ہی رہ گئے۔ یہ مضمون اسی مقصد کے تحت لکھا جارہا ہے کہ صحرائی کے افسانوں کا ذرا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے۔

طارق بلوچ صحرائی عام افسانہ نگار نہیں ہے اس لیے اس کے افسانوں کو عام تنقید کے اصولوں کی رو سے پرکھنا مناسب نہیں ۔ اس کی کہانی حالات و واقعات کے لحاظ سے نہیں چلتی بلکہ احساس کی سطح پہ رواں دواں رہتی ہے اور یہ زمانی و مکانی سطح سے ذرا بلند رہتی ہے ۔ یہ قاری کو شعوری سے زیادہ لاشعوری طور پر لے کر آگے بڑھتی ہے۔ اگر آپ اس میں سے کوئی روایتی کہانی کشید کرنا چاہیں گے تو وہ آپ کو نہیں ملے گی ، ہو سکتا ہے کہ اس کے بعض افسانوں میں پلاٹ بھی آپ کے ہاتھ نہ لگے مگر اس کے افسانوں کی قرات کے دوران بہت سی کہانیاں اور پلاٹ آپ کے احساس کے صفحے پر جنم لے چکے ہوں گے۔ چناں چہ ضروری ہے کہ اس کے افسانوں کا مطالعہ ذہن سے کہیں زیادہ قلب سے کیا جائے کیوں کہ اس کے افسانے قلبی واردات سے جنم لیتے ہیں ۔اس کے افسانوں کی فضا قلبی ورحانی ہے اور یہ خاص قلبی و روحانی فضا قائم کرنے میں وہ خاص علامات ، امیجز اور Aphorisms کا استعمال کرتا ہے ۔ اس کے افسانوں کا اصل جوہر یہی قلبی و روحانی فضا ہے ،یہی وہ واحد کلید ہے جس سے آپ اس کے افسانوں کا قفل کھول سکتے ہیں۔ اس کی کہانی بین السطور چلتی ہے اور بین القلوب ابلاغ کرتی ہے ۔یہ Primordial Passions کو چھیڑتی ہے جن کو ہم نے شہری زندگی کی چکا چوند میں کہیں گم کر رکھا ہے۔ یہ اس آزار پر ہاتھ رکھتی ہے جو ہماری روحوں کو ازل سے سسکا رہا ہے ۔ یہ ہمارے لاشعور میں دبی ہوئی خواہشات کا تزکیہ کرتی ہے ۔ چناں چہ اس کے افسانے cathartic effect پیدا کرتے ہیں اور انسان ان کو پڑھنے کے بعد اپنے آپ کو روحانی لحاظ سے زیادہ ثروت مند اور آسودہ محسوس کرتا ہے ۔اس کے افسانوں میں احساس کی تتلیاں رقص کرتی ہیں اور امید کے جگنو رستہ دکھاتے ہیں ۔ اس نے ادب کا ایک خاص مقصد اپنے سامنے رکھا ہے اور وہ ہے روحانی ترفع اور علویت(sublimity)۔ اس کی نثر شاعرانہ ہے چناں چہ اس کے افسانے پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ آپ افسانہ نہیں بلکہ کوئی نظم پڑھ رہے ہیں ۔اس کے افسانوں میں ایک خاص قسم کی ماورائیت نظر آتی ہے مگر یہ ماورائیت کسی خلا میں نہیں پنپتی بلکہ یہ ارضیت سے اپنا رشتہ بہت گہرائی میں جا کر استوار کرتی ہے ۔ اس میں ہماری مٹی کی بو باس نمایاں ہے ۔ اس کے افسانے برگداور پیپل کے درختوں کی چھایا سے لبریز ہیں ۔ صحرائی صحرا سے اپنا رشتہ استوار رکھتا ہے ،وہ صحرا جس میں وسعت بھی ہے اور اسرار بھی ۔

صحرائی نے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی صحبت میں رہ کر بہت کچھ سیکھا ہے ، بظاہر اس کے افسانے انھی کی روایت کا تسلسل محسوس ہوتے ہیں مگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو اس میں ایک الگ دھارا بھی نظر آتا ہے جسے اس نے خود متعین کیا ہے ۔ یہ افسانے اپنے اندر عمیق متصوفانہ بصیرت سمیٹے ہوئے ہیں ۔ رسکن (Ruskin) نے ادب کو اخلاق کا نائب مناب قرار دیا تھا ،یہ افسانے بھی بالواسطہ اخلاقی نصیحت آموزی کا فریضہ انجام دیتے ہیں مگر بہت بہتر نفسیاتی تکنیک کے ساتھ کہ یہ نصیحت طبائع پر گراں بار نہیں ہوتی بلکہ ان کو ہلکا پھلکا کر دیتی ہے۔ صحرائی واعظ نہیں اورنہ وہ وعظ پہ یقین رکھتا ہے مگر وہ اخلاقی معیارات کو ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے کہ ہم ان کے لیے خود بخود اپنے دل میں ایک کشش محسوس کرتے ہیں ۔ آج ہم جس فکری و نظری آشوب کا شکا ر ہیں اور جس وحشت(Anguish) نے ہمیں گھیر رکھا ہے اس صورت حال میں صحرائی کے افسانے ایک راہنما سہارے کا کام دے سکتے ہیں کہ وہ ناامیدی اورنفرت کے صحرا میں امید اور محبت کے نخلستاں اگانا جانتا ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: