سیمولیٹڈ “پاکستانی موسم بہار”: نعمان علی خان

0

جب سے جے آئی ٹی کی رپورٹ میڈیا پر آئی ہے، “اپوزیشن” کی ہر پارٹی کا کم از کم ایک “ترجمان” روزانہ ایک پریس کانفرنس میں اس بات پر بغلیں بجاتا نظر آتا ہے کہ اس ملک میں کرپشن کرنے والے لوگوں کی حکومت اگلے ہفتے اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے اور یوں ان اپوزیشن والوں نے “نظام” اور “جمہوریت” کو بچا کر آئندہ “فئیر” الیکشن اور اپنے اقتدار میں آنے کی راہ کو ہموار کرلیا ہے۔ یہ اپوزیشن کے “ترجمان” مسلسل یہ تاثر دے رہے ہیں گویا پاکستان میں “عرب موسم بہار” کی طرح کا انقلاب برپا ہورہا ہے جس میں ایک کرپٹ حکمران کو ہٹا کر “جمہوریت کے علمبرداروں” کے ہاتھوں میں قوم کی باگ ڈور آنے والی ہے۔
سوشل سیمولیشن کے ان ماہرین کو اب بھی یہ اعتماد ہے کہ یہ اس ملک کی مڈل کلاس کی سوچوں پر نان ایشوز کے ذریعہ طاری کی گئی نظربندی کا کھیل اس بار بھی کامیابی کے ساتھ کھیلتے رہیں گے۔ لیکن شاید اس بار یہ سیمولیشن اور نظربندی اتنی آسان نہ ہو کیونکہ اس ملک کی مڈل کلاس کی دانش کا ایک حلقہ پورے کھیل کی اصل حقیقت کوبلا کم و کاست دیکھنے کے قابل اوریہاں کے تاریک “سسٹم” کی خوابناک سیمولیٹڈ ریالٹی کے طلسم کو توڑنے میں کامیاب ہوتا جارہا ہے۔
سو، اب یہ ممکن نہیں رہا کہ حکمرانوں کو سانحہ ماڈل ٹا ون سے بچانے کیلئیے سسٹم نے، چند لاکھ پاوٰنڈ کی کرپشن کے جس پنامہ سکینڈل کا طوفان اٹھایا تھا، اس کے انجام کے طور پر ان کو نا اہل قرار دے کر باقی پورے ظالمانہ سسٹم کو، “جمہوریت” کے نام پر اپنی خباثتیں جاری رکھنے اور اس ملک کا مزید بیڑا غرق کرنے کی کلین چٹ دے دی جائے۔ اس ملک میں محض چند لاکھ پاونڈ کی نہیں سینکڑوں بلین ڈالرزکی لوٹ مار ہوئی ہے جس میں صرف چند “شرفا” ہی نہیں، پورا سسٹم اور اس کی سیمولیٹڈ “معصوم” سوشل رئیلیٹی پیدا کرنے کے تمام ماہرین ملوث ہیں۔
پاکستان کا قومی پھول بھی یاسمین ہی ہے لیکن یہاں کوئی بھی جعلی اور سیمولیٹڈ “موسم بہار” نہیں آسکتا۔ یہاں صرف اور صرف اصلی “یوم حساب” برپا ہوگا جس میں اس ایک ایک پائی کا، اس ایک ایک قطرہ خون کا اور اس ایک ایک روٹی کا حساب ہوگا جو اس قوم کی اس غلیظ نظام نے غصب کی ہے۔
اس قوم کو کسی خونی انقلاب سے بچانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ تمام محب وطن ادارے اور عدلیہ اس ملک میں ہونے والی ساری کرپشن اور آئین کی عوامی فلاح کے حصوں کی مسلسل عملی معطلی کا نوٹس لیں اور اس ملک کو بچانے کیلئیے نظریہ ضرورت کے تحت قانونی تحقیق اور عدل کا دائرہ “جمہوریت” کے نام لیوا تمام ملزم کرداروں تک وسیع کریں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: