حکمران طبقہ کی داخلی کشمکش: سلمان عابد

0

کنونشن مسلم لیگ سے لے کر آج کی نواز شریف کی مسلم لیگ کا ہمیشہ سے بحران اقتدار کی سیاست رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جب بھی مسلم لیگ جو اقتدار میں ہوتی ہے اپنے بحران کے نتیجے میں تقسیم بھی ہوتی ہے۔ ایک مسئلہ مسلم لیگ کے مزاج کا ہے اور دوسرا مسئلہ ان پس پردہ قوتوں کا بھی ہے جو مسلم لیگ کو ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ حالیہ مسلم لیگ کے سربراہ اور وزیر اعظم جو پانامہ اور اس کے نتیجے میں بننے والی جے آئی ٹی کے نتائج پر سنگین داخلی بحران کا شکار نظر آتی ہے۔ اگرچہ دعوی کیا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی قیادت میں متحد ہے، لیکن عملا پارٹی کئی حصوں، فریقوں اور مختلف حکمت عملیوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار نواز شریف کے قریبی اور وفادار ساتھیوں میں سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی ایک حیثیت مسلم لیگ، نواز شریف اور داخلی بڑی طاقتوں یا اسٹیبلشمنٹ کے درمیان Bridgeکی بھی ہے۔ جب بھی نوازشریف کی سیاست کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو وزیر داخلہ ہی اس میں بڑے ضامن کے طور پر سامنے آئے۔ لیکن موجودہ بحران میں وزیر داخلہ چوہدری نثار اس بار اگرچہ نواز شریف کے ساتھ ہیں، لیکن ان کی سیاسی حکمت عملیوں سے بہت زیادہ نالاں نظر آتے ہیں۔ اس کا برملا اظہار انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا او رکہا کہ وزیر اعظم صاحب یہ سارا بحران آپ کا اپنا پیدا کردہ ہے او را س کی وجہ آپ کے نادان وزیر اور مشیر ہیں جنہوں نے آپ کو اداروں کے ساتھ ٹکراو کی سیاست میں بری طرح الجھا دیا ہے۔ ان کے بقول اب آپ کو کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ اس پر وزیر اعظم بھی وزیر داخلہ کے اس حالیہ رویہ سے خوش نہیں اور خود کلثوم نواز شریف بھی سمجھتی ہے کہ اس بحران میں چوہدری نثار نواز شریف سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

 

اس بحران میں وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وٖزیر داخلہ کی عدم شرکت کو بھی مسلم لیگ کے داخلی بحران میں اہم سمجھی جارہی ہے۔ اصل میں اس وقت مسلم لیگ نواز دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ اول کہ ہمیں ریاستی اداروں سے کسی بھی قسم کی ٹکراو کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے او راپنی جماعت او رحکومت کو بچا کر اس موجود ہ بحران سے نکلنا چاہیے۔ جو لوگ اس وقت وفاقی وزیر کی حیثیت سے عدلیہ یا فوج پر تنقید کررہے ہیں یہ طبقہ ان کو پسند نہیں کرتا او ران کے بقول اس سے پارٹی کے مفادات کو نقصان پہنچے گا، لیکن اس مسئلہ پر پارٹی کا سخت گیر طبقہ توجہ نہیں دیتا، اس طبقہ کی قیادت چوہدری نثار اور شہباز شریف کررہے ہیں۔
دوسرا طبقہ خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، احسن اقبال، مشاہد اللہ، پرویز رشید جیسے لوگ نواز شریف کو اس صورتحال میں عدلیہ اور فوج کے خلاف مزاحمت کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے بقول جو حالیہ بحران ہے وہ اسٹیبلیشمنٹ کا پیدا کردہ ہے او رعمران خان ان کا ہتھیار ہے، او ر اسی طبقہ کے بقول فوج عدلیہ کو ڈھال بنا کر جوڈیشل مارشل لگانا چاہتی ہے۔ جبکہ مسلم لیگ کے جو بیشتر ارکان اسمبلی ہیں ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو پہلے جنرل مشرف کی حکومت کے ساتھ بھی مسلم لیگ (ق) کے ساتھ کھڑے تھے، اس لیے ان کا موقف ہے کہ ہمیں کیونکہ 2018کے انتخابات میں جانا ہے تو ہمیں اسٹیبلشمنٹ سے مزاحمت انتخابات میں شکست کے طور پر دیکھنے کو ملے گی۔ اگر نواز شریف عدالت سے نااہل ہوتے ہیںاو رجب اداروں سے ٹکراو کا منظر عروج پر ہوگا تو مسلم لیگ میں شامل بیشتر ارکان اسمبلی نواز شریف کے ساتھ نہیں کھڑے ہونگے۔ یہ منظر نواز شریف کے ساتھ دو تہائی اکثریت کے باوجود 1999میں ہوچکا ہے جب ان کے بیشتر ساتھی ان کو برے وقت میں چھوڑ گئے تھے، اگرچہ اس کی وجہ خود وہ بھی تو جو جنرل مشرف کے ساتھ ایک خفیہ ڈیل کے تحت جدہ چلے گئے تھے۔ اب بھی نواز شریف جس بڑے بحران سے گزر رہے ہیں، ان کے لیے مشکل ہوگا کہ ان کے ساتھی ان کے ساتھ اس برے حالات میں کھڑے ہوکر اپنی سیاسی استقامت کا مظاہرہ کریں۔ نجی مجالس میں کئی مسلم لیگی نواز شریف اور بعض ساتھیوں کے جارحانہ رویہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراو پر پریشان ہیں او راس کا برملا اظہا رکرتے ہیں۔ ان کے بقول بلاوجہ ہمیں مشکل میں ڈالا جارہا ہے او ریہ متبادل سیاسی آپشن پر بھی غور کررہے ہیں او ران کو لگتا ہے کہ یہ کھیل ان کو سیاسی طور پر فائدہ نہیں دے سکے گا۔ کئی لوگ تحریک انصاف سے رابطوں میں بھی ہیں او ر جیسے ہی بحران بڑھا گا وہ نواز شریف کے ساتھ نہیں ہونگے۔

نواز شریف کو دو باتیں سمجھنی ہونگی کہ چوہدری نثار اور دیگر مصالحت پسندی کی سیاست کرنے والے اہم ہیں ان کو نظرانداز کرکے نواز شریف اپنی اس ڈوبتی کشتی کو نہیں بچاسکیں گے۔ اس طبقہ کے ساتھ نواز شریف کو مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا لیکن اس کے لیے وزیر اعظم کو اپنی اداروں کے ساتھ ٹکراو کی پالیسی سے گریز کرنا چاہیے۔

دوئم نواز شریف کو سمجھنا چاہیے اس بار ان پر مسئلہ سیاسی نہیںبلکہ کرپشن، بدعنوانی، اور بے ضابطگیوں کا ہے جس میں ان کا اور ان کے خاندان پر جے آئی ٹی کے لگائے تحقیقاتی سنگین الزامات ہیں۔ اس لیے ان الزامات کو بنیاد بنا کر نواز شریف کوئی بڑی مزاحمت پیدا نہیں کرسکیں گے۔ وہ یہ مزاحمت جنرل مشرف کے دور میں بھی نہیں کرسکے تھے، لیکن اب ان کی سیاسی صورتحال ان کے لیے او رجماعت کے لیے ایک بوجھ کی صورت میں ہے۔ اس بوجھ کی صورت میں وہ عوامی مزاحمت پیدا کرسکیں، مشکل ہوگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نواز شریف اس قانونی اور مالی کرپشن کی اس جنگ کو سیاسی جنگ میں تبدیل کرکے اپنے خلاف ہونے والا سارا ملبہ فوج اور عدلیہ پر ڈال کر اپنا دامن بچانا چاہتے ہیں، حالانکہ ان کے خلاف جو ساری سازشیں ہورہی ہیں وہ محض اسٹیبلشمنٹ کی نہیں بلکہ ان کی اپنی او ران کے سخت گیر ساتھیوں کی پیدا کردہ ہے، اس لیے مسلم لیگ تقسیم ہوتی ہے یا نواز شریف کا اقتدار ختم ہوتا ہے، تو اس کی بڑی ذمہ داری خود نواز شریف پر بھی ہوگی۔ بہتر ہوگا کہ نواز شریف اس مسلم لیگ کو بچائیں، وگرنہ مسلم لیگ کا کھیل جو ماضی میں نئی مسلم لیگ کی تشکیل کی صورت میں ہوتا رہا ہے وہ دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے نواز شریف اپنے بیشتر ساتھیوں کو کسی مشکل میں نہ ڈالیں، کیونکہ مسلم لیگ بنیادی طور پر مزاحمت کی جماعت نہیں بلکہ مفاہمت کے ساتھ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اقتدار کی سیاست آج بھی کرتی ہے اور کل بھی کرتی رہے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: