مائیکرو ویو اور ریفریجریٹر: کاش ہم جان جائیں

0

انسانی تہذیب نے جب تمدن کی چادر پہنی تو انہوں نے بستیاں آباد کرنی شروع کردیں۔ ان بستیوں نے انسان کی بقاء کیلئے لازم ملزوم کام بانٹ لئے۔ ایک دوسرے کیلئے خدمات کی انجام دہی شروع ہوئی اور ان خدمات کا معاوضہ طے ہوا۔

ان بستیوں میں خاندان آباد ہوئے اور خاندانوں نے اپنے اپنے گھر بنا لئے۔ انسان کی بنیاد خوراک پر ہے۔ زندگی کی ڈور اس خوراک کی زنجیر سے باندھی گئی ہے۔ اسلئے ہر گھر میں خوراک کیلئے ایک گوشہ تاریخ سے منسوب چلا آرہا ہے۔ جسے باورچی خانہ کہہ لیں کہ رسوئی یا کچن۔ آگ، خوراک اور اس کے برتن ہر تاریخی کھنڈر کی دریافت ہے۔

جدید دور سے پہلے خوراک کا ایک ہی تصور تھا۔ تازہ خوراک یا سوکھی ہوئی خوراک۔ جدید دور آیا، زندگی تیزتر ہوئی، وقت کو قیمتی گردانا گیا اور اس جدیدیت نے ہمارا کچن بھی بدل ڈالا۔ آج کے کچن میں مائیکرو ویو اور ریفریجریٹر لازم ہوچکے ہیں۔ ان دو چیزوں نے تازہ خوراک کے تصور کو ہی معدوم کردیاہے۔ ریفریجریٹر ایک کنٹرول ٹمپریچر کا سٹور ہے جبکہ مائیکرو ویو اسے وقت ضرورت گرمائش دے کر فوری کھانے کی ٹیبل تک ممکن بناتا ہے۔

کیا یہ دونوں کچن آئٹمز صحت کے معیار پر بھی بہترین ہیں۔۔؟ اس پر فوڈ ایکسپرٹ متفق نہیں ہیں۔ مائیکرو ویو الیکٹرو میگنیٹک انرجی بناتا ہے۔ یہ ریڈیشن کی ایک قسم ہے۔ یہ خوراک میں سے گزرتے پانی کے مالیکیولز کو تیز گھوما دیتی ہے۔ اس تیز چکر سے فریکشن یعنی رگڑ جنم لیتی ہے۔ اور اس سے ٹمپریچر بنتا ہے۔ جو لمحوں میں خوراک کا ٹمپریچر بڑھا دیتا ہے۔

ویسے تو عالمی سطح پر صحت کیلئے فری لانس خدمات دینے والی تنظیمیں مائیکرو ویو کے اتنے نقصانات بتاتی ہیں۔ کہ بندہ دستانے پہن کر اسے کسی ویرانے میں پھینک کر آجائے۔
لیکن ہم ان کو اگر انتہاپسندی کا طعنہ دے کر اپنے آپ کو تسلی دیں کہ ساری دنیا یہ استعمال کررہے ہیں۔ تب بھی یہ بات ضرور ذہن میں رکھ لیں کہ مائیکرو ویو پر گرم کھانوں میں صحتمند غذائیت کے اجزا ساٹھ فیصد تک افادیت کھو دیتے ہیں۔ بلکہ 2003 میں اسپین کی ایک سرکاری ریسرچ نے تو سبزیوں میں 97 فیصد نقصان تک کا بتایا۔
ایک متفق علیہ احتیاط ضرور اختیار کرلیں کہ پلاسٹک کے برتن اس میں استعمال نہ کریں۔ کیونکہ پلاسٹک کے برتن میں اس اچانک تیز بنتے ٹمپریچر اور پلاسٹک چکنائی کے ملاپ سے Dioxin مادہ بنتا ہے۔ جو اس کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ جسم میں جاتا ہے۔ یہ جسمانی خلیوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اور کینسر کا سبب بنتا ہے۔ اسلئے مائیکرو ویو میں کانچ، کورننگ یا چینی کے برتن استعمال کریں۔

ریفریجریٹر جیسا ہم سب جانتے ہیں چیزوں کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ اس پر ہم تازہ و باسی کی بحث نہیں کرتے۔ نہ کلورو فلورو کاربن گیس کی ماحولیاتی آلودگی کی بحث کرتے ہیں۔ نہ اسکے بنانے میں مرکری کی بات، کہ یہ مسائل ترقی یافتہ ممالک بھی ابھی حل نہ کرسکے۔ ہمارے مسائل الگ اور زیادہ فوری نوعیت کے ہیں۔

مثال کے طور پر ہمارے ملک میں بجلی بہت جاتی ہے گھنٹوں بجلی نہیں ہوتی۔ زیادہ تر گھروں میں فریج کو ایمرجنسی بجلی کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاتا۔ تو بتدریج گرم ہوتے فریج میں جب ٹمپریچر اوپر جاتا ہے تو خوراک میں بیکٹیریا کا ایفیکٹ شروع ہوجاتا ہے۔ بجلی اتی ہے، تب واپس اس خوراک کا ٹمپریچر گرادیتی ہے۔ دن میں کئی بار یہ عمل ہوتا ہے۔ ہم زیادہ تر سونگھ کر کھانا چیک کرتے ہیں۔ لیکن کھانا۔ بو۔ اس وقت چھوڑتا ہے جب بیکٹریل ایفیکٹ پیک پر چلا جائے۔ کم گروتھ کو ہم گرم کر کے کھالیتے ہیں۔ یہ سلو فوڈ پوائزنگ ہے۔ جو بتدریج ہمیں بیمار کرتی چلی جاتی ہے۔

دوستوں اس دور میں ہر چیز کا انکار ممکن نہیں۔ تاہم احتیاط ضرور ممکن ہے۔ اور محنت و کوشش سے ہی ممکن ہے۔  بہنوں سے التماس ہے کہ کچھ مشقت کرکے تازہ بتازہ ہانڈی بنانا ممکن بنائیں۔ کم بنائیں اور اس پکے کھانے کو ختم کر لیا جائے یا بچے ہوئے کھانے کو کہیں بانٹ دیا جائے کہ اسٹوریج اور بعد میں گرمائش کے تسلسل سے بچ کر صحت و تندرستی کی حفاظت کی جا سکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: