دیکھنا تحریر کی لذت: اردو ادب کے قاری کو کیا پڑھنا چاہئے؟

0
  • 357
    Shares

انسان نے تہذیب و تمدن کی طرف دو واضح قدم اٹھائے۔ ایک زبان اور دوسرا تحریر کی ایجاد۔ ابلاغ کی ضرورت اور ترسیلِ خیالات و جذبات انسان کے نظمِ اجتماعی کی ترتیب کے لئے ضروری تھے۔ سو زبان ظہور پذیر ہوئی، منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کہیں زمانوں کی دھند میں کھو نہ جائیں۔ اور حالات و واقعات کے زمانی و مکانی ربط میں دقت نہ پیش آئے۔ اس پسِ منظر میں تحریر نے جنم لیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کے جمالیاتی شعور نے تحریر کی نوک پلک سنواری۔ شعور کی اس مشاطگی نے ادب کو جنم دیا۔ انسان کی ابلاغی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ تحریر نے انسان کے جمالیاتی شعور کی تسکین کا بیڑا بھی اٹھا لیا۔ ادب کی چھتری تلے تحریر نے کئی روپ بدلے کئی سوانگ رچائے۔ نثر میں ناول، افسانہ، انشائیہ، ڈرامہ اور تنقید کی اصناف سامنے آئیں تو شاعری نے ہمیں نظم، غزل، مرثیہ و قصیدہ سے روشناس کرایا۔

عتیق بزدار

ادب نثری اصناف کی صورت ہو یا شعر کے دلنواز آہنگ میں، بنیادی طور پر دو اجزاء کا مرکب ہوتا ہے۔ خیال اور اسلوب۔ یہ دونوں گوشت اور ناخن کے رشتے کی مانند ایک دوسرے سے جُڑے ہوتے ہیں۔ خیال کا ہیولیٰ جب خوبصورت اسلوب کے سانچے میں آ جاتا ہے تو وہ تخلیقی ادب کے درجے پر فائز ہو جاتا ہے۔ اسلوب، جذبہ و خیال کا ایسا پیرائیہء اظہار ہے جو منفرد و دلنشیں ہوتا ہے۔ اسلوب کی دلکشی عبارت کی سلاست، روانی اور ابلاغ کی مرہونِ منت ہے۔ انسان کی ندرتِ افکار کسی تحریر کا مواد پیدا کرتی ہے تو اس کا طرزِ خاص تحریر کی ہئیت کا تعین کرتا ہے۔ اسلوب کسی لکھنے والے کا وہ طرزِ ادا یا طریقِ نگارش ہے جس سے اس کی انفرادیت جھلکتی ہو۔ آسکر وائلڈ نے کہا تھا
“One’s style is one’signature always”۔

مثلاً ابوالکلام آزاد کا طرزِ خاص ندرتِ بیاں اور طرفگیء اظہار سے مزین ان کی بنی ٹھنی نثر ہے۔ ان کی الہلالی نثر خطیبانہ اور شاعرانہ ہے تو غبارِ خاطر اور ترجمان القرآن کی نثر انتہائی نفیس، متین اور دلنشین ہے۔ فرحت اللّٰہ بیگ کی زباں نرم و نازک اور مصری کی ڈلی کی طرح شیریں ہے۔ دلی سکول کا بانکپن اور محاوروں کو برتنے کا سلیقہ شاہد احمد دہلوی اور اشرف صبوحی کی نثر میں جھلکتا ہے۔ حجاب امتیاز علی نے نثر میں ایسی نغمگی پیدا کی ہے کہ شاعری کا گماں ہوتا ہے۔ چراغ حسن حسرت کا طرزِ نگارش اس قدر شستہ و شگفتہ ہے کہ لفظ در لفظ دل میں اتر جاتے ہیں۔ اردو ادب کا سرمایہ ایسی ان گنت مثالوں سے لبریز ہے۔

ذیل میں اردو ادب کی چند معروف کتابوں کے نام دیئے گئے ہیں۔ اس فہرست کا مقصد نئی نسل میں مطالعہ کے زوال پذیر شوق کا احیاء ہے۔ فہرست میں اردو ادب کے نئے اور پرانے چراغوں کو شامل کیا گیا ہے جو ایوان ادب کی فصیلوں پہ نمایاں ہیں۔ جن کی تابانی میں اندازِ کہن بھی اور طرزنو بھی ہے۔ ان کتب کے مطالعہ سے نئے قاری پر اردو زبان میں اسالیب بیان کی ثروت بھی منکشف ہو گی اور ہماری تہذیبی روایت سے زمانی و مکانی ربط بھی محسوس ہو گا۔ ہمارے جمالیاتی شعور کا ترفع اور ذہن کی جمالیاتی فعلیت اچھے مطالعے و مشاہدے سے مشروط ہے۔ اسی مطالعہ سے تدبر و تفکر کی امنگ پیدا ہوتی ہے۔ تہذیبی سرمائے سے آگہی ایک منفرد تہذیبی تشخص اور مثبت داخلی تفاخر کو بھی جنم دیتی ہے۔ اسی لیے دوستوں کے استفسار پر قابلِ مطالعہ کتب کی یہ فہرست عم زادہ ء عزیز توحید الرحمٰن خان کی رہنمائی اور مشورے سے ترتیب دی گئی ہے۔ یہ فہرست ان قارئین کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہےجو اردو ادب کے عظیم الشان سرمائے میں سے پہلے پہل ان فن پاروں کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں جو قبولِ عام اور بقائے دوام کا مرتبہ حاصل کر چکے ہوں اور جن کے تخلیقی محاسن، اسلوب اور زبان وبیان کی رفعت و عظمت پر کلام کی گنجائش مشکل ہو۔ اس فہرست میں داستان، ناول، افسانہ، آپ بیتی، ڈرامہ، خاکہ، مضمون، خط سبھی اصناف شامل ہیں۔ نئے پڑھنے والوں کو چاہیئے کہ دورانِ مطالعہ مشکل الفاظ، تراکیب اور محاوروں کی تفہیم کے لئے اچھی سی لغت مثلاً نور اللغات، جامع اللغات، فرہنگِ آصفیہ وغیرہ سے رجوع کرتے رہیں۔

1۔ رستم و سہراب – آغا حشر کاشمیری
2۔ خیالستان- سجاد حیدر یلدرم
3۔ فردوسِ بریں- دل گداز ( مجموعہ مضامین) مرتب ڈاکٹر فاروق عثمان – عبد الحلیم شرر
4۔ افاداتِ مہدی- مہدی افادی
5۔ مردم دیدہ، مضامینِ حسرت- چراغ حسن حسرت
6۔ دانہ و دام، گرہن – راجندر سنگھ بیدی
7۔ زندگی نقاب چہرے – غلام عباس
8۔ مٹی کا دیا، صحرا نورد کے خطود – میرزا ادیب
9۔ امراؤ جان ادا – مرزا ہادی رسوا
10۔ انار کلی، چاچا چھکن- امتیاز علی تاج
11۔ دلی کی چند عجیب ہستیاں- اشرف صبوحی
12۔ دلی کی بپتا- چند ادبی شخصیتیں- شاہد احمد دہلوی
13۔ دلی جو ایک شہر تھا- ملا واحدی
14۔ زندگی، محبوبِ خدا- چوہدری فضل حق
15۔ خونِ جگر ہونے تک – فضل احمد کریم فضلی
16۔ مقالاتِ شبلی – شبلی نعمانی
17۔ مجموعہ راشد الخیری
18۔ جمالستان، نگارستان – نیاز فتحپوری
19۔ مضامینِ پطرس- پطرس بخاری
20۔ لحاف، ٹیڑھی لکیر- عصمت چغتائی
21۔ خدا کی بستی – شوکت صدیقی
22۔ کئی چاند تھے سرِ آسماں – شمس الرحمٰن فاروقی
23۔ گردِ راہ- اختر حسین رائے پوری
24۔ ناممکن کی جستجو- حمید نسیم
25۔ یادوں کی برات- جوش ملیح آبادی
26۔ جہانِ دانش- احسان دانش
27۔ غبارِ خاطر، تذکرہ- ابوالکلام آزاد
28۔ شہاب نامہ- قدرت اللّٰہ شہاب
29۔ آگ کا دریا- قرت العین حیدر
30۔ مجموعہ ڈپٹی نذیر احمد
31۔ مضامینِ فرحت اللّٰہ بیگ
32۔ خاکم بدہن، آبِ گم- مشتاق احمد یوسفی
33۔ مضامینِ رشید- آشفتہ بیانی میری- رشید احمد صدیقی
34۔ اردو کی آخری کتاب، خمارِ گندم – ابنِ انشا
35۔ بیگمات کے آنسو- خواجہ حسن نظامی
36۔ فسانہ ء آزاد- پنڈت رتن ناتھ سرشار
37۔ باغ و بہار – میر امن
38۔ فسانہ ء عجائب – رجب علی بیگ سرور
39۔ طلسم ہوش رُبا – محمد حسین جاہ و احمد حسین قمر (انتخاب محمد حسن عسکری)
40۔ ناقابلِ فراموش- دیوان سنگھ مفتون
41۔ پسِ دیوارِ زنداں- شورش کاشمیری
42۔ زیرِ لب – صفیہ جان نثار اختر
43۔ احاطہ دارالعلوم دیوبند میں بیتے دن- مولانا سید مناظر احسن گیلانی
44۔ آپ بیتی- مولانا عبد الماجد دریا آبادی
45۔ محشرِ خیال – سجاد انصاری
46۔ رانی کیتکی کی کہانی – انشاء اللّٰہ خاں انشاء
47۔ داستانِ امیر حمزہ
48۔ آوازِ دوست، لوحِ ایام – مختار مسعود۔ 49۔ بجنگ آمد، بزم آرائیاں- کرنل محمد خان
50۔ نیرنگِ خیال، آبِ حیات – محمد حسین آزاد
51۔ تفہیم القرآن، تنقیحات – سید ابوالاعلیٰ مودودی
52۔ سودیشی ریل – شوکت تھانوی
53۔ یادگارِ غالب، مقدمہ شعر و شاعری – الطاف حسین حالی
54۔ انتخابِ مضامینِ سرسید مرتب انور صدیقی
55۔ کالا پانی- جعفر تھانیسری
56۔ آرائشِ محفل، طوطا کہانی – حیدر بخش حیدری
57۔ طرح دار لونڈی – منشی سجاد حسین لکھنوی
58۔ حریفِ آدم- ڈاکٹر نصیر احمد ناصر
59۔ ہم سفر – حمیدہ اختر حسین رائے پوری
60۔ لیلیٰ کے خطوط- قاضی عبد الغفار
61۔ بزمِ آخر – منشی فیض الدین دہلوی
62۔ مجموعہ منشی پریم چند
63۔ آخری آدمی، چراغوں کا دھواں، علامتوں کا زوال – انتظار حسین
64۔ سرگذشت – عبدالمجید سالک
65۔ چاکی واڑا میں وصال، مکاتیبِ خضر- محمد خالد اختر
66۔ آنگن- خدیجہ مستور
67۔ سب افسانے میرے- ہاجرہ مسرور
68۔ سات سمندر پار- بیگم اختر ریاض الدین
69۔ میری ناتمام محبت- حجاب امتیاز علی
70۔ مضامینِ فلک پیما- عبد العزیز فلک پیما
71۔ کپاس کے پھول- احمد ندیم قاسمی
72۔ اداس نسلیں- عبداللّٰہ حسین
73۔ افکارِ پریشاں – جسٹس ایم آر کیانی
74۔ نقوش شخصیات نمبر
75۔ مضامینِ فلک پیما – عبد العزیز فلک پیما

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: