درد بے زباں: حیا ایشم ۔۔۔ آخری قسط

0
  • 3
    Shares

زندگی اس طرح بھی ایک نیا رُخ لے سکتی تھی حبہ نے کبھی نہیں سوچا تھا، اب اُسے اپنا ہونا محسوس ہوتا تھا، اسے اپنا آپ بوجھ نہیں، ہلکا بلکہ اچھا لگتا تھا۔ پہلے جس طرح وہ ہر لحظہ کسی وسوسے کا شکار رہتی تھی۔ اب آہستہ آہستہ ان وساوس کی جگہ یقین نے لینا شروع کی تھی۔ اسکی سائیکالوجسٹ نے بتایا تھا کہ یہ کام صرف دوا نہیں کرتی بلکہ نیورو کیمسٹری کی تباہی کی وجہ سے جو بربادی ہوئی ہوتی ہے اور جسے دوا روک تھام کرتی ہے اس تباہی کی آبادکاری کاؤنسلنگ اور پھر اس پر عمل پیرا ہو کر ہوتی ہے۔ حبہ کو اب کاونسلنگ کی تمام باتیں ذہن نشین رہنے لگی تھیں، کہیں اگر اسے کوئی وسوسہ کوئی خوف جکڑنے لگتا تو وہ فورا اسے ذہن سے جھٹک کر کاونسلنگ کی کسی بات سے اسے ری پلیس کرتی اور واقعی اسے اپنی بہتری اچھی لگنے لگتی، کبھی سوچتی کاش وہ پہلے ہی ٹھیک ہو جاتی وہ تو کتنی آسانی سے اپنے آپ کو موت کے حوالے کر چکی تھی بظاہر صرف ایک سانحے کی وجہ سے۔۔ کبھی جھرجھری سی لے اٹھتی کیا ہوتا اگر وہ ایسے ہی مر جاتی،، وہ بس اللہ کی پناہ مانگ کر رہ جاتی،،، حنظلہ کو حبہ کے رویے میں پہلے سے بہتری نظر آ رہی تھی۔ اس کے چہرے اور رویوں کی وحشت میں اب سکینت محسوس ہوتی تھی۔ اسکا خوفزدہ ہونا بھی بتدریج کم ہو رہا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ اب وہ اللہ کی بات کرے تو وہ پہلے کی طرح بدکتی نہیں، بلکہ خاموشی سے سنتی ہے۔ چاہے کوئی جواب نہ دے۔ وہ خود بھی سائیکالوجسٹ سے کانٹیکٹ میں تھا، اسکے فیملی سیشنز کی مدد سے حبہ اور اسکی اپنی بہت مدد ہو رہی تھی۔ جس رخ سے اب وہ معاملات کو دیکھ رہا تھا یہ رخ اسے پہلے نظر نہیں آیا تھا۔ پہلے وہ بیماری کا علم نہ ہونے کی وجہ سے بہت جلدی اپ سیٹ ہو جاتا تھا۔ مگر اب جوں جوں اسے علم مل رہا تھا اسکے روئیے میں بھی حبہ کے ساتھ ٹھہراؤ آ رہا تھا۔ ” میرے اندر اب پہلے سے شکوے نہیں ابلتے۔ اب اس اذیت کی آگ میں کمی ہے، کیا مجھے اس واقعے کے بارے میں اپنے شوہر کو بتانا ضروری ہے؟” آج حبہ سوچ کر آئی تھی کہ اب وہ زندگی کے جس موڑ پر ہے اسے اپنی ذہنی نفسیاتی، روحانی اور اپنے رشتے اپنی بہتری کے لئے جو بھی قدم اٹھانا ہوا وہ اللہ کا نام لے کر اٹھائے گی۔۔ رابعہ کو جب اسکا ارادہ معلوم ہوا، تو اس نے اپنی خوشی کا اظہار کیا، “میرے لئے یہ بات بہت تسلی بخش ہے کہ اب آپ کسی خوف سے نہیں بلکہ ایک یقین اور ایک امید کے ساتھ قدم اٹھانا چاہتی ہیں۔ میرے نزدیک یہ کمپلشن نہیں کہ آپ اس واقعے کے بارے میں ضرور ہی اپنے شوہر کو بتائیں، وہ ایک حادثہ تھا، آپ چاہیں تو بتا سکتی ہیں اور اگر نہ چاہیں تو بھی ان شاء اللہ آپ اپنی ریکوری سے جڑی رہیں تو اس اژدھے کی قید میں پھر نہیں آئیں گی،” “جیاں تک آپ کے شوہر کو میں سمجھ پائی ہوں، وہ ایک میجور انسان ہیں معامہ فہم بھی،آپکے بچپن کے اس حادثے میں جس کا آپ کا اپنا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ اس حوالے سے انکو بتانے میں کوئی عار نہیں، مگر میں آپ کو اس معاملے میں آزاد چھوڑتی ہوں آپ چاہیں تو بتا دیں نہیں تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ آپ اپنے شوہر کو نہ بتا کر کیا کوئی مجرم محسوس کرتی ہیں؟” “نہیں ۔۔ اب نہیں، الحمدللہ۔ جو غلطی میری نہیں میں اسکی سزا خود کو کیوں دوں، حنظلہ بہت اچھے ہیں، مجھے امید ہے وہ اس معاملے کو چھپکلی کی طرح ہی دیکھیں گے جس کو میری بیماری نے مجھے ڈائنو سار بنا کر دکھایا، سو اگر مجھے کبھی مناسب لگا تو شاید بتا دوں، ورنہ اب میرے ضمیر پر ویسا کوئی بوجھ نہیں کہ میں خود کو انکے قابل نہ سمجھوں، ہاں ایسا بھی نہیں کہ زندگی میں کوئی آزمائش نہیں آئے گی مگر میں نے سیکھا ہے کہ زندگی کو جینے کے لئے ایک ہمت حوصلہ چاہیے بس وہ ساتھ ہو پھر سب آسان ہو جاتا ہے، اور میرے ساتھ اللہ کا ساتھ ہے میرے شوہر ہیں میری اپنی لگن ہے۔ ” رابعہ کو آج ایک نئی حبہ نظر آ رہی تھی۔ جو کسی خوف سے نہیں امید اور یقین میں جینا جان رہی تھی، ہاں ہماری زندگی کی ایسی بہت سی آزمائشیں ہوتی ہیں جن میں اگر ہم کمزور پڑ جائیں تو ایسے جیسے کسی دلدل میں جا پڑتے ہیں، اور پھر ہماری بیمار سوچوں کے سانپ ہمیں اس دلدل میں جکڑے رکھتے ہیں نکلنے ہی نہیں دیتے۔ زندگی اللہ کی نعمت ہے اس کو اگر کوئی حادثہ کوئی بیماری مصیبت بنا رہی ہے تو اسکا حل ڈھونڈنا لازم ہے نہ کہ خود کو اس اذیت کے حوالے کر دیا جائے، اور قدرت کے اپنے پلانز ہوتے ہیں کبھی بے بسی سے گزارہ جاتا ہے تو کبھی اختیار کی آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ آسانی فقط یہ ہے کہ بندہ اپنے سچ سے جُڑا رہے، اور خود کو جھوٹ کے حوالے نہ کرے، بس ساری آسانی بظاہر اس مشکل میں نہاں ہے!

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: