ڈھلکتے جسم اور بگڑتے الفاظ: اصلاح كے پردے میں

0
  • 218
    Shares

ازافسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوف فساد خلق سے ناگفتہ رہ گئے
آزاد انصاری کا یہ مشہور زمانہ شعر وقت بھلے وقتوں کی یادگار ہے جب لوگ سچے اور چیزیں سستی ہوا کرتی تھیں۔ ان دنوں اقدارو روایات کا احترام یوں کیا جاتا تھا کہ بہت سے لوگ اظہار میں احتیاط سے کام لینے پر مجبور تھے۔ جنہوں نے احتیاط نہ کی وہ اپنے اظہار کی بدولت کسی قدر زمانے سے الگ گردانے گئے۔ مگراب جب تمام اجناس مہنگی ہو چکی ہیں اورلوگ بھی سچے نہیں رہے ـ آج کا چلن اور ہے آج آپ فساد خلق کے لئے ناگفتنی کو جتنے کھلے ڈلے انداز میں کہیں گے اسی قدر آپ کی تحریر کو ڈھیروں ڈھیر لائکس ملیں گے اور کمنٹس کا رش پڑے گا۔ بلکہ اب تو اگر آپ خاتون ہیں تو سونے پر سہاگہ والی بات دیکھنے میں آئے گی کہ سپورٹر آپ کے چالیس لفظوں کے اسٹیٹس کویا چار سوالفاظ پر مشتمل شذرہ کو دیکھتے ہی آپ کو آسمان ادب کا چمکتا ستارہ ثابت کر دیں گے۔

آپ افسانہ کا شوق رکھتی ہیں تو مشکل کچھ بھی نہیںِِ پلاٹ کی چنداں اہمیت نہیں کردار بھی زیادہ نہ ہوں کہ بھلا اتنے سے اسٹیٹس کی گنجائش میں سمیٹے نہیں جا سکیں گے۔ اب رہا سوال کہ پھر کیا لکھا جائے تو دور جانے کی کیا ضرورت ہے۔ کہ وہی عورت مرد کی صدیوں پرانی داستان جو کبھی پرانی نہیں ہو سکتی ہے۔ بس خیال رہے کہ ہمارے سماج میں چونکہ آزادانہ تعلقات پر لکھنا لوگوں کو برافروختہ کر سکتا ہے چنانچہ خوب کھلا ڈلا لکھ ڈالئے کہ لوگ سننا اور پڑھنا چاہتے ہیں۔ بس کرداروں کو رشتوں کے تقدس تلے بیان کیجئے کہ اب کا فیشن ہی اور ہے۔ میاں بیوی کی فلمی محبت کے ڈرامائی سین اور پھر اچانک کم سن، کم رو ملازمہ کو میاں کی باہوں میں جھولتے دیکھ کر بیوی کا شاک ہو جانا وہی بے وفائی کا رونا رونا، ستی ساوتری بن کر میاں کے نام سے جڑے بھی رہنا اور رہ رہ کر دکھ بھرے لمحات کو یاد کر کے ٹسوے بھی بہانا ہیں تاکہ لوگوں کو پکا پکا ازبر ہو جائے کہ عورت سدا کی مظلوم ہے۔

دوسرا یہ کہ میاں بیوی ہنسی خوشی رہ رہے ہیں یک دم شوہر نامدار کا دوست کہیں سے برآمد ہو جاتا ہے اور شوہر کی غیر موجودگی میں بیوی سے اندرون خانہ عشق لڑاتا ہے۔ اس میں کچھ گفتنی نا گفتنی قسم کے بھڑکیلے ڈائیلاگ کا ہونا بھی لازم ہے تاکہ سماج کے ترسے ہوئے ذہن بھی شجر ممنوعہ کا پھل چکھ سکیں۔ یوں مشرف بااخلاق قسم کے افسانے لکھنے سے آپ افسانہ لکھنے کا شوق بھی پورا کر سکیں گے۔ ساتھ ہی اخلاق باختگی کا لیبل لگنے سے بھی محفوظ رہیں گے نمبر ون ویب یہ رٹے پٹے مگر فحش افسانے شوق سے چھاپیں گے تاکہ نمبر ون کی دوڑ کا اعزاز کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ آسان طریق پر حاصل ہو سکے۔ ان کے ساتھ ساتھ آپ کا کام بھی پورا ہو جائے گا جنسی جذبات کی آویزش کو راستہ بھی مل جانا ہے اور آپ کو صدی کے بڑے افسانہ نگاروں میں شمار بھی کر لیا جا سکے گا۔ ٹھیک اسی طرح کہ جو سیاست میں لیڈرکے سپورٹر جو حال کرتے ہیں اسی طور سے آپ کے ساتھی، آپ کا گروپ اور کسی حد تک معروف شخصیات وہ وہ الفاظ کی بنت کاری سے تحریر کی کمزوریوں کو پیوند کرتے جائیں گے کہ آپ کو ممتاز مفتی یا عصمت چغتائی قرار دیاجا سکتا ہے۔ البتہ بھڑکیلے ڈائیلاگ نامکمل ہی رہیں گے جو ان میں جنسی اظہار نہ ہو۔ کہیں سے جو سچ مچ ادبی تنقید شروع ہو جائے تب آزادیء اظہار کی چھتری تلے محفوظ ہوجانا ہے۔ باقی رہے کلاسک ادب کے وہ شاہکار افسانے جو ادب کا نصاب پا گئے وہ بھی بند کتابوں کے شیلف سے جھانک کر ششدر رہ جائیں گے کہ افسوس ان کے دور میں سوشل میڈیائی سپورٹر نہیں تھے۔ ھائے ری قسمت۔ ۔


عورت کا وقار اسکا تقدس اگر اصلاح کے نام پر بھی چیلنج کیا جائے تو کچھ قصور آپ کا بھی ہے۔


اگر افسانہ مشکل صنف معلوم ہو تو جانے دیجئے آپ فیس بک پر جاری گرما گرم مباحث یعنی کہ عورت زیادہ مظلوم ہے کہ مرد؟ یا عورت عزت کی حقدار ہے یا مرد قسم کے دو چار نکات گھسیٹ لیجئے کہ محض تبصرے نما اسٹیٹس بھی آپ کو دھڑا دھڑ لائیکس اور کمنٹس دلوا سکتے ہیں کہ یہ رتبہء بلند عورت کو مل چکا ہے۔ اب آپ کافی مشہور قرار پا چکی ہیں اب مرحلہ ہے شاعری کا اس کے لئے فی زمانہ دو اسلوب رائج ہیں ایک تو یہ کہ معروف شعراء کی زمینوں پر تک بندی کر لی جائے محض الفاظ کے الٹانے اور پلٹانے سے بھی کام لیا جا سکتا ہے اب ایک عدد خوب صورت ادائیگی میں یعنی کہ اپنی ایک رنگین تصویر کے کلام پوسٹ کر دیجئے۔ اچھا متشاعرہ کہے جانے کا ڈر ہے اوہ تب مناسب یہی ہے کہ الفاظ کو جملوں میں اس طور سے استعمال کیجئے کہ کسی قدر نثری نظم کی سی شکل نکل آئے۔ اس میں وزن اور قافیے ملانے کا جھنجھٹ بھی کم ہے۔ ۔ ۔ مثال حاضر ہے کہ
دیکھ رہی تھی
دیکھا نہ گیا
میں سوچ رہی تھی
سوچا نہ گیا
اس قدر دکھ میں
رویا نہ گیا
کیا یہی محبت ہے
ہاں یہی محبت ہے
اللہ اللہ خیر صلا پوسٹ کر دیجئے پھر دیکھئے، آہ اور واہ کی آوازیں بلند ہوں گی۔ آپ کو شعلہء بیان شاعرہ تسلیم کر لیا جائے گا۔

طنز و مزاح کے میدان میں جھنڈے گاڑنے کا شوق بھی پورا ہو جانا چاہئے لکھ ڈالئے شاپنگ کی روداد، یا فیس بک پر انبکس تنگ کرنے والے ٹھرکیوں کا ذکر بد کہ آخر یہی فارمولہ آپ کو پاکباز ہونے کے ساتھ تسلیم شدہ مزاح نگارہ قرار دے گا۔ اب کوئی آپ کومزاحیہ ادب میں خاتون مشتاق یوسفی قرار دے تو اس اعزاز کا اپنا نشہ ہے۔ پھر جب مشتاق احمد یوسفی صاحب کو یا ان کے کسی فین کو کسی بھی قسم کا اعتراض نہ ہو تو بے چارے قاری کیا بگاڑ سکتے ہیں؟

طرفہ تماشا یہ ہے کہ حسرت تحریر اب بھی باقی ہو تو باقی کی کسر فیچر نگاری میں نکالی جا سکتی ہے۔ مختصر سے شذرات کو فیچر کے نام سے ٹیگ دیں ۔ لیجئے اب آپ ہرفن مولا قسم کی رائٹر ہیں۔ اب دیکھئے احباب کی فہرست بھی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ ان تمام کے لائیکس اور کمنٹس کی شرح آپ کو کسی بھی قسم کے مشہورترین فیس بکی لکھاریوں کے کسی مقابلے میں ممتاز ترین مقام بھی مل سکتا ہے۔ جہاں زبان و بیان سے ھٹ کر سند ہی لائیکس قرار پائیں۔

اب جیسا کہ ہم باسیان فیسبکستان دیکھا کرتے ہیں کہ کچھ دن مین جب کسی لکھاری یا ویب کا یکسانیت سے جی دوبھر ہو جائے۔ یا کچھ لکھا لوگوں کو اٹریکٹ نہیں کر رہا ہے۔ اور ریٹنگ بڑھانےاور ویورزکو کھینچ لانے کا خیال ہے تو اس کے لئے بھی حکیمان اصلاحی کا یہ نسخہء کیمیاء بہت سالوں کے آذمودہ تجربات سے کشید کیا گیا ہے اور فیس بک پر مروجہ تمام مصالحوں اور اجزاء کے مرکب سے تیار کیا گیا ہے کہ آپ منطق، محاورات، زبان و بیان پرعبور نہ بھی رکھیں تو کچھ مسئلہ نہیں۔ بس کچھ کچھ وقفے کے بعد بی بی سی کی پرانی فائلز پر پڑی گرد جھاڑ کر اکتساب کیا جا سکتا ہے مگر خیال رہےایسے شدید ناگفتنی الفاظ کسی مناسب معزز ترین نام کےساتھ زیادہ سجتے ہیں کیونکہ اصلاحی تحریک کا مقصد فساد برائے اصلاح ہے وہ ہرگز بھی جدیدیت کے نام پر آپ کو یہ مدھوش کن جھولے نہیں دلوائیں گے۔ ان کا مقصد آپ کے اندر پہلے فساد برپا کرنےِِدھڑا دھڑ لائیکس بٹورنے اپنی اپنی ریٹنگ اوپر لے جانے کے بعد ڈانٹ ڈپٹ کر اصلاح احوال کی طرف توجہ مبذول کروانا ہوتا ہے جس کے لئے نئی نسل کے ڈیٹنگ یعنی بگڑتے ہوئے اخلاق باختہ عادات واطوار کا مفصل چسکے دار بیان کرنے کے بعد آپ کو ان کی اصلاح کا قومی فرض یاد کروایا جاتا ہے۔


ڈھلکتے جسم اور بگڑتے الفاظ آپ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ پہلے جسمانی پیمائش اور فگر کے حوالے دے کر مردوں کی ازلی آوارہ فطرت دکھانے کے ساتھ عورتوں کی تشنہ آرزوؤں کو جگانا چاہتے ہیں؟ پھر کچھ ہو تو یہی آپ ہیں، جو عورت کی شرم و حیا اور اس کے تقدس کی دہائی دے دے کے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ۔


اصلاحی تحریک کا ایک مقصد یہ بھی ہے جب اپنی کسی خشک قسم کی تحریر پر مطلوبہ آڈینس نہ ملنے کی صورت میں ان مضامین اور آرٹیکلزکی طرف کھینچ لانا ہو مطلوب و مقصود ہو تب۔ ڈھلکتےجسموں کی بابت مصالحہ قسم کی سطریں ڈھال لی جاتی ہیں جن میں منطق یا ادبیت یا دلیل کا ہونا از بس لازم نہیں۔ چونکہ جسم ایک مادی حقیقت ہے۔ لہذا چورن مصالحہ بیچنے والے جانتے ہیں کہ بھوک خوراک کی ہو یا جنس کی اشتہاء انگیز الفاظ اور فقرے تراش کر جس نے جو لکھا کامیاب قرار پایا۔ پھر خواتین کے قلم سے نکلے شذرات تو اور بھلےمعلوم ہوتے ہیں۔ جو پہلے قلم کو پھر قاری کے ذہن کو انگیخت کر سکتے ہیں۔ یوں یہ جنس پارے ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے ہیں۔ آپ اور آپ کی ویب کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی مل سکتی ہے۔

اب وہ لکھاری بھی نہیں رہے جو ان ذو معنی تراکیب اور الفاظ میں محتاط رہیں نہ ہی وہ قاری ہیں جو الفاظ میں چھپے زہر کو پہچان سکیں۔ وہ تو ڈھلکتے جسموں اور پرکشش جسم کی پیمائش سے ہی مخمور ہو جاتے ہیں۔ اصلاحی تحریک کے دعوے دار یہ بھی لکھنے کے مجاز ہیں کہ جی نسوانی حسن کی پیمائش کے ساتھ ساتھ مردانہ پیمائش بھی مد نظر رہنا چاہئے۔ کیونکہ اگر مردانہ انا عورت کے ڈھلکتے حسن کو نظر انداز کرے تب عورت کو بھی چیتے جیسی کمر نہ رکھنےوالے، گھنے بالوں کے نہ ہونے اور اپالو جیسا حسن نہ رکھنے والے مردوں پر پھبتی کسنے کی اجازت ہونا چاہئے۔

اصلاحی تحریک کا جذبہء اصلاح سر آنکھوں پر مگر کوئی یہ توبتلا دے کہ کیا زمانے میں ایسا نہیں ہو رہا كه کم و بیش دس پندرہ برس سے تعلیم یافتہ لڑکیاں باریش لڑکوں کے رشتے آنے پر صاف انکار کر دیتی ہیں کہ ان کو کلین شیو دولہا درکار ہے۔ نئے زمانے میں اب جس طور کبھی مرد کسی لڑکی کے سراپے پر دوستوں میں کچھ ناگفتنی کہہ کر دل خوش کر لیا کرتے تھے اس سے بھی کہیں بڑھ کر اب لڑکیاں بھی اپنےایف ایم کے پسندیدہ غزل گو میزبان وسیم بھائی کی سیکسی لک کا ذکر کر کے آہیں بھرتی ہیں۔ مردوں کے آفس سدھارنے کے بعد خواتین ٹی وی کے آگے براجمان ہو کر نعمان اعجاز کی آنکھوں میں ڈوب ڈوب جاتی ہیں اور فیصل قریشی سے لے کر دیار دل کے عثمان خالد بٹ کی ستم گیر رومانویت سے دل فگار کئے رکھتی ہیں۔ ان سب کی بھی دلچسپی شوہروں کے ڈھلکتے جسموں اور بور گفتگو سے ھٹ کر کہیں وسیع ہو چکی ہے۔ مگر جانے دیجئے اس سب گفتنی کو ہمیشہ کی طرح میڈیا کے منفی اثرات کے طعنے میں لپیٹ دیا جائے گا۔ درحقیقت یہی سوشل میڈیائی اصلاحی تحریک ہے جو اپنی مجہول تراکیب الفاظ سے میڈیا کےڈراموں سے زیادہ ضرر رساں ہے۔ مان لیجئے یہ سوچ زیادہ خطرناک ہے ۔

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ خرابی برہنگی میں نہیں نظر و دماغ میں ہوتی ھے ان کے لئے تو عورت کے بے پردہ ھونے بلکہ بے لباس ھونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ انہوں نے سوچ کو کسی قسم کے لبادے نہیں پہنائے ہوتے ہیں۔ وہ اشتہارات میں عورت کو نیم عریاں کرتے ہیں یا نسوانی حسن کی پیمائش کرتے ہیں اس بابت ان کا ایجنڈا واضح ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ اسلامی اور اصلاحی علمبردار نسوانی جنس کو جنس بے مول بنا کر اپنے مضامین اور شذرات کو مصالحہ دار پیشکش کے ساتھ سامنے لاتے ہیں۔ ستم بالائے ستم اپنا معزز مقام بھی کیش کراتے ہیں۔ وہ لوگ جو محض دل کے پردے کو مانتے ہیں۔ ان کی سوچ ہی یہی ہے کہ کسی بھی قسم کا پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے سو ان کا عمل ان کی سوچ کا ہی آئینہ دار ہے۔ جبکہ وہ اصلاحی تحریک جو نظر کے پردے اور پاک نظر و پاک طینت رہنے کے فلسفے پر زیادہ داعی ہو کیا ان سے سوال پوچھنے کی گستاخی کیا جا سکتی ہے کہ کیا آپ محض دوسروں کی ماؤں بہنوں کو اخلاق باختہ بنانا چاہتے ہیں؟ اگر نہیں؟ تو کیا ان کی اپنی تحریر کو پاک دامن نہیں ہونا چاہئے؟

ڈھلکتے جسم اور بگڑتے الفاظ آپ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ پہلے جسمانی پیمائش اور فگر کے حوالے دے کر مردوں کی ازلی آوارہ فطرت دکھانے کے ساتھ عورتوں کی تشنہ آرزوؤں کو جگانا چاہتے ہیں؟ پھر کچھ ہو تو یہی آپ ہیں، جو عورت کی شرم و حیااور اس کے تقدس کی دہائی دے دے کے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ عورت کا وقار اسکا تقدس اگر اصلاح کے نام پر بھی چیلنج کیا جائے تو کچھ قصور آپ کا بھی ہے۔ ۔ ۔ ۔
مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات        ۔۔۔        مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے
روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ           ۔۔۔         سودا نہیں، جنوں نہیںِ ِ وحشت نہیں مجھے
غالب

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: