تبدیلی آئی نہیں تو کیا، تبدیلی آنے والی ہے

0
  • 37
    Shares

کہیں سے آواز اٹھ رہی ہے کہ احتساب ہونے جا رہا ہے۔ تو کوئی کہتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا رچایا ہوا کھیل ہے۔ کمال ہے کہ جب لوٹ مار مچی رہی تو بھی واویلہ چاروں اور اٹھتا رہا اور اب جب کہ لوٹ مار کرنے والوں کا احتساب ہو نے جا رہا ہے تو بھی کسی اندرونی و بیرونی طاقت کا پس پردہ رچایا فساد نظر آنے لگا ہے۔ ہمیں اپنے نفع نقصان کا کوئی ادراک نہیں۔ ہمیں بحیثیت مجموعی ایک قوم کے کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آ رہا۔ لگتا ہے جو ہوا وہ غلط تھا، جو ہو رہا ہے وہ بھی غلط ہے۔ شاید ہم آنے والے وقت کے ہزار وسوسوں میں گھرے ہیں۔ ہم ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جو ہمیشہ بدگمانیوں میں ہی گھری رہ کر مسائل کے حل سے غافل رہ جاتی ہے۔ اپنے غیر حقیقت پسندانہ رویے کی وجہ سے ہمیشہ اپنی محرومیوں اور خودساختہ واہموں میں مبتلا رہنا ہمارا مقدر بن چکا ہے۔ یہی بدگمانیاں اور مفروضات ہم سے ہمارا اعتماد اور ذہانتوں کے ثمرات چھین چکے ہیں۔ ایسی قوم کی کوئی آئیڈیل ازم سرے سے بن ہی نہیں پاتی۔

سچی آئیڈیل ازم ایک سچے اور کھرے ہیرو کو تلاشتی ہے۔ وہ ہیرو جو اک لیڈر بننے اور کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔ جس کا ایک تخیل یا ویژن ہوتا ہے ایسا بھرپور ویژن جس کی کچھ ترجیحات ہوتی ہیں وہ ترجیحات جو ترقی کے سفر کی ضامن بنتی ہیں۔ ایک ایسا لیڈر جو بے غرض اور بے لوث ہوتا ہے۔ جو اپنے ویژن کو عملی جامہ پہنانے کا حوصلہ، ہمت اور جرائت رکھتا ہو۔ جو محنت کرنا اور کروانا جانتا ہو۔ لیکن ہم ایسی آ ئیڈیل ازم سے بہت دور ہیں۔ ہمارے کان جھوٹ سننے اور ہماری آنکھیں جھوٹ دیکھنے کی اس قدر عادی ہو چکی ہیں کہ ہمارے آگے سچ اپنی افادیت اور انفرادیت کھو چکا ہے۔ ایک مدت سے سیاسی خاندانوں کے رنگین اور دلفریب جھوٹ ہمارے گرد اپنا سحر قائم کئے ہوئے ہیں۔ اس جھوٹ کی پر فریب چمک اور دلکشی میں مبتلا ہو کر ہم ان دوغلے اور ظالم نمائندوں کو اپنے ہی کندھوں پہ بٹھائے محو رقص ہیں۔ ہم نے لیڈر نہیں بت پال رکھے ہیں۔ ہاں ہم بت پرستی کے گرویدہ ہیں۔ یہی ایک راستہ ہے جس میں سوچنے سمجھنے اور غور کرنے کا وصف درکار نہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد جس جماعت اور لیڈر کے گرویدہ تھے ہم چپ چاپ اسی کو اپنا لیڈر مانتے چلے آئے ہیں۔ ہمارا انتخاب اور ترجیح وہی لیڈر ہیں۔ ہماری تمام تر وفاداریاں انہی کے لئے ہیں۔ لیکن ہاں یہ ماننا پڑے گا کہ ان عظیم بتوں سے گھرے سومنات پر کوئی تو ہے جو اب حملہ آور ہے۔ دیکھو اس نے فرسودہ اور جاہلانہ عقیدت سے منور لوگوں پر آخر کار، زر اور دھن کو اپنے پیٹ میں چھپائے بیٹھے بتوں کی حقیقت آشکار کر ہی دی۔ کیسے پاش پاش کیا ہے اس نے دھن، دولت سے بھرے پڑے بتوں کو۔ وہ دھن دولت جو تمہارے اور ہمارے لہو سے لتھڑی ہوئی ہے۔ وہ زیور جو تمہاری اور ہماری لاشوں سے نوچ نوچ کر وہ اپنی تجوریوں میں بھرتے رہے۔ وہ دولت جس کے حصول کی خاطر وہ ہم سب کے بچوں تک کو رہن رکھ چکے ہیں۔ اس نے ان بتوں کو للکارہ ہے جو اپنی بے قابو اور بے لگام طاقت کے نشے میں ہماری روحوں پر راج کر رہے تھے۔ وہ ہمارے حصے کی روٹی، ہمارے حصے کی خوشی، ہماری خواہشات و خوابوں کو اک عمر سے نوچتے رہے۔ ہمارے حق پر قابض ہو کر ہمیںبھوک اور افلاس کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلتے رہے۔ وہ نہ سندھی ہیں، نہ پٹھان، نہ پنجابی نہ مہاجر۔ ۔ ۔ لوٹنے والے کا نہ کوئی مذہب ہے نہ کوئی گوت، قبیلہ۔ لٹیرا تو صرف لٹیرا ہی ہے۔ ۔ ۔ یہاں کوئی ایک مجرم نہیں۔ ۔ یہاں کوئی ایک بت بھی نہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان بتوں کو بھی مسمار کیا جائے جو سارے نظام پر لات و منات بنے بیٹھے ہیں۔ جن کی آمرانہ اور تکبرانہ سوچ اور طرز زندگی نے ہمارا جینا اجیرن کر رکھا ہے۔ ان کی طاقت کا غرور ہماری نسلیں پھانک چکا ہے۔ وہی ہیں، جن کی وجہ سے پورا نظام بوسیدہ ہو چکا ہے۔

جب نظام بوسیدہ ہونے لگے تو ویمپائر بن کر عوام کی گردنوں میں اپنے خونی جبڑے اتارنے لگتا ہے۔ معاشرہ اخلاقی و تمدنی، معاشی و معاشرتی طور پر ایسے ہی گمراہیوں میں گھر جاتا ہے جیسا کہ آج ہم گھرے ہوئے ہیں۔ عوام کو درکار تعلیم، ایجاد، ٹیکنالوجی، صحت، بہتر اجرتی نظام، اخلاق و ضابطوں، مساوات و عدل سمیت ہر سوغات سے محروم بنانے والے یہی اشرافیہ اور ان کی لوٹ مار ہے۔ یہی مخصوص طبقہ، جس کی کرپشن، ہماری معیشت، ہماری متوقع خوشحالی، ہمارے امن، ہمارے استحکام، ہماری ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ کہنے کو تو یہ جمہوری حکومتیں ہیں لیکن ان کی سوچ جابرانہ اور شہنشاہانہ ہے۔ یہ نام نہاد جمہوری نمائندے بے دردی سے ہمارے حکومتی خزانے کو لوٹتے اور تقسیم کرتے رہے۔ 1970 سے لے کر آج تک کی ہماری تاریخ حکومتی کارندوں اور حکمرانوں کی کرپشن سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن ہم آج بھی ان سے مرعوب ہو کر اپنی ان سے وابستہ والہانہ عقیدت اور احترام کے مرتکب ہیں۔ عقیدتوں کے اظہار میں تو ہماری قوم یوں بھی بے مثال ہے۔ ہمیشہ ڈھونگیوں اور جعلسازوں سے عقیدت کا مظاہرہ بہت احترام سے کرتی ہے۔ لیکن سچے اور کھرے لوگوں کا تماشہ بنانے انہیں روندنے، ان کی عزت تار تار کرنے انہیں بھیڑ میں بے لباس کر کے ریزہ ریزہ کر دینے میں بہت بے مثال ہیں ہم۔ ہم بے حس ہو چکے ہیں یا شاید اس ظالم، جابر اور کرپٹ سسٹم کا حصہ بن چکے ہیں۔ لیکن ہم ہمیشہ سے تو بے حس نہ تھے۔ ہم بہتری کی امید کبھی چھوڑ نہیں سکتے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا کے سبھی ترقی یافتہ ممالک ہمیشہ سے ترقی یافتہ نہ تھے۔ مغرب بھی تو کبھی جہالت اور گمراہی کے بے انت اندھیروں میں گھرا ہوا تھا۔ امریکہ کو اپنے انقلاب کے لئے کئی صدیاں لگیں۔ برطانیہ بھی تو سو سال ایسے ہی اندھیروں سے لڑا۔ یہ فرانس، یہ جرمنی، یہ چین صدا سے تو ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ نہ تھے۔ تبدیلی کا عمل تو کسی بھی معاشرے کا مقدر بن سکتا ہے۔ کب اور کیسے اس کے اندر ہی اندر شب دیجور کی سیاہی چھٹ جائے اور صبح کے نور کا چشمہ پھوٹ پڑے کوئی نہیں جانتا۔ تبدیلی کا عمل سست ہو سکتا ہے جامد نہیں۔ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح کا تحرک تو ہمارے معاشرے میں بھی جاری ہے۔ جیسے جیسے لوٹ مار میں اتحاد بنائے ہوئے ان دو بڑی استحصالی جماعتوں کی حقیقت آشکار ہو رہی ہے ان کی عقیدتوں کے بت مسمار ہونے لگے ہیں۔

ہمیں اس ایک واحد شخص کو داد دینا ہی چاہئے کہ جس نے بد عنوانوں اور لٹیروں کی اس بھیڑ میں آواز حق بلند کئے رکھی۔ جس نے ان لالچ اور خودغرضی سے لتھڑے لیڈروں کے خلاف عوام کو سینہ سپر ہونے کی تلقین کی۔ جس نے اس قوم کو اس کے مسائل کا نہ صرف ادراک دیا بلکہ اس ادراک سے جڑی سچائیوں کو بھی بے نقاب کر کے دکھایا۔ یہ ملک کا وہ واحد لیڈر ہے جس نے ” اینٹی کرپشن تحریک ” کا آغاز کیا۔ اور ملک کو اس کرپشن کی دلدل میں دھکیلنے والوں کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرنے کی ٹھانی۔ اس نے مایوسیوں اور بے یقینیوں کے گھپ اندھیروں میں موہوم سی روشنی کا راستہ بنایا۔ ملک کی روایتی، جبری سیاست کے خلاف آواز اٹھائی۔ ملک کے فرسودہ اور دھاندلیوں سے اٹے انتخابی نظام پر انگلی اٹھائی۔ پہلی بار اس ملک میں کسی متحرک اور عملی سیاستدان و رہنما کے طور پر محنت کی۔ وہ ذاتی زندگی میں ایک ناکام انسان ہی سہی لیکن عوامی زندگی میں کامیاب ہے۔ اور دنیا کےزیادہ تر انقلابی رہنما زاتی زندگی میں ناکام ہی رہے۔ ۔
آج اگر ایک جھوٹے لیڈر کی مکاریاں عوام کے سامنے آئی ہیں تو اسی کی وجہ سے۔ آپ اسے بے شک لیڈر نہ مانیں، اسے کبھی وزارت عظمیٰ کا حقدار بھی نہ ٹھہرائیں کم سے کم اسے اس جرائت اور بے باکی کا کریڈٹ تو دیں۔ پاکستان کسی بہت بڑی تبدیلی کی جانب نہیں جا رہا۔ اور بہت بڑی تبدیلی کی توقع بھی نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ ایسی اچانک تبدیلی کسی خونی انقلاب سے ہی آیا کرتی ہے جو کبھی بھی دیرپا نہیں ہوتی۔ تبدیلی کو ایک مکمل آئیڈیالوجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ تبدیلی صرف حکومت یا شخصیات کو بدلنے کا نام نہیں، تبدیلی پورے سسٹم کو بدلنے کا نام ہے۔ وہ پائیدار تبدیلی اس وقت ہی آئے گی جب ہم غلط کو غلط ماننا اور کہنا سیکھیں گے۔ جب اپنے جائز حق کے لئے آواز اٹھانا سیکھیں گے۔ جب شعور اور تعلیم ہمارے گھر کی باندی ہو گی۔ جب نفرتوں اور جہالتوں کا سد باب ہو گا۔ بقول نیلسن منڈیلا ” تبدیلی کے لئے سب سے مشکل بات معاشرے کو نہیں بلکہ خود کو بدلنا ہے”۔ جس بیداری کا ادراک ہمیں آج مل رہا ہے یہ اب کم نہیں ہو گا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے گا۔ نواز حکومت جائے یا جا کر پھر آ جائے یہ بات تو طے ہے کہ اب وقت بدل رہا ہے۔ ۔ ۔ وقت بہت آہستگی سے اپنا کام دکھا رہا ہے۔
کتنے جاگیر داروں کی جھوٹی شان اور آن بان کے شملے ڈھے چکے ہیں۔ کتنے جھوٹے اور خود غرض امیدوار بے نقاب اور ذلیل و خوار ہوئے۔ یہ تبدیلی کی ایک نشانی ہے۔ دو بڑی جماعتوں کے وفادار کارکن جو پارٹی کے نام پر کسی كهمبے کو بھی ووٹ دینے کو تیار تھے وہ اپنا رخ بدل رہے ہیں۔
اب اگر اس قوم کے خون پسینے کے نوالے اس کے ہاتھ سے چھین کر اپنے بچوں کے منہ میں ڈالنے والے سیاستدانوں اور لیڈروں کو عوام نہ صرف پہچاننے لگے ہیں بلکہ عوام میں ان سے بیزاری بھی پائی جاتی ہے۔ اب ضرورت ایک ایسے نظام کی ہے جو ان رہے سہے استحصالی خاندانوں کی بدقماش، بے ہنر اور بد فعل اولادوں کو ہم پر مسط کرنے کی بجائے ایسے اصول اور قائدے مرتب کرے جس میں کوئی بھی حکمران محض اپنی قابلیت اور اہلیت کی بنا پر ایک ملازم کی طرح اس عہدے پر آئے اور اپنی مدت پوری کر کے چلا جائے۔ ہمیں اپنے سیاسی نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے دیگر معاشی و سماجی نظام میں خود بہ خود مثبت تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔
اگر اچھی سیاست اور اچھا نظام مل جائے تو پاکستان کو ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ پاکستان کے پاس قدرت کے دیئے وہ سبھی وسائل موجود ہیں جو کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ناگزیر ہوتے ہیں۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: