داستان گو — قسط نمبر 9 — ادریس آزاد

0
  • 203
    Shares

آج پروفیسر ولسن کی ٹیم کے ساتھ سڈرہ کمیونٹی کے بڑوں کی آخری میٹنگ منعقد ہورہی تھی۔ یہ لوگ پہلے دن سے ایسی ہی کسی میٹگ کا انتظارکررہے تھے۔ لیکن مائمل چاہتی تھی کہ میٹنگ میں شریک ہونے سے پہلے پروجیکٹ اینڈرو کی پوری ٹیم اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرلے۔ یہ لوگ گزشتہ کئی دن سے مسلسل سوچتے رہے اور اب ٹیم کے تمام ارکان ایک مشترکہ متفقہ فیصلے پر پہنچ چکے تھے۔ آج مائمل کی موجودگی میں یہ لوگ اپنا فیصلہ ہی سنانے والے تھے۔
اس وقت یہ لوگ ہال نما کسی کمرے میں ایک بڑی سی میز کے گرد مائمل اور سڈرہ کمیونٹی کے چند بڑوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ مائمل کے علاوہ آئیسوان اور ’’سائی شین‘‘ بھی اِس اجلاس میں موجود تھے۔ اجلاس شروع ہوا تو سب سے پہلے مائمل نے بات کی،
’’آپ لوگوں کو آج جبرالٹ سیّارے پر لینڈ کیے اکیس دن گزر چکے ہیں۔ اُمید ہے آپ لوگوں نے اپنے اپنے مستقبل کے بارے میں بہت اچھی طرح سوچ لیا ہوگا۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آپ لوگوں نے کیا فیصلے کیے ہیں؟‘‘
پروفیسر ولسن اور اس کی ٹیم کے تمام ممبران اسی سوال کی توقع کررہے تھے۔ چنانچہ سب سے پہلے ولسن نے ہی بات کا آغاز کیا،
’’میں اپنی ٹیم کے ممبران کی طرف سے بات کرنا چاہتاہوں۔ اگر آپ کے طریقۂ کار میں اس کی اجازت ہے تو میں بولوں؟‘‘ ’’بالکل اجازت ہے، سب لوگ آپ کے سامنے ہی تو بیٹھے ہیں۔ اگر کسی نے کچھ کہنا ہوا تو ابھی کہہ دیں گے نا‘‘
مائمل نے دانش اور ایلس لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے کسی قدر مسکرا کر کہا۔ تب ولسن نے دوبارہ بولنا شروع کیا،
’’سب سے پہلی بات، ہم لوگ زمین سے روانہ ہوئے تھے اور زمین پرہی واپس آنے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ سڈرہ کمیونٹی نے ہمیں زمین پر واپس جانے کی بجائے سیّارہ جبرالٹ پر اُتار لیا اور اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں بہت عزت دی گئی۔ لیکن ہم سب نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ایک بار اپنی آنکھوں سے سیّارۂ زمین کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم ایک بار جہاں سے روانہ ہوئے تھے وہیں واپس جانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ لوگ ہمیں زمین پر جانے دیں اور پھر ہمیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے دیں کہ آخر سیّارہ زمین کے ساتھ کیا پیش آیا اور اب وہاں کیا حالات ہیں۔ میرا کہنے کا مطلب ہے کہ ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھنا اور اِس سب ’خواب‘ کا یقین حاصل کرنا چاہتے ہیں جو ہماری شِپ میں نائتلون کے اچانک نمودار ہونے سے شروع ہوکر اب تک جاری ہے۔ ہم سب نے متفقہ طور پر یہی سوچا ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے بارے میں تب تک کوئی حتمی فیصلہ نہ کریں گے جب تک ایک بار اپنی زمین کو دوبارہ نہ دیکھ لیں‘‘
مائمل اور اُس کے ساتھیوں کے لیے ولسن کا جواب غیر متوقع تھا۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ اجلاس میں سیّارہ زمین کا نگران ’’مائیلاس‘‘ بھی تھا۔ یہ بظاہر ایک چوبیس پچیس سال کا بنادم تھا۔ کھلتے ہوئے نین نقش اور نورانیت سے بھرپور چہرے پر اس کی ستواں ناک تیسری صدی قبل مسیح کے یونانیوں کی یاد دلاتی تھی۔ مائمل نے بطور ِ خاص مائیلاس کی طرف استفسارانہ نظروں سے دیکھا۔ مائیلاس سمجھ گیا کہ مائمل اُس کی رائے جاننا چاہتی ہے۔ وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اور کچھ دیر پلکیں پٹپٹاتے رہنے کے مائمل سے مخاطب ہوا،
’’مائمل ! پہلے آپ مجھے ایک بات سمجھائیں! کیا ہمارے مہمانوں کے شیڈول میں سیّارہ زمین بلکہ سُوریا زون کے تمام سیاروں کی سیر کا پروگرام شامل نہیں ہے؟‘‘
مائمل نے یکلخت سرکو زور سے جنبش دی،
’’اوہ! بالکل شامل ہےاور وہ بات میرے ذہن میں ہے۔ آپ سے میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ کب تک اجازت دے سکتے ہیں ؟ مطلب ہمارے مہمان کب تک سیّارۂ زمین کے …..‘‘
مائمل نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ ولسن نے مائمل کی بات کاٹ دی اور درمیان میں بول پڑا،
’’نہیں آپ لوگ سمجھے نہیں‘‘
مائمل اور سڈرہ کمیونٹی کے دیگر بڑے ایک ساتھ چونکے۔ اور سرگھما کر پروفیسر ولسن کی طرف دیکھنے لگے۔ پروفیسر ولسن نے سب کو متجسس دیکھا تو اس نے کہنے لگا،
’’ہم آپ کے مہمان بن کر زمین پر نہیں جانا چاہتے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم جہاں تھے، آپ ہمیں وہاں چھوڑ آئیں۔ ہماری سپیس شِپ ہمیں واپس کردیں۔ اور جس رفتار سے ہم سفر پر روانہ تھے، اُسی رفتار کے ساتھ ہمیں زمین کی طرف جانے دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیں۔ ہم جب خود زمین پر پہنچیں گے تو ہمیں ظاہر ہے آپ لوگوں سے ہی واسطہ پڑے گا۔ اس لیے یہ کوئی اتنا مشکل منصوبہ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ سے ہم کچھ وقت کے بعد تو مل ہی لیں گے۔ اس لیے ہماری درخواست ہے کہ ہمیں واپس وہیں چھوڑا جائے اور ہماری سپیس شپ بھی ہمیں واپس کی جائے‘‘
سڈرہ کمیونٹی کے بڑوں کے لیے یہ ایک نہایت غیر متوقع فیصلہ تھا۔ مائمل سمیت سب بَڑوں کے منہ، ولسن کی بات سے کھلے کےکھلے رہ گئے۔ صرف ایک شخص تھا جو زیرِ لب مسکرا رہا تھا اور اس کے چہرے پر خوشگواریت کی لہر تھی۔ یہ آئیسوان تھا۔ ’’ولسما‘‘ کا سربراہ۔ مائمل نے آئیسوان کو مسکراتے ہوئے دیکھا تو متاثرہوجانے والی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
’’آئیسوان ! آپ کچھ الگ سوچ رہےہیں‘‘
آئیسوان نے مائمل کی جانب دیکھا، پھر پروفیسر ولسن کو دیکھا، پھر ایک ایک کرکے اکیسویں صدی کے اِن سات انسانوں کی جانب عمیق نگاہ دوڑائی اور پھر کہنا شروع کیا،
’’میں لطف لے رہاہوں۔ آپ جانتی ہیں میں تاریخ انسانی کے تقریباً ہردورکے لوگوں کو اُن کے ڈی این اے اور یاداشت کی مدد سے دوبارہ جگا چکاہوں۔ ہمیشہ ایک سے ایک شخصیت سے ملاقات ہوئی ہے۔ میں ایک نتیجے پر پہنچا ہوں۔ یہ لوگ، یہ سروائیول کے عہد کے لوگ، یہ انسان نہیں جنّات تھے۔ میں محاورۃً کہہ رہاہوں۔ مطلب یہ لوگ ہمّت والے تھے۔ بہت زیادہ ہمّت والے۔ آج جس بات کا مزہ آیا وہ یہ ہے ابھی دیکھ لیں، ہم نے پروفیسر ولسن اور ان کی ٹیم کو کیا کیا پیشکشیں نہیں کیں۔ لیکن یہ لوگ اپنی شِپ کے ذریعے سیّارہ زمین پر لینڈ کرنا چاہتے ہیں۔ میں اسی ہمّت کو دیکھ کر خوش ہورہا تھا‘‘
مائمل، آئیسوان کی بات کے ساتھ ساتھ مسکرا رہی تھی۔ پروفیسر ولسن اور اُن کے ساتھیوں کے چہروں پر فخراور خوشی ایک ساتھ لہرائے۔ معا ً مائمل نے کہا،
’’بالکل ٹھیک ہے! آپ لوگ نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔ میں نے پہلے دن نائتلون کو آپ کے پاس بھیجتے وقت یہی الفاظ بولے تھے کہ ’نائتلون! جاؤ! اور اُن لوگوں کو یہاں آنے کی دعوت دو! اور ہم پہلے دن سے آپ لوگوں کو اپنا مہمان اور بہت اہم مہمان ہی سمجھتے ہیں۔ اور مہمان صرف وہی ہوتاہے، جسے آنے اور جانے کی کھلی اجازت ہو۔ ہم لوگ آپ کو کسی بھی قیمت پر ایک قیدی کا سا احساس نہیں دلانا چاہتے۔ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔ آپ کی شپ آپ کو واپس کردی جائے گی اور جب آپ چاہیں گے، آپ کو وہیں پہنچا دیا جائے گا جہاں سے نائتلون آپ لوگوں کو لایا تھا‘‘
یہ سننے کی دیر تھی کہ ولسن کے ساتھی اپنی اپنی جگہوں پر کسمسانے اور چہ میگوئیاں کرنے لگے، معا انیتا کی آواز گونجی،
’’جی ہم! جلد سے جلد روانہ ہونا چاہتے ہیں‘‘
مائمل اور باقی سب نے انیتا کی طرف دیکھا اور پھر مائمل نے انیتا کے چہرے پر واپس جانے کا جوش محسوس کرتے ہوئے مسکراکرسوال کیا،
’’کتنا جلد؟‘‘
’’یہی کوئی ایک دو دن میں‘‘
مائمل نے انیتا کی با ت کی تصدیق کے لیے ولسن کی آنکھوں میں جھانکتےہوئے سوال کیا،
’’کل کا انتظام کردیا جائے پروفیسر؟ مطلب کل صبح آپ لوگوں کو ہم واپسی وہیں پہنچادیں جہاں سے نائتلون آپ کو لے کے یہاں جبرالٹ آیا تھا؟‘‘
پروفیسر تو ایک بار سٹپٹاگیا۔ اس نے سوالیہ نظروں سے اپنے ساتھیوں کی طرف سرگھمایا۔ سب ہی سٹپٹائے ہوئے تھے۔ اُن لوگوں کو سچ مچ کچھ نہ سُوجھ رہا تھا کہ وہ کیا کہیں۔ اچانک واپسی کا سن کر سب انجانے سے خوف کا شکار ہوگئے۔ معاً ایلس نے کسی قدر ہذیانی انداز میں کہا،
’’نہیں مائمل! میں شپ میں واپس نہیں جانا چاہتی۔ میں پائرہ پر رہنا چاہتی ہوں اپنی بیٹی کے پاس۔ اور جب میری ڈیتھ ہوجائے گی تو جو آپ لوگ میرے ساتھ کریں گےمجھے منظور ہے۔ مجھے سب منظور ہے لیکن چڑیا سے الگ ہونا قبول نہیں ہے‘‘
ایلس نے تو سب کو چونکا دیا۔ حتیٰ کہ دانش کو بھی۔ لیکن انیتا کو ایلس کی بات پر غصہ آگیا۔ اُسے ڈرپیدا ہوگیا کہ کہیں ایلس کی وجہ سے فیصلہ بدل ہی نہ جائے۔ اس نےکسی قدر تلخ لہجے میں ایلس سے کہا،
’’کمال ہے۔ آج صبح ہی تو سب کی رائے سے یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ہم سب اپنی شِپ پر واپس جارہے ہیں اور وہاں جاکر ہم اپنی گھڑیاں اپنے پرانے ٹائم کے مطابق سیٹ کرکے زمین کی طرف سفر کرینگے۔ اس کے بعد جو ہوگا دیکھا جائےگا۔ اور ایلس! تم!!!! یہ کیا ہے یار؟؟؟ وہاں میرے مما پپا میرا ویٹ کررہے ہیں۔ اور تمہارے بھی تو!!!‘‘
انیتا نے کچھ یوں کہا جیسے سچ مچ ہی تو وہ جب زمین پر اُتریں گے تو وہاں اکیسویں صدی ہوگی۔ سب انیتا کی طرف ایسی نظروں سے دیکھنے لگے جیسے وہ اس کی ذہنی حالت پر شک کررہے ہوں۔ انیتا کے دستاویزی شوہر ڈاکٹر چینگ نے ہلکا سا طنز کا تیر پھینکا،
’’جس قسم کے واقعات ہم لوگوں کے ساتھ پیش آئے ہیں کسی کا بھی دماغی توازن خراب ہوسکتاہے‘‘
ولسن جانتا تھاکہ اگر انیتا، چینگ پر غصہ نکالنا شروع ہوگئی تو سِڈرہ کمیونٹی کے ان نہایت اعلیٰ افسران کے سامنے یہ لوگ لڑ پڑینگے۔ اس نے یکایک مائمل کی طرف مڑتے ہوئے کہا،
’’ہمارا فیصلہ تبدیل نہیں ہوا۔ اگر آپ ایلس کو پائرہ پر رکھ سکتےہیں تو ہماری طرف سے اجازت ہے۔ باقی ٹیم ہمارے ساتھ ہوگی‘‘
مائمل نے سنجیدگی سے ولسن کی بات سنی۔ لیکن اس نے ولسن کو جواب دینے کی بجائے سیّارہ زمین کے نگران مائیلاس کو مخاطب کرکےکہا،
’’مائیلاس! آپ نے ابھی تک میرے سوال کا جواب نہیں دیا‘‘
مائیلاس منتظر تھاکہ مائمل اُس سے یہ سوال کرے گی۔ اس نے فوراً جواب دیا،
’’ میری طرف سے تمام انتظامات مکمل ہیں۔ میں نے یہاں آنے سے پہلے آخری کام بھی نمٹا دیا تھا۔ پرانی طرز کا ایک سینما ہال تعمیر کروایا ہے‘‘
مائیلوس کی سینما ہال والی بات کسی کی سمجھ میں نہ آئی۔ ولسن کی ٹیم متجسس تھی۔ یہ لوگ اپنی شِپ میں واپس جارہے تھے۔ انیتا بے پناہ خوش تھی۔
**********
ماریہ اور شارق کی تربیت شروع ہوچکی تھی۔ اب وہ جان چکے تھے کہ انہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا گیا ہے۔ لیکن اب شارق شاک سے نکل آیا تھا۔ شارق اور ماریہ کو اب تربیت کے مراحل سے گزرنا تھا۔ وہ یہ بھی جان چکے تھے کہ اُن دونوں کا پرسٹیج ساٹھ سے زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں جگایا گیا۔ ڈاکٹر ہارون کے باقی رشتہ دار ساٹھ سے کم پرسنٹیج والے لوگ تھے اس لیے ان کو جگانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ یہ جان کر ساٹھ سے پرسنٹیج زیادہ ہونے والے انسانوں کو بِنادم کہا جاتاہے اور سڈرہ کیمونٹی میں ان کی بڑی عزت ہے، شارق اور ماریہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ اب کی تربیت شروع ہوئی تو انہیں پتہ ہی نہ چلا کہ وہ تربیتی کورس کا حصہ بن چکے ہیں۔ نہایت ہی غیر محسوس طریقے سے ان پر یہاں کے طور طریقے کھولے جارہے تھے۔
ان دونوں کو نئے جگائے جانے والوں کی تربیت کے لیے مخصوص کیے گئے سیّارے، ’’اُلیون‘‘ پر منتقل کردیا گیا تھا۔ یہاں تربیت کے لیے کوئی استاد نہیں تھا۔ یہاں سب لوگ وہی تھے جنہیں ساٹھ سے اوپر پرسنٹیج ہونے کی وجہ سے نہ صرف جگادیا گیا تھا بلکہ تربیتی کورسز کے لیے یہاں منتقل کردیا تھا۔ شارق اور ماریہ کو یہاں منتقل کیا گیا تو وہ پہلے پہل گھبرارہے تھے۔ لیکن جب انہیں ان کا وِلا دکھایا گیا تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ اُن کا وِلا نہایت ہی خوبصورت اور پرفضا مقام پر واقع تھا۔ یہ ایک مٹی کا بہت بڑا ٹیلا یا پہاڑی سی تھی۔ اوپری سطح ہموار اوراطرف سے ٹیلے کی شکل میں نیچے اُترتاہوا سبزہ ایک سماں پیش کرتاتھا۔ ٹیلے پر سبزہ کسی قالین کی طرح بچھا ہوا تھا۔ ٹیلے کی چوٹی پر لکڑی کا ایک نہایت ہی خوبصورت مکان تھا۔ مکان کے چاروں طرف کھلا میدان سا تھا جس میں سبزے کے بیچوں بیچ اتنے زیادہ پھول کھلے تھے کہ پورا میدان لالہ زار کا نقشہ پیش کررہا تھا۔ میدان میں جابجا درختوں کے مختلف چھوٹے چھوٹے جھنڈ تھے جیسے بہت سے درخت مل کر آپس میں سرجوڑے کوئی منصوبہ بنا رہے ہوں۔
شارق اور ماریہ کو ابھی تک پورا یقین تھا کہ وہ اصل میں جنت میں آگئے ہیں جس کا ذکر مذہبی پیشواؤں سے سنا تھا۔ کیونکہ وہ جب سے بیدار ہوئے تھے اُن کے ساتھ سب اچھا ہی اچھا پیش آرہا تھا اور اب تربیتی سیّارہ ’’اُلیون‘‘ پر انہیں بھیجا گیا تو یوں اتنا بڑااور حسین وِلا انہیں دے دیا گیا تھا۔ وہ ایسی کسی جگہ آنے یا سیر کرنے تک کا اپنی پوری زندگی میں سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ مکان کے عقب میں میدان کا لالہ زار حصہ قدرے مختصر تھا۔ لگ بھگ سومیٹر کے فاصلے پر میدان ختم ہوجاتا تھا۔ یہاں گھنے اور موٹے تنّے والے درختوں کا ایک بہت بڑا سا جھنڈ تھا۔ درختوں کے نیچے خاصی گہری ڈھلوان تھی۔ یہ ڈھلوان نہ تھی ایک خاص قسم کی آبشار تھی۔ ایسی آبشار جسے سڈرہ کمیونٹی کے ’’ایستھیٹکل جیالوجسٹوں‘‘ نے ڈیزائن کیا تھا۔ اُوپر گھنے درختوں کا سایہ اور ان کے عین تلے شفاف پانی کی آبشار جو نیچے دور تک جارہی تھی۔
شارق اور ماریہ اس وقت اسی آبشار کے پہلو بہ پہلو نیچے ہی نیچے اُترتے چلےجارہے تھے۔ وہ دونوں ہنستے، اچھلتے کودتے اور باتیں کرتے ہوئے آبشار کے ساتھ ساتھ اُتر رہے تھے۔ دراصل آبشار بالکل عمودی نہ تھی۔ جیسے جیسے پانی نیچے جارہا تھا، ویسے ویسے آبشار کے دونوں پہلوں پرنصب دُھلے دُھلے سے پتھر بھی زینوں کی شکل میں نیچے تک چلے گئےتھے۔ شارق اور ماریہ کے دل میں ایک بار بھی یہ خیال نہ آیا کہ وہ مرنے کے بعد والی جنت میں نہیں ہیں۔ تمام واقعات سننے کے بعد انہیں پورا یقین ہوگیا تھا۔ وہ ایک ہی بات سوچتے تھے کہ آخر کوئی پندرہ سوسال کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہوسکتاہے؟ چنانچہ اس ایک دلیل کے سامنے ولسما کے ڈاکٹرز کی تمام دلیلیں ناکام ثابت ہوئیں۔ وہ دونوں خود کو بہشتی ہی سمجھ رہے تھے۔ سڈرہ کیونٹی کے تربیتی ادارہ کے لوگ جانتے تھے کہ سب جاگنے والے شروع شروع میں یہی سمجھنے لگتے ہیں۔
معا ایک پتھر پر بیٹھتے ہوئے ماریہ نے کہا،
’’شاری! بات سنو! یار ایک خیال آرہاہے مجھے‘‘
شارق بھی رک گیا۔ وہ بھی ڈھلوانی آبشار کے ایک پتھر پر ہی براجمان ہوگیا۔ دونوں کی سانس بالکل بھی نہ پھولی ہوئی تھی۔ وہ دونوں پاس پاس دو پتھروں پر بیٹھے تھے۔ ان کے بائیں طرف سے آبشار کے پانی کی آواز آرہی تھی۔ پانی اس طرح گررہاتھا گویا کوئی مغنی گارہاہو اور بربط بجارہاہو۔ کسی کسی وقت پانی کی کوئی پھوار اُن دونوں کے چہروں کے ساتھ ٹکراتی تو وہ ہنس دیتے۔ شارق بیٹھ گیا تو ماریہ نے کہا،
’’ہمیں یہاں بھیجنے سے پہلے گزشتہ دنوں میں جو ابتدائی معلومات دی گئی ہیں، ان کے مطابق یہ وہی دنیا ہے جس میں ہم پہلے ہوا کرتے تھے۔ رائٹ؟‘‘
ماریہ نے اپنی بات کو درمیان روک کر شارق سے اپنی مخصوص پرانی ادا کے ساتھ پوچھا،
’’ٹھیک‘‘
شارق نے رائٹ کی بجائے، ’’ٹھیک‘‘ کہہ اس کی تائید کی۔ ماریہ دوبارہ کہنے لگی،
’’اگر ایسا ہے اور اگرواقعی یہ فقط سائنسی ترقی ہے تو پھر اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اصلی نہیں ہے‘‘
شارق ماریہ کا فلسفہ نہ سمجھ پایا۔ اس نے ابہام زدہ چہرے کے ساتھ ماریہ کی طرف دیکھا۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہاہوں۔ ’’ہم کیسے اصلی نہیں ہیں؟‘‘۔ ماریہ نے اس ہنستے ہوئے اس کے ہونق چہرے کی طرف دیکھا اور پھر کہنے لگی،
’’دیکھو یار! ہمیں بتایا گیا ہے کہ صرف دو چیزیں لے کر ہمیں دوبارہ پیدا کیا گیا ہے۔ نمبر ایک، ہمارا ڈی این اے اور نمبر دو ہماری یاداشت۔ تم سوچونا! اس طرح واقعی پیدا تو سکتاہے نا انسان۔ لیکن کیا وہ انسان اصلی ہوگا؟ بالکل وہی والا بندہ جو اپنے دور میں مرگیا تھا؟ میں تو نہیں سمجھتی کہ وہ اصلی ہوگا۔ تم میری بات کو یوں سمجھو گے، دیکھو، اس وقت بھی زمین پر کہیں نہ کہیں تو ہماری قبریں ہونگی نا؟ تم بھی اُس قبر میں مرے پڑے ہو او رمیں بھی اس قبر میں مری پڑی ہوں تو پھر یہ کون ہیں؟ یہ دونوں ؟ جو اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں کررہے ہیں؟‘‘
بڑا عجیب وغریب سوال تھا۔ شارق تو جیسے گُنگ ہوگیا۔ لیکن اچانک ہی اس نے اپنے چہرے پر ہلکی سی ناگواریت لاتے ہوئے کہا،
’’ماری! وائے؟ کیوں؟ کیوں ایسی باتیں سوچتی ہو۔ اور اُف۔ قبریں اور ہم مرے پڑے ہونگے۔ کیسے کیسے بھیانک خیال آتے ہیں تمہیں۔ ہم جنت میں ہیں جانو! ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ملا دیا گیا ہے۔ تم نے سنا نہیں، اب ہم نہیں مرینگے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رہینگے‘‘
شارق کا انداز بے پناہ رومینٹک تھا۔ ماریہ کو پہلی زندگی کے واقعات یاد آنے لگے۔ وہ کیسے باتیں کیا کرتے تھے۔ اکثر تو لڑتے تھے۔ لیکن کبھی کبھار بہت باتیں کرتے تھے۔ مستقبل کے منصوبے بناتے تھے۔ شارق بہت رومینٹک تھا۔ شاعرانہ مزاج بھی تھا۔ ماریہ تو خود شاعری کیا کرتی تھی۔ دونوں ہی خوابوں کے شہزادے تھے۔ ماریہ نے شارق کی بات سنی تو پیار سے اُس کی طرف دیکھنے لگی۔ شارق تو پہلے ہی ماریہ کو دیکھ رہاتھا۔ وہ شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ اپنی جگہ سے اُٹھا تو ماریہ بھی شرارت کے مُوڈ میں آگئی۔ وہ دور سے ہی ہنسنے لگی اورکہنے لگی،
’’خبردار! خبردار! میرے نزدیک مت آنا۔ ورنہ آبشار میں دھکا دے دونگی‘‘
شارق قریب آیا اور ماریہ کے عین سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ وہ اتنا پاس تھا کہ اپنے ہاتھ سے ماریہ کا چہرہ چھو سکتا تھا۔ ماریہ ابھی تک اسی پتھر پر ہی بیٹھی تھی اور ہنستے ہوئے اسے اوٹ پٹانگ باتیں کررہی تھی۔ شارق کچھ دیر خاموش کھڑا رہا۔ شارق کو یوں خاموش کھڑا دیکھ کر ماریہ بھی چپ ہوگئی اور سراُٹھا کر اُس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی۔ وہ شارق کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ شارق بہت سنجیدہ تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھائے اور ماریہ کے چہرے کو اپنی ہتھیلیوں کے درمیان لے لیا۔ جیسے اس نے کوئی کتاب تھام لی ہو۔ ماریہ شرما گئی اور اس نے یکایک نظریں جھکالیں۔ شارق نے ماریہ کا سراپنے ہاتھوں سے اوپر اُٹھاتے ہوئے کہا،
’’ماریہ! اپنے دائیں بائیں دیکھو! ہم جنت میں ہیں میری جان! تم وہی ہو۔ میں وہی ہوں۔ ہمارا پیار وہی ہے۔ ہمیں اور کچھ چاہیے بھلا؟‘‘
شارق بولتاجارہاتھا اور ماریہ پگھلتی جارہی تھی۔
****************
سقراط حسب معمول دریائے ’’یوریان‘‘ کے کنارے ننگے پاؤں ٹہل رہا تھا۔ کریٹو اور ڈالیاس اس کے ساتھ تھے۔ وہ ان دونوں کے درمیان چلتا ہوا اپنے مخصوص انداز میں بول رہا تھا،
’’کسی بھی لفظ کا متعین معنی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ معانی کا تعلق فہم منطقی کے ساتھ ہے۔ اور فہم منطقی متغیر ہے اور ارتقاءپذیرہے۔ معاشرے میں موجود سارے الفاظ ہروقت معانی کے مختلف مدارج پر ہوتے ہیں۔ جس طرح دریا ایک مچھیرے کے لیے کچھ اور چیز ہے اور کسی شہری خاتون کے لیے کچھ اور چیز۔ اس پر مستزاد مرور زمانی یعنی زمانے کا گزر ہے۔ جو لفظوں کے معانی پر اثر انداز ہو کر ان کی شکلیں بدلتا رہتا ہے۔ بعض الفاظ کے معانی بدلنے میں شعوری کو ششیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ لیکن بحیثیت مجموعی الفاظ کے معانی وہی قابل اعتبار ہوتے ہیں جو موجودہ جمہور کے نزدیک متفق علیہ ہوں۔ فہم منطقی کی حرکت کے ساتھ معانی کی حرکت بھی جاری رہتی ہے۔ لفظ کی ادائیگی میں بھی تھوڑا بہت فرق آسکتا ہے۔ لیکن یہ امر لازمی نہیں۔ جبکہ معانی لازمی طور پر وقت کے ہر لمحے میں نئے مفاہیم سے لبریز ہوتا ہے‘‘
سقراط کی بات ختم ہوئی تو کریٹو نے قدرے پر جوش لہجے میں کہا،
”لیکن سقراط اس طرح سے تو بہت سے ابہامات پیدا ہوجائیں گے۔ اگر معانی کو متغیر مان لیا جائے اور خاص طور پر مرور زمانی کا تابع تو گذشتہ ادوار کے تمام قوانین بے معنی ٹھہر یں گے۔ سڈرہ کمیونٹی کا سارا سٹرکچر بے مقصد سمجھا جائے گا۔ کیونکہ جب یہ سب سوچا گیا اور پھر بیان کیا گیا تو اس وقت ان الفاظ کے معانی کچھ اور تھے۔ تمہارے قائدے کے مطابق آج ان الفاظ کے وہ معانی نہیں رہے۔ اس طرح تو کوئی کتاب، کوئی قانون کوئی روایت قائم نہ رہ سکے گی۔ سب کچھ وقت کا رہزن الفاظ کے بطن سے لوٹتا چلا جائے گا“
سقراط چلتے چلتے رک گیا۔ اس نے گھوم کر کریٹو کی جانب دیکھا۔ پھر اپنا داہنا ہاتھ پھیلا کر اس کا کندھا تھپتھپاکر کہا،
”بہت خوب ……….بہت خوب جوان……….یہ بات تو میں نے سوچی نہیں۔ اچھا یوں کرتے ہیں۔ ہم دونوں مل کر سوچتے ہیں۔ ڈالیاس! تم بھی آؤ! ہم مل کر سوچتے ہیں کہ الفاظ کے لیے متعین معانی ضروری ہیں یا نہیں۔ سب سے پہلے تم بتاؤ ڈالیاس …….؟ کوئی لفظ کیسے پیدا ہوتا ہے۔ تم تو خود بہت اچھے شاعر ہو اور سوفیانس کے بیٹے ہو ……..تمہارا باپ بھی تو شاعر ہے نا۔ تمہیں کچھ تو پتا ہوگا کہ آخر لفظ کیسے جنم لیتا ہے”
ڈالیاس نے فوراً ہنستے ہوئے کہا،
’’سقراط میرا باپ شاعر ہے نہیں، شاعر تھا۔ تم یونان کے زمانے سے نکل آؤ سقراط! اچھا میں اپنی رائے دیتاہوں، پہلے پہل تو لفظ صرف ایک آواز ہوتا ہے۔ سقراط! ……….. اور وہ آواز کسی نہ کسی معروضی اکائی کی پہچان کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ یوں کہہ لو کہ اس معروضی اکائی کا نام رکھا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے تمام الفاظ اپنی پیدائش کے وقت اسماءہوتے ہیں یعنی فقط نام۔ کیوں میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا……… سقراط؟“
سقراط نے بائیں ہاتھ سے ڈالیاس کا بھی کندھا تھپتھپایا اور ساتھ ہی کہا:۔
”بالکل!……….تم نے بالکل ٹھیک کہا اور وقت کے ساتھ ساتھ اسماءکے بطن سے ان کے مشتقات یعنی ان کے بچے برآمد ہوتے ہیں۔ جو زمانوں کے ساتھ جڑ کر فعل کی مختلف قسموں کا روپ دھارلیتے ہیں، فعل ماضی، فعل حال، فعل مستقبل کا۔ سارے نئے لفظ جو اپنے مادر اسم سے برآمد ہوئے عموماً تو معانی کے لحاظ سے اپنے مبداءکے ساتھ جڑے رہتے ہیں، لیکن بعض اوقات گم شدہ بچوں کی طرح الگ معانی کے ساتھ معاشرے میں پھیل جاتے ہیں۔ تم نے ٹھیک بتایا ڈالیاس !کہ الفاظ شروع میں صرف اسماءہوتے ہیں یعنی فقط نام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مثلاً “دوڑو!” جو ایک فعل امر ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اپنی اصل میں اس امر کا نام ہے۔ ہماری دیو مالا کے مطابق زیوس نے تمام دیوتاؤں کو یہی اسماءسکھائے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسماءکے معانی متعین تھے یا کہ نہیں۔ اور اگر متعین تھے تو کیا وہ اسماءاور ان کے معانی ابھی تک موجود ہیں یا کہ نہیں۔ فرض کرو وہ ابھی تک موجود ہیں تو بہت بڑی مشکل پیدا ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں شک کرنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے کہ الفاظ کے معانی فہم منطقی کی حرکت کے ساتھ اپنے پچھلے مفاہیم کھوتے اور نئے نئے مفاہیم کے لبادے پہنتے چلے جاتے ہیں۔ کیوں کریٹو ………! کیا تم سمجھتے ہو کہ ایسا نہیں ہوتا؟“
سقراط کی بات مکمل ہوئی تو اس نے کریٹو کی طرف دیکھا۔ اب وہ تینوں پھر ٹہلنا شروع ہوگئے تھے۔ کریٹو نے دریا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سقراط سے کہا،
”سقراط……..!کیا شروع دن سے دریا کو دریا نہیں سمجھا جاتا تھا ؟کیا دریا کے یہی ایک متعین معانی نہیں ہیں کہ یہ دریا ہے۔ مرور زمانی کے ساتھ بدلاہوگا تو لفظ بدلا ہوگا۔ معانی تو نہ بدلے ہوں گے۔ اور نہ ہی فہم منطقی کے ارتقاء نے دریا کے معانی کو کچھ اور سمجھ لیا ہوگا۔ اتنی زیادہ مقدار میں دوکناروں کے درمیان پانی کی اتنی عظیم روانی کو نام دینے کے لیے لفظ کوئی بھی رہا ہو ……..معانی تو ہمیشہ یہی رہے ہوں گے ناکہ یہ دریا ہے؟“
اب سقراط کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک پیدا ہوئی۔ اس نے کریٹو کی جانب تحسین آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا،

”حیرت ہے بھئی!……..تم نے تو بات ہی ختم کردی۔ یعنی دریا کا ایک ہی معانی ہے۔ جس پر منطقی فہم کی حرکت کا کوئی اثر نہیں ہوا……..بات ختم۔ ثابت ہوگیا کہ الفاظ کے معانی متعین ہوتے ہیں۔ اب ایک چھوٹے سے سوال کا جواب دو کریٹو! تاکہ آج ہم یہ قضیہ ہی ختم کردیں کہ الفاظ معانی کے بغیر اپنا کوئی الگ وجود رکھتے ہیں یا نہیں۔ آؤ ہم دریا کے اس متعین معنی کا ہی جائزہ لے لیں جو تم نے طے کیا۔ یعنی دو کناروں کے درمیان بہت سے پانی کی روانی۔ کریٹو ذرا بتانا کہ یہ معانی اس وقت بھی تھا جب دریا کو ایک قہر مان دیوتا سمجھ کر اس کے حضور نذرانے چڑھائے جاتے تھے؟ یا اس وقت بھی تھا جب یہ ’رب الارباب‘ بن، محبت اور مہربانی کی دیوی کے روپ میں ڈھل کر فصلوں کو سیراب کیا کرتا تھا؟۔ کریٹو کیا گنگا ماتا، ابا سین مہاراج…….یہ بھی دوکناروں کے درمیان بہتے ہوئے محض عظیم پانی ہیں؟…… پھر کیا یہ معانی اس وقت بھی تھا جب اس طاقتور دیوتا کو انسانوں نے اپنا قیدی بنالیا، مسخر کرکے اپنا تابع فرمان بنا لیا۔ اتنا کہ اب وہ گویا سرتسلیم خم اور دست ِ اطاعت دراز کرچکا تھا۔ اس کے پانی کو بڑے بڑے ڈیموں میں روک لیا گیا……… پھر اس سے برق پیدا کی……… کریٹو !کیا دریا کا یہی معنی ’’ اُلیون‘‘ کے قطبین پر بھی ہے؟ جہاں برف تلے جمے دریا کسی بلوری سرزمین کی انوکھی دنیا کے انوکھے سیارے معلوم پڑتے ہیں؟ کریٹو کیا دریا کا یہی معنی جحمان پر بہنے والے دریاؤں کا بھی ہوگا؟ جہاں گندگی، بدبو، گوبر، کیچڑ، تیل، اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غلاظت ہی غلاظت ہے جو دریا بیچارے بہنے کی ہمیشہ سے فقط ناکام کوشش کرتے ہیں؟ کریٹو! کیا یہی معنی اس وقت بھی ہوگا جب زمین پر کوئی دریا نہیں رہا تھا اور زمین خشک ہوگئی تھی؟ اور دریاؤں کے صرف سُوکھے نشانات کی وجہ سے انہیں دریا کہا جاتاتھا؟ کیا صدیوں تک لوگ سُوکھے دریا کو دریا نہیں سمجھتے رہے؟کیا دریائے ’ہاکڑہ‘ جو کسی لق و دق صحرا میں ایک خشک سی لکیر سے زیادہ کچھ نہ تھا دریا نہ کہلاتھا؟‘‘
سقراط نے بات ختم کی تو ڈالیاس اور کریٹو پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ اس کی جانب دیکھ رہے تھے۔ معاً کریٹو نے کہا،
’’سقراط! دیوتاؤں کی قسم! تم ہزاروں سال سے مجھے حیران کرتے چلے آرہے ہو؟ ‘‘
سقراط مسکرادیا۔ یہ لوگ بھی سیّارہ ’’الیون ‘‘ پر مقیم تھے۔ جہاں شارق اور ماریہ کو لایا گیا تھا۔ سقراط اور کریٹو کو یہاں تین صدیاں ہونے کو آئی تھیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ابھی اُن کی تربیت مکمل نہیں ہوئی تھی۔ ان کی تربیت تو ابتدائی بیس سالوں میں ہی مکمل ہوگئی تھی لیکن سقراط نے تربیت مکمل ہونے کے بعد اسی سیّارے پر رہنا پسند کیا۔ جو کوئی اسی سیّارے پر رہنا پسند کرتا اس کے لیے ضروری ہوجاتا کہ وہ تربیت کے اُس عظیم نظام کے ساتھ اپنے آپ کو منسلک کرلے جو سڈرہ کمیونٹی کی جانب سے ایسے تمام سیّاروں پر رائج تھا۔ یہ ایک نہایت عجب نظام تھا۔ کوئی بھی تربیت دینے ولا خود کو استاد یا ٹرینر نہیں سمجھتا تھا۔ نہ ہی کوئی باقاعدہ کلاسیں ہوتی تھیں۔ بظاہر یہ لوگ بھی سیّارہ شربری کے لوگوں جیسے دکھائی دیتے تھے، جو کوئی کام نہ کرتے تھے۔ لیکن فی الحقیقت یہ ایک خاموش طریقے پر پورے سیّارے پر پھیلے ہوئے تھے۔ پورے سیارے پر ہمیشہ نئے نئے لوگ لائے جاتے اور وہ سب کے سب اپنے وقت کے سیّارۂ زمین سے لائے جارہے ہوتے تھے۔ اس لیے سقراط نے یہیں رہنا پسند کیا۔ یہاں ہر کوئی زمین سے نیا نیا آیا ہوا تھا۔ کریٹو اور ڈالیاس نے بھی سقراط کی وجہ سے یہیں رہنا پسند کیا تھا۔
تربیت کا طریقہ یہ تھا کہ بس سب لوگ ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہتے۔ چونکہ سڈرہ کمیونٹی کی باتوں کا سب کو پتہ ہوتا اس لیے چائے خانوں پر، باغات میں، نمائشوں میں، عجائب گھروں میں، سڑکوں پر، تقریبات میں، غرض ہرکہیں انسان ایک دوسرے سے ملتے اور بس باتیں ہی کرتے رہتے۔ لوگوں کو اور تو کوئی کام تھا ہی نہیں۔ سب ساٹھ سے اوپر پرسنٹیج کے لوگ ہوتے تھے اس لیے سب ہی ہرقسم کی مشکلات سے مکمل طور پر آزاد تھے۔ سب خوشی سے پھولے نہ سماتے کیونکہ موت کی لمبی نیند کے بعد نئے نئے جاگے ہوئے لوگ ہوتے اس لیے ان میں تجسس اپنی انتہاؤں پر ہوتا۔ ہرکوئی، ہر کسی سے بے خوف و خطر باتیں پوچھتا اور جواب دینے والا جتنا جانتاہوتا بتاتا چلا جاتا۔
یہ لوگ چونکہ ساٹھ پرسینٹ سے اوپر والے تھے اس لیے مبالغہ کی عادت بہت کم تھی اور یوں پوری کمیونٹی کو حقائق سے آگاہی ہوتی رہتی تھی۔ ماریہ اور شارق بھی آنے والے دنوں میں ان لوگوں کے درمیان ایسے ہی رہنے والے تھے۔ وہ اپنے گھرپہنچ چکے تھے اور بہت خوش تھے۔ بہت جلد وہ اسی سیارے پر گھومتے پھرتے تو خود کار تربیت کا عمل خود بخود شروع ہوجاتا۔ یہ لوگ چونکہ پرسنٹیج میں ساٹھ سے اوپر ہوا کرتے اس لیے ان لوگوں کو اپنے ٹیمپرامنٹ کی مشق کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ ویسے لوگ نہیں تھے جیسے لوگ جحمان کے سیاروں پر بھیجے جاتے تھے۔ یہ پہلے سے ہی صلح جُو اور امن پسند لوگ ہوا کرتے تھے۔ زمین کی مختلف صدیوں سے اتنے زیادہ لوگ ’’اُلیون‘‘ جیسے سیاروں پر جگا دیے گئے تھے۔ یہاں آئے ہوئے ہر انسان کے لیے ایسے سارے سیّارے اس وقت تک ایک عجب جادو نگری کی حیثیت اختیار کیے رکھتے جب تک ان کی تربیت مکمل نہ ہوجاتی اور انہیں کسی اور سیارے پر نہ منتقل کردیا جاتا۔ کیونکہ یہاں کے زیادہ تر باشندے یہی سمجھتے رہتے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے جنت میں بھی ج دیے گئے ہیں۔ وہ آپس میں اکثر ایسی ہی باتیں کرتے اور جحمان کے سیاروں کا ذکر کرتے تو تب بھی یہی بات کرتے کہ وہ جہنم ہے۔

—جاری ہے۔—

پہلی قسط اور ناول کا تعارف اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

دوسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

تیسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

چوتھی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں 
پانچویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں
چھٹی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

ساتویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

آٹھویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: