مارشل لاء کیسے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ محمودفیاض

0
  • 26
    Shares

ماں باپ بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ بچہ اسکول سے آتا ہے اور آتے ہی باپ سے سوال کرتا ہے ،
بابا! یہ جنگ کیسے شروع ہوتی ہے؟
باپ کہتا ہے کہ دیکھو جیسے اگر ایران، انڈیا پر حملہ کر دے تو ۔ ۔ ۔ ،
ماں بیچ میں ہی ٹوکتی ہے، تم کیا غلط سلط بچے کو سکھا رہے ہو، ایران بھلا انڈیا پر حملہ کیوں کرے گا۔
باپ کہتا ہے، میں تو صرف مثال دیکر سمجھا ۔ ۔ ۔ ۔
ماں پھر ٹوکتی ہے، تم بس میرے بچے کو غلط ہی بتانا ہمیشہ ، تم نے خود کبھی زندگی میں ٹھیک کام کیا ہے ۔
باپ بھڑکتا ہے، دیکھو! اب تم زیادتی کر رہی ہو، تم نے خود بھی تو میٹرک چار سال میں کیا تھا
ماں اس سے بھی زیادہ تیزی سے ، تم میرے منہ نہ ہی لگو تو ، ورنہ تمہارا خاندان ۔ ۔ ۔
بچہ جو دونوں کا منہ باری باری دیکھ رہا ہوتا ہے، ایک دم خوشی سے چلا اٹھتا ہے ، بس بس ماما، بابا ، میں سمجھ گیا، جنگ کیسے شروع ہوتی ہے۔
۔
پاکستان میں جمہوری اور فوجی حکومتیں باریاں لیتی ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے پر الزام دھرتے ہیں کہ فوج سیاستدانوں کی ناقص کاکردگی پر، اور سیاستدان فوج میں موجود اقتدار پسند (شر پسند نہیں، فوج سے حسن ظن رکھنے والے اصلاح پسند پڑھیں) عناصر پر۔
۔
سیاستدانوں کو چونکہ عوام سے رابطہ رہتا ہے اس لیے وہ فوج یا اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ہر وہ برائی بھی ڈال دیتے ہیں جو انکے بچے کے پاٹی ٹرینڈ نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی ہوتی ہے۔
۔
اب جب کچھ سال گذر جاتے ہیں اور بڑے بوڑھے جمہوریت دیکھ دیکھ کر اوبھ جاتے ہیں۔ ویسے بھی جس جمہوریت میں انسان کو پانی، بجلی، تحفظ، علاج، تعلیم، اور گندم کی ایک روٹی کے بھی لالے پڑ جائیں ایک غریب آدمی اس جمہوریت کو عذاب ہی تصور کرنے لگتا ہے۔ خیر کچھ سال گزرنے پر لوگ باگ پوچھنے لگتے ہیں کہ مارشل لاء کیسے لگتا ہے۔
۔
اس پر سیاستدانوں سے زیادہ سیاست کے شیدائی، جمہوریت کو ہر قیمت (چاہے یہ صدیوں کا ظلم ہی ہو) پر بچائے رکھنا چاہتے ہیں، آہ و بکا شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھو دیکھو، یہ بندہ بنیادی انسانی حقوق، جمہوریت اور دیگر ماڈرن لوازمات کی نفی کر رہا ہے۔ یہ نالائق بندہ نہیں جانتا کہ جمہوریت کا پودا پاکستان کی زمین میں جڑ پکڑنے میں زرا دیر لے رہا ہے۔ باقی جمہوری ملک جہاں تیس چالیس سالوں میں دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی، ہمارے ملک میں جمہوریت کا پودا الٹا زمین کے اندر دھنس گیا۔
۔
خیر جملہ معترضہ سے اگے نکلتے ہوئے، کچھ لوگ ان بغل بچوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پارلیمان کا تقدس ہوتا ہے۔ جو وزیر اعظم کی جوتی سے زرا دو انچ نیچے سے شروع ہو جاتا ہے۔ ہمیں ہر حال میں پارلیمان کے اس تقدس کی حفاظت کرنا ہے۔ اور مارشل لاء کا نام بھی نہیں لینا۔
۔
بغل بچے، اطمینان سے “منتخب وزیر اعظم” کو پارلیمان سے غائب دیکھتے رہتے ہیں۔ پارلیمان کے پچھلی سیٹوں پر براجمان اگلی سیٹوں والوں کی رشتہ دار خواتین جو “حقوق نسواں” حفاظت اور نمائندگی کے لیے وہاں موجود ہوتی ہیں، اپنے برانڈیڈ کپڑوں، جوتوں، اور کاسمیٹکس کی تفصیلات سے بور ہو کر ٹیب پر یوٹیوب کھول کر بیٹھ جاتی ہیں، اور اگلی سیٹوں والے ایک دوسرے کو بتاتے رہتے ہیں کہ اگر تم نے میری چوری بتائی تو میں تمہاری چوری بتا دونگا۔ پھر اسپیکر دونوں کو خاموش کرا دیتا ہے۔
۔
بغل بچے پھر وزیر اعظم کو پارلیمان کا تقدس بڑھانے کی خاطر پارلیمان میں آتے دیکھتے ہیں، اور تالیوں کی گونج میں “حضور والا، یہ ہیں وہ ذرائع” والا گانا سنتے ہیں، جو محمد رفیع جیسی آواز رکھنے والے پر سجتا بھی بڑا ہے۔ منتخب وزیر اعظم جب پارلیمان میں اپنے صادق اور امین ہونے کی دھاک بٹھا لیتے ہیں، تو بغل بچے ایک بار پھر دانشوروں کی طرف دیکھتے ہیں جو جمہوریت بہترین اور پارلیمان عظیم ترین کا کورس ، گلوکار وزیر اعظم کے ساتھ سر ملا کر گا رہے ہوتے ہیں۔
۔
بغل بچے جمہوریت کی ہر نشانی پر وزیر اعظم کو اپنا دایاں پاؤں ، پھر احتیاط سے بایاں پاؤں رکھ کر کھڑا ہوتے دیکھتے ہیں۔ گورنر، صدر، اور دیگر غیر جانبدار عہدے جو جمہوریت کا حسن کہلاتے ہیں، ان پر وزیر اعظم دانشوروں کو آنکھ مارتے ہوئے ، اپنے کاسئہ گیر بٹھالتے ہیں۔
۔
بغل بچے حیرانی سے عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ، الیکشن کمیشن سب کی طرف دیکھتے ہیں۔ کہیں سے کوئی آواز نہ پا کر پھر سے پوچھتے ہیں کہ مارشل لاء کیسے لگتا ہے؟ دانشوروں کو پھر غصہ آتا ہے وہ بغل بچوں کو پھر ڈانٹ دیتے ہیں، اور جمہوریت کو اپنے کئی سو سال پورے کر دینے کے بعد پھل دینے کی امید دلاتے ہیں۔
۔
ملک میں دن دیہاڑے پولیس کا ادارہ 14 لوگوں کو سیدھی گولیوں سے ہلاک کر دیتا ہے۔ اور اس کا کوئی والی وارث نہیں بنتا۔ رپورٹس دبا لی جاتی ہیں۔ من مانی جے آئی ٹی بنا کر غریبوں کے خون کو منوں جعلی کاغذات کے نیچے چھپا دیا جاتا ہے۔ بغل بچے پھر سب اداروں کی طرف دیکھتے ہیں۔ مگر جمہوریت کا حسن، ایک وزیر، ایک وزیر اعلی کے لمبے لمبے برساتی بوٹوں سے زیادہ مقدس تھوڑی نا ہوتا ہے۔
۔
بالاخر جمہوریت، پارلیمان، الیکشن کمیشن اور عدلیہ کا سب سے بڑا امتحان شروع ہوتا ہے۔ جمہوریت کے تقدس کی علامت، پارلیمان کے آئینی سربراہ پر وہ الزام لگتا ہے کہ جو بھلے وقتوں میں کسی شریف آدمی پر لگتا تھا تو وہ علاقہ چھوڑ جاتے تھے۔ بدعنوانی، کرپشن اور اپنوں کو نوازنے کا الزام۔ مگر جمہوریت کے حسن اور زمانے کے بدلاؤ پر شریف آدمی اب ایسے شریف نہیں رہے، سیانے شریف ہو گئے ہیں۔
۔
جمہوریت کی پرانی کتاب تو یہی کہتی ہے کہ ایسی صورتحال میں پارلیمان کا تقدس تب ہی برقرار رہ سکتا ہے جب ملزم اپنے عہدے سے علیحدہ ہو جائے اور اپنے آپ کو بیگناہ ثابت کرے۔ مگر دانشوروں نے پھر بغل بچوں کو سمجھایا کہ “نئی جمہوریت” میں پارلیمان کا تقدس اور سربراہ کی جوتی کا اپنا اپنا مقام قائم و دائم رہے گا۔ بہت سے دانشور اسی کوشش میں اس جوتی کے نیچے سے گذر کر پارلیمان کے تقدس کی حفاظت فرماتے رہے۔
۔
یہ بات اب اس کہانی سے باہر کی ہے کہ باقی کئی ملکوں میں اسی پرانی جمہوریت اور پرانے پارلیمانی تقدس سے کام چلایا گیا، اور انکے پارلیمانی سربراہ نے اپنے عہدے سے علیحدہ ہو کر پارلیمان کا تقدس برقرار رکھا۔ وہاں شائد سربراہ کی جوتی کے نیچے سے دانشور نہیں گذرتے۔
۔
خیر قصہ مختصر کرتے ہیں، سربراہ جمہوریت، جناب وزیر اعظم اعلان کرتے ہیں کہ جیسے ہی جمہوری ادارے جو انہی کے کہے ہوئے پر عمل کرتے ہوئے انکو قابل مواخذہ قرار دیتے ہیں وہ ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر گھر چلے جائیں گے۔ دانشوروں نے پھر بغل بچوں کو گھرکی ماری کہ دیکھا پارلیمان نہ سہی، عدلیہ بھی تو مقدس ادارہ ہے، ہر بار بچوں کی طرح فوج کی طرف دیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ جمہوری تقدس بحال ہونے کو تھا اور ہو جاتا اگر عدلیہ میں بیٹھے لوگ، اور سربراہ کی آشیر واد لیتے محکمے آئینی سربراہ کی جوتی کے تقدس والی بات زہن میں رکھتے۔
۔
مگر عدلیہ میں کچھ پرانی کتابیں پڑھے جج بیٹھے ہیں شائد۔ شائد کچھ اور ہوا چل پڑی ہے۔ شائد ضمیروں کے ڈھیر میں ایک آدھ ذندہ اور کسمسا رہا ہے۔ فیصلہ آئینی سربراہ کے مخالفت میں آنے کے آثار نظر آنے لگے۔ ایک نہیں پانچ محکموں کی تفتیش نے آئینی سربراہ کو ملزم سے مجرم بنانے کی سفارش کر دی۔ اب یہاں ۔ ۔ ۔ بالکل اسی مرحلے پر بغل بچوں کا صبر جواب دے گیا ۔ ۔ ۔ وہ بار بار پوچھنے لگے کہ اب پارلیمان، جمہوریت، عدلیہ کا تقدس کیسے بحال ہوگا۔
۔
دانشور پھر مدد کو آئے اور بتانے لگے کہ یہ سازش ہے۔ ایک ایسے ادارے کی جو پچھلے کئی سال سے جمہوریت کے یہ سارے “تقدیس بھرے” غبارے ہوا میں بلند ہوتے دیکھ رہا ہے اور کبھی انکو چھونے کی کوشش نہیں کی۔
بغل بچوں نے پھر پوچھا، مارشل لاء کیسے لگتا ہے؟ کیونکہ وہ جاننا چاہ رہے تھے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ اور فوج ہی مل کر ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے جس سے مارشل لاء کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ اور سیاسی لوگ، پارلیمانی لوگ، جمہوری لوگ اپنے رویوں، قربانیوں، اور جذبوں میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے کہ پارلیمان کا تقدس سب سے بلندی پر ہی رہے۔ مگر وہ وزیر اعظم کی جوتی ۔ ۔ ۔
۔
پھر پارلیمانی، جمہوری، سیاسی سربراہ مملکت بغل بچوں کے سامنے ظاہر ہوئے، اور فرمایا کہ میں اپنی کرسی نہیں چھوڑوں گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے، یہ میرے خلاف ایک سازش ہے اور ہم اسکا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
۔
تب بغل بچوں کو بغیر دانشوروں کے یہ سمجھ میں آ گیا کہ جب پارلیمان، جمہوریت، عدلیہ، مقننہ، اور دیگر جمہوری روایات سے اوپر وزیر اعظم کی جوتی رکھ دی جائے، اور ہر راستہ بند کر دیا جائے تو مارشل لاء کا راستہ ہی باقی بچتا ہے۔
۔
بغل بچوں کو یہ بات بالکل ویسے ہی سمجھ آگئی جیسے شروع والے لطیفے میں میاں بیوی کی جنگ میں بچے کو سمجھ آگئی تھی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محمودفیاضؔ

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: