روحانیت کا مفہوم اور قرآن

0
  • 2
    Shares

اللہ فرماتا ہے، سورۃ البقرۃ آیۃ ۱۵۶ (اِن حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے، تو کہیں کہ:) “ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے”۔ بےشک ہر انسان اپنے رب کی طرف پلٹ کرجائےگا۔ تو اس پلٹنے میں ہمارا جسم ہے یا روح؟ ہمارا جسم مٹی سے بناہے اور روح اللہ کا “امر” ہے۔ اللہ فرماتا ہے، سورۃ بنی اسرائیل آیۃ ۸۵ یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں کہو “یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے” انسان کا جسم مٹی سے بنا ہے اور جسم کو طاقت حاصل کرنے اور پنپنے کے لئے جو غذا آتی ہے وہ بھی مٹی سے آتی ہے، اور جب انسان کا انتقال ہوجاتا ہے تو وہ جسم دوبارہ مٹی کی طرف لوٹ جاتا ہے یا مٹی میں مل جاتا ہے۔ انتقال کا مطلب ہی جگہ کی تبدیلی کے ہیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا یا کرنا۔ جب انسان انتقال کرتا ہے تو اس کا جسم مٹی کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اور روح اللہ کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ روح کی غذا اللہ کا ذکر ہے، ظاہر ہے اس کو بھی طاقت چاہیئے، اور یہ طاقت صرف اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ کے ذکر میں جو چیزیں شامل ہیں،۔ قرآن، اللہ کا ذکر ہے (اس کا پڑھنا اور سمجھنا پھر اس پر عمل کرنا اور اسی کے نتیجے میں دوسروں کی رہنمائی کرنا)، نماز اللہ کا ذکر ہے، کلمات کا ورد کرنا، یا تسبیح کرنا اللہ کا ذکر ہے، جیسے لاالہ الااللہ، الحمدللہ، سبحان اللہ وبحمدہٖ سبحان اللہ العظیم، وغیرہ، دعائیں اللہ کا ذکر ہیں، اسی طرح کسی بھی نیک کام کا کرنا جو اللہ کے رسول ﷺ سے ہم تک پہنچا۔ اللہ کا ذکر روح کی غذا ہے، اس کی جتنی بہتر پرورش کریں گے اتنی ہی روحانیت حاصل ہوگی۔ اللہ کے جتنے ولی گزرے ان سب نے جسم کی ضرورت کو ضرورت سمجھ کر پورا کیا، اور روح کی ضرورت کو ضرورت سمجھ کر پورا کیا۔ اس کو کہتے ہیں اعتدال، اور یہی اسلام کا راستہ ہے۔ کچھ اولیاء اللہ نے اس روحانی ضرورت کے علاوہ بھی اس کو غذا دی، یعنی انہوں نے اللہ کے ذکر سے اپنی روحوں کو زیادہ سے زیادہ طاقت دینے کی کوشش کی، وہ لوگ اس مقام پر پہنچ گئے کہ آج بھی لوگ انہیں اللہ کے دوست (ولی) کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ ان اولیاء اللہ نے کیسے روحانیت حاصل کی؟ ان اولیاء اللہ نے قرآن کو پڑھا، سمجھا، اس کے مطابق عمل کیا، اور اس کے نتیجے میں دوسروں کی رہنمائی کی (یہ سب سے اہم کام ہے جسے ہم اولیاء اللہ سے بالکل منسوب نہیں سمجھتے، ہم سمجھتے ہیں کہ اولیاء اللہ تو جنگلوں میں انسانوں سے کٹ کر رہ جاتے، نہ کھانے کا ہوش نہ دنیا سے سروکار۔ ایسا ہرگز نہیں ہوا)۔ انہوں نے نمازیں بھی پڑھیں، ہر معاملے میں اللہ سے دعائیں بھی کرتے رہے، یعنی ہر وقت اللہ کے ذکر سے اپنی روح کو طاقتور بناتے رہے، اپنی روحانیت کو بڑھاتے رہے، اللہ سے رابطہ بنائے رکھا۔ اس کے علاوہ روح کی نشونماء اللہ کی اس کائنات میں، زمین و آسمان میں، اور اپنے نفس میں غور کرنے سے ملتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے، سورۃ الروم آیۃ ۸ کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرّر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ سورۃ الاعراف آیۃ ۱۸۵ کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا؟ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید اِن کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آ لگا ہو؟ پھر آخر پیغمبر ﷺ کی اِس تنبیہ کے بعد اور کونسی بات ایسی ہو سکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟ اللہ نے مختلف مقام پر قرآن میں قرآن پر، اپنے کلام پر، غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ اللہ فرماتا ہے، سورۃ المؤمنون آیۃ ۫۶۸ تو کیا اِن لوگوں نے کبھی اِس کلام پر غور نہیں کیا؟ یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی؟ سورۃ محمد آیۃ ۲۴ کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟ سورۃ النساء آیۃ ۸۲ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اِس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی۔ سورۃ ص آیۃ ۲۹ یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمد ﷺ) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔ اس کے علاوہ اللہ کائنات میں مختلف چیزوں کے نظام پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ اس کے بندے اس کے قریب ہوجائیں، اللہ ان کا ولی ہو اور وہ اللہ کے ولی۔ سورۃ الانعام آیۃ ۹۹ اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی، پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے، پھر ان سے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں، اور انگور، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر اُن کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو، اِن چیزوں میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ سورۃ الحج آیۃ ۷۳ لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مِل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے، مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ سورۃ الروم آیۃ ۲۱ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔ سورۃ الزمر آیۃ ۴۲ وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اُس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے اُسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔ سورۃ الجاثیۃ آیۃ ۱۳ اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا سب کچھ اپنے پاس سے، اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔ سورۃ آل عمران آیۃ ۱۹۱ جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں (وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں) “پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے”۔ جب انہوں نے اللہ سے رابطہ بنائے رکھا تو اللہ نے بھی ان سے مظبوط رابطہ بنائے رکھا، یعنی اللہ ان کا ولی (دوست) اور وہ اللہ کے ولی (دوست) بن گئے۔ یہ تعلق دو طرفہ ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔ اللہ ولی الذین اٰمنو یخرجہم من الظلمٰت الی النور سورۃ البقرۃ آیۃ ۲۵۷ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اللہ ان کا حامی و مددگار (ولی) ہے اور وہ ان کو (ظلمت کی، گمراہیوں کی) تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: