نواز شریف کے سیاسی آپشن: سلمان عابد

0

وزیر اعظم نواز شریف اپنے سیاسی کیرئیر میں پہلی بار ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ اس حالیہ پانامہ او رجے آئی ٹی کے نتیجے میں ان پر لگنے والے الزامات کی تصدیق کے بعد وہ عملی طور پر سیاسی، اخلاقی اور قانونی محاذ پر تنہا نظر آتے ہیں۔ ماضی میں ان کو اسٹیبلشمنٹ کے محاذ پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن اس بار ان کی او ران کے خاندان کی کرپشن او ربدعنوانیوں پر مبنی داستان نے ان کا سیاسی مقدمہ کمزور کردیا ہے۔اگرچہ وزیر اعظم نواز شریف او ران کی حکومت نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن بظاہر ایسا نظر آتا ہے ان کے قانونی آپشن بھی محدود ہیں۔ کیونکہ اگر ان کے پاس واقعی درست قانونی دستاویزات ہوتیں تو وہ جے آئی ٹی سے قبل سپریم کورٹ میں بھی پیش کرسکتے تھے، لیکن ایسا نہیں کیاجاسکا۔
یا درکھا جائے کہ جے آئی ٹی کی ایک قانونی حیثیت ہے اور یہ سپریم کورٹ کے نہ صرف حکم پر بنی بلکہ باقاعدگی سے یہ عدالت کو جوابدہ بھی تھی اور عدالت اس کی نگرانی کا عمل بھی کررہی تھی۔ اس لیے اس کی پوری رپورٹ اور دیے گئے شواہد کو چیلنج کرنا حکومت او رقانونی ماہرین کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے ساتھی اس جنگ کو قانونی محاذ سے نکال کر سیاسی میدان میں لانے کی حکمت عملی پر کام کررہے ہیں۔ وزیر اعظم کو مشور دیا جارہا ہے کہ وہ سیاسی میدان کا راستہ اختیا ر کریں اور لوگوں میں اس فکر کو لے کر جائیں کہ ان کے خلاف ملکی اور بین الااقوامی سطح پر سازش ہوئی او راس میں اسٹیبلشمنٹ شامل ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بھی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سکے ساتھ جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں اس تاثر کو بہت حد تک کمزور کردیا ہے کہ نواز شریف او ران کا خاندان شفافیت رکھتا ہے۔ ایسے ایسے معاملات جے آئی ٹی سامنے لائی ہے، بس دیکھتا جا اور شرماتا جا۔
اب سوال یہ ہے کہ نواز شریف اس سیاسی بحران سے کیسے نکل سکیں گے ؟ یہ بحران محض سیاسی ہی نہیں بلکہ کسی نہ کسی شکل میں ان کو قانونی محاذ پر بھی اپنا دفاع کرنا ہے۔ اگر ان کا خیال ہے کہ وہ اس جنگ کو سیاسی میدان میں لے جائیں گے تو تب بھی قانونی جکڑ بندیاں ان کا پیچھا کریں گی۔ ان کے پاس اس وقت محض چار آپشن ہیں۔
اول وہ فوری طور پر اپنی جگہ متبادل وزیر اعظم کا انتخاب کرکے اس جمہوری نظام کو بچائیں اور اگلے ایک برس تک پیچھے بیٹھ کر اپنی پارٹی اور حکومتی معاملات کو چلانے کی کوشش کریں۔ کیونکہ اگر یہ نظام واقعی چلنا ہے تو اس کی کنجی نواز شریف کے اسی فیصلہ سے جڑی ہوئی ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ تاثر عام ہوگا کہ نظام کو اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری نواز شریف پر ہی ہوگی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس متبادل وزیر اعظم کے حوالے سے بھی صورتحال خوش کن نہیں۔ پارٹی میں موجود گروپ بندیاں ان کو کسی متفقہ وزیر اعظم تک پہنچنے میں مشکلات دے رہی ہیں۔ ایک نام کلثوم نواز کا ہے، لوگ کہتے ہیں اس پر سب متفق ہوسکتے ہیں۔ لیکن پارٹی میں گروپ بندی نواز شریف کے لیے بڑا چیلنج ہے اور اگر ان کو متبادل وزیر اعظم کا فیصلہ کرنا پڑا تو پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ ہوسکتی ہے۔
دوئم ان کے جو سیاسی رفقا جن میں خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال ان کو فوج یا عدلیہ سمیت اسٹیبلشمنٹ سے مزاحمت کا مشور ہ دے رہے ہیں کہ وہ اس جنگ کو سیاسی میدان میں لے جائیں، خود نواز شریف بھی اس آپشن کے حامی ہیں او ران کے ساتھی برملا کہہ رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال جوڈیشل مارشل لا کی طرف لے جاتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مزاحمت اگر سیاسی مسائل پر ہوتی تو یقینی طور پر صورتحال مختلف ہوسکتی تھی۔لیکن یہاں معاملہ کرپشن م بدعنوانی، اقراپروری سمیت کاروباری معاملات میں غیر شفافیت کا ہے، اس پر عوامی سطح پر بڑی مزاحمت پیدا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔قانونی محاذ پر بھی ان کو عدالت میں متبادل ثبوت دینے ہیں، جو موجود نہیں۔
سوئم وزیر اعظم نواز شریف فوری طور پر نئے انتخابات کا راستہ اختیار کریں اور جاکر نیا مینڈیٹ لیں،لیکن اس پر بھی ان کے بعض ساتھیوں کا مشورہ ہے کہ اگر فوری طور پر انتخابات کا راستہ اختیار کیا گیا تو پانامہ اور جے آئی ٹی کے فیصلے ان پر اثر انداز ہونگے اور انتخابی مہم میں ان کو مشکل صورتحال کا سامنا ہوگا، بالخصوص عمران خان اس جے آئی ٹی او رپانامہ کو بنیاد بنا کر ہمیں مشکل صورتحال سے دوچار کرے گا۔ یہ بات بھی نظر آرہی ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں وزیر اعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا کا بھی کہہ سکتی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ق( اور تحریک انصا ف ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہیں ایسے میں وزیر اعظم کے لیے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا بھی مشکل ہوگا۔
اس کے برعکس اگر آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتی ہے، جس کا واضح امکان ہے تو اس سے نواز شریف کا سیاسی مستقبل بھی داو پر لگے گا اور پارٹی میں بھی ان کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ مسلم لیگ کی تاریخ ہے کہ وہ ایسی مشکل صورتحال میں مشکل راستہ اختیار کرنے کی بجائے آسان راستہ اختیارکرتی ہے او رجو بھی گروپ مسلم لیگ کے نام پر سامنے آئے گا وہ اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔یہ تینوں سیاسی آپشن نواز شریف کے سیاسی مستقبل کے لیے آسان نہیں،کیونکہ جب کوئی قیادت سیاسی اور اخلاقی طور پر کمزور ہوجائے اور اس کا خاندان مالی بدعنوانیوںکا شکار ہوتو اس کی جہدوجہد بھی سیاسی تنہائی کا شکار ہوجاتی ہے، او رنواز شریف اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں روشنی کم اور تاریکی زیادہ ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: