ہائے شادی ہائے شادی: معلمہ ریاضی

0

پچھلے دنوں کنوارے نوجوانوں اور انکے والدین کو مخاطب کر کے شادی جلد کرنے کی تحریک دینے کے لئے ایک تحریر لکھی تھی ۔ اس پر جو تبصرے آئے اس میں دو مجبوریاں عروج پہ تھیں.  نمبر ایک اپنی شادی کی بات خود کیسے کریں، شرم آتی ہے.  نمبر  دو امی ابو  کہتے ہیں ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟
ـ
نمبر ایک والوں کو تو دل چاہتا ہے مرغا بنا کر جوتا ماریں. اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں زیادہ سے زیادہ لڑکیوں سے دوستی کریں گے تب  کوئی شرم نہیں. گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر بیہودہ فلمیں دیکھیں گے کچھ شرم نہیں آنی. جب خوب نمک مرچ لگا کر اپنے جعلی و اصلی معاشقے بہنوں کو سنائیں گے تب بھی شرم کا نام و نشان نہیں ہوگا. چاند رات کو خاص طور پہ شاپنگ مال جائیں گے، آنکھوں کی گرم سینکائی کے لئے تو بھی کونسی شرم ؟ نہیں معلوم.

گلی کے نکڑ پہ بیٹھ کر آتی جاتی لڑکیوں کا جینا حرام کریں گے تو شرم تیل لینے چلی جائے گی. اسٹاپ پہ کھڑی اکیلی لڑکی کو ڈراپ کرنے کی آفر کریں گے زرا بھی  شرم قریب نہیں آئے گی.  آفس میں ساتھی کولیگز سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتے رہے گے اور ذو معنی جملوں کا تبادلہ کریں گے وہ بغیر کسی شرم کے.

لیکن جیسے ہی سنت پہ عمل کرنے کے لئے، شادی کا تقاضہ کرنے کی بات آئے گی تو شرم و حیا کا جن چھلانگ مار کر ہو ہا ہو ہا کرتا باہر آجائے گا۔  انگلیاں مروڑی جائیں گی، ناخن چبائے جائیں گے. مگر منہ سے نہیں نکلے گا کہ ’اماں! تھوڑی سی تو لفٹ کرادو، اب تو میری شادی کرادو‘.

نمبر دو والوں کا کیا کریں! سمجھ نہیں آتا یہ والدین اپنی قبر میں آگ کیوں بھرنے پہ تلے بیٹھے ہیں. زرا آس پاس نظر تو ڈالیں۔۔۔۔ آج کل مائیں، دو سال کے بچے کو ٹی وی کے سامنے کارٹون دیکھنے بٹھا دیتی ہیں کہ مصروف رہے گا اور تنگ نہیں کرے گا. تین سال کی عمر میں اسے خود سے جدا کرکے اسکول بھیج دیتی ہیں کہ کہیں عمر زیادہ ہوگئی تو اچھے اسکول میں داخلہ نہیں ملے گا.

چھ سال کے بچے کو آج کل موبائل دیا جاتا ہے. یہ سوچے بغیر کہ مسلسل گیم کھیلنے سے اسکی انکھوں کی بینائی اور جسمانی نشوونما پہ کتنا برا اثر پڑے گا۔ پندرہ سال کی عمر میں بچے کی فرمائش پہ اسے بائیک دلادی جاتی ہے اور اٹھارہ انیس سال کی عمر میں بیٹا اگر پڑھائی کے ساتھ جاب کرے تو ماں بلائیں لیتے نہیں تھکتی اور بائیس تئیس سال کی عمر میں باقاعدہ جاب کر کے گھر کے خرچے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے،  تب بھی کسی ایک لمحے میں بھی والدین خاص کر ماؤں کو خیال نہیں آتا کہ ’بچے کی ابھی عمر ہی کیا ہے؟

لیکن جیسے ہی بیچارہ شادی کے لئے منہ کھولتا ہے، ماؤں کو کھٹ سے یاد آجاتا ہے کہ ؟’ ہائے اللہ! میرا ببلو تو ننھا کاکا ہے۔ ابھی ہفتے بھر پہلے تو پیدا ہوا ہے۔  پانچ دن پہلے تو پنگوڑے سے اٹھا ہے۔  تین دن پہلے تو اسکے دودھ کے دانت ٹوٹے ہیں۔ ابھی سے کہاں اس کے نازک کندھوں پہ بوجھ ڈال دوں.  ابھی تو میرے بچے کو شلوار میں ناڑا ڈالنا بھی نہیں آیا۔  بیٹا بیچارہ کلس کے رہ جاتا ہے کہ ’اماں! میں شلوار میں الاسٹک ڈال لوں گا، شادی تو کرائیں۔۔۔۔’
ـ
ایک بیٹے نے ماں سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو ماں نے بڑے پیار سے چمکار کے کہا، ’ بیٹے!   اتنی جلدی بھی کیا ہے؟  ابھی تو تیرے کھیلنے کودنے کے دن ہیں میرے لعل! عیش کر ابھی‘ بیٹے صاحب  بھی پکے تھے ، ترنت بولے ، ’ٹھیک ہے اماں! میں کل سے جاب چھوڑ کر گھر بیٹھ جاتا ہوں.‘
اماں جی بلبلا اٹھیں، ’ارے اتنی مشکل سے تو اتنی اچھی تنخواہ والی جاب لگی ہے‘ کیوں چھوڑے گا جاب تو؟ صاحبزادے نے گنگنا کر جواب دیا، ’ارے کھیلوں گا، کودوں گا، عیش کروں گا۔۔۔ اور کیا؟ اماں کی بلبلاہٹ چیخ میں ڈھل گئی، ’پاگل تو نہیں ہوگیا ہے! اتنی مہنگائی ہے، ایک تیرے ابا کیا کیا کریں؟ ‘اماں! یہی تو کہہ رہا ہوں، ابا ماشاءاللہ پانچ آئیٹم مارکیٹ میں لے آئے، اب بیٹے کو بھی تو موقع دیں‘ بیٹے نے جواب دیا اور۔۔۔۔۔

آگے کیا ہوا۔۔۔۔ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں. اہمیت اس مسئلے کی ہے جسکا سامنا یہ نوجوان کر رہے ہیں کہ ’مرد‘ ہوتے ہوئے بھی اپنے گھر والوں کے سامنے اپنے شرعی حق کے لئے ڈٹ نہیں سکتے۔

وجہ ؟ والدین کا احترام؟ بڑی بہنوں کی شادی؟ خاندان والوں کی باتیں؟ نہیں جناب! معلمہ کی نظر میں یہ سب لولے لنگڑے بہانے ہیں. ہماری نظر میں صرف دووجوہات ہیں. ۔
ایک تو یہ کہ نوجوانوں کی قوتِ فیصلہ کی کمی اور خود پہ بھروسہ نہ ہونا. (جن نوجوانوں میں یہ دو باتیں ہوتی ہیں وہ بصد احترام اپنی بات منوا بھی لیتے ہیں اور نبھا بھی لیتے ہیں.  جن میں نہیں ہوتی وہ بس سوشل میڈیا پہ بیانیہ لگا لگا کر روتے ہیں، ’ہائے شادی ہائے شادی‘

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: