کامیاب زندگی: لالہ صحرائی

1
  • 395
    Shares

کامیابی کا مطلب ہے کسی چیز، صلاحیت، فرد، منصب یا منزل کا حصول جو طمانیت بخش ہو۔

کسی معاملے میں کامیابی کا حصول ایک مجرد مرحلہ ہوتا ہے جبکہ کامیاب زندگی کا حصول ایک سیریز آف ایوینٹس میں کامیابی کا متقاضی ہے، یعنی جب انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں، ہر معاملے میں اور ہر موقع پر مسلسل کامیابیاں ملتی چلی جائیں تو اسے کامیاب زندگی سمجھا جاتا ہے۔

کامیاب زندگی کا جو تصور اوپر بیان کیا گیا ہے یہ اپنے معانی میں تو بلکل درست ہے لیکن یونیورسل ٹروتھ بلکل بھی نہیں، حقیقت میں کسی ایک انسان کو بھی ایسی زندگی میسر نہیں جو اس تعریف پر پوری اترتی ہو لیکن ہر انسان دوسروں کو دیکھ کر اس دھوکے کا شکار رہتا ہے کہ لوگ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں اور ہم ایک ناکام زندگی گزار رہے ہیں، یہی سوچ انسان میں احساس کمتری جگاتی ہے جو خدائے تعالٰے سے گلے شکوے تک بھی لیجاتی ہے اور بسا اوقات لوگوں کو جرائم کی دلدل میں بھی دھکیل دیتی ہے۔

ہم کامیاب زندگی گزار رہے ہیں یا نہیں، اس بات کا تعین کرنے کیلئے پہلے ہمارے پاس کوئی ٹارگیٹ ہونے چاہئیں، زندگی کے دوران مختلف ادوار میں یہ ٹارگیٹ بھی بدلتے رہتے ہیں جن میں حاصل ہونے والے غالب نتائج سے یہ بات طے کی جا سکتی ہے کہ ہمارا کامیابی کا ریشو زیادہ ہے یا ناکامی کا عنصر غالب ہے۔

 عمومی طور پر جو طبقہ اپنی زندگی کو ناکام سمجھتا ہے ان کی زندگی میں کوئی ٹارگیٹس ہوتے ہی نہیں، اگر ہوں تو ان کے حصول کیلئے درکار وسائل اور صلاحتیں مفقود ہوتی ہیں، یہ طبقہ عام طور پر اپنے ارد گرد کے ترقی پانے والے عناصر یا زندگی کے اگلے دائرے میں جینے والوں کو دیکھ کر ان کے ساتھ اپنا موازنہ کرکے جو نتیجہ اخذ کرتا ہے اسے اپنی ناکام زندگی پر محمول کرتا ہے۔

کامیاب زندگی کے تصورات اور دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ کرنے میں ہم جو دھوکہ کھاتے ہیں اس کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ ہم کامیاب ہیں یا ناکام۔

زندگی کے سفر میں انسان کا پہلا واسطہ خواہش کے ساتھ پڑتا ہے، انسان کی خواہش عموماً خواہش ہی رہتی ہے جب تک وہ مقصد میں تبدیل نہ ہو، جب وہ مقصد میں تبدیل ہوگی تو پھر کوشش کا مرحلہ شروع ہوگا، جب کوشش شروع ہوگی تو وسائل اور صلاحیت کا سوال پیدا ہوگا، کامیابی یا ناکامی کا سوال ان سارے مراحل سے گزرنے کے بعد پیدا ہونا چاہئے اس سے پہلے نہیں لیکن اس بات کو سمجھے بغیر محض تقابل کی بنیاد پر اپنے آپ کو ناکام سمجھ کر احساس کمتری کا شکار ہونا ایک عقلی و فکری دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

خواہشات ہر انسان کے ساتھ ہوتی ہیں اور ان میں ترجیحات بھی ہو سکتی ہیں، کوئی خواہش شدید، کوئی عمومی، کوئی خواہش وقتی اور کوئی دائمی بھی ہوتی ہے جبکہ بقا کی خواہش ایک ناگزیر چیز ہے۔

جس انسان کی خواہشات جب تک اگلے مراحل طے نہیں کرتیں وہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا، یہی وجہ ہے کہ کسی کی خواہشات پوری ہو جاتی ہیں اور کسی کےلئے محض خواب کی حیثیت رکھتی ہیں، کسی کی سادہ خواہشات تو پوری ہو جاتی ہیں لیکن مخصوص خواہشات پوری نہیں ہوتیں، کسی کے ساتھ معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔

جب ہم زندگی کے سفر کو دیکھتے ہیں تو بچپن میں بچے کے پاس صرف تعلیم کا ٹارگیٹ ہوتا ہے یا کھیل کود کیلئے کھلونے حاصل کرنے کا، تعلیم مکمل کر کے نوکری یا کاروبار شروع کرنے کا، پھر شادی اور بچوں کا، پھر اپنے روزگار یا کاروبار میں اتنی ترقی کرنے کا کہ خوشحال ہونے اور اچھا سا ایک گھر بنانے کا، پھر بچوں کو پڑھا لکھا کر انہیں کسی مقام تک پہنچانے کا، پھر ریٹائرڈ لائف میں کوئی کتاب لکھنے یا سوشل ورک کرنے کا ٹارگیٹ ہوتا ہے۔


کامیاب زندگی دراصل ایک سیریز آف ایوینٹس میں سے عزت اور سکون کے ساتھ گزرنے کا نام ہے جس میں اپنا ضمیر مطمئن ہو، خواہ وہ ایوینٹس انسان کے اپنے پلان کردہ ہوں یا حالات و واقعات نے اس کیلئے متعین کئے ہوں.


ہر انسان کی زندگی تقریباً انہی مراحل سے گزرتی ہے، مختلف مدارج میں مختلف آرزوئیں، مختلف سوچیں اور مختلف وسائل انسان کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں، کہیں کامیابی ہوتی ہے کہیں ناکامی، کہیں آدھی کامیابی اور آدھی ناکامی، جس کی ہر خواھش کی بجائے محض اس کی ترجیحات بھی زندگی میں پوری ہو جائیں تو وہ اسے کامیاب زندگی کہہ سکتا ہے جبکہ باقی فرسٹریشن محسوس کرتے ہیں۔

کامیاب زندگی ہر کسی کیلئے ایک جیسی اہمیت و معانی رکھتی ہے لیکن کامیابی کے حصول کیلئے مختلف طبقات کا طرز عمل مختلف ہوتا ہے یا حالات ایسے ہوتے ہیں جن میں کچھ چیزیں ممکن اور کچھ ناممکن بھی رہتی ہیں۔
ان تینوں دائروں کے اندر رہنے والوں کے درمیان فرق صرف وسائل کا ہے اور ان وسائل کی بنا پر لائف اسٹائل کا ہے اور کوئی فرق نہیں، اسی ایک فرق میں وہ حکمت چھپی ہے جس کے تحت قدرت نے معاشرتی طبقات بنائے ہیں، اس فرق کو سمجھنے کیلئے پہلے ہمیں ان لوگوں کے دائرہ کار اور اس کے تقاضوں کو سمجھنا پڑے گا۔

یہ دنیا بھر میں مینیجمنٹ کا اصول ہے کہ جس بندے کے ذمے حساس نوعیت کی ذمے داریاں ہوں اسے اچھی تنخواہ کے ساتھ چھوٹی چھوٹی رنجشوں سے مبرا ماحول بھی فراہم کیا جائے گا، مثال کے طور پر ایک پائیلٹ کو آپ حساس مشن سونپنا چاہیں لیکن اسے معاوضہ تیسرے درجے کے افراد جیسا دیں تو یہ اس کاز کے ساتھ آپ کی بے اعتناعی ہے جس کاز کے تحت آپ نے اسے وہ مشن سونپا ہے، کسی غریب کا بچہ اگر پائلٹ بن جائے تو اسے مراعات غریب آباد کے حساب سے نہیں دی جائیں گی کہ غریب کا بچہ ہے، غربت میں رہنے کا عادی ہے اس لئے غربت میں گزاز کر لے گا بلکہ اسے زندگی کی بہترین آسائشیں فراہم کی جائیں گی تاکہ اس کے بیوی بچے تعلیم، راشن، میڈیکل، سماجی تحفظ اور گھر کے دیگر معاملات میں آسودہ حال رہیں ورنہ گھریلو پریشانیوں کا مارا ہوا پائلٹ آپ کا سونپا ہوا مشن بھی مکمل نہیں کر پائے گا، کروڑوں کا جہاز بھی گرائے گا اور دوسروں کی جانیں بھی گنوائے گا، یہی طریقہ لوگوں کو اداروں کا سربراہ یا کلیدی عہدیدار مقرر کرنے کیلئے اختیار کیا جاتا ہے ورنہ ایک ذہنی طور پر پریشان انسان اس ادارے کی تباہی کا موجب بن جائے گا۔

وہ اول دائرے کے لوگ جنہیں ہم طبقہء امراء کہتے ہیں یہ ہر معاشرے کا نظام چلانے مامور ہیں. پورے معاشرے کے روزگار کا نظام انہیں کے کاندھوں پر چلتا ہے، یہ صنعتی اور زرعی پیداوار مہیا کرتے ہیں، پھر دوسرے دائرے کے لوگ جنہیں مڈل کلاس کہتے ہیں یہ انہی وسائل کو معاشرے میں ٹریڈ کے ذریعے پھیلاتے ہیں. یہ سارے لوگ اس قدر کوالیٹیز کے حامل ضرور ہوتے ہیں کہ وہ ان سرگرمیوں سے اپنے ماہانہ اخراجات، اپنے کاروباری اخراجات اور اپنے سارے عملے کی تنخواہیں جینریٹ کر سکیں، جو بندہ اس قابل نہیں ہوتا وہ ان دائروں میں سروائیو نہیں کر سکتا، اپنے ساتھ دوسروں کا رزق بھی پیدا کرنا بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے، زرا سی کوتاہی سے لوگ دیوالیہ ہو جاتے ہیں اور ایک بڑے نظام کو چلانے والے لوگ اپنے اسٹیٹس کی بقاءکیلئے نفسیاتی دباؤ کا شکار بھی رہتے ہیں کیونکہ بڑے لوگوں کا نقصان بھی بڑا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے بڑے لوگ ہوس مال کا شکار بھی رہتے ہیں۔

ایک بار ایک کمپنی بند ہوئی تھی جس میں صرف ایک سو لوگ کام کرتے تھے. ان کے ساتھ میرا بھی روزگار وابستہ تھا، اس وقت میں نے حساب لگایا تھا کہ ایک کمپنی بند ہونے سے جہاں سو خاندان ڈائیریکٹ متاثر ہوئے وہاں ان ڈائیریکٹ بھی اتنے ہی خاندان متاثر ہوئے تھے جن میں اس کمپنی کو سپلائیز دینے والے، سپلائیز لینے والے، ارد گرد کے ہوٹل والے، ہوٹل کو سپلائیز دینے والے، پان سگریٹ والے، سپلائیز لانے اور لیجانے والی گاڑیوں کے مالکان اور عملہ وغیرہ جن کا روزگار اور کاروبار صرف اسی کمپنی کے ساتھ وابستہ تھا۔

جو بندہ چھوٹا سا کام کرے اور کچھ عرصے بعد آپ کے قرب و جوار سے اٹھ کر مڈل کلاس یا ایلئیٹ کلاس میں چلا جائے آپ اسے غور سے دیکھیں گے تو اس میں یہی ایک کوالٹی نظر آئے گی کہ وہ ریسورس جنریٹر ہے جو اپنے ساتھ دوسروں کا نظام بھی چلاتا ہے۔

اللہ تعالٰی نے کسی طبقے کو زیادہ نوازا ہے تو اس میں ایک یہی حکمت پوشیدہ ہے تاکہ معاشرے کا نظام چلتا رہے. اللہ تعالٰی کسی غریب کی فریاد یوں بھی سن لیتا ہے کہ اس کی پروڈکٹ کو عوامی پزیرائی دیدے اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کر جائے یا اس غریب کو ایسی اولاد دیدے جو غربت کا پانسہ پلٹ دے، جیسے ہی اس کا پانسا پلٹا جائے گا یہ آٹومیٹکلی ایک بڑے دائرے کو چلانے والا بھی بن جائے گا کیونکہ جیسے ہی اس کا کاروبار بڑھے گا اس کے اردگرد لینے دینے والوں کا دائرہ بھی وسیع تر ہوتا جائے گا. باطنی وجہ کچھ بھی ہو لیکن غربت سے امارت تک کے سفر میں ٹولز وہی رہتے ہیں یعنی ریسورس جینریٹر بنے بغیر بندہ اعلٰی طبقے میں نہیں جا سکتا یا وہاں پہنچ کر اپنا اسٹیٹس برقرار نہیں رکھ سکتا۔

ایک بادشاہ شکار کھیلنے گیا، وہاں جنگل میں اس کی ملاقات ایک درویش سے ہوئی، بادشاہ نے محسوس کیا کہ وہ بہت جینئیس بندہ ہے اس لئے اس کے ساتھ مختلف امور پر بات ہوتی رہی۔

بادشاہ نے کہا یہ ٹھیک ہے کہ انسان کو اپنے دین و ایمان کا خیال رکھنا چاہئے مگر اسلام میں رہبانیت کا کوئی تصور نہیں لہذا یہ جائز نہیں ہے کہ آپ جیسا جینئیس بندہ تارک الدنیا ہو کر پڑا رہے، آپ کو دنیا میں کچھ کرنا چاہیئے۔ درویش نے کہا میں تو دنیادار بندہ ہوں، تارک الدنیا تو دراصل آپ ہیں۔ بادشاہ نے حیران ہو کر کہا، اب آپ نے نامناسب بات کی ہے، آپ میرا لاؤلشکر دیکھو، میرا جاہ و جلال دیکھو، میرا مال و دولت دیکھو اور یہ بھی دیکھو کہ میں اپنے دین و ایمان سے بھی غافل نہیں ہوں پھر میں تارک الدنیا کیسے ٹھہرا اور آپ کے پاس اس جھونپڑی کے علاوہ کچھ بھی نہیں، جنگل سے کھاتے ہو، جنگل میں نہاتے ہو، جنگل میں رہتے ہو، تارک الدنیا تو آپ ہی ہو بلکہ آپ نے دنیا دیکھی ہی نہیں۔


کامیابی کا مطلب ہے کسی چیز، صلاحیت، فرد، منصب یا منزل کا حصول جو طمانیت بخش ہو۔


درویش نے کہا جناب، یہ عارضی پڑاؤ ہے اصل دنیا تو آگے ہے جہاں میرے پاس سونے اور ہیرے موتیوں سے بنے مکان ہوں گے، اعلٰی قسم کے مشروبات، نعمتوں سے بھرپور دستر خوان اور حوریں ہوں گی، میں تو اُس دنیا کو سنبھال کے بیٹھا ہوں اور آپ اُس دنیا سے غافل نہیں تو غیرمحتاط ضرور ہیں، اپنی حکومت کی بقا کیلئے ظلم بھی کرتے ہیں، ناانصافی بھی کرتے ہیں، عیش و عشرت میں حدوداللہ بھی توڑتے ہیں اور غریبوں کو ان کا حق نہیں پہنچاتے، آپ اِس عارضی قیام گاہ کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں چاہے اپنی بقا کیلئے آپ کو کچھ بھی کرنا پڑے اور میں اُس مستقل دنیا کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہوں خواہ مجھے یہاں پر کچھ بھی چھوڑنا پڑے، بس اتنا سا فرق ہے۔

کوئی انسان از خود خدا کو اچھا لگتا ہے تو وہ اسے آگے بڑھا دیتا ہے، کسی کی منت ترلے کو قبول کرکے اسے ترقی دے دیتا ہے، کسی کو اس کی محنت کا پھل دے دیتا ہے، وہ کسی ناپسندیدہ کو بھی نوازتا رہتا ہے تاکہ وہ گمراھی یا غفلت میں پڑا رہے اور کچھ اس بادشاہ سلامت جیسے ناعاقبت اندیش لوگ، ظلم، دھاندلی، رشوت، بے ایمانی اور چوربازاری سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں اور کچھ اس درویش کی طرح محتاط زندگی کزارنے کے چکر میں غریب بھی رہ جاتے ہیں لہذا ہم کلاس کے فرق کو اپنے ساتھ میچ کرکے ہم اپنی زندگی کو ناکام نہیں کہہ سکتے، اگر ہم تیسرے دائرے میں رہنے والے لوگ ہیں تو ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ ہم اندر والے دائروں کی صعوبتوں سے کم از بچے ہوئے ہیں جو یقیناً ہمارے دائرے سے زیادہ گہری ہیں۔

کامیاب زندگی دراصل ایک سیریز آف ایوینٹس میں سے عزت اور سکون کے ساتھ گزرنے کا نام ہے جس میں اپنا ضمیر مطمئن ہو، خواہ وہ ایوینٹس انسان کے اپنے پلان کردہ ہوں یا حالات و واقعات نے اس کیلئے متعین کئے ہوں، جبکہ دینی لحاظ سے دنیا کیسی بھی گزرے مگر آخرت اچھی ہو جائے تو اسے کامیاب زندگی میں ہی شمار کیا جاتا ہے انسان کی کامیاب زندگی کا دارومدار اس کی ترجیحات کے آئینے میں ہی دیکھا جا سکتا ہے جو ہر کسی کیلئے مختلف ہیں، ہو سکتا ہے میرے حساب سے ایک بندہ ناکام زندگی گزار رہا ہو مگر کیا پتا وہ اپنی ترجیحات کے آئینے میں خود کو کامیاب سمجھتا ہو اور درویش کی طرح مجھے ناکام خیال کرتا ہو۔

درویش اگر اپنا موازنہ بادشاہ کے ساتھ کرتا تو لازمی طور پر فرسٹریشن کا شکار ہو جاتا کیونکہ ظاہری طور پر ایک مکمل کامیاب زندگی بہرحال بادشاہ کی ہی تھی اور درویش کی زندگی ٹوٹل لاس نظر آتی ہے لیکن اتنا بڑا فرق دیکھ کر بھی نہ صرف اس نے اپنی ترجیحات کے آئینے میں اپنے آپ کو مطمئن رکھا بلکہ اپنے نقطہء نظر کی حفاظت بھی کی۔

اپنی بقا کی خواہش ہر خواہش پر بھاری ہے، ہماری خواہشات اپنی ہوں یا ناموافق حالات نے کوئی چیلینج دے رکھا ہو یا کوئی اور محرک ہو جب ہم زندگی کے ہر ایوینٹ یا سیریز آف ایوینٹس سے بچ بچا کے عزت کے ساتھ نکلتے چلے جائیں اور اپنے مقام پر قائم رہیں تو سمجھیں ہم ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں خواہ ذاتی طور پر ہماری ہزاروں خواہشات ہوں اور ہزاروں ہی پوری نہ ہوئی ہوں۔

طبقاتی تقسیم محض خدا کی حکمت ہے، کامیاب زندگی کا جائزہ کسی دوسرے یا طبقہء امراء کے ساتھ اپنا موازنہ کرکے نہیں لیا جا سکتا کیونکہ پڑوسی کا لان ہمیشہ لیوش گرین نظر آتا ہے، دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنا ہو تو پھر اپنے سے پیچھے والوں کو دیکھیں جو ان تینوں دائروں سے باہر زندگی گزار رہے ہیں تاکہ شکر کے جزبات موجزن ہوں، آگے والوں کو دیکھیں گے تو صرف فرسٹریشن ہی لاحق ہوگی۔

آخری بات یہ کہ جو ان تینوں دائروں سے باہر خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں وہ بھی تقدیر کی حکمت کا شکار ہیں، یہ لوگ اہل حکم اور طبقہ امراء کیلئے سخت امتحان کا باعث ہیں، حکمرانوں سے یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ وسائل کو ان غریبوں تک کیوں نہیں پہنچایا گیا تھا۔


“Life is a succession of moments, to live each one is to Succeed.”  Corita Kent

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: