چامکا ——— اسٹیج کی دنیا کا خفیہ کردار بے نقاب: قسط 9

0
  • 16
    Shares

چامکوں کی جنگ:
اگست2014 ء کی ابتدائی تاریخ میں لاہور کے جوہرٹائو ن میں مسلح افراد نے لوڈشیڈنگ کے دوران اسٹیج اداکارہ ہنی شہزادی کے گھر پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بھابھی اور سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ اس کا کم سن بیٹا اور بھتیجا زخمی ہوئے۔ پولیس نے اسے دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا مگر ہنی جانتی تھی کہ کسی چامکا نے ہی یہ کارروائی کروائی ہے۔ کیونکہ ہنی نے بتایا، میں رات کو اپنی بھا بی کے ساتھ بیٹھی تھی کہ نامعلوم افراد گھر میں کھس آئے، وہ مجھے قتل کر نا چا ہتے تھے لیکن اندھیرا ہو نے کی وجہ سے میری بھا بی کو قتل کر گئے۔ اس وَاردات سے دو دن قبل اسٹیج آرٹسٹ ما ہ نور کے گھر پر بھی فائرنگ کی گئی تھی جس سے اس کا سیکورٹی گا رڈ زخمی ہوا تھا۔ یہی وہی ماہ نور ہے جس سے دسمبر2016ء کے دوران ڈرامے میں انٹری کے معاملے پرشدید لڑائی ہوئی تھی۔ گالم گلوچ کے بعددونوں اداکارائیں گتھم گتھا بھی ہوئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق تماثیل تھیٹر میں زیرنمائش ڈرامہ ’’جوانی لے ڈوبی‘‘ کے دوران انٹری کے معاملے پراداکارہ ماہ نور اور ہنی شہزادی میں تلخ کلامی ہوئی جوبعد میں شدت اختیار کر گئی اور دونوں میں ہاتھا پائی ہونے کے باعث بیک اسٹیج میدان جنگ بن گیا۔ بعد ازاں تھیٹرسے وابستہ مختلف شخصیات نے دونوں اداکارائوں میں صلح کرادی۔ لیکن ذرا تفصیل میں جائیں تو اصل معاملہ کچھ اس طرح کھل کر سامنے آیا کہ اداکار وہدایت کار نسیم وکی نے تماثیل میں جاری اسٹیج ڈرامہ ’’جوانی لے ڈوبی‘‘ کے دوران ماہ نور کی انٹری رکوا کر صوبیہ خان اور ہنی شہزادی کی انٹری کروادی۔ جس پر ماہ نور بیک اسٹیج جاکر نسیم وکی سے لڑنے لگی۔ لڑائی کی آواز سن کر ماہ نور، ہنی شہزادی اور صوبیہ خان کے پرستار بھی آپس میں جھگڑ پڑے اور انہوں نے بکنگ کائونٹر پر جاکر اسلحہ تان لیا اور ٹکٹ کی رقم واپس مانگ لی۔ جھگڑا بڑھنے پر موقع پر موجود ذمہ دار افراد نے ماہ نور کو گھر روانہ کر کے اسلحہ بردار لوگوں کو ٹکٹ کے پیسے واپس دلوائے جس پر وہ مسلح افراداسلحہ لہراتے ہوئے چلے گئے۔ اگلے روز ماہ نور نے بتایاکہ نسیم وکی وہ ہدایت کار ہے جو ہرلڑکی کو اپنے بیڈ روم کی زینت بنانا چاہتا ہے اور میں ایسا کرنہیں سکتی۔ جو لڑکی اس کی خواہش پوری کرتی ہے اس کی انٹریاں بڑھا دی جاتی ہے جبکہ میں نے اس کی یہ مذموم خواہش پوری نہیں کی تو اس نے میری انٹری کم کردی۔ ماہ نور نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ رات جو ڈرامے کی بکنگ ہوئی تھی اس میں  80 فیصدبکنگ میرے اُن پرستاروں (چامکوں) کی تھی جو میری پرفارمنس دیکھنے آئے تھے مگر نسیم وکی نے میری انٹری رکواکر ہنی شہزادی اور صوبیہ خان کی انٹری کروادی جس پر میرے پرستاروں نے احتجاج کیا تو ان دو اداکارائوں نے اپنے بٹھائے ہوئے آدمیوں (چامکوں) کو میرے پرستاروں(چامکوں) سے لڑوادیا جس پر دونوں طرف سے اسلحہ نکال لیا گیا اگرقیصر ثنا اللہ آکر بیچ بچائو نہ کرواتے تو وہاں گولی بھی چل سکتی تھی۔ واضح رہے کہ اس جھگڑے سے دونوں اداکاراوں کے گھر پر فائرنگ کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ گھروں پر فائرنگ اور انٹری کے جھگڑے میں لگ بھگ دو برس کافرق ہے البتہ 2016ء ہنی شہزادی لاہور ایئر پورٹ پر ناجائز اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کی جاچکی ہیں جس نے بعد ازاں 30ہزار کے مچلکے جمع کروا کر اپنی ضمانت کروالی اور اب ہنی شہزادی نے پشتو فلموں کا رُخ کرلیا ہے۔
٭٭
کرکٹر چامکا:
ہنی کا ماضی تو جان چکے مگر زیادہ شہرت ہنی کو کرکٹر شرجیل خان کے اسکینڈل سے ملی۔ شرجیل خان نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو ڈالی تھی جس میں ان سے بھتہ مانگنے اور بلیک میل کرنے کا الزام تھا۔ کہا یہ جارہا تھا کہ یہ بلیک میلنگ ہنی کی جانب سے ہے مگر معاملہ بڑھتا دیکھ کر شرجیل خان نے لاہور کی ڈانسر ہنی خان سے لا تعلقی کا اعلان کردیا اور دوسری طرف ہنی نے بھی اسی میں عافیت جانی کہ اس معاملے سے لاتعلقی برتی جائے اور شرجیل کو قومی ہیرو قرار دے کر اس کی عزت کرنے کا بیان جاری کردیا۔ میدان میں چھکے چوکے لگانے والے بلے باز دھمکی آمیز کالر سے گھبراہٹ کا شکار نہیں، کہتے ہیں جب ایسا کیا ہی نہیں تو پریشان کیوں ہوں؟ اسٹیج ڈانسر ہنی شہزادی سے بھی نوجوان کرکٹر نے دوستی کی تردید کی تھی۔ شرجیل خان کا کہنا تھا کہ جعل ساز نے مجھے صرف فون کئے، کوئی ویڈیو نہیں بھیجی جس سے ثابت ہوسکے کہ میرا ہنی کے ساتھ کوئی چکر ہے۔ اس پروحید رَاہی صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا’’ہوتا ہے کچھ نہ کچھ سچ بھی جھوٹے افسانوں میں۔ پہلے بھی کئی بار کرکٹر اور ادکارائوں کے درمیان تعلق کی خبریں اندرون خانہ گرد ش میں رہی ہیں۔ اور پھر چامکا ضروری نہیں کہ کاروباری ہی ہو۔ یہ نشہ تو کسی کو بھی لگ سکتا ہے، چاہے وہ کھلاڑی ہو یا اَناڑی۔ ‘‘

 

آٹهویں قسط یہاں ملاحظہ کریں  

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: