کیسے کیسے لوگ ہمارا ملک چلانے آجاتے ہیں۔

0

پاکستانی عوام کو اصل نقصان کا احساس ہو تو وہ تاسف میں اپنی ہی انگلیاں چبا ڈالیں۔
۔
مگر کون ہے جو یہ احساس پیدا کر سکے۔ ہمارے دانشوران تو ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگے جارہے ہیں۔
۔
میڈیا الگ سے اپنی جیبیں بھر رہا ہے۔ میڈیا مالکان اتنے ہی خوش نظر آ رہے ہیں جتنے کسی وبا پھیلنے کے زمانے میں گورکن نظر آتا ہے۔
۔
پاکستان عوام کا پیسہ لٹا۔ ہزار اربوں میں لٹا۔ بہت نقصان ہوا، یہ ٹھیک ہے۔ یہ ظلم ہی ہے۔ وہ پیسہ جو ہمارے غریب عوام کی خودکشیاں روک سکتا تھا، وہ لانچوں، ہنڈیوں، اور ڈاروں کے زریعے سات سمندر پار چلا گیا۔ بہت نقصان ہوا۔ ہمارے تھر میں مرتے بچے، خط غربت سے نیچے سسکتی مائیں اپنے بچوں کو نہروں میں پھینکتی ہوئی۔ باپ اپنے بچوں کو زہر دیتے ہوئے۔ دو لٹر پیٹرول کی خاطر زندہ جل مر جانے والوں کا حساب بھی لوٹنے والوں، کک بیک والوں، اور نیلسن شیلسن والوں کی گردن پر ہے۔
۔
مگر ایک نقصان اس سے کہیں زیادہ ہوا ہے۔ وہ نقصان جو شائد کئی دہائیوں کی بھر پائی سے بھی نہ پورا ہو۔ وہ نقصان یہ ہوا ہے کہ ایسے لوگ پچھلی تین دہائیوں سے ہمارے ملکی آقا بنے ہوئے ہیں جن کو ڈھنگ سے جھوٹ کہنا بھی نہیں آتا۔ ہمارے وزیر خزانہ کو ٹیکس چھپانا نہیں آتا، ہمارے وزیر اعظم کو دو چار دستاویزات کی فورجری کرنے کے لیے ایک ڈھنگ کی ٹیم تک نہیں بنانا آتا۔ حالانکہ ان کے اپنے ملک کی ایک کمپنی ایگزیکٹلی یہی کام انتہائی مہارت سے سر انجام دیتی ہے۔ انکو بھی چھوڑ دیں تو ہمارے گلی محلوں میں پاسپورٹ کی ایسی ایسی نقل تیار کرنے والے بیٹھے ہیں کہ بس کج نہ پچھو۔ ان کی خدمات لے لی جاتیں۔ مگر نالائقی ہے کہ ٹپک ٹپک ظاہر ہو رہی ہے۔
۔
آپ ہی سوچیے بندہ خوفزدہ نہ ہو کہ یہ ہے وہ اعلی درجے کی “ذہانت” جو ہمارے خارجہ سیاسی معاملات دیکھ رہی ہے۔ یہ ہے وہ ذہانت جس کے سامنے عوامی مسائل کا انبار رکھا ہوا ہے حل ہونے کا منتظر۔ یہ ہے وہ ذہانت جس نے ہمارے دفاعی ۔ ۔ ۔ ۔ (خیر وہ “انکل” خود دیکھ لیتے ہیں) ، یہ ہے وہ ذہانت جس نے ملک کو اکیسویں صدی کے چیلنجوں سے عہدہ برا کرنا ہے، یہ ہے وہ ذہانت جس نے بدلی دنیا، گلوبل ویلیج، اور ٹیکنالوجی کی صدی میں اپنا حصہ وصول کرنے کا لائحہ عمل طے کرنا ہے۔
۔
مگر اس ذہانت کے اپنے پلے کیا ہے؟ بھارت سے لڑ نہیں سکتے، مگر کشمیر کا مسئلہ، پانی کا مسئلہ، سرحدوں کا مسئلہ کیا ہم اس ذہانت سے طے کر پائیں گے؟ اس ذہانت سے جو ہمیں چار گواہوں کے بیانات کو آپس میں ایک جیسا رکھنے میں مدد نہیں دے پاتی؟
۔
سی پیک پر امریکہ، ایران، بھارت کی سازشیں اپنے عروج کے سفر پر ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے جس خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے کیا ہم وہ اسی ذہین ٹیم کے ساتھ ملکر بنا پائیں گے، جو ایک فیصلے پر مٹھائیاں بانٹتی ہے، پھر اسی فیصلے کے خلاف ہر روز پریس کانفرنسیں کرتی ہے؟
۔
دہشتگردی کم ہوئی ہے، دہشتگرد کم نہیں ہوئے۔ داعش، زینبون، اور دیگر گروپس اپنے قدم افغانستان کی سرحد اور پاکستان کے علاقوں میں جمانے کی کوشش میں ہیں۔ فوج لاکھ پروفیشنل ہو، عوام کی لڑائی سیاست دانوں کی دانش سے لڑی جاتی ہے۔ کیا یہ ذہانت ہمیں وہ دانش دے سکتی ہے جو ملک کی پیشانی سے دہشتگردی کا داغ مٹا سکے۔ جو لوگ اپنا مقدمہ ملک کے تمام تر وسائل پر حاکم رہتے ہوئے بہتر انداز میں نہیں لڑ سکتے، وہ دہشتگردی پر ہمارا مقدمہ پوری دنیا کے سامنے کیسے لڑیں گے؟
۔
نقصان سے بڑھ کر نقصان یہ ہوا ہے کہ ایسے لوگ ہمارے سیاسی آسمان کے ستارے بنے ہوئے ہیں، جن کی ذہانت انکو روزانہ کی بنیاد پر ٹی وی چینلز پر رسوا کرواتی ہے۔ لوگ انکی منطق پر ہنستے ہیں۔
۔
کیسا زوال ہے کہ ہمارے کرپٹ بھی ڈھنگ سے کرپٹ نہیں ہیں۔ جعلساز بھی ڈھنگ کے جعلساز نہیں ہیں۔ وکیل وکالت کرنا نہیں جانتے، مشیر مشورے اچھے نہیں دے رہے۔ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ ملک کے حاکم کو پورے ملک سے ایک ڈھنگ کے کاغذات تیار کرنے والا نہیں ملا۔ یہ میں نہیں کہہ رہا، جے آئی ٹی رپورٹ کہہ رہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ جعلی کاغذات جمع کروائے گئے، اپنے دستخطوں کے ساتھ کہ یہ اصلی کاغذات ہیں۔ ہائے ہائے بے بسی ۔ ۔ ۔ اصلی کاغذات نہ ہوں تو کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔
۔
کیسے کیسے لوگ ہمارا ملک چلانے آ جاتے ہیں۔۔۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: