فونٹ کا جھگڑا: کیلبری کے خالق لوکس ڈی گروٹ کیا کہتے ہیں؟

0
  • 332
    Shares

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ‌ میں جہاں شریف خاندان کے پیش کیے گئے شواہد میں دوسرے کئی تناقضات کی نشاندہی کی وہیں ایک برطانوی فورنزک ایکسپرٹ کی رپورٹ کی بنیاد پر ایک دلچسپ الزام یہ بھی لگایا ہے کہ مریم نواز شریف صاحبہ نے 2006 کی جو “ٹرسٹ ڈیڈز” جمع کروائی ہیں وہ کیلبری فونٹ میں ہیں جو جنوری اکتیس 2007 سے قبل دستیاب ہی نہیں تھا۔

یہ نکتہ ہر طرح کے مذاق، خیال آرائی اور گرما گرم بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ کیلبری فونٹ کے متعلق وکی پیڈیا پیج بھی پاکستانیوں کی جانب سے مختصر وقت میں اتنی بار ایڈٹ کیا گیا کہ وکی پیڈیا نے وقتی طور پر اس میں مزید ایڈٹس پر پابندی لگا دی ہے۔

کئی لوگوں کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ کیلبری فونٹ 2004ء میں تخلیق ہوا تھا اور 2007ء سے پہلے ہی عام دستیاب تھا لہذا اس بنیاد پر مریم نواز شریف صاحبہ کی دستاویزات کو جعلی نہیں قرار دیا جاسکتا (یاد رہے کہ جے آئی ٹی نے صرف فونٹ کی بنیاد پر ان دستاویزات کو جعلی قرار نہیں دیا۔) اس ساری گرما گرمی اور کنفیوزن کے ماحول میں ڈان ڈاٹ کام نے کیلبری کے خالق لوکس ڈی گروٹ کی کمپنی “لوکس فونٹ” سے رابطہ کرکے ان کی رائے بھی لی ہے جو ڈان ڈاٹ کام کے شکریے کے ساتھ دانش کے قارئین کیلئے بھی پیش کی جارہی ہے۔

لوکس فانٹ کے نمائندے کے مطابق لوکس ڈی گروٹ نے 2002ء میں کیلبری پر کام کرنا شروع کیا اور اسکی فائنل فائل مارچ 2004ء میں مائکروسوفٹ کو بھیجی۔
نمائندے کے مطابق ونڈوز وزٹا کے ابتدائی بیٹا ورژن اس کے بعد ریلیز کیے گئے (جن میں کیلبری موجود تھا) لیکن ونڈوز کے ابتدائی بیٹا ورژنز پروگرامروں اور ٹیکنالوجی کے دیوانوں کو دیے جاتے ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان میں‌ کیا ٹھیک اور کیا غلط ہے”۔

ڈان ڈاٹ کام کے مطابق نمائندے نے غالبا اس سوال کا جواب دینے کیلئے کہ کیا جس کسی نے مریم نواز صاحبہ کی دستاویزات ٹائپ کیں اس کے پاس یہ ورژن ہوسکتا تھا مزید اضافہ کیا کہ “چونکہ ان بیٹا ورژنز کا سائز خاصا بڑا ہوتا ہے لہذا اسے حاصل کرنا خاصی کوشش سے ہی ممکن ہوا ہوگا”۔

لوکس فونٹ کے نمائندے نے مزید لکھا کہ “میرے علم کی حد تک عوام کیلئے کیلبری کے بیٹا ورژنز 2006ء میں مہیا کیے گئے۔ مجھے انکی ریلیز کی صحیح تاریخ کا علم تو نہیں لیکن اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ کوئی بیٹا ورژن سے فونٹ کاپی کرکے کسی آفیشل دستاویز میں استعمال کرے”۔
ڈان ڈاٹ کام آگے لکھتا ہے کہ ویکیپیڈیا پیج کے مطابق ونڈوز وزٹا کا پہلا عوامی ورژن جون 6، 2006ء کو یعنی مریم نواز صاحبہ کی پیش کی گئی دستاویزات پر موجود تاریخ کے چار ماہ بعد ریلیز کیا گیا تھا۔

ڈان ڈاٹ کام لکھتا ہے کہ لوکس فونٹ کے نمائندے کی رائے میں وزن ہے کیونکہ بیٹا وزژنز ٹیسٹنگ کے مرحلے میں ہوتے ہیں اور صرف وہی لوگ انہیں حاصل کرتے ہیں جنہیں کمپیوٹرز میں غیر معمولی دلچسپی ہوتی ہے ورنہ ان میں ایسے مسائل ہوسکتے ہیں جو کسی بھی وقت معمول کے کام میں خلل ڈال سکتے ہیں۔

لوکس فانٹ کے نمائندے نے مزید لکھا کہ “آفس 2007 وہ پہلا پراڈکٹ تھا جس میں کیلبری آفیشلی موجود تھا۔ اسے نومبر 30، 2006ء کو پہلی مرتبہ ری سیلرز اور پھر جنوری 31، 2007 کو ریٹیلرز کو دینا شروع کیا گیا۔ ونڈوز وزٹا بھی انہی تاریخوں میں ریلیز ہوئی”۔

ڈان ڈاٹ کام کے مطابق انہیں خود لوکس ڈی گروٹ کی جانب سے بھی ایک ای میل موصول ہوئی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ تھیوریٹکلی یہ ممکن ہے کہ 2006ء میں کوئی ڈاکیومنٹ کیلبری میں لکھا گیا ہوا لیکن اس کیلئے فونٹ کو بیٹا آپریٹنگ سسٹم سے حاصل کرنا پڑا ہوا ہوگا جوکہ “کسی کمپیوٹر کے جنونی سے ہی مل سکتا تھا”
لوکس ڈی گروٹ نے مزید لکھا کہ “سوال یہ ہے کہ کوئی 2006ء میں ایک آفیشل دستاویز کیلئے ایک مکمل طور پر اجنبی فونٹ کیوں استعمال کرے گا؟”۔
اسی طرح انہوں نے لکھا کہ “اگر کوئی اتنا ہی فونٹس کا شوقین تھا کہ وہ تب کیلبری استعمال کررہا تھا تو اسے ثابت کرنا چاہیے کہ اس نے اس وقت اور بھی دستاویزات کیلبری میں لکھی تھیں۔ اور وہ دستاویزات اس کے اپنے پاس نہیں بلکہ کسی دوسرے کے پاس موجود ہونی چاہییں”۔

ڈان ڈاٹ کام کے مطابق لوکس ڈی گروٹ نے کہا کہ ان کی رائے مریم نواز صاحبہ والی دستاویزات “بہت بعد میں بنائی گئیں جب کیلبری ورڈ میں ڈیفالٹ فونٹ بن چکا تھا”۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: