جے آئی ٹی رپورٹ اور پاکستانی سیاست کا المیہ: مجاھد حسین

0
  • 1
    Share

مشہور فلسفی ہنری برگساں نے ارتقائی حرکت کو ایک ایسے بم شیل سے تشبیہہ دی تھی جو پھٹ کر مختلف ٹکڑوں کی صورت میں پھیل جاتا ہے۔ یہ ٹکڑے پھر سے بم بن جاتے ہیں اور پھٹ کر اپنی طرح کے مزید ٹکڑوں کو جنم دیتے ہیں۔

اگر جے آئی ٹی کی رپورٹ کو دیکھا جائے تو یہ بھی اسی قسم کے دھماکہ خیز مواد سے بھری پڑی ہے۔ تحقیقات کے ایک پہلو کو کھولتے ہیں تو اس میں سے بہت سے انکشافات کی راہیں کھلنے لگتی ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ ان بموں کے پارچے شریف خاندان کو اگلے کئی ماہ تک مسلسل زخمی کرتے رہیں گے اور اگر ان کی جماعت مزاحمت پر اتر آئی تو وہ بھی رستے ہوئے لہو کی وجہ سے نڈھال ہوتی جائے گی۔

ویسے تو اس رپورٹ کے بنیادی مندرجات سب کے سامنے آ چکے ہیں تاہم اس میں بے شمار ایسے معاملات کا ذکر ہے جو ہماری سیاست کے المیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

 

اس رپورٹ میں ذکر ہے کہ اسحاق ڈار کی بیان کردہ دولت میں 9-2008 میں ایک دم سے نو ہزار فیصد اضافہ ہوا اور وہ اتنے بڑے اضافے کی وضاحت نہیں کر سکے۔ ایک ہی سال میں وہ 91 لاکھ سے بڑھ کر 83 کروڑ کے مالک بن گئے۔ دولت میں اس معجزانہ اضافے کی وضاحت ان کے پاس موجود نہیں تھی۔ یہ اتنا بڑا انکشاف ہے کہ اگر اسی کی ہی تحقیقات شروع کر دی جائے تو اس کی کڑیاں ملا کر کرپشن کے پورے نیٹ ورک تک پہنچا جا سکتا ہے۔

 

چونکہ حکومت نے اپنے وفاداروں کو احتساب کے تمام اداروں کا سربراہ بنایا ہوا ہے اس لئے کرپشن کی ہر داستان پر دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں۔ اسحاق ڈار کی اداروں پر گرفت کا یہ عالم ہے کہ بار بار کہنے کے باوجود ایف بی آر نے ان کی 95-1994 سے لے کر 8-2007 تک کی ویلتھ سٹیٹمنٹ جے آئی ٹی کو نہیں دیں۔

 

جس شخص نے ملک کے لئے معاشی پالیسیاں بنانی ہیں اگر وہ خود اپنی دولت میں ناجائز اضافے کی وضاحت پیش نہ کر سکے تو پھر سٹاک مارکیٹ میں ہونے والی ہلچل اور ڈالر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے بھی اشرافیہ کے چند کرپٹ افراد کی تجوریاں بھرنے کے بہانے بن جاتے ہیں۔ بدعنوان حکمرانوں کو اسحاق ڈار جیسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں اپنی دولت میں اضافے کے محفوظ مگر غیر قانونی طریقے بتاتے رہتے ہیں اور اس دوران اپنی دولت میں بھی اضافہ کرتے جاتے ہیں۔

 

جے آئی ٹی نے تفصیل سے بتایا ہے کہ طارق شفیع، حسین نواز، شہباز شریف اور میاں نواز شریف کے بیانات ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ ان تضادات کی ڈھیروں مثالیں اس رپورٹ کے صفحات میں بکھری پڑی ہیں۔ ایک بھائی کا بیان دوسرے سے نہیں ملتا جس کی وجہ سے جھوٹ کا سارا کاروبار عریاں ہو جاتا ہے۔ اس کی تفصیل پڑھی جائے تو ہنسی بھی آتی ہے اور شرم بھی آتی ہے کہ کس قسم کے حکمران ہم نے اپنے سروں پر مسلط کئے ہوئے ہیں۔

 

اسی طرح مریم صفدر صاحبہ نیلسن اور نیسکول کی بینیفیشل اونر ثابت ہوئی ہیں۔ چونکہ ایون فیلڈ پراپرٹیز انہی دو کمپنیوں کے نام پر خریدی گئی تھیں اس لئے اس کی مالک بھی مریم صفدر ہی ٹھہرتی ہیں۔ جے آئی ٹی نے تحقیقات کے بعد ان کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات کو جعلی قرار دیا ہے جو کہ ایک سنگین جرم ہے۔ یوں لگتا ہے کہ مریم صفدر کے لئے میاں صاحب کی سیاسی جانشین بننے کے امکانات تاریک ہو گئے ہیں۔

جے آئی ٹی کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ انہوں نے اتنے کم عرصے میں اسقدر باریک بینی سے تحقیقات کی ہیں اور کسی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ایک مثال پیش خدمت ہے۔ مریم صفدر صاحبہ نے 2006 کی جو دستاویزات پیش کیں انہیں لندن کی ایک ایسی فرم سے چیک کروایا گیا جو جعل سازی پکڑنے کی ماہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جس فانٹ میں یہ دستاویزات لکھی گئی ہیں وہ 2006 تک وجود میں ہی نہیں آیا تھا۔ گویا یہ کاغذات بعد میں تیار کئے گئے تھے مگر انہیں 2006 کی دستاویزات کے طور پر پیش کر دیا گیا۔ اس سے مریم صفدر صاحبہ کا جھوٹ اور جعل سازی ثابت ہو گئی۔

 

اس رپورٹ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اگر اداروں میں دیانت دار لوگ بھرتی کئے جائیں اور انہیں اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی ہو تو بڑی کرپشن میں ملوث لوگ کسی طرح بھی بچ نہیں سکتے۔ لیکن یہ کام صرف وہی حکمران کر سکتا ہے جس کا دامن کرپشن سے پاک ہو۔ اس کے بغیر نہ ہی ملک ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی حقیقی جمہوریت ملک میں پنپ سکتی ہے۔

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: