جے آئی ٹی، روشنی قریب ہے ۔ ۔ محمود فیاض

0
  • 76
    Shares

جے آئی ٹی اپنی رپورٹ دے چکی۔ عدالتوں کے اپنے معاملے ہوتے ہیں ورنہ نکلا وہی جوگاؤں کے دیہاتی بھی جانتے ہیں۔ کہ شریفوں کا رہن سہن انکی آمدنی سے میل نہیں کھاتا۔
وہ بھلے زمانے تھے جب ایسا مانا جاتا تھا کہ جس کے زرائع آمدن مشکوک ہوں وہ لازمی غیر شریف آدمی ہوگا۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔ کافی سالوں سے شریفوں نے یہ وطیرہ اپنا رکھا ہے کہ اپنی آمدن کے زرائع نہیں بتاتے۔ اس پر جھوٹ بھی بول لیتے ہیں اور پردہ بھی ڈال لیتے ہیں۔ اور گاہے اپنے پیچھے آوازے کسنے والے کو گھوری بھی ڈال لیتے ہیں۔
سادہ زبان میں جے آئی ٹی نے یہ کہا ہے کہ ان کے ساٹھ دنوں کی مشقت کے باوجود شریف خاندان نے انکو کوئی ایسا سرا نہیں پکڑایا جس کی بنا پر وہ یہ کہہ سکیں کہ ان کی آفشور کمپنیوں میں پڑی دولت اور لندن کی اربوں میں جائیداد کے پیسہ، اور انکے رہن سہن پر اٹھنے والے کروڑوں کے ماہانہ اخراجات کسی ایسی آمدنی سے آئے ہیں جو کسی جائز کاروبار، یا انوسٹمنٹ سے مل سکتی ہے۔
ہم چونکہ جج نہیں ہیں۔ فیصلہ ججوں نے کرنا ہے۔ وہ جے آئی ٹی کی اس رپورٹ میں بتائی “سیاہ کاریوں” کی روشنی میں کس نتیجے پر پہنچتے ہیں اسکا انتظار ابھی باقی ہے۔ البتہ جے آئی ٹی نے ساٹھ دنوں کے اندر اندر اس انتہائی مشکل ٹاسک کو جس طریقے سے انجام دیا ہے اسکی داد نہ دینا بھی ناانصافی ہوگی۔ خصوصاً جب اس کو اس انداز سے دیکھا جائے کہ ملزم خاندان پورے کا پورا اپنے پورے کروفر کے ساتھ اقتدار پر قابض ہے اور اسی کے بھرتی کردہ کاسئہ گیر ہر بنیادی محکمے میں انتہائی اہم عہدوں پر موجود ہیں۔ اس کے اثرات ہم سرکاری ریکارڈز میں تبدیلی، اور دیگر محکمانہ بے ضابطگیوں کے واقعات میں دیکھ چکے ہیں۔ عوام اور تجزیہ نگار (وہ جو ابھی غلام گردشوں اور زہنی غلامی سے بچے ہوئے ہیں) یہ مشاہدہ کر چکے ہیں کہ اس تاریخی وقت میں شریف خاندان کی نگاہ کرم میں آنے کے لیے اور اپنا حق نمک ثابت کرنے کے لیے کیسے کیسے جغادری لوگ اپنی بلاواسطہ اور بالواسطہ خدمات شریف خاندان کے سپرد کر چکے ہیں۔

میرے نزدیک جے آئی ٹی نے جس دباؤ میں رہ کر بھی قانون اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ تمام حقائق کو اکٹھا کیا اور ملزمان کو آخری موقع دیا کہ وہ اپنی صفائی میں اب بھی اگر کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کر سکیں، اپنی مثال آپ ہے۔
پاکستان جمہوریت اور اداروں کی آزادی کے لحاظ سے ہرگز ایک مثالی ملک نہیں ہے۔ ہم ابھی جمہوریت کے نام پر دھوکے پر دھوکہ کھا رہے ہیں۔ مگر ہماری صورت حال میں واحد راستہ یہی ہے کہ ہم عوام اور سول سوسائٹی کے تجزیہ نگار (صحافی سوچ سمجھ کر نہیں لکھ رہا) اداروں کو مسلسل اپنی حمائت کا یقین دلائیں اور انکے لیے سڑکوں پر جانے کو بھی تیار رہیں، تاکہ ہمارے ادارے رفتہ رفتہ پارلیمان کی آڑ لیے، آئین کا مذاق اڑاتے، اور جمہوریت کے نام پر ایک خاندان کی اجارہ داری قائم کرتے عناصر کی چیرہ دستی سے محفوظ رہ کر یکسوئی سے کام کر سکیں۔

عدلیہ کا فیصلہ جو بھی ہو، ابھی تک کی کارروائی سے کچھ باتیں طے ہو چکی ہیں جو عوام کو اگلے الیکشن میں فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ مگر میڈیا، حکومتی وزراء، اور اہل صحافت میں سے ایک بڑے حصے نے صورتحال کو عوام تک اصلی صورت میں پہنچانے کی بجائے اتنا گردوغبار اڑا دیا ہے کہ جس کی آڑ لیکر بہت سے کرپشن زدہ چہرے پھر سے اقتدار کے حصہ دار بن سکتے ہیں۔

امید کی کرن اگر نظر آتی ہے تو وہ عدلیہ کی بدلی ہوئی صورتحال ہے، کہ جس میں جج حضرات ہر طرح کے دباؤ کے باوجود اپنے ادارے کی نیک نامی کے لیے یکسونظر آ رہے ہیں۔ فوج بیک فٹ پر ہے اور کسی سیاسی حرکت میں ملوث نہ ہونے کی پوری کوشش میں ہے۔ حالانکہ حکمران ٹیم نے مسلسل کوشش کی ہے کہ کسی نہ کسی طرح فوج کو اس معاملے میں ایک فریق ثابت کر دیا جائے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اربوں کے انجیکشنز لگانے کے باوجود میڈیا میں پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفاد کی بات کرنے والوں کی توانا آوازیں بحرحال موجود رہیں۔ اور ان سب سے بڑھ کر پاکستانی سوشل میڈیا، جو اپنی ترکیب کے لحاظ سے نہ ایک منظم ادارہ ہے، نہ کسی خاص سمت میں مسلسل کام کر سکتا ہے، مگر پھر بھی سوشل میڈیا نے اپنا آپ ثابت کیا ہے۔ اور جہاں صحافتی اداروں میں موجود بزرجمہروں نے پاکستان کے پچھلے ستر سالوں کے دوران ہونے والی سازشوں جیسی غلیظ، گھٹیا اور تعفن زدہ مشق کو دوبارہ دہرانے کی کوشش کی وہیں سوشل میڈیا کے نسبتاً نوجوان اور نا تجربہ کار تجزیہ نگاروں نے انکی ہر کوشش کو کاؤنٹر کیا۔
پاکستان اور پاکستانی عوام کی بہتری کے تناظر میں یہ جدوجہد ابھی طویل ہے۔ گاہے ناکامیاں اسکو طویل تر کردیتی ہیں۔ مگر عدلیہ کی آزادی، فوج کے غیر سیاسی ہونے کی خواہش، میڈیا اور سوشل میڈیا کے آزاد اور صرف پاکستان کے مفاد کے لیے کام کرتے افراد، اور عوام میں بڑھتی بیداری امید کی وہ کرن ہیں جو اجالا ہونے سے پہلے افق پر ایک واہمے کی صورت نمودار ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے کبھی دن چڑھتا نہیں دیکھا، وہ نہیں جان سکتے کہ ابھی اندھیرا ہی سہی، مگر روشنی قریب ہے۔

 

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: