متوقع فیصلہ: ھر صورت میں نقصان کس کا ھوگا؟ مجاھد حسین

0
  • 72
    Shares

کل جے آئی ٹی اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دے گی اور اس کے ساتھ ہی پاکستانی سیاست کا ایک نیا تلاطم خیز دور شروع ہو جائے گا۔

کچھ باخبرلوگوں کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے پاس ثبوتوں کا انبار اکٹھا ہو چکا ہے۔ شریف خاندان کو بھی یہ سن گن مل چکی ہے کہ ان کے خلاف ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کی ناقابل تردید تفصیلات جے آئی ٹی نے حاصل کر لی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بہت سے نئے سکینڈل اور انکشافات سامنے آئیں اور نون لیگ کی سیاست ایک طویل عرصے کے لئے نت نئے الزامات کے بھنور میں پھنس کر رہ جائے۔ اس بات کا بہت امکان ہے کہ سپریم کورٹ میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنائے گی۔ اس صورت میں ان کے لئے وزارت عظمی کے عہدے پر برقرار رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ اگر وہ نااہل قرار دے دیے جاتے ہیں تو ان کی جماعت کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہی ہو گا کہ وہ اپنا وجود کس طرح برقرار رکھے۔ میاں صاحب مسلم لیگ نون کے غیرمتنازعہ لیڈر ہیں۔ وہ منظر سے ہٹتے ہیں تو ان کی جانشینی کا جھگڑا کھڑا ہو گا جس کے نتیجے میں نہ صرف شریف خاندان کے اندر انتشار پیدا ہو سکتا ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ بہت سے رہنما وراثتی سیاست سے بدظن ہو کر دوسری جماعتوں کا رخ کریں۔ وزیراعظم کی نااہلی کی صورت میں اس جماعت کو یہ فیصلہ بھی کرنا ہو گا کہ اسے فوری طور پر اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کی طرف جانا چاہئے یا 2018 تک انتظار کرنا بہترہے تاکہ اس ایک سال میں پانامہ لیکس کا قصہ پرانا ہو جائے۔ دونوں ہی فیصلوں کے اپنے اپنے مضمرات ہیں۔ اسمبلیاں توڑتے ہیں تو الزامات کی تازہ ترین آندھی ان کے ووٹرز کو اڑا لے جائے گی اور یہ صورتحال دیکھ کر ان کے بہت سے موسمی پرندے دوسری جماعتوں کی شاخوں پر جا بیٹھیں گے۔ اگر 2018 تک انتظار کرتے ہیں تو خدشہ ہے کہ میاں صاحب کی جانشینی کی طویل کشمکش اگلے انتخابات تک نون لیگ کو دو تین دھڑوں میں تقسیم نہ کردے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قانونی موشگافیوں کے نتیجے میں فیصلہ میاں صاحب کے حق میں آ جائے۔ اس صورت میں سب سے زیادہ نقصان میں عدلیہ رہے گی جس کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تاثر بہرحال عوام میں پھیلا ہوا ہے کہ میاں نواز شریف صاحب لوگوں کو خرید لینے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح نون لیگ نے شورشرابا کر کے یہ تاثر پھیلایا ہوا ہے کہ فوج ان کے خلاف سازش کر رہی ہے۔ موافق فیصلہ آنے کی صورت میں عوام یہی نتیجہ اخذ کرے گی کہ ایک بار پھر فوج اور میاں صاحب کے درمیان کوئی خفیہ سمجھوتہ ہو گیا ہے۔

عمران خان کی سیاست کو ایک فوری دھچکہ ضرور لگے گا۔ لیکن اس کا اثر جلد ہی زائل ہونے لگے گا کیونکہ جےآئی ٹی کی رپورٹ کی صورت میں خان صاحب کو میاں صاحب کے خلاف اتنی بڑی ڈگڈگی مل جائے گی جسے وہ اگلے انتخابات تک مسلسل بچاتے رہیں گے۔ اس کے نتیجے میں نون لیگ کی سیاسی ساکھ، جو کہ پہلے ہی بہت متاثر ہو چکی ہے، مزید تباہ ہوتی جائے گی۔ دیکھا جائے تو نون لیگ ہر طرف سے مشکلات میں گھر چکی ہے۔ اگر جے آئی ٹی کی رپورٹ سے واقعی میاں صاحب کے خلاف بہت سے پرانے اور نئے انکشافات نکل آتے ہیں تو اس جماعت کو اپنی بقا کا سب سے بڑا چیلنج درپیش ہو گا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: