خواجہ سعد رفیق کی تقریر: طاہر ملک

0
  • 31
    Shares

خواجہ سعد رفیق مسلم لیگ کے نظریاتی ورکر اور لیڈر ہیں. کسی بھی سیاسی جماعت میں اس طرح کے کارکن اثاثہ ھوتے ہیں . انہوں نے اپنا مقام سیاسی محنت اور لگن سے بنایا ہے. والد خواجہ رفیق کی شہادت کے بعد نامساعد حالات میں طلبا سیاست سے اپنا سیاسی کیریئر شروع کیا .پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کے تشدد کا بھی شکار ہوئے . آج جب خواجہ سعد رفیق کی تقریر سنی تو جنرل مشرف کے دور آمریت کا ایک واقعہ ذہن میں آگیا. جب نواز شریف اٹک قلعے سے جدہ پہنچ چکے تھے اور جاتے جاتے مسلم لیگ جاوید ہاشمی کے سپرد کرگئے مسلم لیگ سے وابستہ بڑے بڑے رہنماء مصلحت کے پیش نظر گھر پر نظر بندی سے لطف اندوز ہو رہے تھے. جاوید ہاشمی ایک خودساختہ مقدمہ میں جیل بھگت رہےتھے . میرے عزیز دوست مسلم لیگ جرمنی کے صدر چوہدری شفیق پاکستان آئے تو خواجہ سعد رفیق نے انہیں چائے پر بلایا خواجہ سعد رفیق ان دنوں نواز شریف کے جنرل مشرف سے معاہدہ کرکے سعودی عرب جانے پر مایوسی کا شکار تھے. وہ کہہ رہے تھے کہ جب قیادت جمہوریت کی جنگ لڑنے کے بجائے اپنی جان بچانے کو ترجیح دے تو پھر اس ملک میں جمہوریت کا مستقبل کیا ھو گا ؟کہنے لگے کہ ان جیسے ہزاروں کارکنوں کو ہمارے رہنما کس کے رحم وکرم پر چھوڑ کر بیرون ملک جا بسے ہیں؟

یاد ماضی میں ابھرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کے وہ الفاظ اور آج ان کی سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کو دھمکیوں سے لبریز تقریر سن کر میں محترم خواجہ سعد رفیق جیسے سیاسی کارکنوں کو یہ کہنا چاھتا ہوں کہ صرف سیاسی قیادت ھی نہیں بلکہ ھمارے جیسے سیاسی کارکن بھی جمہوریت کے پاکستان میں غیر مستحکم ہونے کے ذمے دار ہیں . کیونکہ جب سیاسی کارکن جیالا متوالا اور فدائین بن جائیں .آئین اور قانون کی حکمرانی کے بجائے حکمرانوں کی قصیدہ خوانی پر اتر آئیں تو جمھوریت کا مستقبل مخدوش ھو جا تا ھے .خواجہ سعد رفیق اپوزیشن میں جیل بھگت رہے ہوں گے اور ان کے لیڈر لندن میں مزے کر رہے ہوں گے. سیاسی جدوجہد کے بجائے مال و دولت کے انبار اکٹھے کرنے والے تاریخ کے کوڑا دان میں جگہ پاتے ہیں. نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر نیلسن منڈیلا تک عظیم رہنما اپنے مال و دولت کے اثاثوں کے بجائے اپنے کردار اور عمل اور اصولوں کی بنا پر تاریخ میں زندہ و جاوید ہیں. پاکستان کا لیڈر وہ ھونا چاہئے. جس کے مالی معاملات اور ٹیکس ریٹرن قائد اعظم کی طرح شفاف ہوں اور جو بیماری کی حالت میں قائد اعظم کی طرح بیرون ملک علاج کی غرض سے جانے کے بجائے سرکاری ایمبولینس میں دم توڑنے کو ترجیح دے .

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: