پاکستان میں سرمایہ کاری اور بچتوں کا ایک جائزہ : راو جاوید

0

پاکستانیوں کی اپنی بچتیں کم ہیں اور سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر، تو ایسے میں باہر کے ممالک سے سرمایہ کاری حاصل کرنا اور حاصل کرتے رہنا مشکل ترہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ کوئی سیاسی پارٹی ذمہ داری کے ساتھ سرمایہ کاری حاصل کرنے میں دلچسپی بھی نہیں لیتی۔ زیادہ تر سیاسی گروہ وقتی بیان بازی اور غیر ذمہ دارانہ الزام تراشی میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے میں ترقیاتی حکمتِ عملی کی کامیابی کی گنجائش کم ہے۔

پاکستان میں عالمی کمپنیاں بہترین کاروبار (سیل) کرتی ہیں کیونکہ پاکستان بھی خریداروں کا معاشرہ ہے۔ یہی کارپوریشنیں ہمیں ٹیکس بھی کما کر دیتی ہیں۔ لیکن انہوں نے پاکستان سے جائز کاروبار کرتے ہوئے دو ارب ڈالر کا منافع اپنے ممالک کو بھیجا۔ پاکستان غریب ملک ہے۔ لیکن ہمیں یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ تمام عالمی کمپنیاں پاکستان میں انویسٹ کریں، کاروبار کریں اور یہاں سے منافع کمائیں۔ یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ یہاں سے لوگوں کو منافع حاصل ہو اور پاکستان کما کر دینے والا ملک نظر آئے۔ لیکن ساتھ میں اپنے ملک کے اندر مزید سرمایہ کاری کیلئے ماحول بھی فراہم کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد چین، ہالینڈ، امریکہ، یورپ اور عرب ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ سٹاک ایکسچینج میں انویسٹ کرتے ہیں جوکہ وقتی ہے۔ باقی لوگ یہاں کاروبار کرتے ہیں اور دنیا بھر کی اشیاء یہاں فروخت کی جاتی ہیں۔

سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق ہماری کل سرمایہ کاری پچھلے سال ڈھائی ارب ڈالر کے قریب رہی۔ جس قدر رقم ملک میں آئی، اتنی ہی کمپنیوں کو چلی بھی گئی۔ ویسے پاکستان نے سرمایہ کاری میں اضافہ پایا۔ اس سے پچھلے سال کل سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تھی۔ لیکن یہ سرمایہ کاری کم ہے۔ ہمیں اس سے زیادہ حاصل ہوسکتا تھا۔ چین نے امسال 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ یہ اچھی بھلی سرمایہ کاری ہے۔ ہالینڈ نے آدھا ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اینگرو فوڈ ایک ڈچ کمپنی نے خریدی۔ ایسی بہترین سرمایہ کاری حاصل کرنے کے باوجود ہم ہالینڈ سے انڈیا کیخلاف نیوکلئیر سپلائر گروپ میں شمولیت کا ووٹ روکنے میں ناکام رہے۔ ان دو سالوں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری کم رہی ۔ شاید اس کی وجہ عرب ممالک کے سیاسی حالات ہیں۔

پھر اس سال کی اہم بات یہ کہ غیرملکی نجی (فارن پرائیویٹ) سرمایہ کاری بھی مثبت رہی جو کہ اس سے پچھلے سال میں منفی تھی یعنی ہم نے ادائیگی زیادہ کی تھی اور اس سے حاصل کم کیا۔ اس سال فوڈ، بجلی کی پیداوار اور تعمیرات میں زیادہ سرمایہ کاری کی گئی۔ یہ مثبت ہے کہ فوڈ میں بھی آدھا ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔

تیل و گیس میں 140 ملین روپے کی سرمایہ کاری ہوئی جن میں پرائیوایٹائزیشن کی کوئی رقم شامل نہیں۔ یہ حقیقی فائدہ ہے لیکن بہت کم۔ پاکستان میں اس سیکٹر میں کہیں زیادہ رقم حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس سیکٹر میں باہر بھیجی جانے والی رقم (انویسٹ منٹ آؤٹ فلو) بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔

فارماسیوٹیکلز میں سرمایہ کاری کا میزانیہ منفی تھا۔ 34 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ اس سے کہیں زیادہ رقم باہر بھیجی گئی۔ یہ ہائی ٹیک شعبہ ہے جس میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ فارماسیوٹیکل کی انجمن کا کہنا ہے کہ یہ شعبہ پاکستان میں کامیاب ہے لیکن مجموعی سرمایہ کاری منفی رہی۔

کمیکلز میں امسال صرف 10 ملین ڈالر حاصل ہوئے جو کہ پچھلے سال 83 ملین تھے۔ اس کے برعکس الیکٹرانکس میں ڈیڑھ سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی جو کہ اس سے قبل مفقود تھی۔ لیکن یہ انڈسٹری سے متعلق نہیں تھی بلکہ گھریلو استعمال کیلئے تھی۔ ظاہر ہے کہ اس سے ملک کو طویل مدتی فوائد حاصل نہیں ہوسکتے۔ ایسے ہی آٹوموٹیو مشینری میں کوئی خاص سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ اس پر 2016 تا 2021 تک کی حکمتِ عملی (پالیسی) بورڈ آف انویسٹمنٹ نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ سے حاصل کرکے مہیا کی ہے اس کے باوجود کچھ حاصل نہیں ہوپایا۔ جدید دور کی ٹیکنالوجی کے حصول کی دوڑ لگائی جاسکتی تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ خواجہ آصف صاحب کی سربراہی میں اس پالیسی کے بنائے جانے کے بعد سرمایہ کاری کا کا آغاز ہونا چاہئیے تھا لیکن میزانِ عمل میں سرمایہ کاری صفر کے قریب ہے۔

فرٹیلائزر ہماری مستقل ضرورت ہے۔ اس میں کوئی سرمایہ کاری نہیں۔ زراعت کی مشینری میں کچھ سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ الیکٹریکل مشینری میں کوئی سرمایہ کاری نہیں حالانکہ واپڈا جیسا دیوہیکل ادارہ موجود ہے جسے ہر سال اس مد میں سرمایہ کاری حاصل کرنی چاہئیے۔ لگتا ہے کہ وہاں سرمایہ کاری حاصل کرنے کیلئے کوئی عملی ادارہ ہی موجود نہیں ہے ۔ ایسا ادارہ قائم کرنا چاہئیے۔

سماجی سروسز میں سرمایہ کاری بالکل صفر رہی۔ اس کی بنیادی وجہ کام کرنے والی تنظیمات پر پابندی ہے۔ پاکستان میں غربت کی شرح کافی زیادہ ہے۔ حکومت کو چاہئیے کہ اس معاملے میں کام کی کوشش کرے تاکہ غربت میں کمی آئے اور پاکستان ترقی کرے۔ اگر حکومت اپنے اندرونی اور بیرونی مسائل سے چھٹکارا حاصل کرکے ایک باقاعدہ پالیسی بنائے تو اس سیکٹر میں کام کی صلاحیتیں بھی موجود ہیں اور ضرورت بھی ہے۔

شوگر اور بیوریجز میں سرمایہ کاری کم جبکہ باہر بھیجی جانے والی رقم کہیں زیادہ رہی۔ لیدر کی پراڈکٹس میں کوئی سرمایہ کاری نہ ہوسکی۔ حالانکہ سیالکوٹ میں بے تحاشا ایکسپورٹر موجود ہیں۔ شاید حکومت انکے ساتھ کوئی مشترکہ منصوبے شروع نہیں کرسکی۔

فرانسیسی سرمایہ کاروں نے بھی امسال پاکستان کا دورہ کیا اور بہت سے شعبوں میں سرمایہ کاری کا ارادہ ظاہر کیا۔ لیکن ہنوز کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاسکا۔ اس دوران انہوں نے سی پیک کی بھی خاصی تعریف کی۔ لیکن عملی اقدام کیلئے کافی جدوجہد کرنا پڑتی ہے جس کیلئے حکومت کو اپنے سیاسی قضئیے چکانا پڑیں گے۔

پاکستان کے اندرونی سرمایہ کار کوئی خاص کام نہیں کرپاتے۔ یہ عجیب و غریب صورتحال ہے۔ پاکستانی کمرشل بینکوں کی یہ استطاعت ہی نہیں کہ وہ طویل مدتی سرمایہ کاری کرسکیں۔ طویل مدتی سرمایہ کاری کرنے والے فنانشل ادارے (پکک، انڈسٹریل ڈویلپمنٹ بنک) وغیرہ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس لئے بڑے پراجیکٹ کیلئے ملک کے اندر سے ہی رقم حاصل ہونا مشکل تر ہے۔ ایسے ہی پاکستانیوں کی بچتیں اسقدر کم ہیں کہ ان سے کوئی مثبت سرمایہ کاری کی امید فضول ہے۔ ہماری اپنی کل قومی بچت 15٪ سے بھی کم ہے۔ جبکہ قریبی ممالک جیسے سری لنکا، انڈیا اور بنگلہ دیش میں یہ شرح 30٪ کے قریب ہے۔ ایسے ہی پاکستانی کل قومی آمدن کے 15٪ تک سرمایہ کاری کرتے ہیں جو کہ قریبی ممالک کی نسبت آدھی بھی نہیں۔ جیسے بنگلہ دیش 40٪ تک جاپہنچا ہے۔ سٹیٹ بنک کے ایک تحقیق کار کے مطابق پاکستان کم بچت اور کم سرمایہ کاری کی مشکل میں پھنس چکا ہے۔

اس صورتحال میں جب پاکستانیوں کی اپنی بچتیں کم ہیں اور سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر، تو ایسے میں باہر کے ممالک سے سرمایہ کاری لا مسلسل حصول مشکل ترہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ کوئی سیاسی پارٹی ذمہ داری کیساتھ سرمایہ کاری حاصل کرنے میں دچسپی بھی نہیں لیتی۔ زیادہ تر سیاسی گروہ وقتی بیان بازی اور غیر ذمہ دارانہ الزام تراشی میں مصروف رہتے ہیں۔ کسی ایک سیاسی جماعت کا انویسٹمنٹ یا ایکسپورٹ کا پروفیشنل ادارہ موجود ہی نہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری اور برآمدات کیسے بڑھیں گی۔ اگر یہ دونوں شعبے پیچھے رہیں گے تو کل حکمرانی کے تخت پر بیٹھنے والا کوئی بھی گروہ کیسے یکایک کامیابی حاصل کرپائیگا۔ معجزات ایک دن میں نہیں ہوتے۔ ایسے میں ترقیاتی حکمتِ عملی کی کامیابی کی گنجائش کم ہے۔ پھر پاکستان میں سیاسی مزاج بھی آئے دن بدلتے ہیں جس کی بنا پر کسی حکمران پارٹی کے چند سال ٹھہر کر مستحکم حکومت کرنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس بناء پر مستقبل میں سرمایہ کاری کا کوئی بڑا بریک تھرو ہونا مشکل ہے۔ سی پیک اس تبصرے سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ ایک نیا کام ہے جس پر آنے والے وقت میں ہی کوئی تبصرہ کیا جاسکتا ہے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: