طفیل ہاشمی، حنیف ڈار، ابوعلیحہ اور بابا کوڈا کا قصہ: محمود فیاض

0
  • 517
    Shares

“جس کو جان و دل عزیز انکی گلی میں جائے کیوں”

فیس بکی دانشور پھر سے گالم گلوچ اور دست بہ گریبان ہیں۔ فالتو انرجی کا یہی ہوتا ہے، ٹکنے نہیں دیتی اور کسی مثبت کام میں بھی نہیں آتی۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ طفیل ہاشمیؔ صاحب، اور قاری حنیف ڈار صاحب، جو سوشل میڈیا پر مذہبی و معاشرتی حوالے سے معتبر نام بن چکے ہیں، پچھلے کچھ روز سے حالیہ سیاسی لہر پر اپنی رائے کی وجہ سے اپنے ہی “بغل بچوں” کے زیر عتاب آئے ہوئے ہیں۔ بچے ان سے اس بات پر ناراض ہیں کہ جب نواز شریف اپنے منطقی انجام کو پہنچنے کے قریب ہیں، یہ بزرگ ان کو شرافت کا ان ڈائرکٹ سرٹیفیکیٹ عطا کر کے پتلی گلی کیوں فراہم کر رہے ہیں۔ اور سوشل میڈیا کے نوجوانوں کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ چڑھانے پر آتے ہیں تو آسمان سے نیچے نہیں چھوڑتے اور گرانے پر آتے ہیں تو پاتال سے اوپر نہیں رہنے دیتے۔ یہی کچھ ان دو اصحاب کے ساتھ ہو رہا ہے۔

طفیل ہاشمی صاحب کا اکاؤنٹ چونکہ دستیاب نہیں اور میں نے انکی پوسٹس نہیں دیکھیں، مگر دیکھنے والوں سے سنا ہے کہ وہ پچھلے کچھ عرصے میں متعدد بار موجود حکمرانوں کی ایسی حمائت کر چکے ہیں جو بظاہر تو مذہبی حوالوں سے تھی مگر اسکا تاثر انکو سیاسی چھوٹ دینے کے برابر تھا۔ بابا کوڈا کا سب سے بڑا اعتراض بھی یہی ہے کہ اسوقت ہاشمی صاحب کی بے وقت راگنی کا فائدہ ملزم کو مل سکتا ہے۔

قاری صاحب کا ایک کمنٹ تو میں نے خود پڑھا ہے کہ جہاں انہوں نے فرمایا ہے کہ “نواز شریف کو میں اورنگزیب سے بہتر حکمران سمجھتا ہوں (کہ اس نے اپنے بھائیوں کو تو قتل نہیں کیا)”، اسکے علاوہ بھی حالیہ پوسٹس میں انہوں نے بھی بالواسطہ ہنڈی کو جائزقرار دیا ہے اور اس کے لیے بنوری ٹاؤن والوں کا فتویٰ بھی پیش کرتے رہے۔

اگر منطقی طور پر دیکھا جائے تو ہر دو اصحاب نے کوئی غلط بات نہیں کی۔ پہلی بات تو یہ کہ دونوں کا میدان مذہبی تشریحات ہے۔ اس لیے انہوں نے وہی بات کرنا ہے جو مذہب کا دائرہ کار میں آتی ہے اور ویسے ہی کرنا ہے جیسے مذہب کی تشریحات اولیٰ انکو سکھاتی ہیں۔ مگر میرا زاتی خیال ہے مذہبی تشریحات میں خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب وہ کسی شخصیت کا نام لیکر کر کی جائیں۔ مذہبی تشریحات کا ماضی اس سلسلے میں خاصا قابل اعتراض ہے کہ جہاں حاکم وقت کو کسی کٹھنائی سے نکلنے کا کوئی چارہ نہ رہا اس نے اہل مذہب کا سہارا لیا۔ اور مسلم تاریخ کی بدقسمتی کہ انکو اہل مذہب ہی میں سے وافر مقدار میں ایسے سہارے دستیاب بھی ہو گئے۔ تفصیل اور مثال کی جا اور وقت نہیں، میں آپ کو خود اپنی تحقیق سے ان مقامات پر پہنچنے کی دعوت دیتا ہوں کہ “جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود”۔

اب اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایک زیر بحث سیاسی و اخلاقی مسئلے میں، جہاں حکمران کا کردار ہی فیصلہ کن فیکٹر بنتا نظر آئے، اچانک سے ایک ہوا چل پڑے اور نامی گرامی “علماء” راتوں رات ہنڈی کو زیر بحث لے آئیں، اسمگلنگ کو شرعی طور پر جائز قرار دیے گئے فتوئے جھاڑ پونچھ کر عوام کو پیش کیے جانے لگیں، اور نواز شریف کے کردار کو اورنگزیب سے بہتر قرار دیا جانے لگے تو نوجوان نسل کیا کرے؟ انکے پاس ایسا کونسا علم ہے جو وہ آپ کی ان “علمی توجیہات” کے اس ’’بر محل‘‘ استعمال کو سمجھ سکیں۔ انکے پاس تو جوابی دلیل بھی نہیں ہے کیونکہ آپ جوابی دلیل کے لیے 14 علوم پڑھنے کی شرط رکھتے ہو۔

مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ طفیل ہاشمی صاحب اور قاری حنیف ڈار صاحب اپنی تمام تر فین فالوونگ کے باوجود غامدی صاحب سے زیادہ بزرگ نہیں ہیں۔ اور ہماری نوجوان نسل غامدی صاحب کے پاکستانی سیاست کے پس منظر میں دیے گئے “مشورے” کو بھی نظر انداز کر چکی ہے کہ “حکمران جیسے بھی ہوں انکے خلاف علم بغاوت نہ بلند کرو اور انکی اطاعت کرو”۔

سوشل میڈیا نوجوان نسل کا میڈیا ہے۔ بابا کوڈا نے جائز طور پر کہا ہے کہ
” یہ سوشل میڈیا ہے، یہاں کے اپنے قاعدے اور دستور ہیں۔ یہاں آپ روایتی مِن مِن سے کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ ۔ ۔ فیس بک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں کہ وہ یہاں دوسروں کیلئے ضابطہ اخلاق اور خود کو مکمل آزادی دیتا پھرے (بابا کوڈا)”
یہاں پگڑیاں اچھلتے دیر نہیں لگتی ؎ جس کو ہو جان و دل عزیز اسکی گلی میں جائے کیوں۔

اس لیے ایسا سمجھنا کہ نوجوان نسل کا میڈیا بھی ہماری آپکی طرح رکھ رکھاؤ، ادب لحاظ، اور حفظ مراتب کا خیال رکھے گا، عبث ہے۔ یہاں بابا کوڈا اور ابو علیحہ جیسے لوگ موجود ہیں اور نوجوان نسل کو وہ “ایکس فیکٹر” دے رہے ہیں جو میری آپکی تحریروں میں نہیں ہے۔ تو ظاہر ہے وہ پاپولر بھی ہونگے اور انکی آواز بھی زیادہ دور تک سنائی دے گی۔ جس کے ہاتھ میں بھونپو اور پاؤں کے نیچے اسٹیج ہو، بڑا اداکار تو وہی کہلائے گا ناں۔ ہم جیسے مرضی دلائل دیں، الیکٹرانکی میڈیا ریٹنگ پر اور سوشل میڈیا لائیکس اور ویوز پر چلتا ہے۔ “جس کے گھر دانے اسکے کملے بھی سیانے”۔

اسکا مطلب یہ نہیں کہ سوشل میڈیا ابوعلیحہ یا بابا کوڈا کے باپ کی جاگیر ہے۔ جیسے بابا کوڈا نے کہا کہ آپ سوشل میڈیا کا ضابطہ اخلاق طے نہیں کر سکتے، ایسے ہی میرا بابا کوڈا اور ابو علیحہ کو کہنا ہے کہ وہ بھی اکیلے سوشل میڈیا کو گالی میڈیا نہیں بنا سکتے۔ ہم جیسوں کی کمزور سہی مگر مخالف آوازیں آپ لوگوں کے غیر مہذبانہ انداز کے خلاف اٹھتی رہیں گی۔

اب آجائیے طفیل ہاشمی صاحب پر اٹھتی آوازوں کی طرف، جس کا آغاز بابا کوڈا نے کیا، البتہ ان میں جان طفیل ہاشمی صاحب کے اپنے “مریدین” نے ڈال دی۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے مکالمے کی بجائے گالی گلوچ سے بابا کوڈا اور اس کے ساتھیوں کو جواب دیا۔ مجھے ہنسی آئی کہ آپ نے تو خود ہی بابا کوڈا کے “ہوم گراؤنڈ” میں جا کر کھیلنے کا فیصلہ کر لیا۔ گالیاں دیں گے تو بابا کوڈا اس میں پی ایچ ڈی ہے، کہاں تک جیت پائیں گے؟ ہاں دلیل سے بات کرتے تو میں نے نوٹس کیا ہے کہ بابا کوڈا جیسا زہین بندہ بھی ٹھٹک جاتا ہے کہ دلیل کا جواب دینے کے لیے زبان کو ٹھہر کر دماغ کی مدد لینا پڑتی ہے، گالی البتہ پہلے ہی نوک زبان پر ہوتی ہے۔

میرا خیال تو یہی ہے کہ طفیل ہاشمی جس سطح کی عزت افزائی والے مقام پر پہنچ چکے ہیں، وہ اگر اپنے فالوورز کو صرف اتنا کہہ دیتے کہ مزکورہ الزام جھوٹا ہے یا خبری کہانی کے پیچھے اصل داستان کچھ اور ہے۔ یا وہ صرف اتنا کہہ دیتے کہ میں اس پر کوئی جواب نہیں دینا چاہتا، آپ لوگوں کی مرضی ہے کہ مجھے فالو کریں یا نہ کریں، تو میرا خیال ہے انکی فین فالوونگ دگنی ہو جانا تھی۔ مگر زاتی طور پر مجھے انکا اکاؤنٹ بند کر کے جانا مناسب جواب نہیں لگا۔ بابا کوڈا ہی نے کہا ہے کہ اکاؤنٹ بند کرنے کی وجہ کچھ اور ہے، میں دعا کرتا ہوں کہ کچھ اور ہی ہو، اور بہتر وجہ ہو، ورنہ میرے جیسے گمنام مداحوں کو مایوسی ہوگی۔

بابا کوڈا کے لیے ایک الگ مضمون  لکھ رہا ہوں، مگر اس موضوع کو مکمل کرنے کے لیے بابا کوڈا پر بات کرنا بھی ضروری ہے۔ میں نے ابھی بابا کوڈا کی وال دیکھی اور اسکی آخری پوسٹس میں سے یہ پیرا گراف کاپی کیا،
“میں ذاتی طور پر ہاشمی صاحب کی علمی اور فکری دانش کا قائل تھا، بہت سے متنازعہ مذہبی امور میں انہوں نے نہایت جرات مندانہ مؤقف اختیار کرکے میری نظروں میں اپنی عزت بڑھا لی تھی، لیکن یہ سارا امیج اس وقت دھڑام سے زمین بوس ہوگیا جب پچھلے چند دنوں میں انہوں نے نوازشریف کو خلیفہ وقت ثابت کرنے کی فضول مشق شروع کردی۔

میں اس پوسٹ کے توسط سے ہاشمی صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ فیس بک پر واپس آجائیں کیونکہ اکاؤنٹ بند کرنے سے کسی کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
(بابا کوڈا کی وال سے)”

کوڈا نے بھی ہاشمی صاحب سے واپسی کی درخواست کی ہے جس کا میں خیر مقدم کرتا ہوں۔ البتہ اس نے جو یہ لکھا ہے کہ ہاشمی صاحب نے میری نظر میں اپنی عزت بڑھا لی تھی، پھر انہوں نے نواز شریف کی حمائت کی تو یہ وجہ بنی بابا کوڈا کے لیے برسوں پرانا مقدمہ اٹھا کر لانے کی۔

اب میرا اس پر بابا کوڈا سے سوال ہے کہ کیا طفیل ہاشمی صاحب جب متنازعہ مذہبی امور میں “جرات مندانہ موقف” اختیار کرکے آپ کی نظر میں اپنی عزت بڑھا چکے تھے، تب وہ مقدمہ، وہ پی ایچ ڈی کا مقالہ، اور وہ اخباری خبر اپنی حیثیت کھو چکی تھی؟ کیا تب ہاشمی صاحب پاک صاف تھے اور اب چونکہ وہ آپ کی نظر میں قصور وار ہو چکے ہیں اس لیے وہ مقدمہ دوبارہ قائم ہو چکا ہے؟ یہ کہاں کی منطق ہے؟ ہم سب نہیں جانتے تھے تو ہم ہاشمی صاحب کی اچھی باتوں پر انکی عزت کرتے تو ٹھیک تھا، مگر آپ کیسے عزت کرتے تھے، آپ کو تو پہلے روز سے پتہ تھا۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ نہیں مجھے بھی تب پتہ چلا جب میں نے ان پر کیچڑ اچھالنے کی غرض سے انکا ماضی کھنگالا، تو یہ دوسرے درجے پر نواز شریفی حرکت ہی ہے، کہ جو آپ کا مخالف ہو اس پر پولیس کے سارے مقدمات کھلوا دو، اور جو حمائت کرنے لگے اس کی ضمانیتیں منظور، قرضے معاف۔ حقیقت یہ ہے بابا کوڈا کہ اس معاملے میں آپ لوگ نئی نسل کے ہو کر بھی پرانی نسل کے جوتوں کے نشانوں پر ہی چل رہے ہو۔ آپ بھی مخالف پر مقدمے بازے کے قائل ہو دلیل کے نہیں۔ آپ بھی دوسرے کے ماضی کے گند کو اچھالتے ہو، اور اسکو چپ کروا دیتے ہو۔ آپ نے وہی حربہ طفیل ہاشمی صاحب پر استعمال کیا ہے۔ انکے میٹھے کنوئیں کے پانی میں جہاں سے ہزاروں لوگ سیر یاب ہو رہے تھے آپ نے زہر ملانے کی کوشش کی ہے۔ میں طفیل ہاشمی صاحب کا وکیل نہیں بننا چاہتا مگر حقیقت یہی ہے کہ پاکستان میں کسی نے بھی پچھلے تیس سال میں کوئی بھی سرکاری نوکری کی ہے اور کبھی کوئی بے ایمانی (اپنے لیے، یا کسی غریب کی مدد کے لیے) نہیں کی تو اسکی قبر سے خوشبو دو میل دور سے آنا چاہیے۔
۔
آخر میں میں تمام فیس بک کے دوستوں سے گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ گالی سے صرف اور صرف آپکا ڈی این اے ظاہر ہوتا ہے۔ اسکو سوشل میڈیا کی روایت مت بنایے۔ تحمل و برداشت کو فروغ دیجیے۔ ہاشمی و ڈار کے کہنے سے ہم نے نواز شریف کو ولی مان لینا نہیں، اور بابا کوڈا اور ابو علیحہ کی گالیوں سے انقلاب آنا نہیں۔ بابا کوڈا کو وہم ہے کہ لوگ اسکی باتیں سن کر ظالم حکمرانوں کے خلاف نکلیں گے، یہ مسخروں کو انجوائے کرنے والی قوم گیارہ سال تک ضیا کے مارشل لا کے گن گاتی رہی اور شادی بیاہ پر آئے بھانڈوں کی مارشل لائی جگتوں سے اپنا کتھارسس کرتی رہی۔ یہ بابا کوڈا کی وال پر بھی وہ گالیاں سننے آتے ہیں جو نظام کے نہ بدلنے کی وجہ سے انکے دلوں میں گھٹی پڑی ہوتی ہیں۔ مگر بس یہیں تک۔ گالیاں سن کر، مزہ اٹھا کر، یہ پیزا کھانے نکل جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں، “واہ یار، بابا کوڈا نے آج پھر چھترول کردی ۔ ۔ کیا بات ہے ۔ ۔ ۔ ابے میرا کیچ اپ کدھر گیا ۔۔۔ تیری تو۔۔۔ “

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: