فلم پروجیکٹ غازی: خرم سہیل کی تحریر

0

فلم ساز: سیدمحمدعلی رضا
ہدایت کار: نادرحسین
فنکار: ہمایوں سعید، شہریارمنور، سائرہ شہروز، طلعت حسین، عدنان جعفر، عامرقریشی
ریلیز:  14 جولائی، 2017
ملک: پاکستان
زبان: اردو
پاکستان میں فلمی صنعت کی بحالی خوش آئند ہے۔ ایک طرف تو کمرشل فلمیں بن رہی ہیں، جن کے ذریعے باکس آفس کے نتائج بہترہورہے ہیں اورپاکستانی فلم بینوں کواچھی فلمیں دیکھنے کاموقع مل رہاہے، بیرون ملک بھی پاکستانی فلموں کی نمائش سے اچھا تاثر پیدا ہوا ہے، اس طرح مقامی فنکاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی اورفلمی صنعت مزید پھلے پھولے گی۔ دوسری طرف فلمی صنعت میں کچھ تجربات بھی کیے جارہے ہیں، جن کو دیکھ  کراندازہ ہوتا ہے، اب پاکستان میں فلمی صنعت مزید باشعور ہورہی ہے۔
ہمارے فلم سازدورجدید کے تقاضوں اورعالمی سینما کی ضرورتوں کو بھی محسوس کررہے ہیں، تجرباتی پہلوسے جوفلمیں موجودہ دہائی (2011-2017) میں بنائی گئیں، ان میں اسپورٹس کے شعبے میں، کرکٹ پر ’’میں ہوں شاہد آفریدی‘‘ اورباکسنگ پر ’’شاہ‘‘ ہیں۔ سماجی مسائل پربول، چنبیلی، دختر، مورشامل ہیں۔ ادبی موضوعات پر ’’منٹو‘‘ اور ’’ماہ میر‘‘ بنائی گئیں۔ سب سے زیادہ فلمیں جن موضوعات پربنیں، ان میں کامیڈی اورایکشن شامل ہے اورباکس آفس پربھی یہی دوطرح کی فلمیں ابھی تک سب سے زیادہ کامیاب رہی ہیں۔

رواں برس نمائش کے لیے پیش کی جانے والی فلم ’’پروجیکٹ غازی‘‘ پاکستانی فلمی سینما میں مزید ایک نیا تجربہ ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ سائنس فکشن فلم بنائی جارہی ہے، جس میں سپرہیروزاپنے کمالات دکھائیں گے۔ حال ہی میں اس فلم کا آفیشل ٹریلرجاری کیا گیا ہے، جس کودیکھ کراندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فلم کا معیار کیا ہوگا۔ اس فلم کی کہانی ایک ایسے سائنسی تجربے پرہے، جس میں انسانوں پر طبی تجربات کیے گئے ہیں، تاکہ وہ مزید طاقتور ہوسکیں اوراس میں جن کومنتخب کیا گیا، وہ فوجی ہوتے ہیں، یہ کامیاب تجربہ ایک سطح پرآ کر بگڑجاتا ہے اورسائنسدانوں کے قابوسے باہرہوجاتا ہے، اب عام انسان اورخاص انسان کی آپس میں جنگ کو موضوع بنایا گیا ہے۔
اس فلم کی کہانی کمزورمعلوم ہورہی ہے، کیونکہ اس کولکھتے وقت بہت وقت ضایع کیا گیا اورمتعدد تبدیلیاں بھی ہوئیں، کئی مواقع پر ایسا بھی ہوا کہ جب فنکاروں کو کاسٹ کیا گیا، تواس وقت اسکرپٹ کچھ اور تھا، جوفلم کی تکمیل تک بالکل مختلف ہوگیا، جس کی وجہ سے کئی فنکاروں کواس میں تحفظات تھے۔ اس فلم کے لیے مرکزی کردارمیں شان شاہد کو بھی پیشکش کی گئی تھی، مگر انہوں نے اس کو مسترد کر دیا۔ فلم کے کرداروں کے بارے میں بھی زیادہ واضح طورپرنہیں بتایا گیا۔ فلم کی کہانی میں کافی کنفیوژن ہے، جس کا اندازہ آفیشل ٹریلردیکھ  کرہی ہورہا ہے۔
اس فلم میں سینئراداکار طلعت حسین نے بطور سائنسدان کام کیا، فلم کی پروموشن میں کہیں ان کا تذکرہ نہیں، نہ ہی وہ کسی جگہ فلم کی ٹیم کے ساتھ تشہیر کی غرض سے دیکھے گئے۔ آفیشل ٹریلر کے اندرطلعت حسین کے دکھائے گئے مناظرمیں، انہوں نے پہلے کی طرح شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیاہے، البتہ ہمایوں سعید آفیشل ٹریلرمیں ایک جگہ ساتھی کوبتار ہے ہیں کہ ان کی جانوں کو خطرہ ہے، مگریہ بولتے ہوئے، ان کے لہجے میں نہ کوئی خوف کا شائبہ ہے اورنہ ہی تشویش کی لہر، ایسا لگ رہا ہے، وہ مکالمے ادا نہیں کررہے، بلکہ پڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح سائرہ شہروز اورشہریارمنوربھی ڈرامے کے فریم سے باہرنہیں نکلے، انہوں نے ایک سائنس فکشن فلم کے تاثرات کو اپنے کرداروں میں جذب نہیں کیا، ورنہ وہ محسوس ہوجاتے۔ عدنان جعفرکسی بھی طرح اپنے کردار میں مماثلت رکھتے دکھائی نہیں دیتے، ان کی اداکاری کا رنگ بالکل مختلف ہے۔ عامر قریشی کا کردار بھی مختصر دکھائی دیا۔

اس فلم میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کئی نئی چیزیں کی گئی ہیں، جیسے عدنان جعفرکے چہرے کا نقاب، جوتھری ڈی ہے، اس طرح سائنسدانوں کی لیب، مختلف ادویات اورروبوٹس کااستعمال وغیرہ، سائونڈ اور ایڈیٹنگ وغیرہ میں بھی مثبت نتائج محسوس ہورہے ہیں، مگرنہ جانے کیوں ہمارے فلم سازکہانی کی اہمیت کونہیں سمجھتے، اب ہالی ووڈ کی کہانی کو پاکستانی سینما میں فلمائیں گے توفلم بین کیوں ان کی فلم دیکھے گا، اس کو ہالی ووڈ کی فلم دیکھنے میں پھرکیا عارہے، جو اصل ہے اورتکنیکی اعتبارسے بہتربھی۔
پاکستان میں سب سے پہلے سائنس فکشن اورسپرہیروز پرفلم بنانے کا تمغہ اورتاج ضروراپنے پاس رکھیں، مگر اس فلم کے متعلقہ حضرات کویہ سوچنا ہوگا کہ پاکستان میں کیوں کوئی آپ کی فلم دیکھے اوراس موضوع پر ویسے بھی محدود فلم بین دلچسپی لیں گے، جواس طرف راغب بھی ہوں گے، انہوں نے ہالی ووڈ کی اس قسم کی تمام فلمیں دیکھ رکھی ہوں گی، ان کوآپ اس فلم کی شکل میں، ایک بھونڈی نقل کے علاوہ کچھ دینے نہیں جا رہے۔
ہمارے فلم سازوں کواپنے لحاظ سے، مقامی فلم بین اور ذہنی سطح کوسامنے رکھ کر فلمیں بنانا ہوں گی، ان کا موضوع چاہے کچھ بھی ہو، تب ہی کامیابی ممکن ہے۔ مجھے تویہ فلم باکس آفس پر کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی، اس کے باجود، اگراس فلم میں دم ہے، تووہ اپنی نمائش پرسب اندازے غلط ثابت کرسکتی ہے، مگر ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا، بہرحال ایک مختلف موضوع اورتجربے کوکرنے پراس فلم کی ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: