اکیلی عورت، اکیلی کیوں ہے؟ فارینہ الماس

0
  • 152
    Shares

سانولے اور تیکھے نقوش کی حامل زرمینہ گھر داری میں طاق ہونے کے ساتھ ساتھ اکنامکس میں اعلیٰ ڈگری کی بھی حامل تھی۔ شخصی خصائص کے سو گُن تھے اس میں۔ لیکن یہ سبھی گُن اپنی چمک کھو دیتے تھے اس کے ایک جسمانی نقص کے آگے جو کہ اس کی ایک ٹانگ کو لاحق تھا۔ اور جس سے چھٹکارہ پانااس کے بس میں نہ تھا۔ اک ایسی محرومی کی حامل لڑکی کے رشتے کا پربند ایک ایسے معاشرے میں کس طور ہو پاتا جہاں “ہر چمکتی چیز ہی سونا” سمجھی جاتی ہو۔ لیکن ماں باپ تو اسے سہاگن دیکھنا چاہتے تھے خواہ اس کے لئے انہیں کوئی بھی قیمت ادا کیوں نہ کرنا پڑتی۔ بہت عرصہ کی تگ و دو سے اوراپنی چند خواہشات درگزر کر چکنے کی بعد ایک معمولی تعلیم یافتہ اور کمسپرسی کا شکار “لڑکا” ڈھونڈ ہی لیا گیا۔ اس کے حصول کی ایک بھاری قیمت انہیں ادا کرنی تھی۔ مثلاً کاروبار کے لئے بھاری رقم دینے کے ساتھ ساتھ گھر گرستی کا کل سامان بھی ان ہی کی ذمہ داری ٹھہرا۔ یہ بھی تو ممکن تھا کہ وہ کسی ایسے گھاٹے کے سودے کی بجائے اسے کسی اور مثبت عمل میں مصروف کر دیتے۔ اسے ذہنی اور دماغی طور پر اس سے کئی گنا کم تر اور لالچی انسان کے پلے باندھنے کی بجائے اسے تنہا جینے کا ہنر سکھا دیتے۔ لیکن انہوں نے اس سماج کے طعنوں سے سبق دوش ہونے کو یہ رسک لیا جو درست فیصلہ ثابت نہ ہو سکا۔ زرمینہ سے شادی کرنے میں اس کے شوہر کا بڑا پن نہیں بلکہ لالچ چھپا ہوا تھا جسے کبھی نہ کبھی تو عیاں ہونا ہی تھا۔ سو رشتے کی بنیاد ہی غلط ثابت ہوئی اور بعد ازاں والدین کے سو جتن بھی اس رشتے کو برقرار نہ رکھ سکے۔ کچھ ہی عرصے بعد جب کاروبار کی تمام تر رقم بھی برباد ہو گئی تو شوہر کو اپنی بیوی کی معذوری کَھلنے لگی۔ معمولی معمولی بات پر رنجشیں بڑھنے لگیں۔ بات بے بات، گالی گلوچ، مارا پیٹی سہارنا زرمینہ کا مقدر ہو گئی۔ آخر کار اس رشتے سے چھٹکارہ ہی اس کی نجات بن سکا۔ لیکن اب شاید وہ خود سے زندگی بسر کرنے کا حوصلہ جو اسے شادی کے بنا دیا جانا ممکن تھا وہ اب کبھی اپنے اندر پیدا نہ کر سکے گی۔

مریم ایک دلکش سراپے کی پڑھی لکھی لڑکی ہے۔ بظاہر تو اسے قبول نہ کرنے کی کوئی وجہ بنتی ہی نہیں۔ جسامت بھی سڈول، بینائی بھی سو فیصد درست، منہ میں پورے دانت، قد کاٹھ متناسب، دراز اور گھنی زلفیں، رنگ ٹھیک ٹھاک دودھیا اور چمکدار۔ وہ اپنے ماں باپ کی آخری اولاد ہے۔ پہلے لڑکی والوں کی ترجیح اعلیٰ تعلیم یافتہ دفتری ملازمت کا حامل امیدوار تھا۔ لیکن جونہی مریم کی عمر26,27 کی حد کو چھونے لگی شرائط میں نرمی برتی جانے لگی۔ پھر جب وہ 30کے پیٹے میں پڑی تو کسی ایف۔ اے، بی۔ اے کاروباری کی گنجائش نکال لی گئی۔ رفتہ رفتہ گنجائش تو ایف۔ اے پاس سے میٹرک فیل کی بھی نکل آئی۔ لیکن رشتہ ہونے کی گنجائش پھر بھی نکل نہ سکی۔ اس رکاوٹ کا بنیادی سبب اس کے کُل نو بہن بھائی تھے۔ جن کی بھیڑ میں گم ہو کر اسکی قابلیت و اہمیت ماند پڑ چکی تھی۔ ہر آنے والی پارٹی یہ کہہ کر ٹھکرا جاتی کہ “لڑکی تو بہت خوبصورت اور سلجھی ہوئی ہے لیکن کیا کریں ہمارے لڑکے کی اتنی پسلی نہیں کہ اتنے ڈھیر سے سالے سالیوں سے تمام عمر لین دین نپٹاتا رہے۔
یہ اور ایسی انگنت کہانیاں ہیں۔ جو ذرا سی تگ و دو کے بعد آپ کو اپنے اردگرد ہی مل جائیں گی۔ گو کہ وقت کے ساتھ ساتھ لڑکی والوں کی مانگیں بھی بڑھنے لگی ہیں۔ لیکن اکثریت ایسی ہی عاجز، شریف اور سیدھے سادھے لوگوں کی ہے جو اپنی بچیوں کے رشتوں کی طلب میں اپنی انا، خودداری، عزت نفس تک کو داؤ پر لگا دینے کو تیار رہتے ہیں۔
یونیسیف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد لڑکیاں جن کی عمریں بیس سے پینتیس سال تک کی ہیں شادیوں کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔ ان میں سے دس لاکھ کے قریب لڑکیوں کی شادی کی عمر گزر چکی ہے۔ تنہا رہنے والی بیوائیں جن کی عمریں 30 سے 45 سال کی ہیں تقریباً 60 لاکھ تک کی تعداد میں موجود ہیں۔ مطلب یہ کہ یہ وہ بیوائیں ہیں جن کی دوسری شادی ممکن ہے لیکن ہمارے معاشرے میں شادی کے لئے لڑکیوں کے انتخاب کا طریقہء کار کچھ اس قدر غیر انسانی اور غیر مہذب ہو چکا ہے کہ بیوائیں تو کیا تیس سال کی کنواری لڑکی بھی اس زمرے میں نہیں آتی۔ کل بیواؤں کی تعداد تقریباً چار ملین یا سات کروڑ ہے جن کی کفالت کے لئے ملک میں کوئی سرکاری و غیر سرکاری مضبوط و مربوط نظام موجود نہیں۔
رشتوں میں تاخیر کی بڑی وجہ رشتے کے انتخاب کی حد سے ذیادہ بڑھتی مانگیں بھی ہیں اور اور وہ مفاد پرستی و مادہ پرستی بھی جس کے آگے اب شرافت، انسانیت، ادب آداب اور تہذیب جیسے خصائص بے وقعت ہو چکے ہیں۔ اس مسئلے کا سبب معاشی و سماجی ناہمواریاں بھی ہیں اور لڑکیوں کا تعلیم کی طرف بڑھتا رحجان بھی۔ لڑکی کے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ تعلیم میں اس کے ہم پلہ رشتہ دستیاب ہو سکے اور دوسری طرف لڑکے کے گھر والے بھی ذیادہ تعلیم یافتہ لڑکی کے انتخاب میں حیل و حجت سے کام لیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں ذیادہ پڑھ لکھ جانے والی لڑکیاں عموماً بد دماغ اور بد مزاج ہو جاتی ہیں۔


 اگر ایک پڑھی لکھی، ملازمت پیشہ خاتون اپنوں کی ستم ظریفیوں کو نہ سہارتے ہوئے اکیلے زندگی بسر کرنے لگے تو پھر تو گویا یہ ہمارا فرض بن چکتا ہے کہ ہم اس کا جینا اجیرن کر ڈالیں۔

 ہمارے معاشرے میں ایک تنہا عورت کا کردار ہمیشہ مشکوک ہی سمجھا جاتا ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اسے تنہا کرنے والے بھی ہم ہی لوگ ہیں اورہمارے معاشرے کا غلاظتوں بھرا رویہ اور سوچ ہے۔


رشتے بروقت طے نہ پانے کے بعض اسباب تو ایسے مضحکہ خیز بھی ہیں کہ انہیں جان کر ہنسی بھی آتی ہے اور اپنے بیٹے کو راجہ اندر سمجھنے والوں کی گھٹیا سوچ پر ماتم کرنے کو بھی جی چاہتا ہے۔ مثلاً لڑکی والوں کا گھر کرائے پر ہونا، یا ان کی طرف سے لڑکے کے گھر والوں کو خاطر خواہ پروٹوکول نہ دیا جانا، ان کا گھر یا گھر کو جانے والی گلی کا تنگ و تاریک ہونا۔ اکثر تو یہ بھی کہتے پائے جاتے ہیں کہ جس سڑک سے گزر کر لڑکی کے گھر کو جایا جاتا ہے اس سڑک کے کنارے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پائے جاتے ہیں یا شہر بھر کی غلاظتوں سے لتھڑا نالے کا ادھر سے گزر ہے۔ یہ اور ایسی لاتعداد وجوہات ہیں کہ جن کی بناء پر ہی ہمارے ہر پانچویں گھر میں لڑکیاں اور لڑکے شادی کے منتظر ہیں۔ اور اسی انتظار میں ان کی عمر ڈھل رہی ہے۔
تنہا رہنے والی غیر شادی شدہ لڑکیوں یا بیواؤں کی زندگی جس کرب اور تکلیف میں گزرتی ہے اس کا اندازہ بھی کرنا مشکل ہے۔ بیوا ہو جانے پر تو اکثر خواتین کو سسرال والے جائیداد میں حصہ نہ دیتے ہوئے انہیں گھر سے ہی بے دخل کر دیتے ہیں۔ وہ اس بات کی انہیں زرا برابر بھی پروا نہیں ہوتی کہ ایک تنہا عورت اپنے بچوں کے ساتھ کس طور گزر بسر کا بندوبست کر پائے گی۔ یہ ایک نہایت تکلیف دہ پہلو ہے۔ ان کی تکالیف کو بڑھاوا اس وقت ملتا ہے جب یہ معاشرہ انہیں اچھوت کا درجہ دے دیتا ہے۔ ۔
الغرض ایک بیٹی کا ماں باپ ہونا ایسا جرم عظیم بن چکا ہے جس کا مداوا نا ممکن ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب ایک ہی گھرانے کے افراد لڑکی کے لئے لڑکا دیکھنے نکلتے ہیں تو ان کی نفسیات کچھ اور ہوتی ہے اور جب اپنے بیٹے کا رشتہ تلاش کرتے ہیں تو یہ نفسیات یکسر بدل جاتی ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک ایسے دوغلے پن کا شکار ہے جس میں شاید ہم سب ہی شامل ہیں۔ بیٹی سے ملازمت کروانا اسے معاشی مسائل سے نکلنے میں مدد کے مصداق سمجھا جاتا ہے۔ اور اکثر گھرانوں میں اسے ملازمت کی اجازت اس کے خواب پورے کرنے کے لئے بھی دی جاتی ہے لیکن جب اپنے بیٹے کے لئے لڑکی ڈھونڈی جاتی ہے تو ملازمت پیشہ لڑکیوں کے چال چلن پر بھروسہ نہ کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا جاتا ہے۔ لڑکا اگر رنڈوا بھی ہے، دو چار بچوں کا باپ بھی ہے تو بھی رشتہ کنواری اور کم عمر لڑکی کا ڈھونڈا جاتا ہے۔ یہاں تو ایسی ایسی بھی مثالیں ہیں کہ ستر سال کے آدمی کو اپنا بڑھاپا سنبھالنے یا پھر سنوارنے کے لئے تیس یا پینتیس سال ہی کی دوشیزہ چاہئے۔
کبھی محسوس کریں وہ درد جو بن بیاہی، عمر رسیدہ ہو جانے والی لڑکیوں کے والدین کے کلیجے میں اٹھتا ہو گا۔ شرم آنی چاہئے ایسے رزیل معاشرے کو جس کے بوڑھے اس قدر بے بس اور ناتواں بنا دئے گئے ہیں، جو راتوں میں اپنی آنکھوں کی بجھی بجھی سی لو اور اس کی گیلی کچھاروں کی اوٹ سے اپنی بیٹیوں کے بے تمنا، بے آرزو، بے بس جسموں پر نگاہ ڈالتے اور وقت نزاع کے لگ بھگ حلق سے نکلنے جیسی ہوک اپنے اندر کھینچتے ہیں۔ کیسی حسرت اور بے بسی کا درد پینا اور سہنا پڑتا ہے انہیں جب موت کی بھی تمنا اس ڈر سے نہیں کرتے کہ ان کے بعد ان کے آنگن میں پڑے گوشت پوست کے ان لوتھڑوں کو زمانے بھر کے بھوکے کرگس نوچ کھائیں گے۔ اور وہ ماں باپ جن کے آنگن میں ابھی ایک چھوڑ دو، دو، چار چار بن بیاہی بیٹیاں بیٹھی ہیں۔ وہ کس طور اپنے اس دکھ کو سہار پاتے ہیں۔ اس کا تو ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔
اس سے بھی تکلیف کی بات یہ ہے کہ ہم نے بن بیاہی لڑکیوں کا جینا اس قدر مشکل کر رکھا ہے کہ وہ محض زندہ لاشیں ہی رہ جاتی ہیں۔ ایک طرف تو اپنوں کے طعنے ہی ان کی برداشت سے باہر ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان پر ترس کھانے والے لوگ انہیں لمحہ لمحہ ان کی محرومی کا احساس دلائے رکھتے ہیں۔ ایسے جیسے وہ خود ہی اپنی تقدیر کے لیکھے کی زمے دار ہیں۔
اور اگر ایک پڑھی لکھی، ملازمت پیشہ خاتون اپنوں کی ستم ظریفیوں کو نہ سہارتے ہوئے اکیلے زندگی بسر کرنے لگے تو پھر تو گویا یہ ہمارا فرض بن چکتا ہے کہ ہم اس کا جینا اجیرن کر ڈالیں۔ اگر یہ کہا جائے تو کوئی بے جا نہ ہو گا کہ ہمارے معاشرے میں ایک تنہا عورت کا کردار ہمیشہ مشکوک ہی سمجھا جاتا ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اسے تنہا کرنے والے بھی ہم ہی لوگ ہیں اورہمارے معاشرے کا غلاظتوں بھرا رویہ اور سوچ ہے۔ ہم وقت بے وقت اس کے دروازے پر بنا ضرورت کے دستک دے کر، اس کے گھر کی دیوار سے ٹیک لگا کر گندے گندے فقرات اچھال کر، بیہودہ گانے گا کر، اس کا رستہ روک کر۔ اور اس سے متعلق فرضی بیہودہ کہانیاں جوڑ کر، اسے ہراساں کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے بہت عالم فاضل لوگ خصوصاً علماءحضرات کچھ عرصے سے ایک مہم چلا رہے ہیں کہ” مرد کو دوسری شادی کرنا چاہئے” یہاں تک بھی کہا گیا کہ جو مرد نہ کرے وہ گناہ گار ہو گا۔ یہ غالباً سعودیہ کے امام کے بیان کے بعد کہا جانے لگا۔ لیکن کیا ہمارے ملک کے حضرات دوسری شادی کسی غریب، بیوہ، ادھیڑ عمر، بدصورت یا اپاہج عورت سے کرنا پسند کرتے ہیں؟ نہیں یہاں تو ستر سال کے بوڑھے کو بھی کم عمر دوشیزہ چاہئے۔ پھر آپ دوسری شادی کو کیا نام دیں گے۔ ۔ ؟ شادی یا عیاشی؟۔ ۔ ۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: