کون کس کے خلاف سازش کررہا ہے؟ سلمان عابد

0

حکومت او روزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے جو مقدمہ پانامہ اور جے آئی ٹی کی تفتیش کے تناظر میں اختیار کیا جارہا ہے اس کا بنیادی نقطہ داخلی اور خارجی سازشی تھیوری ہے۔ اول یہ تاثر مضبوط انداز میں دیا جارہا ہے کہ اصل میں پانامہ مقدمہ کرپشن، بدعنوانی یا بے ضابطگیو ں کا نہیں بلکہ ماضی کی سیاسی تاریخ کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے کھیل کا حصہ ہے۔ دوئم جے آئی ٹی پر جو تنقید کی جارہی ہے اس کا اصل ٹارگٹ عدلیہ اور ججز ہیں، کیونکہ ان کے بقول اس بار اسٹیبلشمنٹ خود براہ راست فریق بننے کی بجائے ’’ عدلیہ کو بطور ہتھیار‘‘ استعمال کررہی ہے۔ سوئم یہ سارا کھیل حکومت کے مخالفین بالخصوص عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کٹھ پتلی کا کھیل ہے جس کا مقصد سیاسی او رجمہوری نظام کی بساط کو لپیٹ کر اپنی مرضی کا سیاسی دربار یا نظام سجانا ہے۔ چہارم اب یہ منطق بھی دی جارہی ہے کہ اس کھیل میں عالمی اسٹیبلشمنٹ بھی ہماری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شریک کار ہے او راس میں سی پیک، نظریہ پاکستان اور قومی سلامتی اور سیکورٹی کے خلاف سازش کو بھی موضوع بحث بنایا جارہا ہے۔ پنجم اس وقت احتساب نہیں بلکہ ایک خاندان کو ٹارگٹ کرکے دیوار سے لگانا مقصود ہے۔
اس سازشی مقدمہ کو بنا کر وزیر اعظم نواز شریف او ران کے ساتھی سیاسی طور پر پانامہ کے مقدمہ کو قانونی جنگ سے نکال کر سیاسی مقدمہ میں الجھا کر متنازعہ یا سیاس شہید بننے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب پانامہ کے معاملے میں ساری توجہ اسی سیاسی سکورنگ سے جڑی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم کا خیال ہے کہ یہ ہی عمل ان کو سیاسی طور پر زندہ رکھ سکتا ہے۔ اگر فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف آتا ہے تو کہا جائے گا ہم تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ سب کچھ ہمارے خلاف سازش ہے۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی جماعت ایک بند گلی میں داخل ہوچکی ہے۔ یہ جو لب ولہجہ ہمیں وزیر اعظم، ان کے خاندان کے افراد اور حکومت میں شامل بعض وزرا اور ارکان اسمبلی کا نظر آرہا ہے اس میں تلخی بھی ہے اور تناو بھی، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کون وزیر اعظم او ران کی حکومت کے خلاف سازش کررہا ہے۔ اگرچہ وہ براہ راست اس کا نام نہیں لیتے، لیکن ان کا اصل اشارہ فوج اور عدلیہ پر ہے او ران کے بقول عمران خان اس کھیل کا ان بڑے کرداروں کا مہرہ ہے۔ بنیادی طو رپر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وزیر اعظم کے خلاف کوئی سازش نہیں ہورہی بلکہ وہ خود اپنی سیاسی، انتظامی اور مالی حکمت عملیوں کی وجہ سے مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ وزیر اعظم کے فیصلہ ساز مشیروں نے ان کو واقعی خوش فہمی میںزیادہ رکھا اور جو سیاسی حقایق تھے ان سے پوری طرح آگاہ نہیں کیا کہ چیزیں کیسے تبدیل ہورہی ہیں۔ جے آئی ٹی کو جس انداز سے حکومت نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اس سے خود عدلیہ اور جے آئی ٹی کوبھی اپنا مخالف بنا لیا گیا ہے۔ لوگوں میں بھی یہ تاثر عام ہوا ہے کہ کیونکہ حکومت مشکل میں ہے اس لیے مسئلہ کو سیاسی رنگ بھی دیا جارہا ہے۔ یہ بات بھی لوگوں میں موجود ہے کہ نواز شریف او ران کے خاندان کے لوگوں نے جو دستاویزات اور شواہد جے آئی ٹی یا عدالت کو اپنی صفائی میں دینے تھے، پیش نہیں کرسکے۔
اصل میں نواز شریف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے کھیل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود بھی کئی بار اسی ۔ کی مدد سے پاکستان کی سیاست او راقتدار کے کھیل کا حصہ رہے ہیں۔ ماضی میں ان کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات میں تلخی کا پہلو بھی سب کو معلوم ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ وہ آتے تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سازباز کرکے، لیکن پھر اسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سرگرم بھی ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس بار وہ اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ خود اپنی سیاسی چالوں سے سازش کا شکار ہورہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مسئلہ ان کے احتساب کا ہے، لیکن اس کو جمہوریت کے خلاف سازش بنا کر پیش کرنا بھی خود سازش کا حصہ ہے۔ ان کی بیٹی مریم نواز کے بقول نواز شریف کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ عوام سے وہ سارا سچ بولیں جو ان کے سینے میں ہے، یقینی طور پر نواز شریف کو بولنا چاہیے، لیکن وہ آدھا سچ ہوگا، کیونکہ آدھا سچ اور دیگر فریقین کے پاس بھی موجود ہے کہ نواز شریف کس طرح سے قومی مفادات کو ذاتی مفادات میں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ وہ کوشش کررہے ہیں کہ عوام کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ سازشی کھیل میں پھنس چکے ہیں، لیکن عوام ان سے کہنا چاہتی ہے کہ اگر وہ اس سازش سے بچنا چاہتے ہیں تو جو شواہد اور دستاویزات عدالت کو پانامہ کے مقدمہ میں شریف خاندان سے درکار ہیں وہ دے کر وہ اپنی شفافیت بھی ثابت کرسکتے ہیں اور اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بھی بنا سکتے ہیں۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: