باہمی احترام : حمزہ صدیق

0

باہمی ہمدردی ، احساس اور احترام کا جزبہ تو انسان کی فطرت میں موجود ہی ہے لیکن ضروریات زندگی پورا کرنے میں بھی ایک دوسرے پہ انحصار بھی اجتماعی زندگی کی تشکیل کی بنیاد فراہم کرتا ہے ۔تاریخ کے مختلف ادوار میں علاقای اور مذہبی راوایات اس اجتماعی زندگی کی مختلف صورتوں پہ اثر انداز ہوتے رہے ہیں جس کی ایک شکل خاندان ہے جس میں میاں بیوی اپنے بچوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے دنیا کے مختلف حصوں میں اس کا ڈھانچہ انھی بنیادوں پہ استوار ہونے کی وجہ سے مختلف ہے جیسے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یورپی معاشروں میں سنگل پیرنٹ فیملی کا کانسپٹ بھی وجود میں آیا بالکل اسی طرح پاکستان میں بھی یہ تبدیلی کے مختلف مراحل سے گزر رہا ہے یہاں معاشرہ جواینٹ فیملیز اور extended فیملیز (جس میں چچا ، خالہ ، ماموں ، پھوپھو وغیرہ کے خاندان بھی شامل ہیں) سے تشکیل پاتا ہے۔ اس طرح انسان کے لیے سب سے اہم بات coexistence کو سیکھنا ہے کہ اکٹھے رہتے ہوئے معاملات اور معمولات زندگی کو کس طرح بحسن خوبی چلانا ہے .آپس میں ہونے والے اختلافات اور اٹھنے والے مسائل کو کیسے حل کرنا ہے ۔ آپس مٰیں friction بعض اوقات نیچرل ہے لیکن اہم بات تو یہ ہے کہ اسے address کیسے کیا جائے ۔ کیا اس مسئلے کو اچھے طریقے سے ختم کیا جائے یا اس سے مزید مسائل کو جنم دیا جائے معاشرت اور آپس کے تعلقات جن سے سب کا واسطہ ہے اس میں در آنے والی خرابیوں سے انکار کسے ہے۔ہم اپنے مشرقی خاندانی نظام پہ فخر تو کرتے ہیں لیکن اس بات سے کسے انکار ہے کہ شریکا، فیملی پالیٹیکس، اور کھینچا تانی بھی یہیں مشرق میں زیادہ ہے اور مغربی معاشروں میں ان کا وجود بہت حد تک نا ہونے کے برابر ہے۔ ایک دوسروں سے ملنا بھی اور دلوں میں بغض بھی ، چچا، تایا، پھوپھو، خالہ ماموں جیسے پیار بھرے رشتوں میں دلوں میں زہر رکھنا اور ایک فیملی میں دوسری فیملی کی برائیوں کو ڈسکس کرنا ایک محبوب مشغلہ ہے ۔کسی خوشی یا غمی کے موقع پہ بھی کسی دوسرے کی کوتاہی یا کمی کو ہاتھ سے نہ جانے دینا ،ہر موقع پہ تشبیہ ، استعاروں ، اشاروں ،کنایوں اور لہجوں سے دوسروں کو ذلیل کرنے کی مذموم کوشش کرنا ۔۔اور اسی تناظر میں لفظ پھوپھو کو جس طرح سے گالی کے مصداق بنا دیا گیا ہے، ہم سب اس سے بخوبی واقف ہیں۔ اس کی مختلف وجوہات ہیں جن میں ایک دوسرے سے حسد، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش بلکہ دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنا بھی ہے ایک دوسرے کی عیب جوئی کا اثر پھر یوں ہوتا کہ رفتہ رفتہ رگوں میں گھولا جانے والا زہر رشتوں کا قاتل بن جاتا اور رشتہ داریاں بھی باقی نہیں رہتی اس سے اگلی بات تو یہ ہے کہ جن فیمیلز میں یہ عادات و اطوار اپنے زوروں پہ ہوتے وہاں ان کا اثر اور انجام یہیں تک نہیں رہتا بلکہ رشتہ داروں کے خلاف باتیں بچوں میں سوچ کے زاویے تشکیل دیتے ہیں اور ان کے اپنے بچے اگلی نسل میں آپس میں ۔۔ویسے ہی رویوں کے ساتھ رہتے ہیں اور پھر وہی والدین اپنی اولاد کے اختلافات دیکھ کے دکھی ہو رہے ہوتے ہیں ۔۔حالانکہ وہ وہی کاٹ رہے ہوتے ہیں جو انھوں نے بویا تھا۔ ہمارے اس معاشرے میں کسی کے لیے معافی اگر ہے تو وہ اس کی موت کے بعد کہ ہم نے اسے معاف کیا جسے زندگی بھر معاف نہیں کیا

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: