اردو رسم الخط کے مسائل اور رومن اردو: یگانہ نجمی

0
  • 66
    Shares

زبان رابطے کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو اپنے احساسات وافکار کو دوسروں تک پہنچانے میں. بہترین اور موثر طریقہ کار ثابت ہوتاہے۔ دنیا میں مختلف زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔  ہر زبان اپنے ملک کی ثقافت و روایت کا اظہارہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ

”انسان اپنی زبان کے پیچھےچھپا ہوا ہے،،۔

اردو زبان کا دائرہء کار اگرچہ بہت زیادہ وسیع نہیں تاہم یہ زبان اب اس لحاظ سے ان تمام ممالک میں پہنچ گئی ہے۔  جہاں اردو بولنے والے مقیم ہیں۔اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ جب سے سوشل میڈیا عام ہوا تویہ اور بھی زیادہ سمجھی اور جانی جانے لگی۔ 

مگر اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا جسے ہم غلط بھی کہہ سکتے ہیں اور درست بھی کہ اگر چہ اردوپڑھی اور لکھی تو جانےلگی۔  مگر اسے جس انداز سے لکھا جانے لگا وہ رومن طرزتحریر ہے۔  اس طرز تحریر نے اردو کے اصل الفاظ کو جس طرح توڑ مروڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ اس لحاظ سے قابل فکر ہے کہ رفتہ رفتہ اس کے درست املاء اور تحریرکے انداز کو لوگ بھول جائیں گے۔ جو کہ کسی بھی زبان کےاس کی اصل شکل میں زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے۔ 

رومن طرز تحریر یعنی اس رسم الخط کا آغاز فورٹ ولیم کالج کے زمانے سے ہوا۔ جب گلگرائسٹ نے اس بات کو محسوس کیا کہ ہندوستان کے لوگوں کے ساتھ ان کی اپنی زبان میں رابطہ کیا جاناضروری ہے ۔ جس کے لئے انھوں نے اس رسم الخط کا استعمال کیا۔ اس کے لیے انھوں نے ایک انگریزی ہندوستانی لغت بنائی۔  جو سات سو اکیس صفحات پر مشتمل متن کے علاوہ چونسٹھ صفحات پرمنبی ہندوستانی زبان وقواعد پر ایک جامع مقدمہ بھی تھا۔  اس لغت کا قابل ذکر پہلو یہ ہےکہ اس میں انگریزی الفاظ کے معنی اردو رسم الخط کےبجائے رومن رسم الخط میں لکھےگئے تھے. اس لغت میں اردو اور ہندی الفاظ اور اشعار بھی رومن میں تحریر کیے گئے۔

      ۔ترک کرنا۔ To desert مثلاََ۔                                                                                                                                                             
چھوڑنا تحریرکیے گئے۔         (Turk – karna) 
اردو اشعارمیں سودا کے یہ اشعاربھی رومن اوراردو رسم الخط میں تحریرکئے۔ 
Ab samny mery jo koi peer o jawan hay 
Dawa nah kry yeh kha mery mun men zban hay 
Mein hzraty soda ko suna bolty yaroo

Allah hi allah kah kia nazm o bayin hay.

اگرچہ انھوں نےاس رسم الخط کا آغاز کیا پر بہت جلدہی اردو زبان پر ایسی دسترس حاصل کر لی۔کہ فورٹ ولیم کالج کے ماتحت اردو کےاملاو رسم الخط کو مرتب کیا گیا۔ اور اس حد تک خیال رکھا گیا۔کہ ان کے مرتب کردہ ادبی نسخوں کواملاءکی درستگی اور رسم الخط کی وجہ سے مولوی عبدالحق جیسے بڑےمحقق نے اپنی تحقیق کے لئے ان نسخوں کو ترجیح دی۔ 

لیکن اس وقت جو رسم الخط رواج پارہا ہے وہ رومن رسم الخط ہے۔  جو اس وقت سوشل میڈیا پرایک مقبول عام طرز تحریر ہے۔ مگر اس وقت رومن رسم الخط میں لکھا جانے کو درست نہیں سمجھا جا رہا۔ اس کی وجہ اردو رسم الخط کو لاحق خطرات ہیں یعنی اہل زبان کا کہنا ہے کہ جس زبان کا رسم الخط نہ رہے وہ ختم ہوجاتی ہے۔  نیز اس کا ادب بھی زندہ نہیں رہ پاتا۔

جب کہ کہا یہ جارہا ہے کہ یہ اس وقت کی ضرورت ہے کہ رومن اردو رسم الخط رائج کیا جائے۔ کیونکہ ھماری نئی نسل اردو زبان سے نا بلد ہے۔اور چونکہ انگریزی زبان ان کے لئے اعزاز ہے۔ چنانچہ وہ اردو کو بھی صرف اس صورت میں قبول کرسکتے ہیں کہ اس کو انگریزی رسم الخط میں لکھا جائے۔  لیکن اگر اس بات کو درست مان بھی لیا جائے۔ تو پھرتو سارا اردو ادب بھی رومن زبان میں منتقل کرنا پڑے گا. کیایا یہ ممکن ہوگا؟ کچھ عرصہ بعد ادب تخلیق کرنے والوں کو بھی بجائے اردو کے رومن رسم الخط کا سہارا لینا پڑے گا۔

اس وقت اگر عالمی سطح پر دیکھیں تو سوائے اردو کے کوئی زبان اس طرح کےمتعصبانہ رویےکا شکار نہیں۔ جسے اپنے ہی لوگوں کا تعصب مارے دے رہا ہے۔ جب کہ یہ اس صورت میں ہو رہا ہے کہ جب اس کے ادب کا ایک خزانہ موجود ہے۔ جس میں دن بہ دن اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

ماؤزےتنگ نے کہا تھاکہ “ہماری زبان یتیم نہیں”پر افسوس کہ ہماری زبان یتیمی کا شکار ہے۔

زبان شناخت کا زریعہ سمجھی جاتی ہے ۔ جس سے آپ کی ثقافت اور تاریخ جڑی ہوتی ہے۔ کیا یہ سب چیزیں فنا ہوجائیں گی۔ اگر تاریخ کے حوالے فنا ہوگئے تو کیا ہماری شناخت باقی رہ پائے گی؟

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: