داستان گو — قسط نمبر 8 — ادریس آزاد

0
  • 96
    Shares

دانش اور ایلس، سیّارہ پائرہ پہنچے تو پائرہ کا سُورج ’’سوفیال‘‘غروب ہورہاتھا۔ سوفیال خود سُورج نہیں تھا بلکہ ایک بے آبادسیارہ تھا۔ پائرہ اِسی سیّارے کا ایک چاند تھا۔ پائرہ بچوں کا سیّارہ تھا۔ سڈرہ کمیونٹی میں پائرہ جیسے اور بھی سیّارے تھے۔ایسے تمام سیّاروں پر صرف وہ لوگ آباد تھے جو یا تو خود بچوں والے تھے یا کسی نہ کسی طرح بچوں کی تربیت کے فرائض سے وابستہ تھے۔ دانش اور ایلس یہاں اپنی بیٹی سے ملنے آئے تھے۔ دودن پہلے تک دونوں میاں بیوی کے ذہن میں کبھی کسی بیٹی کے وجود کا تصور تک نہیں رہاتھا۔ اِس بچی کی خبر تو اُن پر اُفتاد بن کر ٹوٹی تھی۔ واقعہ یوں تھا کہ ’’پروجیکٹ اینڈرومیڈا‘‘ کی ٹیم کے چھ ارکان کو جوڑا جوڑا بنا کر بھیجنے کا منصوبہ ناسا کے ماہرین کی تجویز تھی۔ ساتویں رکن پروفیسر ولسن تھے جو بزرگ تھے۔ دانش اور ایلس کی جوڑی قابلِ رشک تھی۔ یہ لوگ مِشن کی روانگی سے بہت پہلے بیاہ دیے گئے تھے۔ تینوں جوڑوں کو سخت ہدایات تھیں کہ وہ لوگ ساتھ رہتے ہوئے پوری احتیاط سے کام لیں اور کسی قیمت پرحمل نہ ہونے دیں۔ ٹیم کے ہررکن کو ہرمہینے باقاعدگی کے ساتھ خون کے کئی ٹیسٹس کروانے پڑتے تھے۔ دانش اور ایلس سے بے احتیاطی ہوگئی تھی اور ایک ٹیسٹ میں ایلس کے حمل کا رزلٹ پازیٹو آگیا۔ ڈاکٹر اوبرے نے دانش اور ایلس کو حکم دیا کہ فوراً سے پہلے ابارشن کروائیں۔ ابارشن کرواتے کرواتے چند دن اور گزر گئے اور جب ابارشن مکمل ہوا تو گائناکالوجسٹ نے ایلس کو بتایا کہ اس کے پیٹ میں چالیس دن کا بچہ تھا۔
ایلس کو اُس دن شدید صدمہ ہوا تھا۔ لیکن ’’پروجیکٹ اینڈرومیڈا‘‘ اور عظیم تر انسانی مِشن کے تصورات نے جلد ہی اس کا زخم مندمل کردیا تھا۔ جلد ہی ایلس اپنا ابارشن بھول گئی۔ دانش کو تو یہ سارا واقعہ پہلے ہی بے حد معمولی سا لگتا تھا۔ لیکن یہاں جب نائتلون نے انہیں بتایا کہ ان کی ایک بیٹی ہے جو سیّارہ پائرہ پر مقیم ہے تو ان کی حالت دیکھنے والی تھی۔اور اب دونوں کو احساس ہورہا تھا کہ پیٹ میں چالیس دن کا نامکمل بچہ بھی سڈرہ کمیونٹی کے بَڑوں کی نظر میں ایک مکمل انسان تھا۔اُن دونوں نے ایک مکمل انسان کا قتل کیا تھا۔ یہی بات سوچ سوچ کر دونوں میاں بیوی کے رنگ فق تھے۔ وہ ڈر گئے تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ چونکہ انہوں نے قتل جیسے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس لیے ان کا پرسنٹیج ضرور ساٹھ سے کم ہوگا اور ولسما کا خودکار نظام اُنہیں اُٹھا کر جحمان کے سیّاروں میں پھینک دےگا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ راستے بھر بحث کرتے آئے تھے۔ ایلس کا مؤقف تھا کہ انہیں بھی انیتا کے ساتھ واپس اکیسویں صدی میں لوٹ جانا چاہیے جبکہ دانش کی خواہش تھی کہ واپس جانے کی بجائے یہاں رہ کر اپنا پرسنٹیج درست کیا جائے۔ وہ اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات اُٹھانے کے لیے تیار تھا۔ دونوں آخر تک کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکے، یہاں تک کہ سفر تمام ہوا اور وہ سیّارہ پائرہ پہنچ گئے۔
غروب ہوتے ہوئے سوفیال نے حیرت انگیز طورپر گُلابی رنگ اختیارکرلیاتھا۔ سوفیال کی گلابی روشنی پورے پائرہ سیّارے پر چھاگئی۔ ہرشئے میں گلابی عکس درآیا۔ دانش اور ایلس پر تو جیسے کسی نے جادُو کردیا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایک ایک چیز کو دیکھ رہے تھے۔ پائرہ ایک نہایت حسین سیّارہ تھا۔ سیّارے پر بڑے سلیقے سے شجرکاری کی گئی تھی۔ گھنے پھلدار درخت بطورِ خاص بچوں کے کھیلنے کے لیے اُگائے گئے تھے۔ بچے درختوں پر چڑھ جاتے، شاخوں سے جھولتے، پھل توڑتے، پرندوں کو پکڑنے کی کوششیں کرتے اور خوب دن بھر اٹکھیلیاں کرتے۔ پیڑوں کے سایوں میں شفاف پانی کی ندیاں پورے سیّارے پر کسی جال کی طرح بچھی ہوئی تھی۔ بچے ندیوں میں نہاتے، ایک دوسرے پر پانی اُچھالتے، چیختے، چلاتے، ہنستے، شور مچاتے اور خوب اُچھلتے کودتے۔ ندیوں کے پانی اتنے شفاف تھے کہ تہہ میں پڑے رنگدار پتھر اور نگینے صاف نظر آتے تھے۔ اول تو اِن ندیوں کے پانی اتنے گہرے نہ ہوتے اور اگر کہیں کہیں سے ندی گہری ہوتی تو پائرہ کی طرف سے خوب حفاظتی انتظامات بھی موجود ہوتے۔ اس پر مستزاد جگہ جگہ خدمات انجام دیتے پارمش اور مقسور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تھے جو پورے سیّارے پر خودکار طریقے سے ہرطرح کی خدمات انجام دیتے۔
دانش اور ایلس شیشے کی بڑی عمارت سے باہر آئے تو ایک پارمش لڑکی اُن کے انتظار میں موجود تھی۔ دانش پر نظر پڑتے ہی پارمش لڑکی کے چہرے پر حیرت کے آثار دکھائی دیے۔ یہ پائرہ سیّارے پر اُن کی رہبر(گائیڈ)تھی۔ ایلس نے لڑکی سے گلے ملتے ہوئے اس کا نام پوچھا،
’’شفلا‘‘
پارمش لڑکی نے اپنی نظریں بدستور دانش پر ٹِکائے، عجیب و غریب نام بتایا۔ لیکن دانش اور ایلس خاموش رہے۔ایلس اپنی بچی سے ملنے کے لیے بے تاب تھی۔ اس نے شفلا سے دوسرا سوال ہی اپنی بیٹی کے بارے میں کیا،
’’ہماری بچی کہاں ہے؟‘‘
شفلا نے ایلس سے الگ ہوتے اور دانش کی طرف مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتےہوئے کہا،
’’آپ کی شکل حیران کن حد تک اپنی بیٹی سے ملتی ہے‘‘
دانش چونکا۔ اُس نے کچھ کہنا چاہا لیکن شفلا دوبارہ بول پڑی،
’’چڑیا! میری بیٹی کے طور پر پرورش پارہی ہے۔ میں مَدرہوں اور پارمش ہوں۔ ابھی تک چڑیا کے علم میں نہیں ہے کہ آپ دونوں اس سے ملنے آرہے ہیں اور نہ ہی وہ آپ لوگوں کے بارے میں کچھ جانتی ہے۔ مجھے مائمل کی براہِ راست ہدایت ہے کہ آپ جیسے چاہیں ویسے کیا جائے۔ آپ چاہیں تو ہم چڑیا کو اب ساری بات بتانے کے لیے تیارہیں۔ آخر کبھی تو اُسے بتانا ہی ہے‘‘
شفلا کی بات سُن کر دونوں میاں بیوی یکلخت خاموش ہوگئے۔وہ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے جیسے اُنہیں کچھ نہ سُوجھ رہاہو کہ اِس موقع پر کیا کہاجائے۔ شفلا منتظر نگاہوں سے دانش اور ایلس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ معاً دانش نے کہا،
’’ہاں ہاں! ہم اپنی بیٹی کو خود سب کچھ بتائیں گے۔ اور خود اُس سے معافی مانگیں گے‘‘
ایلس نے عجیب ڈری ڈری نظروں سے دانش کی جانب دیکھا۔ وہ مسلسل یہی سوچتی رہی تھی کہ آخر وہ اپنی بے گناہ بیٹی کا سامنا کیسے کرے گی۔ معاً ایلس کو ایک خیال آیا اور اس نے شفلا سے پوچھا،
’’شفلا! چڑیا کی عمر کتنی ہے؟‘‘
ایلس کے سوال سے دانش بھی چونک گیا۔ اس نے سوچا، آخر اُن دونوں کو اِس سے پہلے بچی کی عمر جاننے کا خیال کیوں نہ آیا۔ وہ دونوں راستے بھراپنے مستقبل کی تو فکر کرتے آئے تھے لیکن بچی کی باتیں انہوں نے کی ہی نہیں تھیں۔ اب یہاں پائرہ سیّارے پر پہنچ کر اور بچی کی پرورش کرنے والی مَدر سے ملنے کے بعد ایلس کو پہلی بار خیال آیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی عمر تومعلوم کرے۔ شفلا نے ایلس کا سوال سنا تو مُسکراتے ہوئے بتانے لگی،
’’چڑیا، اگلے مہینے کی تیرہ تاریخ کو پورے ’نو‘سال کی ہوجائے گی‘‘
’’نوسال!!!!‘‘
دانش اور ایلس کے منہ سے بیک وقت نکلا۔ایلس تو جیسے بے ہوش ہوتے ہوتے بچی۔ وہ ایک بار تو چکرا کر رہ گئی۔ وہ نوسال کی بچی کی ماں تھی؟ اس کے دماغ میں آندھیاں سی چلنے لگیں۔ یاخدا! یہ کیا ماجراہے۔ نوسال تو ابھی اُن کی شادی کو بھی نہیں ہوئےبلکہ ان کی شادی کو تو پانچ سال بھی نہیں ہوئے۔ لیکن ایلس ایک سائنسدان تھی اور جانتی تھی کہ ایسا ہوسکتاہے۔ وہ جانتی تھی کہ وہ لوگ ٹائم ڈائیلیشن کا شکار ہوئے ہیں۔ جلد ہی ایلس نے اپنی حیرت پر قابو پالیا اور کہنے لگی،
’’ہمیں لے چلیے نا! چڑیا کے پاس۔ ہائے میری بچی نو سال کی ہوگئی اور میں نے اسے دیکھا تک نہیں‘‘
ایلس کے انداز پر شفلا کے ساتھ ساتھ دانش بھی مُسکرا دیا۔ اب شفلا دانش اور ایلس کو لے کر ایک طرف چل دی۔ پائرہ پر بھی عام ٹرانسپورٹیشن کا نظام بڑی نہروں کے ذریعے ترتیب دیاگیاتھا۔ سڈرہ کمیونٹی میں لوگوں کو عجلت کی عادت نہیں تھی۔ دانش اور ایلس نے شروع دن سے نوٹ کیا تھا کہ پارمش، بنادم اور مقسور نسلوں کے شہری ’’صبر‘‘ کی دولت سے مالا مال تھے۔ یہ وہی صبر تھا جس کے زیادہ سے زیادہ حصول کے لیے سڈرہ کمیونٹی کا ہرشہری بے تاب رہتاتھا۔ عیسوی کیلنڈر کے مطابق 3550 کے انسان جس قسم کی توانائی کے حصول کے لیے کوشاں رہتے، وہ یہی ’’صبر‘‘ کی توانائی تھی۔
نہروں میں نہایت حسین اور منقش بجرے مسافرو ں کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف لے جاتے۔ کبھی کبھار کسی وجہ سے کوئی سفر تیزی سے کرنا مقصود ہوتا تو ٹرانسپورٹیشن کے دوسرے کئی طریقے بھی تھے۔ خدمات پر مامور لوگ بھی اُس وقت تک نہری ٹرانسپورٹیشن کو ہی ترجیح دیتے تھے، جب تک کوئی بہت ضروری معاملہ ایسا نہ ہوتا کہ سفر تیزی سے طے کرنا مطلوب ہوتا۔ دانش، ایلس اور شفلا ایک چھوٹے بجرے میں بیٹھ گئے۔ ایلس اور دانش کے دل دھک ھک کررہے تھے۔ وہ اپنی اولاد سے ملنے جارہے تھے۔ ندی کا پانی شیشے کی طرح شفاف تھا اور اس میں رنگین مچھلیاں اور انواع و اقسام کے نہایت حسین جاندار تیرتے پھیررہے تھے۔ ندی کی شفافیت نے دانش کی توجہ کھینچنے کی کوشش کی لیکن اس کے دماغ میں ابھی تک شفلا کے الفاظ گونج رہے تھے کہ
’’چڑیا کی شکل آپ کے ساتھ حیرت کی حد تک ملتی ہے‘‘
اب تو ایلس کی طرح اس کا دماغ بھی اپنی بیٹی کے بارے میں سوچے چلا جارہاتھا۔ چڑیا، ایک ایسی بچی جسے انہوں نے کبھی دیکھا نہیں تھا کیونکہ وہ ماں کے پیٹ کے اندر ہی قتل کردی گئی تھی۔ ایلس کی حالت اورزیادہ خراب تھی۔ و ہ بری طرح ڈری ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ اسے رہ رہ کر یہ خیال آتا تھا کہ ان کی بیٹی سارا واقعہ سن کر اُن سے نفرت کرنے لگے گی۔ دانش کے دل میں بھی ایسے خدشات موجود تھے لیکن اسے یک گونہ اطمینان تھا کہ معاملہ بہرصورت خوش اُسلوبی سے نمٹ جائے گا۔ دانش جب سے یہاں آیا تھا وہ بہت زیادہ پُراُمید ہوگیا تھا۔ ہرگزرنے والے دن کے ساتھ اُسے سڈرہ کمیونٹی بالکل ویسی ہی جنت محسوس ہوتی تھی جیسی دانش کو اپنے مذہب کی طرف سے بتائی گئی تھی۔
بجرے میں سفر کرتے ہوئے اس کی توجہ ایک بار پھر ندی نے اپنی طرف کھینچ لی۔اُسے سچ مچ یہ ایک نیا جہان محسوس ہوتاتھا۔ وہی جنت جس کے بارے میں وہ بچپن سے سنتا آرہاتھا۔ وہ سوچنے لگا۔ ’’سب کچھ تو وہی ہے۔ یہ پرسنٹیج کیا ہے؟ ’لوگوں کے صبروتحمل کا پیمانہ‘ ہے نا۔ یہ تو فقط ٹیمپرامنٹ کا لیول ہے اور کچھ نہیں۔ تو پھر یہ حساب کتاب ہوا نا۔ زیادہ سے زیادہ ’صبروتحمل‘کے حصول کے لیے یہ لوگ اتنی محنت کرتے ہیں۔اور کتنی عجیب بات ہے کہ فقط اپنا ٹیمپرامنٹ لیول بڑھاتے چلے جانے سے اِن کے مرتبے خود بخود بڑھتے چلے جاتے ہیں‘‘ اُسے لگتاتھا کہ یہ لوگ ’ٹیمپرامنٹ‘ کو ایک انرجی تصور کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ’ٹیمپرامنٹ‘ کے حصول کے لیے ویسے ہی تگ و دو کرتے ہیں جیسے ہمارے زمانے کے لوگ ’ انرجی کے حصول کے لیے کرتے تھے‘۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ یہ لوگ صبر کو ’’ٹیمپرامنٹ‘‘ کے معنی میں لیتے ہیں اور ظلم برداشت کرنےکے معنی میں نہیں لیتے۔ دانش اب تک جان چکا تھا کہ سڈرہ کمیونٹی میں سب سے زیادہ صبر یعنی سب سے مضبوط ٹیمپرامنٹ والی ہستی خود مائمل ہی تھی۔ دانش کو ابھی پانچویں ڈائمینشن میں پروموٹ ہوجانے والے اِنسانوں کی بابت علم نہیں تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ سڈرہ کمیونٹی میں صبر کی بنیاد پر قائم ’’طبقاتی نظام‘‘مائمل جیسی ہستیوں پر ختم نہ ہوجاتاتھا۔ ففتھ ڈائمینشن میں چلے جانے والے لوگ زیادہ بلند مرتبوں کے حامل تھے۔ ففتھ ڈائمینشن سے کوئی انسان کبھی واپس نہیں آیاتھا اور نہ ہی آسکتا تھا۔ لیکن پھر بھی سب لوگ وہاں جانے کے لیے بے قرار رہتے۔
ایلس کی سوچوں کا مرکز بدستور اُس کی معصوم بیٹی تھی، جس کانام شفلا نے چڑیا رکھاتھا۔ ایلس کو ’’چڑیا‘‘ نام بہت پیارالگا تھا۔ ایلس مسلسل سوچ رہی تھی کہ اس کی بیٹی اُن سے مل کر کس طرح کے ردِ عمل کا اظہار کرے گی۔ بجرہ نہر کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ بہتا چلاجارہاتھا ۔ ندی میں اور کئی بجرے بھی محوِ سفر تھے۔ نہر کے شفاف پانی پرمنقش بلّوری بجرے تیرتے ہوئے لعل و جواھر سے محسوس ہوتے تھے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بجروں کے مسافروں کو اتارنے یا سوار کروانے کے لیےچھوٹے چھوٹے ٹاپو بنے ہوئے تھےجن کے دودھ جیسے سفید تختوں کے ساتھ ربڑ کے بڑے بڑے رنگین گیند اور مختلف کارٹونوں کے غبارے سے بندھے تھے۔غروب ہوتے ہوئے سُوفیال کی روشنی نہر کے پانی پرکسی شفاف گلابی چادر کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔ آنے والے وقت کے تجسس اور نہر کے دیدہ زیب مناظر میں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا اور وہ لوگ ایک ایسی حسین وادی میں داخل ہوگئے جہاں سے ڈوبتے سورج کا منظر دیدنی تھا۔
لیکن کچھ ہی دیر بعد شفلا نے ایک ٹاپو پر بجرا رُکوا دیا۔ وہ لوگ بجرے سے باہر آئے اور سفید تختوں پر چلتے ہوئے قدرےپتھریلی زمین پر آگئے۔ چلتے چلتے دانش نے شفلا سے سوال کیا،
’’ہم نے زیادہ سے بیس منٹ سفر کیا ہوگا۔ کیا ہم سیّارہ پائرہ پر جہاں اُترے ہیں وہاں سے آپ کا علاقہ اتفاقاً ہی اتنا نزدیک ہے؟‘‘
شفلا نے گردن گھما کر دانش کی جانب دیکھااورکہنے لگی،
’’نہیں، آپ لوگوں نے لینڈ ہی اِسی علاقہ میں کیا ہے۔ سپیس ایلیویٹرز تو پورے سیّارے پر جگہ جگہ ہیں‘‘
شفلا کی بات سے دانش اور ایلس دونوں نے بیک وقت بات سمجھنے کے انداز میں سرہلایا۔ پتھریلی زمین ختم ہوئی تو یہ لوگ ایک بڑے سے باغیچے میں داخل ہوگئے۔ سامنے لکڑی کا ایک نہایت حسین وِلا تھا۔
’’یہ ہے ہمارا گھر‘‘
شفلا نے ولا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ دانش اور ایلس نے دیکھا کہ شفلا کے ولا کے آس پاس کوئی مکان نہیں تھا۔ یوں گویا یہ لوگ جنگل میں رہ رہے ہوں۔ ولا کے چاروں طرف گھنے پھلدار درخت تھے جو شام کے ملگجے اندھیرے کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے روشن ہونے لگے تھے۔ معاً شفلا کی آواز بلند ہوئی،
’’وہ رہی چڑیا‘‘
سامنے ولا کی جانب سے ایک پریوں جیسی لڑکی، جس نے سفید فراک پہن رکھی تھی بھاگتی ہوئی اِن لوگوں کی طرف آرہی تھی۔ چڑیا دور سے ہی شفلا کو پکارتی ہوئی آرہی تھی۔ وہ ابھی قدرے دور تھی اس لیے اس کی آواز صاف سمجھ نہ آرہی تھی لیکن فراک والی ننھی چڑیا کو یوں پھدکتا دیکھ کر ایلس کو کچھ ہونے لگا۔ اس کی شریانوں میں خون تھا کہ کوئی طوفان۔ دانش کی بھی یہی حالت تھی۔ دانش کا دل خوشی اور تجسس سے زور زور سے دھڑک رہاتھا۔ وہ اپنے بچی سے ملنے والے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد انہیں چڑیا کی آواز سمجھ آنے لگی۔ وہ پکار رہی تھی،
’’مدَر! مدَر! آج ’پولائزا پارک‘ میں ایک ’داستان گو‘ آیا تھا۔ اتنا مزہ آیا۔ اس نے آج سے چوبیس سوسال پہلے کے واقعات سنائے‘‘
اب دانش نے بھی دیکھ لیا کہ اس کی بیٹی ہوبہُو اُس کی ہمشکل تھی۔ چڑیا کی نظر بھی دانش اور ایلس پر پڑگئی تھی۔ وہ دانش کو دیکھتےہی ٹھٹھکی اور ’داستان گو‘ کا ذکر وہیں چھوڑ دیا۔ چڑیا کا ماتھا بھی ٹھنک گیا تھا کہ آنے والے مہمان ضرور کوئی خاص لوگ ہیں۔ شفلا، چڑیا کی باتوں کو مسکراتے ہوئے سن رہی تھی۔ قریب پہنچنے پر اس نے چڑیا کو بانہوں میں بھر لیا اور ساتھ ہی کہا،
’’اچھا! واقعی؟ چوبیس سو سال پہلے کے واقعات؟ پھر تو ’داستان گو‘ ضرور سیّارہ زمین کی کہانیاں سناتارہاہوگا۔ بھلا کون سے علاقے کی داستان سنی آج؟‘‘
شفلا کا انداز نارمل سا تھا اس لیے چڑیا فوراً ہنس دی اور اُسی جوش کے ساتھ بتانے لگی،
’’ہاں ! وہ خراسان نامی کسی ملک کا باشندہ تھا۔ مدر! اُس نے ایک بڑی عجیب بات بتائی۔ اس نے بتایا کہ جس شہر میں وہ رہتا تھانا۔ اُس شہر کے لوگوں نے ایک ہماری دنیا جیسی دنیا بنائی ہوئی تھی۔ ہم سب سن کر حیران رہ گئے؟ ہم نے توپڑھاہے کہ ہمارے جیسی دنیا صرف ہماری دنیا ہے۔ ایسا ہے نا مَدر؟ آج سے چوبیس سو سال پہلے ہمارے جیسی دنیا کیسے ہوسکتی ہے ؟‘‘
شفلا بھی اِس بات سے حیران ہوئی۔ دانش اور ایلس کا تو حال ہی کچھ اور تھا۔ وہ چڑیا کی باتیں سن تو رہے تھے لیکن اُن کی جذباتی کیفیات ان کے قابو میں نہیں تھیں۔ وہ ابھی ’’ٹیمپرامنٹ‘‘ کی توانائی میں بے حد کمزور انسان تھے۔ دونوں میاں بیوی مسلسل چڑیا کو تکے جارہے تھے۔ جلد ہی چڑیا نے ان دونوں اجنبیوں کی نگاہوں کی شدت محسوس کرلی اور کسی حد تک سٹپٹاسی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ چڑیا بات کرتے کرتے خاموش ہوگئی تھی اور اب اِن اجنبیوں کی جانب پرتجسس نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اب شفلا کو محسوس ہوا کہ چڑیا مہمانوں کا تعارف حاصل کیے بغیر فکرمندی کی کیفیت سے نہ نکل پائے گی۔چنانچہ شفلا نے کہا،
’’اچھا بیٹا! ابھی اندر چلو! آپ کو دو بہت خاص لوگوں سے ملوانا ہے۔ آپ خوش ہوجاؤگی‘‘
اب چڑیا کا تجسس اور بھی بڑھ گیا۔ اس نے اندر جانے سے پہلے ہی پوچھ لیا،
’’مدر! آپ کے ساتھ آنے والے مہمان کون ہیں؟‘‘
’’انہی خاص مہمانوں کے ساتھ آپ کو ملوانا ہے بیٹا! اندر چلتے ہیں نا۔ پھر بتاتی ہوں‘‘
لیکن اب ایلس کے بس میں نہ رہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی سے مزید دور کھڑی رہ پاتی۔ ایلس بے قابُو ہوکر آگے بڑھی اوربے اختیاری کے عالم میں ہی اپنی بیٹی کو اپنے سینے کے ساتھ چمٹا لیا۔ ایلس رو رہی تھی اور ساتھ کے ساتھ کہتی جارہی تھی،
’’میری بچی! میرا بے بی! میرا معصوم فرشتہ‘‘
چڑیا کچھ بھی نہ سمجھ پارہی تھی۔ وہ اس اجنبی عورت کے اس طرح بغل گیر ہوجانے سے تھوڑی سی گھبراگئی۔ اس نے سوالیہ نظروں سے شفلا کی طرف دیکھا۔ شفلا نے اب کسی قدر بے بس نگاہوں سے دانش کی جانب سرگھمایا جیسے کہہ رہی ہو کہ ’’جی اب کہیے! اپنی بیٹی سے کچھ‘‘۔ دانش کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ وہ مسلسل اپنی پریوں جیسی حسین بیٹی کے چہرے کو دیکھے جارہا تھا جبکہ اس کی زبان گنگ تھی۔ شفلا نے دانش کی جانب استفسارانہ انداز میں دیکھا تو دانش نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی اور دو قدم آگے بڑھ کر چڑیا کو گلے سے لگاتے ہوئے کہنے لگا،
’’بیٹا! ہم دونوں بدنصیب، آپ کے ماں باپ ہیں۔ آپ ہمارا بے بی ہو۔ یہ آپ کی مما ہیں اور میں آپ کا پاپا ہوں‘‘
اتنا کہنے کی دیر تھی کہ چڑیا تو جیسے وہیں پتھر ہوگئی۔ نوسالہ بچی کے لیے یہ ایک بہت بڑی خبر تھی۔ وہ تو آج تک یہی سمجھتی آرہی تھی کہ وہ مقسور نسل کی بچی ہے جن کے والدین نہیں ہوتے اور مقسوربچوں کو سڈرہ کمیونٹی اپنی طرف سے والدین فراہم کرتی ہے۔ وہ تو آج تک یہی سمجھتی آئی تھی کہ شفلا کو، جسے وہ اپنی مدر کہتی ہے، شروع دن سے اُس کی پرورش کے لیے مقرر کیاگیاہے۔ وہ یہ ضرور جانتی تھی کہ شفلا اُس کی سگی ماں نہیں لیکن اس نے کبھی سوچا تک نہیں تھا کہ اس کے اصلی ماں باپ بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ خبر اس کے لیے غم یا خوف کی نہیں تھی۔ یہ خبر چڑیا کے لیے فی الحقیقت ایک بہت بڑی خوشخبری تھی۔ کیونکہ پائرہ پر ایسے اور بھی بچے تھے جن کے باقاعدہ والدین تھے اور ایسے بہت سے بچے بھی تھے جن کے کوئی والدین نہیں ہوتے تھے اور انہیں ایک ’’مدر‘‘ اور اگر لڑکا ہو تو ’’مدر کے ساتھ فادر‘‘ بھی کمیونٹی کی طرف سے مستقل طور پر فراہم کیا جاتاتھا۔ چڑیا آخر سڈرہ کمیونٹی میں بڑی ہورہی تھی۔ بے پناہ معلومات اور کئی علوم پر تو اسے ابھی سے خاصی دسترس تھی۔ لیکن اتنی اچانک اور غیر متوقع خبر کے لیے وہ بالکل تیار نہیں تھی اس لیے خوشی کے باجود بھی بری طرح گھبرا گئی۔ معاً شفلا کی آواز سنائی دی،
’’اچھا بیٹا! اندر تو چلیں نا! ہمیں بھوک لگی ہے۔ آپ کے مماپاپا کو اچھا سا کھانا کھلاتےہیں اور ان سے ساری کہانی سنتی ہے۔ یہ بھی تو داستان گو کی طرح دلچسپ کہانی ہوگی نا‘‘
یکلخت چڑیا جیسے خواب سے بیدار ہوگئی۔ اس نے شفلا کی بات کا جواب دینے کی بجائے دانش کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا،
’’آپ میرے پاپا ہیں نا؟ ‘‘
چڑیا نے اتنی معصومیت کے ساتھ کہا کہ دانش کی جان ہی تو نکل گئی۔ وہ تڑپ اُٹھا۔
’’جی جی بیٹا! میں آپ کا پاپا ہوں اور آپ میرا بیٹاہو‘‘
’’نہیں! بیٹا کیوں؟ میں تو آپ کی بیٹی ہوں نا‘‘
چڑیا کی بات سے سب کھلکلا کر ہنس دیے۔اب وہ لوگ دوبارہ وِلا کی طرف بڑھ رہے تھے۔ فراک والی ننھی چڑیا ایلس اور دانش کے درمیان چل رہی تھی۔ دونوں ماں باپ نے اپنی بیٹی کے گرد اپنے بازو حمائل کررکھے تھے۔ جبکہ شفلا ان لوگوں سے قدرے تیز قدموں کے ساتھ آگے آگے جارہی تھی۔ ایلس نے دل میں سوچا کہ ’’شفلا نے چڑیا کو نوسال تک پالا پوسا اور بڑا کیاہے۔ آج ضرور اِن لوگوں کی وجہ سے شفلا کا دل ایک خاص قسم کے صدمے اور اداسی کا شکار ہوگیاہوگا۔ ایلس یہ سوچ کر یلکخت اداس ہوگئی۔

—جاری ہے۔—

پہلی قسط اور ناول کا تعارف اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

دوسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

تیسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

چوتھی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں 
پانچویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں
چھٹی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

ساتویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: