تصوف کی اخلاقی اور سماجی معنویت: ڈاکٹر اسلم انصاری

0
  • 141
    Shares

 تصوف کے بارے میں کسی بھی نوع کی گفتگو کے معنی خیز ہونے کے لئےضروری ہے کہ تصوف کے بنیادی تصورات کو پیشِ نظر رکھا جائے اور ان تعبیرات کو بھی ملحوظ رکھا جائے جو ان تصورات پر مبنی ہیں. دیکھا جائے تو تصوف کی تعبیرات و تعریفات بہت زیادہ ہیں ،جن میں سے بیشتر کی توثیق اصحابِ ذوق و وجدان نے بھی کی ہے. ان اصحابِ ذوق و وجدان میں اولیت کا سہرا جن کے سر بندھتا ہے ان میں حضرت علی بن عثمان ہجویری معروف بہ داتا گنج بخش علیہ الرحمہ بھی شامل ہیں. انہوں نے اپنی شہرہء آفاق تصنیف “کشف المحجوب” میں ارشاد فرمایا ہے کہ تصوف لفظ “صفا” سے مشتق ہے. بعض صاحبان نے اسے صوف سے منسوب کیا جو دورِ اولین کے درویشوں کا لباس تھا. 

لیکن یہ سب لفظی بحثیں ہیں جن کا تصوف کے حقیقی معنوں سے کوئی تعلق نہیں.  اس ضمن میں حضرت ہجویری رح نے ایک دقیق بات یہ کہی ہے کہ پہلے یعنی اسلام کے اولین دور میں تصوف کی حقیقت موجود تھی لیکن اس کا کوئی نام نہیں تھا. اب اس کا نام تو ہے، حقیقت موجود نہیں ہے. خیال فرمایئے یہ بات انہوں نے آج سے تقریباً ایک ہزار برس پہلے کہی تھی. اس سے ان کی مراد واضح طور پر یہی تھی کہ آج کل تصوف کا لفظ تو بہت سننے میں آتا ہے لیکن اعمال و کردار کی صورت میں اس کی معنویت کہیں نظر نہیں آتی ہے

 یہاں ضمناً سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس رائے کا انطباق بہت حد تک آج کی صورتحال پر نہیں ہوتا؟ لیکن اس سخن گسترانہ سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم موضوع کو آگے بڑھاتے ہیں. بزرگوں سے سنا ہے کہ تصوف کے معنی احسان کے ہیں، یعنی حسنِ عمل کے، یعنی اعمال کو خوبصورت بنانا. تاریخِ تصوف سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ نظر جانتے ہیں کہ تصوف کے ابتدائی ادوار میں تصوف زیادہ تر زہد و اتقاء سے عبارت تھا. رفتہ رفتہ اس نے ایک نظامِ فکر کی صورت اختیار کر لی. اس لئے مشہور مستشرق آر اے نکلسن نے تصوف کو اسلام کا مذہبی فلسفہ قرار دیا. 

دیکھا جائے تو یہ حق تو علم الکلام کا تھا کہ اسے اسلام کا مذہبی فلسفہ قرار دیا جائے. اس لیے کہ علم الکلام فلسفے کی بعض شرائط پر پورا اترتا ہے، جبکہ تصوف کو فلسفے سے اسی طرح کا بُعد ہے جس طرح کے بُعد کی طرف مرزا غالب نے اشارہ کیا ہے:

اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بُعد ہے

جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں

. اس شعر میں تصوف کا یہ معروف خیال بھی شامل ہےکہ کائنات میں غیر کا وجود نہیں ہے . جو کچھ کائناتِ ہست و بود میں موجود ہے، وجودِ مطلق یا وجودِ حقیقی ہی کی رونمائی ہے.  اس خیال کی ترقی یافتہ اور مربوط صورت کو وحدت الوجود کہا گیا ہے جو دراصل وجود کی تشریح کا ایک نظریہ ہے جسے عام طور پر عقیدے کی صورت دے دی جاتی ہے.

.  اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا تصوف مذہب ہی کی ایک تشریحی صورت ہے. ایسی تشریح جو فرد کے اپنے ذاتی احوال کی روشنی میں واضح ہوتی ہے.  تصوف مذہب یعنی دین اور شریعت کو اپنے ذاتی احوال کا حصہ بنانے کے مترادف ہے. اس بات کو ایک اور طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے 

. انیسویں اور بیسویں صدی کی ایک بہت بڑی فکری تحریک وجودیت کا آغاز اس وقت ہوا جب جرمن آئیڈیلزم میں فرد کے لئے کوئی جگہ نہ رہی. کانٹ کے تصورات عقلِ محض اور عقل عملی میں فرد کہاں نمودار ہوتا ہے.  ہیگل کا “مطلق خیال” جو ارتقاء کی منزلیں طے کرتا ہواکسی انجانی منزل کی طرف رواں دواں ہے . فرد کی زندگی کو کہاں چھوتا ہے.  وجودی مفکرین نے اسی کے ردِ عمل میں کہا کہ اصل اہمیت فرد اور اس کے وجودی احوال کی ہے. اس کو اگر ذہن میں رکھیں تو فرد کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے. مذہب کی وسیع تر عمومیت میں فرد کا خدا سے کیا رشتہ بنتا ہے. تصوف اسی سوال کا جواب دیتا ہے. ساتھ ہی تصوف اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہےکہ اس رشتے کا تعین کرنے کے لیے فرد کو عاشقانہ طلبگاری کے ساتھ حقیقت کی طرف یعنی خدا کی طرف بڑھنا ہو گا. اس عاشقانہ طلبگاری میں تلاش کا عمل بھی شامل ہے. 

اب سوچا جا سکتا ہے کہ حقیقت کو کہاں تلاش کیا جائے. کیا پہاڑوں، صحراؤں اور  جنگلوں میں؟ جواب یہ ہے کہ ہاں پہاڑوں، صحراؤں اور جنگلوں میں بھی، لیکن سب سے بڑھ کر اپنے اندر. اپنی ذات کی تفہیم، اپنی ذات کے چھپے ہوئے گوشوں کی تلاش لازمی ہے.

– اپنے اعمال کے محرکات کی کھوج ، اور نفس کی پہچان جوصوفیانہ زندگی میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے. یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت بابا بلھے شاہ صاحب جیسے عالی مرتبت بزرگ پکار اٹھتے ہیں “کیہہ جانا میں کون” . اس قول کا اصل مطلب ناچیز کے نزدیک یہ ہے کہ میرے باطن کی وسعتوں کا تو کہیں کنارہ ہی نہیں اور خود میرے باطنی تشخصات اتنے زیادہ ہیں کہ سمجھ نہیں آتا کہ میں کس تشخص کے خود کو شناخت کروں. 

.  درحقیقت تصوف ایک سچی روحانی سرشاری کے ساتھ اخلاقی زندگی بسر کرنے کا نام ہے. وگرنہ اخلاقیات کے مباحث اور اخلاقی تصورات کی کچھ انتہاء نہیں،  اب اخلاقی درس اس لئے بے اثر رہتے ہیں کہ ان میں دل کو گرم رکھنے اور انسان کو سرگرمِ عمل رکھنے کا کوئی زندہ اور تابندہ محرک موجود نہیں رہتا. 

تصوف، انسان کو اعمالِ حسنہ کا ایک  زندہ اور تابندہ محرک فراہم کرتا ہے.  اس انسانی فیکٹر (Human factor) کو مرشد یا رہبر کہا جاتا ہے، لیکن خدا کے لئے مرشد یا رہبر کو ایسا شخص نہ تصور کیجئے جس کی ایک ناگوار تصویر آج کل کی اخباری خبروں سے مرتب ہوتی ہے. جن لوگوں نے شریعت، طریقت اور حقیقت کی رسمی درجہ بندی کر رکھی ہے، انہوں نے عوام الناس کو بہت سے خطرات سے دوچار کر رکھا ہے. طریقت، بغیر شریعت کےگمراہی کا راستہ ہےجس پر چلنے اور چلانے کے لیے بعض لوگ ہر وقت کمر بستہ رہتے ہیں. 

. تصوف، خود شعوری اور خود شناسی کے اپنے تصورات کے تحت سچا، گہرا اور اخلاقی شعور پیدا کرتا ہے. اس کے ذریعے اس اخلاقی شعور میں وہ قوت پیدا ہوتی ہے جس کے تحت برتر نفسی قوتوں کا شعور حاصل ہوتا ہے، جن کو عام طور پر کرامات کہا جاتا ہے. کچھ دن قبل ممتاز کالم نگار ڈاکٹر صفدر محمود نے لکھا ہےکہ؛” آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر تمام روحانی ترقی کے تمام راستے بند ہیں”. اسی بات کو شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: 

کسے رہ خلاف پیمبر گزید
کہ ہرگز بہ منزل نہ خواہد رسید

. ارادے اور عمل کی قوت جو گہرے اخلاقی شعور پر استوار ہے،  حیرت انگیز سماجی قدر و قیمت کی حامل بن جاتی ہے. اس سماجی قدر و قیمت کو دیکھنا ہو تو حضرت علی ہجویری، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی کے احوال و اعمال پر ایک نظر ڈال لینا کافی ہو گا. جن کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد مخلوقِ خدا کی خدمت اور راحت نظر آتا ہے. یعنی ان کی ظاہری زندگی کا مقصد انسانوں کی بھلائی اور ان کو سچائی اور صداقت کا راستہ دکھانا تھا. اس میں بھی شک نہیں کہ ایک مدت سے معاشرے میں  تصوف کی نامطبوع بھی فروغ پذیر ہیں جن کی توثیق نہیں کی جا سکتی. علامہ اقبال کا ردِ عمل تصوف کی انہی غیر صحتمندانہ صورتوں کے خلاف تھا ورنہ جہاں تک تصوف کی روح کا تعلق ہے وہ ان کے ہاں پوری شدت کے ساتھ موجود ہے. ان کے والد محترم نے انہیں حضرت بوعلی قلندر کی طرز پر مثنوی لکھنے کے لئے کہا تھا. ” اسرارِ خودی” اسی مقصد کی تکمیل کے لئے لکھی گئی تھی. اس مثنوی میں انہوں نے حضرت بوعلی قلندر رح کا ایک واقعہ بھی بیان کیا ہے کہ ایک بار ان کا ایک مرید اپنی مستی میں بازار میں چلا جا رہا تھا کہ عامل شہر کی سواری کے آنے کا شور اٹھا، ہٹو بچوکی آوازیں آنے لگیں. عامل شہر کے ایک ملازم نے مریدِ شیخ کو سختی کے ساتھ دھکا دے کر ہٹایا اور کہا کہ تمہیں معلوم نہیں ہوا کہ عامل شہر کی سواری آ رہی ہے. مریدِ شیخ نے ان کے ہاں آ کر شکایت کی کہ عامل شہر کے ملازم نے مجھے دھکے دیئے ہیں. اور برا بھلا کہا ہے. حضرت بوعلی قلندر نے اسی وقت بادشاہِ وقت کو رقعہ لکھا کہ اس بے تمیز عامل کو  واپس بلاؤ ورنہ ہم تمہارا تخت تاج کسی اور کے حوالے کر دیں گے. . اس رقعے کا اثر ہوا اور بادشاہ نے فوراً اسعامل کو واپس بلا لیا تھا.  میری ناچیز رائے میں یہ حضرت بوعلی قلندر کی اخلاقی قوت تھی جس کا مقابلہ بادشاہِ وقت بھی نہ کر سکا. 

. خاکسار اپنی کمترین حیثیت میں رجعت پسندانہ تصوف کی وکالت نہیں کرتا بلکہ میرا پیغام صرف اتنا ہے کہ تصوف کی اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار کو علومِ عالیہ کے حصول اور مقاصدِ عالیہ کی تکمیل کے لئے بروئے کار لاتے ہوئے انسانی محبت کو عام کیا جائے. اور اس انسانی محبت میں انسانوں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ان کی اقتصادی بہتری کے تصور کو بھی شامل رکھا جائے.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: