’’ہائیڈل برگ کی ڈائری‘‘ سے ایک ورق

0
  • 172
    Shares

  اصنافِ ادب میں ڈائری/ روزنامچہ سب سے زیادہ لکھی جانے والی اور سب سے کم شایع ہونے والی صنف ہے۔ یہاں دو سوال جنم لیتے ہیں: ایک، کسی بھی چیز کا سب سے زیادہ لکھا جانا اُس کی اہمیت میں کس قدر اضافے کا باعث بنتا ہے؟ دوسرا، سب سے زیادہ لکھی جانے والی تحریر سب سے کم شایع کیوں ہوتی ہے؟اِن بنیادی دو سوالوں سے ایک اور سوال بھی جنم لیتا ہے کہ ہر ڈائری قابل اشاعت نہیں ہوتی۔ ڈائری کے شایع کرنے کے لیے کچھ قابل ذکر چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں یہ بھی دیکھا جائے کہ اس ڈائری کے مندرجات کا شایع کرانا کس حد تک لازمی ہے۔ محض روزمرہ معمولات کو ہی صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنا ڈائری کا مقصد ِ وحید نہیں ہوتا، بلکہ ان کے علاوہ بھی کچھ دیگر چیزوں کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔ مثال کے طور پرڈائری نویس جس خطے، جس علاقے میں قیام پذیر ہو اُس کے سیاسی و سماجی اور ادبی پہلو بھی نمایاں ہوں اور دن کے اہم ترین واقعات، مصروفیات اور دیگر حوالوں کوبھی اجمالی انداز میں بیان کیا جائے تاکہ اُس کی پڑھت سے اندازہ لگایا جاسکے کہ ڈائری لکھنے والے نے کسی چیز یا واقعہ کو کس انداز اورکس زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔

   ڈاکٹر ناصرعباس نیر ّ ایک ذہین نقاد ہی نہیں بلکہ اسی مزاج کے تخلیق کار بھی ہیں۔ انھوں نے تنقید کی طرح تخلیق کے میدان میں بھی اپنی انفرادیت کو قائم رکھا ہے۔ تخلیقی حوالے سے دیکھا جائے تو ان کی اب تک تین کتابیں شایع ہوئی ہیں (اورمستقل قریب میں حیران کن حد تک مزید کئی کتابیں آنے والی ہیں)۔ ’’چراغ آفریدم‘‘ اگرچہ اُن کی پہلی تخلیقی کتاب ہے جوصنف ِ انشائیہ پر مشتمل ہے، لیکن انھوں نے انشائیوں سے قبل لکھنے کا آغاز افسانوں سے کیا تھا، جو اُس دور کے مقبول ترین جرائدمیں شایع ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ان رسائل کا انتظار انتہائی شدت کے ساتھ کیا جاتا تھا، اور ان رسائل میں تخلیق کی اشاعت کسی بھی تخلیق کار کے لیے مہمیز ثابت ہوتی۔ یہ کوئی بیس سال قبل کی بات ہے۔ناصر عباس نیر نے اپنے استاد ڈاکٹر پرویز پروازی کے منع کرنے پرافسانے لکھنا چھوڑ دیاتھا۔ بعض اوقات کسی چیز کی سختی سے ممانعت اُس سے مزید رغبت اور جڑت کا باعث بن جاتی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا ناصر عباس نیر ّ کو بھی کرنا پڑا، اور اُن کا افسانے کی طرف رجحان پختہ سے پختہ تر ہوتا چلا گیا۔ اسی دورانیے میں انھو ںنے بہت سا اردو اور انگریزی فکشن پڑھ ڈالا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اردو تنقید کے خارزار میں قدم رکھ دیا اور اس میں بھی ایک اعتبار اورمعیار قائم کیا۔ بیس سال کے طویل عرصے کے بعد وہ اپنا افسانوی مجموعہ ’’خاک کی مہک‘‘کے نام سے منظر عام پر لائے تو اس میں کوئی بھی پرانا افسانہ نہیں تھابلکہ تمام افسانے یک سر نئے لکھے گئے تھے۔ یہ افسانے اپنے موضوع، مزاج اور مذاق کے حوالے سے بالکل جداگانہ اور روایت سے ہٹ کر ثابت ہوئے۔ جن کی فضا نے اردو افسانے کے قاری کے لیے جہانِ فن کے نئے در وا کیے۔

  ’’ہائیڈل برگ کی ڈائری‘‘ جودر اصل ۲۰۱۱ء میں ناصر عباس نیر ّ کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی میں اپنے پوسٹ ڈاکٹرل فیلو شپ کے سلسلے میں قیام کے دنوں کی یادداشتوں پر مشتمل ڈائری ہے۔یہاں ان کے مقالے کا عنوان ’’نوآبادیاتی عہد میں اردو نصابات‘‘ تھا جسے بعد میں ’’ثقافتی شناخت اور استعماری اجارہ داری: نوآبادیاتی عہد کے اردو نصابات کا مابعد نوآبادیاتی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے شایع کیا گیا۔ ’’ہائیڈل برگ کی ڈائری‘‘ روایتی طرز میں لکھی گئی ڈائری نہیں بلکہ مصنف نے حسب ِ روایت فلسفیانہ انداز میں مختلف چیزوں کو ان کے سیاسی و سماجی اور ادبی تناظر میں دیکھاہے۔

 یہاں ایک چیز کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ انھوں نے اگر کوئی عمارت دیکھی تو اس عمارت کاصرف حدود اربعہ بیان نہیں کیا بلکہ اس کی تعمیر کے پس منظر پر کئی سوالات بھی قائم کیے۔یہ سوالات تاریخی نوعیت کے ہیں جس کے اندر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔ (اور یہ ناصر عباس نیر کا مخصوص اسلوب ہے کہ وہ سوال در سوال کے ذریعے کسی بھی متن کی نئے نئے انداز میں تعبیر کرسکتے ہیں)۔ کچھ یہی صورتِ حال اس کتاب میں بھی نظر آتی ہے۔سنگ ِ مرمر کی کوئی عمارت دیکھی تو اس پتھر کا شکوہ مختلف عمارتوں میں تلاش کیا۔ کہیں پر سفید مرمر او رکہیں پر بھورے سنگ ِ مرمر کا ذکر ہوا۔اس تناظر کو ہندوستانی عمارتوں سے جوڑنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر:

’’سفید مرمر کے پتھر کا بھی اپنا شکوہ ہے، جو تاج محل میں نظر آتا ہے، مگر بھورے سنگ ِ مر مر میں بھی دل کش چمک تھی۔ مرمر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ پرانا نہیں ہوتا۔ گویا وقت سے آزاد ہوتا ہے۔ اسے دیکھنے سے روشنی کا انتہائی مدھم احساس ہوتا ہے اور یہ احساس روشنی کو بڑھانے کی خواہش جگاتا ہے۔ کیا خاص رنگ کے پتھروں کا خاص طرح سے سوچنے سے کوئی تعلق ہے؟ عمارتوں کا ہم پر کس قسم کا اثر ہوتا ہے ؟ مجھے اورینٹل کالج کی سرخ رنگ کی عمارت یاد آئی۔ اس کے ساتھ جانے کیا کیا یاد آیا۔ قدیم متون پر معصومانہ قسم کی تحقیق، ترقی کی دوڑ، سازشیں، رومانس، خودنگری کی خو، تکبر اور جانے کیا کیا۔ کچھ نہ کچھ تو اثر ہوتا ہے عمارتوں کا۔ Congnitive نہ سہی ، Affective سہی!‘‘ (ص۴۶، ۴۷)

               اِس کتاب میں ناصر عباس نیر ّ پارسائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کسی رند ِ مشربی پر مذہبی قدغن نہیں لگاتے، بلکہ روشن فکر اور معروف معنوں میں آزاد خیالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اس کا ثقافتی حق تسلیم کرتے ہیں۔ انھیں جرمنی میں جو ثقافتی میلانات نظر آئے اُسے ایک روایتی مشرق پسند شخص کی نظر سے نہیں دیکھا۔ وہ اپنی ثقافت سے باہر نکلتے بھی نظر نہیں آتے اور اُن کی شخصیت میں اتنی لچک موجود ہے کہ وہ جرمن ثقافت کو قبول کرتے ہیں اور اُس پر ’’حملہ آور‘‘ نہیں ہوتے۔ اُن کا ایمان اپنی ذات میں محفوظ ہے اور جرمن دوشیزائوں کے مختصر لباس اور بوس و کنار کو دیکھتے ہیں تو اُن کی اقدار کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا اور وہ اسے اُن کاسماجی حق گردانتے ہیں:

’’اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ جوں ہی دھوپ نکلتی ہے، خواتین کے جسم پر محض دو دھجیاں سج جاتی ہیں۔ ہر دوسرے قدم پر نوجوان (اور بزرگ بھی) جوڑے سرعام بوس وکنار کرنے لگتے ہیں۔ کوئی ان کی طرف توجہ دیتا ہے نہ یہ کسی کی پروا کرتے ہیں۔ اس آزادی کو ’’رشک بھری نگاہوں‘‘ سے دیکھنے کے باوجود میں اس کی تقلید کرنے پر خود کو آمادہ نہیں پاتا، مگر میں اسے ایک لمحہ کے لیے غلط یا گم راہ کن قرار نہیں دے سکتا۔جس بات کو کوئی سماج اجتماعی طور پر قبول کرلیتا ہے، ا س پر حرف زنی کا ہمیں کوئی حق نہیں۔ ‘‘ (ص۶۷)

 ایک ایشیائی مسلمان باشندے بالخصوص ایک پاکستانی نے جرمنی میںاپنی مشکلات، اپنے جذبات و احساسات کو جس طرح دیکھا اُسے کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کردیا۔ ہم مسلمان (صرف پاکستانی مسلمان) مسلم اُمہ کا درد اپنے جگر میں پالتے ہیں، ہر جگہ اور ہر فورم پر اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس کا عملی اطلاق کہیں پر نظر نہیں آتا اور ہم نئے نوآبادیاتی آقا کے حکم کی تعمیل میں اُمت ِ مسلمہ کو پارہ پارہ کرنے سے بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیںکرتے۔ جوبے درد دردمندی ہمارے دل میں ہے وہ شاید دنیا کے کسی مسلمان میں موجود ہو۔ اس کا ایک اظہار ناصر عباس نیر نے الجیریائی مسلمان کی صورت میں ملاحظہ کیا:

’’ایک نوجوان ملا۔ ڈاڑھی تھی۔ میں نے خود غرضی سے سوچا، اگر لسانی تعصب ہوسکتا ہے تو مذہبی تعصب کیوں نہیں، چناں چہ میں نے اپنے تعارف سے بات شروع کی۔ پاکستان سے آیا ہوں، مسلمان ہوں۔ راستہ پوچھنا ہے۔ جواب ملا۔ عریبک آر فرنچ۔ میں نے کہا۔ برادر، اونلی انگلش۔ وہ الجیریا کا مسلمان تھا۔ لہٰذا اس کے ماضی میں عربی اور فرانسیسی تھی۔ اس کے بعد کہیں اس کے مسلمان ہونے کی پہچان تھی۔ میں نے کہا کہ اگر آپ انگریزی میں دو جملے بول دیں تو کیا فرق پڑے گا۔ کہنے لگا۔’’آئی ڈونٹ نو انگلش‘‘۔ میں نے عرض کیا۔ یو نو اینڈ کین سپیک کنوینٹلی برادر۔ پلیز گائیڈ می۔ مگر آگے لمبی چپ۔ مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا…اخوت کس کو کہتے ہیں؟… چبھے کانٹا جو پیرس میں… تو مسلماں الجیریا کا…‘‘(ص۱۲۴)

   اس کتاب کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ بہ یک وقت جرمنی کا سفرنامہ بھی ہے، اور اس میں جرمنی کی ماضی، حال اور مستقبل کی تاریخ بھی بیان کردی گئی ہے۔وہاںپر کتب خانوں کاقابل تقلید انصرام اور کتب بینی کا قابل رشک ر جحان، طالب علموں میں علم و دانش کے حصول کا جنون، نت نئے سیمینارز، مذاکرے اورنئے تنقیدی مباحث، شعر و ادب کی تازہ ترین صورت ِ حال، وہاں کی بے فکر زندگی، سہانی صبحیں اور خمار آلود شامیں، کلب، پب، ریستوران، عبادت گاہیں، متنوع خورونوش کی اشیا، شہری اور دیہاتی زندگی، سیاسی و سماجی صورتِ حال، کام کرنے کی ان تھک لگن اورجوش و جذبہ… غرض سب کچھ اس کتاب میں سما گیا ہے۔ نیز اس میں جرمنی کے خارجی مناظر کے ساتھ ساتھ داخلی کیفیات اور مظاہرات پر بھی کھل کر بات کی گئی ہے۔

         اب ناصر عباس نیر کے قارئین اُن سے ایک بڑے ناول کا تقاضا کررہے ہیں۔

 

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: