چنیدہ لوگ: ساہیوال میں میڈیکل طالبات کو دربان بنائے جانے کے تناظر میں

0

سرد گرم چشیدہ لوگ

کچھ زیادہ پرانی بات نہیں ہمارے داداؤں کے دور میں پگڑیاں بدلنے کا رواج بہت عام ہوتا تھا جہاں وڈیرے، چوہدری اور زمینداروں کے علاوہ عام غریب لوگ بھی آپس میں پگڑی بدل بھائی بنا کرتے تھے۔

یہ رواج ہم سے ایک نسل پہلے بھی کسی حد تک قائم تھا جہاں سماجی سطح پر نہ سہی لیکن رشتے داری کی سطح پر یہ رواج عام تھا کہ شادی والے گھر میں بارات والے آکر سب سے پہلے ملنی کرتے تھے جس میں تمام ہم منصب لوگ آپس میں پگڑیاں بدلا کرتے تھے، دلہا کے والد دلہن کے والد سے، دلہا کا چچا دلہن کے چچا سے، دلہن کا ماموں دلہا کے ماموں سے اور اسی طرح ہر منصب دار اپنے ہم منصب سے پگڑی بدلا کرتا تھا۔

یہ صرف نام کا بدلاؤ نہیں تھا بلکہ پگڑی بدلنے سے فریقین کے درمیان ایک گہرا اخوت کا رشتہ قائم ہو جاتا تھا جو ہر اچھے برے وقت میں ایکدوسرے کا ساتھ دینے اور ایکدوسرے کی عزت رکھنے میں بڑا دخل رکھتا تھا یہاں تک کہ اگر کسی کا پگڑی بدل بھائی فوت ہو جاتا تو وہ فریق اپنے مرحوم بھائی کی بیٹیاں بیاہنے تک کا فریضہ اپنے ذمے لے لیتا تھا اس کے علاوہ بھی اپنے مرحوم بھائی کی اولاد کا دامے درمے سخنے سہارا بننا باعث فخر سمجھا کرتا تھا۔

اس کے بعد یوں ہوا کہ معاشرتی روایات کی جگہ تعلیم آگئی، پگڑی باندھنا متروک ہو گیا اور عنان وقت ننگے سر والے بابووں کے ہاتھ میں آگئی، ان سے اگلی نسل پروفیشنلز کی نسل ہے جو وقت اور حکومت کی باگ ڈور ان بابووں کے ہاتھ سے لے چکی ہے، اس نسل نے جہاں کچھ اچھے کام کئے ہیں جن سے قومی سطح پر نظام مملکت میں جدیدیت کی کچھ جھلک نمایاں ہوتی ہے وہاں قدیم سماجی نارمز کو بھی سخت دھچکا دیا گیا ہے، سماج کی کڑیاں جس طرح ایکدوسرے سے جدا ہو کر آجکل صرف نفسا نفسی کا ورد کر رہی ہیں اس میں کئی فیکٹرز کا قصور ہو سکتا ہے لیکن اس میں سب سے بڑا ہاتھ جدید تعلیم کا ہی ہے جس میں نمبرز، جی۔پی۔اے، برائیٹ کیرئیر، بھاری فیسوں سے حاصل شدہ ڈگری کی بنیاد پر سرکاری نوکری اور مادیت پرستی کا عنصر تمام تر انسانی اوصاف اور اخلاقی قوت کو یکسر کھا گیا ہے۔

نفسا نفسی نے آگے بڑھنے کی دوڑ میں عام انسانی خود داری کو بھی اس قدر داؤ پہ لگا دیا ہے کہ سول سروسز کیلئے معاشرے کے چنیدہ لوگ جنہیں معاشرے کی ذہین ترین کریم کہا جا سکتا ہے وہ معاشرتی انتظام چلانے کی بجائے کسی بھی طرح حکمرانوں کی نظر میں آنے اور آگے بڑھنے کیلئے ہر اخلاقی حد کو پار کرنے میں زرا بھی توقف سے کام نہیں لے رہے، اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں مگر ایک بھیانک مظاہرہ حال ہی میں اسسٹنٹ کمشنر ساہیوال کی طرف سے دیکھنے میں آیا ہے جس میں نہ صرف بارہ ٹرینی لیڈی ڈاکٹرز کو قادر آباد کول پاور پروجیکٹ کی ایک تقریب میں اعلٰی صوبائی عہدیدار اور وی۔آئی۔پیز کیلئے دربان مقرر کرنے کی چٹھی لکھی گئی بلکہ خواتین کے ہاسٹل میں گھس کر خوبصورت خواتین کو چننے کیلئے زبردستی ہاسٹل کا دورہ بھی کیا گیا۔

اس چٹھی کی سی۔سی کاپیز کئی اعلٰی سرکاری افسروں کو بھی بھیجی گئی مگر افسوس اس بات کا کہ بیوروکریسی کے اس تمام سرکل میں ایک بھی سرد گرم چشیدہ ایسا بیدار مغز افسر موجود نہ تھا جس نے اس بیہودگی کو روکنے کی کوشش کی ہو یا نقطہ اعتراض اٹھایا ہو، برا بھلا کہنا تو دور کی بات ہے، صرف ایک سوشل میڈیا کا ردعمل تھا جس نے اس واقعہ کو ہائی لائیٹ کیا تو اس آرڈر کی انکوائری کا آسرا دے دیا گیا۔

اس ساری بیوروکریسی کے اخراجات ہماری عوام اسی برتے پہ اٹھاتی ہے کہ یہ ہمارے لئے معاشرے کا انتظام سنبھالیں گے جس میں سہولیات پیدا کرنے کے علاوہ عوام کی جان و مال اور عزت کی حفاظت بھی ہو گی لیکن جب باڑ ہی فصل کو کھانے لگے تو گلہ کس سے کریں۔

جہاں بچہ بچہ جانتا ہے کہ ہم اس زمانے میں جی رہے ہیں جہاں تقریبات میں خدمت گزاری کیلئے باوردی بیرے مل جاتے ہیں، یہاں تک کہ باوردی لیڈی ویٹریس بھی مل جاتی ہیں اور اگر آنکھوں کی تسکین یا مہمانوں کیساتھ چہلیں کرنا، نازوادا اور عشوہ و غمزہ سے وی۔آئی۔پیز کا دل بہلانا مقصود ہو ھو تو اداکارائیں اور ماڈل گرلز بھی مل جاتی ہیں جن کا یہ پروفیشن ہے، جو مہمانوں کو ان کے حسب منشا زیادہ بہتر طریقے سے ڈیل کر سکتی ہیں لیکن افسوس کہ بیوروکریسی میں ایک بھی انسان ایسا نہیں تھا جو اس اقدام کی مخالفت کرتا کہ عوام کے عزتدار لوگوں کی بیٹیوں کو دربانی کیلئے کیوں بلایا جا رہا ہے بلکہ ہاسٹل میں گھس کے انہیں گھسیٹا کیوں جا رہا ہے۔

اس زوال کی وجہ وہی ہے جو پہلے اوپر بیان کی گئی ہے کہ مادیت پرستی نے انسانی وقار اور خودداری کے وصف کو اس طرح سے نگل لیا ہے کہ ذرا سے مفاد، تعریفی اسناد، اچھی پوسٹنگ اور حکمرانوں سے راہ و رسم بڑھانے کی خاطر عوام کے خرچے پر پلنے والی بیوروکریسی حکمرانوں کی خوشنودی کیلئے اسی فصل پر چڑھ دوڑتی ہے جس کی حفاظت کی ذمے داری اس کے سر پہ رکھی گئی ہے۔

پگڑی بدل کر ایکدوسرے کی عزت رکھنے والوں کی اولادیں اب جامعات سے نکل کر اعلٰی عہدوں پر پہنچ کر کس قسم کی خدمات انجام دے رہی ہیں، یہ ایک سنجیدہ سوال ہے جس کا جواب فرد کے علاوہ ہماری جامعات کو بھی دینا چاہئے کہ ان کے ہاں کس قسم کی مخلوق تیار ہو رہی ہے جو عنان حکومت سنبھال کر انسانی شرف کے مطابق عوام کے اخلاقی و انسانی حق کی خاطر کسی طوفان کے آگے ایک لحظہ بھی کھڑے ہونے کو تیار نہیں۔

یہ حقیقی انٹیلیکچؤل مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی کیساتھ گفتگو ہونی چاہئے کیونکہ نظام مملکت چلانے کی جملہ مشینری انہی جامعات سے فراہم ہوتی ہے، ان اداروں میں سیاسی اور علاقائی تنظیموں کے بیجا اثر و رسوخ اور لڑائیوں کے علاوہ مختلف اقسام کا نشہ اور اخلاقی بے راہ روی جس طرح سے پنپ رہی ہے یہ ایک الگ مسئلہ ہے اور جس طرح کی اخلاقی جرأت سے عاری نسل عنان حکومت سنبھالنے کیلئے بہم پہنچائی جا رہی ہے یہ ایک الگ بلکہ اہم مسئلہ ہے کیونکہ اس کی ضرر رساں زد سیدھی ہماری سماجی انتظامیہ اور قومی مستقبل پر پڑ رہی ہے۔

______________________

اس زوال کی وجہ وہی ہے جو پہلے اوپر بیان کی گئی ہے کہ مادیت پرستی نے انسانی وقار اور خودداری کے وصف کو اس طرح سے نگل لیا ہے کہ ذرا سے مفاد، تعریفی اسناد، اچھی پوسٹنگ اور حکمرانوں سے راہ و رسم بڑھانے کی خاطر عوام کے خرچے پر پلنے والی بیوروکریسی حکمرانوں کی خوشنودی کیلئے اسی فصل پر چڑھ دوڑتی ہے جس کی حفاظت کی ذمے داری اس کے سر پہ رکھی گئی ہے۔

______________________

یہ مانا کہ روزگار کی اہمیت ہر چیز سے زیادہ ہے مگر قوموں کو وہ انسان کہاں سے مہیا ہوتے ہیں جو آندھی طوفان میں قوم کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کے کھڑے ہو جایا کرتے ہیں، شائد وہ لوگ روزگار سے زیادہ اپنی اخلاقی تربیت اور اخلاقی ذمہ داری کو مقدم جانتے ہیں اسلئے ہمیں تعلیم سے زیادہ اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے۔

 

یورپی معاشرے شرح خواندگی اور اعلٰی تعلیم کی فراوانی کے باوجود سوشل ٹیبوز میں بری طرح سے جکڑے ہوئے ہیں لیکن بنیادی حقوق کی پاسداری کی وجہ سے ان کی خامیاں نمایاں نہیں ہوتیں، ان معاشروں کا اخلاقی قوانین پر سختی سے عمل ان کی ہر خرابی کو چھپا لیتا ہے جس سے ان معاشروں کی فیس ویلیو ہم سے کہیں زیادہ بہتر نظر آتی ہے کیونکہ انتظامیہ کی سختی سے ان کے سوشل ٹیبوز زیر زمین ہی رہتے ہیں لیکن ہمارے مسائل کچھ دوسری طرز کے ہیں جس میں غربت، جہالت اور مادیت پرستی معاشرتی اپ۔سیٹ کا باعث بنتی ہے اور انتظامیہ بنیادی حقوق کی پاسداری کرنے کی بجائے خود اس اپ۔سیٹ میں شامل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اعلانیہ برائی کو بھی تحفظ عام مل جاتا ہے، اسی وجہ سے نہ صرف ہماری خامیاں کچھ زیادہ ہی نمایاں ہو کر نظر آتی ہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی فیس ویلیو بھی خطرناک حد تک ڈی۔گریڈڈ ہو چکی ہے۔

 

پرانی بات ہے جب ابن انشاء برطانیہ کے سفر پہ گئے تھے، واپس آکے اپنی سرگزشت میں انہوں نے لکھا کہ ہم ایک جگہ پہنچے تو وہاں ایک خاتون نے مصنوعی تلذذ  کے آلات پر مبنی اپنی مخصوص شاپ کا افتتاح رکھا ہوا تھا، اس موقع پر وہ نہایت مسرور نظر آ رہی تھی جبکہ ہم سخت رنجیدہ اور خفت محسوس کر رہے تھے، ہمارا جی چاہ رہا تھا کہ جاکر اس خاتون کے سر پر دوپٹہ رکھیں اور اسے تلقین کریں کہ بی بی بہنا اس دکان کو بند کرکے گھر جاؤ اور کوئی سلائی کڑھائی جیسا عزت دارانہ کام کرکے اپنی روزی روٹی کماؤ، دنیا میں رزق کمانے کے اور بھی بہت سے نیک دھندے ہیں۔

 

ابن انشاء آج اگر یورپ کا چکر لگائیں تو وہاں انہیں ایسی شاپس کی اسقدر فراوانی ملے گی کہ انہیں دیکھ کر یہ ضرور پوچھیں گے، کیا اب دنیا میں واقعی کوئی عزت دار پیشہ باقی نہیں بچا ہے…؟

 

ہماری بیوروکریسی سے بھی یہی سوال پوچھنا بنتا ہے کہ آج واقعی اتنا گر کر نوکری کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے کہ حکمرانوں کی رضا کیلئے آپ کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں، ایسے ہی موقع کیلئے علامہ اقبال نے کہا تھا تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من۔

 

اگر محسوس کیا جائے تو ساہیوال کا واقعہ بیوروکریسی کے کردار، گھریلو اور جامعات کی تربیت پر اپنے پیچھے بڑے سنجیدہ سوالات چھوڑ گیا ہے جن کے جوابات بغیر وقت ضائع کئے معاشرے کو سوچ لینے چاہئیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ایسے معاملات کی انکوائری کرانے کی بجائے یہ جواب ملے گا کہ ہمیں بس پیسہ اور طاقت چاہئے اس کیلئے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: