بھٹو اور تاریخ: ایک پہلو یہ بھی ہے

0

جیل میں رات گئے، سندھ کے بڑے بڑے وڈیروں کو پکڑ کر لایا گیا، ساری رات انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، یہ وہ تھے جو بھٹو مخالف تھے، بہت سے قوم پرست تھے، جو جیل میں اسی مخالفت کے سبب تھے، عمرحیات نیازی ایک لانڈھی کا مزدور رہنما تھا، جسے برف کی سلوں پر لٹا کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا، حیدرآباد سنٹرل جیل ان دنوں سیاسی قیدیوں سے بھری پڑی تھی۔ ختم نبوت کی تحریک شروع ہوئی تو بھٹو نے ڈی پی آر کے تحت پورے ملک میں سینکڑوں طلبہ، علماء، صحافی،سیاسی رہنمائوں کو جیلوں میں بند کردیا۔

جو لوگ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے پر بھٹو کے قصیدے پڑھتے ہیں انھیں یہ علم ہونا چاہیئے کہ بھٹو نے یہ کام کوئی خوش دلی یا رضامندی سے نہیں کیا تھا، مرزا غلام احمد قدیانی کے خلیفہ نے قومی اسمبلی میں ان کیمرا جو بیان دیا تھا اس کو سن کر پوری قومی اسمبلی کے ارکان نے یہ فیصلہ دیا تھا۔
بھٹو کے قصیدے پڑھنے والے یہ بھی نہ بھولیں، کہ صحافت اور صحافیوں پر بھٹو نے کیسا تشدد کیا تھا، محمد صلاح الدین شہید پر کیسے کیسے مقدمے بنائے، الطاف حسن قریشی، مجیب الرحمن شامی، جاوید ہاشمی ابھی زندہ ہیں۔ مصطفی کھر کا عہد گورنری کیسا تھا، جوان لڑکیاں کالجوں سے اٹھا کر گورنر ہاوس پہنچائی جاتی تھی، بھٹو کی نتھ فورس کیسے شریف خاندانوں کے گھروں میں عورتوں کی بے حرمتی کرتی تھی، پولیس اور ایف ایس ایف مسجد میں جوتے سمیت کیسے گھس جاتی تھی۔
محمود خان اچکزئی سے پوچھئے کہ ان کے والد عبدالصمد خان اچکزئی کو کس نے قتل کیا تھا ؟ مولانا فضل الرحمن سے پوچھئے کہ مفتی محمود کی ٹرین کی بوگی پر بموں سے حملہ کس نے کیا تھا؟ جماعت اسلامی سے پوچھیئے کہ ڈیرہ غازی خان کے درویش صفت ڈاکٹر نذیر احمد کو کس نے شہید کیا۔جے یو آئی بلوچستان کےمولوی شمس الدین کی شہادت کیسے ہوئی ؟ حیات محمد خان شیرپاؤ کو کس نے مارا تھا ؟ مسلم لیگ والے خواجہ سعد رفیق کے منہ پر کیوں تالے لگے ہیں، ان سے پوچھئے کہ ان کے والد خواجہ رفیق کو کس نے قتل کروایا تھا ؟ لیاقت باغ میں عبدالولی خان کے جلسے پر فائرنگ کروا کر 11 افراد کس نے مار ڈالے تھے ؟
بھٹو دور پاکستان کی تاریخ کا فسطائیت کا تاریک دور تھا۔ جس میں مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لئے فیڈرل سیکیورٹی فورس بنائی گئی تھی۔ بھٹو دور میں جیلوں میں قید اسقدر تھے کہ جیلوں میں گنجائش نہیں تھی۔شیخ رشید، معراج محمد خان، تو ان کے اپنے تھے، ان کے ساتھ کیا کیا۔ مولانا محمد خان شیرانی سے پوچھئے کہ ان کے ساتھ اس دور کی جیل میں کیا گیا تھا ؟ ایرپورٹ پر مولانا شاہ احمد نورانی کی پگڑی کیسے اچھالی گئی۔ جماعت اسلامی کی نوجوان نسل کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھٹو دور میں میاں طفیل محمد کی داڑھی کیسے نوچی گئی، ان کی شلوار میں چوہے کیسے چھوڑے گئے۔ بھٹو ایک سیاسی عفریت تھا، اس دور کی جیل میں گزرنے والی قیامتوں کی تفصیل ہولناک بھی ہے اور جان لیوا بھی۔ ہم جیسے معمولی طالب علم بھٹو دور میں اپنے گھروں پر سو نہیں پاتے تھے، اس کی پولیس اور خفیہ اہلکار بو سونگھتے ہوئے ہمارے گھروں پر چھاپے مارتے۔
آج بھٹو کی مدح سرائی اور قصیدے پڑھنے والے اور جمہوریت کے والی و شیدا اگر بھٹو دور کے مظالم دیکھتے اور اس کا شکار ہوتے تو وہ بھی ضیا الحق کی آمد پر اسی طرح جشن مناتے اور لیاقت آباد میں فوجیوں کی گاڑیوں پر پھول برساتے جیسا 5 جولائی 1977 کو چشم فلک نے دیکھا تھا۔ جرمنی میں ہٹلر بھی ووٹ سے منتخب ہوا تھا، لیکن اس نے فسطائیت کے ہتھکنڈے استعمال کیئے اور بھٹو اس ہی کے نقش قدم پر چل کر اس ملک میں سیاہ جمہوریت کا سیاہ باب رقم کر گیا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: