عورت کو توجہ کا مرکز بننا اچھا لگتا ہے۔ مدیحی عدن

0
  • 22
    Shares

 عورت کو ہمیشہ سے توجہ کا مرکز بننا اچھا لگتا ہے بحثیت عورت میں نے خود اپنے اندر اس چیز کو کئی بار محسوس کیا۔ یہ عورت کی فطری کمزوری سمجھ لیں، یا ان کے نفس کا لالچ لیکن وہ ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل میں بھی  داد وصول کرنا چاہتی ہے یا منتظر رہتی ہے حوصلہ افزائی کی۔ اس چھوٹی سی تمنا کو وہ اپنے دل میں لئے کئی طرح کے جتن کرتی نظر آتی ہے۔ کبھی من پسند کھانے بنا کر، کبھی خوبصورت لباس پہن کر تو کبھی اپنی دماغی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے۔ ہر صورت حال میں وہ اپنی ذات کو محور بنا کے اپنے اردگرد کے کرداروں سے بس توجہ ہی تو مانگ رہی ہوتی ہے۔

لیکن عورت اس توجہ کے معاملے میں ہمیشہ سے بڑی جلد باز رہتی ہے، اسکو حوصلہ افزائی،  داد کی وصولی فورا چاہیے ہوتی ہے اور چاہیے بھی تصدیق شدہ شائشتہ الفاط کی ادائیگی کی صورت میں۔ تبھی یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سوشل میڈیا پہ عورتیں اپنی تصاویر مردوں کے مقابلے میں زیادہ پوسٹ کرتی ہیں، جہاں انھیں اپنی چھوٹی سی سیلفی کاوش کاصلہ چند سکینڈز میں لائیکس اور حوصلہ افزا کمنٹس کی صورت میں مل جاتا ہے، اور یہی اس کے ذہنی اعصاب کو سکون دیتا ہے۔

جیسے جیسے انسان جدید زمانے کے تقاضوں کو اپناتے گئے اسی طور آج کی عورت کے لئے اچھی گفتگو،  فیشن کے ساتھ ایڈجمسٹمنٹ اور کیرئیر اورینٹیڈ ہونا ضروری سمجھا جانے لگا ہے.  عورتوں کی خوبیوں اور صلاحیتوں کے معیار بھی بدل چکے ہیں. اب جب کک، ملازم، میڈ دستیاب ہو سکتے ہیں تو گھر داری میں مہارت یا سلیقہ گردانا نہیں جاتا ہے. یہ تو پہلے کے زمانوں کا طور تھا جب ہماری ماؤں جو دن بھر کی چولہا چوکی کے بعد داد اسی قدر ملتی تھی کہ آج کھانے میں نمک بالکل صحیح تھا.

آج کی عورت کو کافی سارے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے، اور اکثر عورتیں یہ کام صرف توجہ کے حصول کے لیے نہیں کر رہی ہوتیں، بلکہ وہ اپنی تمام تر کوشش اور جدوجہد کے بعد  داد کی وصولی کی منتظر ضرور ہوتیں ہیں اوراپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پہ توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔

لیکن کچھ عورتوں کے لیے یہ توجہ لاحاصل تمنا بن جاتی ہے۔ پھر اس تمنا کو پا لینے کے لیے وہ اپنے اندر کچھ ایسا تلاش کرتی ہے ، جو فوراً سب کی توجہ کا مرکز بن جائے اور اسی ضمن میں وہ عورت اپنے اندر فطری، ذہنی، جسمانی اور جذباتی کئی صلاحتیں ڈھونڈتی ہے ۔ ۔ ایسی عورتوں کی جلد باز فطرت بغیر ذہنی و دماغی محنت کے کچھ شارٹ کٹ راستے تلاش کرتی ہے۔اور ایسے میں اس کے پاس اپنی سب سے قیمتی دولت اپنا جسم ہی ایسا محور ہوتا ہے جس کی سر عام نیلامی کرتی ہے۔ اس ضمن میں خاص کر مغرب کی عورت کا ایک سرسری سا جائزہ لیا جائے تو اس معاشرے میں اب کوئی ایسی چیز نہیں رہی جو عورت نہ کر سکے مرد وں کے مقابلے میں ۔ مرد و عورت کی کام کرنے کی صلاحتیں تقریبا ایک جیسی ہو چکی ہیں اور دنوں میں کوئی خاص فرق نہیں رہا سوائے جنسی خدوخال کے۔ ایسے میں عورت اسی فرق کو زیادہ نمایاں کرنے کے درپے ہے جو اسے مختلف بناتا ہے مردوں سے۔ تبھی آج مغرب کی عورت لباس کومختصر سے مختصر کرکے توجہ کا مرکز بنتی نظر آتی ہیں۔ اور مرد عورت کے جسم ہی سے تو سب سے زیادہ راغب ہوتے ہیں اسکی طرف۔ مرد کی فطرت ہے کہ وہ عورت کو اس کے ظاہری حسن کی وجہ سے پسند کرتا ہے دوسرے الفاظ میں مرد کی جنسی خواہش عورت کے ظاہری خدو حال اور جسمانی خوبصورتی دیکھ کر ہی پروان چڑھتی ہے۔بے شک ہر مرد کا معیار الگ الگ ہے لیکن بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال کیم کردیشان ہے، جس نے اپنے علم یا دماغی صلاحیت سے اپنا آپ نہیں منوایا بلکہ اپنی جسمانی خدوخال کو مختلف سانچوں میں ڈھال کے وہ ہر اخبار و میگزین کی آئے روز زینت بنی رہتی ہے۔

جب معاشرے کے اصول فطرت سے ہٹ کے انسان کے ایجاد کردہ معیار پہ رکھے جائے تو فراق کے کئی راستے ڈھونڈے جاتے ہیں ۔ ایسے نام و نہاد آزاد معاشرے میں یہ آزاد عورتوں اس توجہ کے معاملے میں ہی بدترین غلام بن کے رہ گئیں ہیں۔  معاشرے کے دو ایسے کردار مرد اور عورت عاجز ہیں اپنی فطرت کے ہاتھوں جن میں وہ برابری نہیں مانگتے۔۔۔

حرص، بھڑاس اور مفاد پرستی کی جنگ نے مغربی معاشرے کا سارا توازن ہی بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔ایسے میں ایک توجہ حاصل کرنے کا صدا کا حریص بن کے رہ گیا تو دوسرا جنسی خواہشات کا بے لگام گھوڑا بنے ہر وقت ہانپتا پھرتا ہے۔ دونوں بغیر نکیل کے نام نہاد آزاد معاشرے میں کیسی آزاد بھری زندگی گزار رہے ہیں۔ خواہشات و خیالات پہ مبنی آزاد زندگی۔ بغیر کسی قیدو بند کے دو آزادجنس اپنے اپنے مفاد میں گامزن۔

_____________

مدیحی عدن کی سوچ اور زاویہ ایک خاص زاویے سے دیکھی گئی تصویر کے دوسرے رُخ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہیں معاشرے میں مایوسیاں پھیلانا پسند نہیں۔ انہیں یقین ہے کہ قلم کی طاقت سے سوچ میں تبدیلی اور سمت کا بھی تعین  بھی کیا جا سکتا ہے ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: