تصویر میری: شکور پٹھان

0
  • 76
    Shares

اگر مجھ سے پوچھو تو اس عاصی کی تمام تر زندگی بد اعمالیوں، بے راہ روی اور فضولیات کا شاہکار ہے۔ گو کہ راستباز، دیندار اور متقی احباب کی شناسائی کی بدولت “جانتا ہوں ثواب طاعت وزہد” لیکن لاکھ کوشش کروں “پر طبیعت ادھر نہیں آتی”۔
میرے افعال شنیعہ، عادات قبیحہ اور شوق ہائے فضول کی طویل فہرست میں سے ایک ہے گانا سننا۔ بخدا میں وہاں گانا سننے نہیں جاتا جہاں آپ سمجھ رہے ہیں۔۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ مجھے موسیقی (سننے) کا شوق ہے اور مجھے کے ایل سہگل سے لیکر عاطف اسلم اور امیر بائی کرناٹکی سے لے کر حدیقہ کیانی تک، سب پسند ہیں۔ میرے ثقہ اور متقی دوست میری اس بے راہ روی اور خلاف شرع اشغال سے سخت نالاں رہتے ہیں۔ میں لاکھ کوشش کے باوجود کوئی خوبصورت نغمہ سنوں تو داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا بلکہ اپنے ہم مذاق دوستوں کو بھی سنواتا ہوں۔

اس طویل تمہید کیلئے معذرت۔ عرض صرف یہ کرنا تھی کہ میرے پسندیدہ گلوکاروں میں سے ایک طلعت محمود بھی ہیں اور انکے گائے ہوئے گیتوں میں سے ایک پسندیدہ گیت “تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی” بھی ہے۔ اس کے جواب میں میرے ایک اور پسندیدہ گلوکار ایم کلیم نے “تصویر تیری دل میرا بہلاتی رہے گی” گایا اور کیا خوب گایا۔

لیکن میرے دوست رانا صاحب کا خیال ہے کہ اصل بول ہیں” تصویر ‘میری’ دل میرا بہلاتی رہے گی۔ رانا صاحب ایک شریف النفس اور نیک دل انسان ہیں۔ ان کا اپنا ٹریولنگ کا کاروبار ہے اور اس طرح دنیا دیکھنے کے مواقع بھی خوب ملتے ہیں۔ اللہ نے ان پر اپنا ہاتھ رکھا ہوا ہے اور ماشاءاللہ زندگی بہت سکون سے گذر رہی ہے۔ رانا صاحب پنج وقتہ نمازی ہیں اور اسکا ثبوت انکی پیشانی پر دمک رہا ہے۔

اللہ نے جہاں اتنا کچھ دیا ہے تو بندہ چند ایک شوق تو پال ہی لیتا ہے۔ واللہ ان کا کوئی شوق میرے اشغال کی طرح غیر شرعی نہیں ہے۔ رانا۔ صاحب کے تین چار معصومانہ سے شوق ہیں۔ جن میں سے ایک تو ہے سفر کرنا، دنیا دیکھنا، دوسرا اچھے کھانے کھانا، تیسرا ہے فیس بک، جس کے زریعے ہر دم ہر لحظہ ہر آن اپنے دوست احباب کو اپنی مصروفیات سے آگاہ رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اور چوتھا اور مرغوب ترین شغل ہے، ان تمام اشغال اور افعال کی “خودتصویر کشی” یعنی “سیلفی” لینا ہے۔

سیلفی کا شوق رانا صاحب کو جنون کی حد تک ہے۔ صبح اٹھتے ہی غسل خانے جانے سے پہلے اور غسل کے بعد ایک تصویر احباب کو فیس بک پر ارسال کرتے ہیں۔ دفتر جاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے۔ دفتر پہنچتے ہی ٹیلیفون ہاتھ میں لیکر، غرض ہر نئی حرکت کرتے ہوئے ایک سیلفی لیکر دیکھتے ہیں کہ کیسے لگ رہے ہیں اور مطمئن ہوتے ہی فیس بک پر ‘ڈال’ دیتے ہیں۔

رانا صاحب کے تمام شوق ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں۔ سفر پر جاتے ہوئے، نئی جگہ کھانا کھاتے ہوئے سیلفی لینا اور فورا” فیس بک پر ڈالنا گویا ان کے فرائض منصبی کا حصہ ہیں۔

پچھلے دنوں رانا صاحب فیس بک پر احرام میں نظر آئے۔ ساتھ ہی خبر دی تھی” ایٹ کراچی ایئرپورٹ۔۔۔ گوئنگ فور عمرہ”

رانا صاحب سے کچھ دن پہلے ہی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اپنی بیگم کے ہمراہ ایک کاروباری دورے پر یہاں آئے ہوئے تھے۔ وہ اکثر یہاں آتے رہتے ہیں اور دوبئی، شارجہ کے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور ڈھابوں سے مجھ سے زیادہ واقف ہیں۔ میں نے انہیں اور انکی بیگم کو ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کی دعوت دی جو انہوں نے ازراہ بندہ پروری قبول فرمالی۔ میری اہلیہ بھی ساتھ تھیں۔ بعد از طعام رخصتی سے پہلے انہوں نے سب کی ایک سیلفی بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ میری بیگم سخت پرانے خیال کی ہیں اور فیس بک پر خاندان کی خواتین اور بچوں کی تصاویر کو بے حد ناپسند کرتی ہیں۔ میں البتہ گا ہے بگاہے اپنی پرانی تصاویر فیس بک پر ڈال کر احباب کے تبصرے سن کر خوش ہولیتا ہوں۔ دراصل نہار منہ آئینہ دیکھ کر سخت مایوسی اور کوفت ہوتی ہے۔ وہ مصرعہ یاد آتا ہے ” بڑھاپا دیکھ کے رویا”۔۔ بہرحال میں نے ان کے ساتھ ایک تصویر بنوالی۔ گھر پہنچ کر فیس بک دیکھا تو میری تصویر سامنے ہی تھی “ود شکور بھائی ان شارجہ”۔

تو میں کہہ یہ رہا تھا کہ اس ملاقات میں انہوں نے عمرہ کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ میں نے انہیں فیس بک پر مبارکباد دی۔ سفر میں آسانی اور عمرہ کی قبولیت کے لئے دعائیں دیں اور ساتھ ہی پوچھ بیٹھا کہ یہ اچانک عمرہ کا ارادہ کیسے بن گیا۔

رانا صاحب سادہ دل اور سچے انسان ہیں۔ ” دو افراد کیلئے بڑا اچھا پیکیج ڈھائی لاکھ میں مل گیا تھا”۔ انہوں نے بتایا۔ “اس میں ٹکٹ، قیام و طعام اور زیارات وغیرہ شامل ہیں۔ میں نے استفسار کیا کہ انہیں تو مفت ٹکٹ وغیرہ ملتے رہتے ہیں تو فرمایا کہ ” نہیں! عمرہ اور حج بندے کو اپنے ہی “خرچے” پر کرنا چاہئے۔ پھر یہ کہ ڈھائی لاکھ کا ہی تو “خرچہ” ہے۔

چند گھنٹوں بعد رانا صاحب کی تصویر فیس بک پر پھر نمودار ہوئی “ایٹ جدہ ایرپورٹ۔۔۔گوئنگ ٹو مکہ”۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کی ان تمام تصاویر میں وہ احرام میں ملبوس تھے۔

اس کے بعد وقفے وقفے سے ان کی تصاویر آتی رہیں۔ مکہ کے ہوٹل کی تصویر۔۔انہوں نے بتایا کہ بہت اچھا پیکج ہے ڈھائی لاکھ میں۔ ہوٹل بالکل حرم کے قریب ملا پے۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہوئے، حرم کعبہ کے باہر، حرم میں داخل ہوتے ہوئے، حرم میں قدم رکھتے ہوئے، طواف کرتے ہوئے ایک تصویر سامنے سے لی تھی جس میں عقب میں انکی بیگم بھی نظر آرہی تھیں۔ ایک تصویر عقب سے لی تھی جس میں ان سے آگے کچھ زائرین نظر آرہے تھے۔ ایک جگہ خانہ کعبہ پس منظر میں تھا اور دوستوں کی رہنمائی کیلئے
تاکہ کوئی مغالطہ نہ ہو، لکھا تھا۔”۔ میرے پیچھے خانہ کعبہ ہے”۔
ایک تصویر مقام ابراہیم کے قریب تھی۔
غرضیکہ ہر پر سعادت موقع پر انہوں نے اپنے دوست احباب کو شامل اور آگاہ رکھا تھا۔ یہ انکی کرم نوازی تھی کہ ہم گناہگاروں کو بھی حرم کے پر نور نظاروں سے مستفیض فرمارہے تھے۔

ایک تصویر میں کعبہ کی دیوار سے گال لگائے اور بایاں ہاتھ اٹھائے دعا مانگتے نظر آرہے تھے۔ دایاں ہاتھ غالبا” مصروف تھا۔ لیکن شاہکار تصویر وہ تھی جس میں حجرہ اسود کی سنہری جالی کے سنہری فریم سے رخسار چپکائے۔ ترچھی نظر سے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئےچہرے پر ایک خفیف سی مسکراہٹ جس میں عاجزی بھی تھی، شکر گذاری بھی تھی ساتھ ہی ایک فخروانبساط کی سی کیفیت بھی تھی کہ الحمدللّٰہ بغیر کسی رکاوٹ کے اتنی عظیم سعادت میسر آرہی ہے۔ مجھے ان کی خوش نصیبی پر رشک آیا اور اپنی بد نصیبی یاد آئی کہ کئی بار حجرہ اسود کے قریب پہنچنے کے مواقع ملے لیکن آج تک اسے چومنے کی سعادت نصیب نہ ہوئی۔ گو کہ اسے چھوا کئی بار لیکن ہجوم نے اس سے زیادہ کا موقع نہیں دیا۔

یاد آیا کہ بچپن اور لڑکپن میں جب کبھی گھر کے بڑوں کو میری گو شمالی اور سرزنش مقصود ہوتی ایک فقرہ ضرور سنائی دیتا “بے وقوف کہیں کا”۔
میرے جہاندیدہ بزرگوں کا اس خاکسار سیرت و کردار اور ذہنی صلاحیتوں کا یہ ایسا جامع اور مکمل تجزیہ تھا جو ساری زندگی بزرگوں کے اس قول کو درست ثابت کرتا رہا۔

یہ تصویریں دیکھ کر احساس ہوا کہ میں بھی کس قدر بے وقوف تھا کہ جب پہلی بار کعبتہ اللہ کی زیارت نصیب ہوئی اور دیوار کعبہ کو چھونے کا موقع ملا تھا۔ دوستوں اور رشتہ داروں نے ہدایات دی تھیں اور درخواستیں کی تھیں کہ یہ موقعے قبولیت دعا کے ہوتے ہیں۔ حرم کی دیوار سے لپٹو تو جس قدر مانگ سکتے ہو مانگ لو اور ہمیں بھی ضروریاد رکھنا۔

لیکن مجھ بے وقوف کو نجانے کیا ہوا کہ دیوار کعبہ کو چھوتے ہی ایک جھٹکا سا لگا۔جی چاہا کہ اپنا ہاتھ کھینچ لوں۔ اپنی بے مایہ اور خطاؤں سے پر زندگی یاد آئی۔ یاد آیا کہ کیسی کسی نافرمانیاں اور گستاخیاں میں نے اس خالق حقیقی کی، کی ہیں جس نے مجھے دنیا جہاں کی ہر نعمت سے نواز رکھا ہے۔ لیکن اب کچھ یاد نہ رہا۔ کوئی دعا نہ کوئی آیت یاد آئی۔ بس یوں لگا کہ سینے سے کچھ امڈ کر باہر آرہا ہے۔ آنسوؤں کی جھڑی تھی کہ رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔ حلق سے جیسے گرم کھولتی ہانڈی کی کھد بد کی سی آواز آرہی تھی۔ کچھ نہ پتہ تھا کہ مجھے کیا ہورہا ہے نہ اس بات کی پروا تھی کہ دیکھنے والے کیا سوچ رہے ہونگےُ اور وہ کیا سوچتے وہ تو مجھ سے بھی زیادہ آشفتہ سر نظر آتے تھے۔ ہچکیاں آہستہ آہستہ تھم گئیں۔ نہ کوئی دعا مانگی نہ کوئی توبہ استغفار کی۔ میرے عقب میں کچھ لوگ منتظر تھے۔ ان کیلئے جگہ خالی کی اور وہاں سے ہٹ گیا۔ کچھ دیر ایسا محسوس ہوا کہ بالکل بے وزن ہوں اور خلا میں چل رہا ہوں۔

اس کے بعد بھی تین چار بار یہ سعادت نصیب ہوئی اور ہر بار یہی کیفیت رہی۔

بے وقوف میں یوں تھا کہ اتنے عظیم موقعے کی کوئی تصویر نہ بنا سکا کہ ساری زندگی یاد رکھتا اور دوست آحباب کو بھی بتاتا کہ دیکھو میری خوش نصیبی۔

رانا صاحب کس قدر خوش نصیب ہیں کہ اتنے یادگار مواقع کو بھی نہ صرف تصویروں میں محفوظ کرلیا بلکہ ہم جیسے گناہگاروں کو بھی ہر وقت اس سعادت میں شامل اور یاد رکھا۔

لیکن مجھے کیوں یہ گمان ہے کہ کسی نہ کسی موقع پر ضرور انہوں نے اپنے اسمارٹ فون کو اپنے احرام کی بیلٹ میں اڑس لیا ہوگا اور دیوار کعبہ سے چمٹ کر گریہ وزاری کی ہوگی کہ اے اللہ! اے میرے مالک! میرے گناہوں کو بخش دے، مولا مجھے معاف کردے، یا اللہ تیری بارگاہ میں اتنی دور سے چل کر حاضر ہوا ہوں۔ یا اللہ میرے سارے گناہ معاف کردے۔ یا اللہ معاف کردے۔۔

معاف کردے۔۔۔ بخش دے۔۔۔۔ نہیں تو میرے ڈھائی لاکھ واپس کردے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: