کرکٹ میچ اور حُب الوطنی کے تقاضے: محمد عثمان

0
  • 2
    Shares

وطن سے محبت انسان کا ِفطری تقاضا ہے۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہرانسان جس خطہء زمین میں آنکھ کھولتا ہے اور پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک زندگی کے مختلف مراحل گزارتا ہے وہ خطہ انسان کی تمام جسمانی، علمی اور روحانی ضروریات پوری کرنے کا باعث بنتا ہے جن میں خوراک، لباس، رہائش، صحت، تعلیم، تہذیب و تمدن، امن و امان اور روزگار شامل ہیں۔

جِس طرح اپنا گھر جیسا بھی ہوانسان کو وہی اچھا لگتا ہے اور وہیں اسے چین سکون کی نیند میسر آتی ہے، اِسی طرح اپنا وطن چاہے جیسا بھی ہو انسان کو اُسی سے اپنائیت اور اُنس کا احساس ہوتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں وطن کی محبت کو ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے۔ یعنی جو شخص اپنے وطن سے محبت نہیں کرتا اس کے ایمان کے مکمل ہونے پر شک موجود رہے گا۔ نبی اکرم ﷺ جب مکہ سے مدینہ ہجرت فرمارہے تھے تو آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ کو مخاطب کرکے فرمایا:’’ اے مکہ! تو کتنا پیارا شہر ہے، تو مجھے کس قدر محبوب ہے، اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی دوسرے مقام پر سکونت اختیار نہ کرتا۔‘‘ (ترمذی)

وطن سے اِسی محبت کا تقاضا ہے کہ انسان دنیا میں دوسرے ممالک کے مقابلےمیں اپنے وطن کو کامیاب و کامران دیکھنا چاہتا ہے۔ اِس کا سادہ اور پست ترین اظہار کھیلوں کے مقابلوں کے موقع پر دیکھنے میں آتا ہے جہاں ہر ملک کے شہری اپنے اپنے وطن کی کامیابی کے لئے پرجوش اور دعا گو ہوتے ہیں۔۔ کھیلوں کے یہ مقابلے جب دو مخالف ممالک کے درمیان منعقد ہوتے ہیں تو جوش و جذبہ کی کیفیات اپنے عروج پر پہنچی ہوتی ہیں اور ایسا لگنے لگتا ہے گویا دونوں ممالک میں جنگ چھڑنے لگی ہے۔ اس کی واضح ترین مثال پاکستان اور انڈیا کے مابین ہونے والے کرکٹ میچز ميں دیکھی جاسکتی ہے۔ حال ہی میں پاکستان اور انڈيا کےدرمیان چمپئنز ٹرافی کا فائنل کھیلا گیا۔ میچ سے کچھ دن پہلےہی دونوں ممالک کی اقوام میں جوش اور بے چینی کے جذبات پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے۔ ان جذبات کو پیدا کرنے اور ابھارنے میں کارپوریٹ میڈیا (جس کا واحد مقصد اشتہارات کے زریعے پیسہ کمانا ہوتا ہےاور اسے عوام کی اخلاقی تربیت اور خیرخواہی سے کوئی غرض نہیں ہوتا) خوفناک حد تک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک ہی مشروب بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنی دونوں ملکوں میں بیک وقت اشتہار بنا کر قوم میں مصنوعی جوش اور احساس تفاخر پیدا کررہی ہوتی ہے۔

حالیہ کرکٹ میچ کو دنیا بھر میں کروڑوں افراد نے ٹیلی ویژن اور موبائل فونز وغیرہ پر دیکھا۔ میچ کے دوران اور بعد میں سوشل میڈیا پر بھی جنگ کی سی کیفیت رہی۔ دونوں اطراف کے عوام و خواص نے میچ سے پہلے، میچ کے دوران اور میچ ختم ہونے کے بعد اپنی اپنی ٹیم کی حمایت میں جذباتی سٹیٹس اپ ڈیٹ کئے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ پاکستان ایک طویل عرصے بعد ہندوستان کو ہرانے میں کامیاب ہوا جس کےبعد پورے ملک میں جشن کا سا سماں تھا اور خوشی کے اظہار کے لئے اخلاقی اور غیر اخلاقی دونوں طریقے اختیار کئے گئے۔یہ رویہ دین اسلام کی تعلیمات کے برعکس ہے جس میں کامیابی پر خدا کے سامنے اور مخلوق خدا کے ساتھ انکساری، عاجزی اور متانت جبکہ ناکامی پر اپنی غلطیوں کے جائزے، صبر و استقامت اور مسلسل جدوجہد کی تعلیم دی گئی ہے۔کسی کے غلط رویے کو اپنی بیہودگی کے جواز کے طور پر پیش کرنا بھی دینی مزاج سے متعلق لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے جس میں برائی کا جواب بھلائی سے دینے کی تلقین کی گئی ہے۔ میاں محمد بخش کا یہ شعر انسان دوستی اور احترامِ انسانیت کی اعلی مثال پیش کرتا ہے:

دشمن مرے تے خوشی نہ کريے۔۔

سَجناں وِی مرجاناں اَے۔۔

یہاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا وطن کی محبت کا تقاضا محض کرکٹ میچ میں اپنی ٹیم کی کامیابی کے لئے خواہش اور دعائیں کرنے تک محدود ہے؟ اسی طرح یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پوری قوم صرف کرکٹ میچ میں مخالف ٹیم کو ہرانے کے لئے ہی متحد اور یک جان کیوں ہوتی ہے؟ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی نوجوان وطن سے محبت کے دیگر تقاضوں کو بھی پہچانیں۔ جس طرح ہم کرکٹ میں اپنی ٹیم کو نمبر ون دیکھنا چاہتے ہیں اسی طرح کیوں نہ ہم زندگی کے دیگر مقابلوں میں بھی اپنے وطن کو وکٹری سٹینڈ پر دیکھنے کا تخیل اور سوچ پیدا کریں۔ آج ستر سال بعد ریاستی اداروں کی ناکامی کے نتیجے میں ہم انسانی زندگی کے ہر میدان میں ترقی یافتہ دنیا سے پیچھے ہیں۔ کھیلوں کے اِن مقابلوں کے بارےمیں ایک رائے(جس سے اختلاف ممکن ہے) یہ بھی ہے کہ رومن سلطنت سے لے کر آج تک حکمران طبقات اِن مقابلوں کی سرپرستی اِس لئے کرتے ہیں تاکہ عوام کو بے مقصدتماشوں میں الجھا کر ان کی  توجہ اصل مسائل سے ہٹا ئی جا سکے۔

جس طرح کرکٹ ٹورنامنٹ میں کارکردگی کے حساب سے ٹیموں کی درجہ بندی کی جاتی ہے، اِسی طرح دنیا میں مختلف ادارے بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی، صحت، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، امن و امان، معاشی خوشحالی وغیرہ سے متعلق اقوامِ عالم کی درجہ بندی کرتے ہیں۔ اس طرح کی ہر درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 140 سے لے کر 160 کے درمیان ہوتا ہے۔ اِس ضمن میں ایک اہم اعشاریہ اقوام متحدہ کی طرف سے ہرسال جاری کردہ ہیومن ڈیولپمنٹ انڈکس ہے۔ یہ اعشاریہ ممتاز پاکستانی معیشت دان ڈاکٹرمحبوب الحق کا مرتب کردہ ہے اور اِس میں کسی بھی ملک کے عوام کی صحت، تعلیم، فی کس آمدنی، قوت خرید اور معیارزندگی جیسے عوامل کی بنیادپر درجہ بندی کی جاتی ہے۔2016ء کی مرتب کردہ درجہ بندی کے مطابق اس انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 147 واں ہے۔انتہائی شرم کا مقام یہ ہے کہ افریقہ کے پس ماندہ ممالک کینیا، گھانا، مراکش، اور خانہ جنگی سے تباہ شدہ عراق اور فلسطین جیسے ممالک بھی انسانی معیارِ زندگی کے حوالے سے ہم سے بہتر پوزیشن رکھتے ہیں۔

ہیومن ڈیولپمنٹ انڈکس کی تفصیل جاننے کے لئے لنک پر کلک کریں

 تصور کریں کہ اگر ہم کرکٹ میں نیپال اور ہانگ کانگ جیسی ٹیموں سے مستقل بنیادوں پر ہارنے لگیں تو ہم کتنی مایوس اور غصے کا شکار ہوں گے۔ اپنی ٹیم اور پورے کرکٹ کے نظام کو برا بھلا کہیں گے، یہاں تک کرکٹ کی خرابی کا ذمہ دار بھی اپنے حکمرانوں کو قرار دیں گے۔لیکن انسانی معیارزندگی کے حوالے سے دنیا میں سب سے پیچھے ہونے کے باوجود ہم مطمئن اور شاداں ہیں۔ شاید ہم نے اپنے آپ کو سمجھا لیا ہے کہ ہم جہاں ہیں، جیسے ہیں ٹھیک ہیں۔ہمیشہ سے ایسے ہی ہوتا آیا ہے اور آگے بھی ایسے ہی چلے گا۔ باقی رہی سہی کسر ہمارے رجعت پسند مذہبی طبقے نے نکال دی ہے جس نے اس ذلت و مسکنت اور رسوائی کو قسمت کا کھیل قرار دے رکھا ہے جس کا انعام ہمیں آخرت میں ملے گا۔  مایوسی اور بے عملی کی اِس سوچ کے بعدانسان میں اپنے اجتماعی حالات کی بہتری  کے لئے جدوجہد کی طاقت کہاں باقی رہتی ہے!

آج ہر پڑھے لکھے پاکستانی نوجوان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اِس بات پر غور و فکر اور اجتماعی مکالمے کا آغاز کرے کہ ہمارے قومی زوال کی کیا وجوہات ہیں۔ انتہائی باصلاحیت افرادی قوت، ہر طرح کے موسم، زرخیز زمین، معدنیات اور دیگر وسائل کی کثرت کے باوجود ہم کیوں بحرانوں کاشکار ہیں۔ کیوں ہمارے 60 فی صد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں، کیوں ہماری 80 فی صد آبادی مضرِ صحت پانی پینے پر مجبور ہے، کیوں ایک زرعی خطہ ہونے کے باوجود ہمارے عوام کی اکثریت معیاری غذا سے محروم ہے، کیوں ایک طرف دولت کے انبار لگ رہے ہیں اور دوسری طرف ہزاروں انسان خوراک اور دوا نہ ملنے سے مر رہے ہیں یا پھر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ کیوں ہم اپنے آبی وسائل کو مناسب زریعے سے استعمال نہیں کرپارہے، کیوں ہر دومنٹ بعد ایک نومولود بچہ (ڈھا‏ئی لاکھ بچے سالانہ) طبی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے جینے کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ کیوں ہر دس منٹ بعد ایک ماں اپنے بچے کو جنم دیتے ہوئے موت کے منہ میں جارہی ہے، کیوں ہمار ا اعلٰی تعلیم یافتہ ا نوجوان بہتر مستقبل کے لئے اپنے ملک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ جانا چاہتا ہے، چاہے اِس کے لئے اُسے اپنا خاندان اور تہذیب و تمدن بھی چھوڑنا پڑے، کیوں ہم اپنے ملک سے زیادہ پردیس میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں، کیوں ہمارے ملک میں صحت، تعلیم، امن وامان اور انصاف جیسے بنیادی انسانی حقوق انتہائی منافع بخش  کاروبار کی صورت اختیار کرچکے ہیں جن سے صرف اہل دولت ہی فائد اٹھا سکتے ہیں، کیوں یہ ملک ایک محدود اقلیت کےلئے جنت اور باقی اکثریت کے لئے جہنم بنتا جارہا ہے!کیا اس کی وجہ وسائل کی کمی ہے یا پھر قیادت کے ویژن، اخلاص، صلاحیت اور ترجیحات کی؟

ہمارے معاشرے میں حُب الوطنی کا لازمی مطلب دوسری اقوام سے نفرت اور انتقام سمجھ لیا گیا ہے۔ ہم اپنی تعمیر پر اتنی محنت نہیں کرتے جتنا ہم دوسروں کی تباہی و بربادی کے شوق میں مبتلا ہیں۔ جب الوطنی کے نام پر یہ منفی رويے ہمارے مسائل کے حل میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں جن سے چھٹکارا پانا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارا دین جس طرح ہمیں اپنے خاندان، محلے، شہر اور ملک سے محبت سکھاتا ہے اسی طرح وہ پوری انسانیت کو خدا کا خاندان قرار دے کر ہمیں رنگ،نسل، مذہب، علاقے سے بالاتر ہو کر انسانی مساوات، ظلم سے نفرت، ہمدردی اور پیارمحبت سکھاتا ہے۔ اِس ضمن میں مولانا عبید اللہ سندھی  کا قول” فرد وہ اچھا ہے جو اپنی قوم کے لئے فائدہ مند ہے اور قوم وہ اچھی ہے جو پوری انسانیت کے لئے فائدہ مند ہے۔“ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ نفرتوں کے اس ماحول میں یہ فکر پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پرونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امید کی جاسکتی ہے کہ اگر پاکستان کے نوجوان حُب الوطنی کے حقیقی تقاضوں کو سمجھ کر ان کے مطابق عملی جدوجہد کریں تو پاکستان نہ صرف کرکٹ کے میدان میں تسلسل سے کامیابی حاصل کرے گا بلکہ انسانی زندگی کے دوسروں شعبوں میں بھی ہمارا وطن چمپئن اور دوسرے ممالک کے لئے باعث تقلید بنے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: