لالچ اساں کو کھا گئے ۔۔۔۔ فارینہ الماس

1
  • 140
    Shares

مفت میں ملی ہر شے ہمارے لئے ایک انجانی سی سر شاری کا باعث بنتی ہے۔ بچپن سے ہی ہمیں لوٹی ہوئی پتنگ کے حصول پر فخر کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یا شاید یہ ہماری سرشت کا حصہ ہے کہ اس لوٹی ہوئی کٹی پھٹی پتنگ کی قدر ہمارے نزدیک خود سے خرید کر حاصل کی گئی پتنگ سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ہم اس لوٹ کھسوٹ اور چھینا چھپٹی کو اپنی خوش بختی سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی سوچ بددیانتی، بدنیتی، ہوس، لالچ، جھوٹ اور طمع کو جنم دیتی ہے جس کے تانتے چوری اور بدعنوانی سے جا ملتے ہیں۔ لالچ اور لوٹ کھسوٹ جب معاشرے کے ہر طبقے کے اندر سرایت کر نے لگے تو اس کا بگاڑ قوم کے مزاج اور تشخص میں اتر آتا ہے جو بعد ازاں اس کی پہچان بن کر ابھرتا ہے۔

غریب اور جاہل کی بدعنوانی چھوٹے موٹے ہیر پھیر سے عبارت ہوتی ہے۔ مثلاً روٹی چرانا یا زمین پر پڑی کوئی شے اٹھا لینا۔ اس کی ہیرا پھیری کی دسترس میں سٹریٹ لائٹ کے بلب، گٹروں کے ڈھکن، پانی کی ٹینکیوں اور کولروں کے گلاس اور ٹونٹیاں، مسجدوں کے باہر پڑے جوتے اور ایسی ہی انگنت معمولی اشیاءرہتی ہیں۔ ایسی ہیرا پھیری سے وہ کچھ وقت کی روٹی یا کوئی چھوٹا موٹا خرچہ نکال لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ گو کہ اس چھوٹی موٹی چوری سے بھی سماج کا مجموعی تاثر تو غرق ہوہی جاتا ہے۔ لیکن وقت، سماج کے منہ پر لعنت کا تیزاب اس وقت پھینکتا ہے جب ملک و قوم کے پڑھے لکھے عالم فاضل لوگ چور اور بدعنوان بن جائیں کیونکہ ایک جاہل، ان پڑھ غریب کی چوری خود اس کو کھا جاتی ہے لیکن پڑھے لکھے، امیر کی چوری پورے سماج کو چاٹ جاتی ہے۔

اس طبقے کی بظاہر معمولی قسم کی ہیرا پھیریاں بھی ملک و قوم کے لئے عظیم شخصی و تمدنی بحران کا باعث بن جایا کرتی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جن دنوں میں پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ تھی، تو اکثر اسائنمنٹس کی تیاری کے لئے ” پنجاب پبلک لائبریری ” جایا کرتی۔ اکثر ہی ایسا ہوتا کہ مجھے جس کتاب کی طلب ہوتی وہ پہلے سے ہی کسی اور کی دسترس میں ہوتی اور اکثر دریافت کرنے پر معلوم پڑتا کہ اسے ایشو کرواکر لے جانے والا کئی مہینوں سے اس کی واپسی کی ذمے داری کو فراموش کئے بیٹھا ہے۔ اور جو کتابیں دستیاب ہو جاتیں ان کے انتہائی اہم ابواب سرے سے ہی غائب ہوتے۔ جن کے کاغذ اس بے دردی سے کتابوں سے نوچے جاتے کہ باقی رہ جانے والی کتاب ادھڑے ہوئے کاغذوں کا مرقع بن کے رہ جاتی۔ بات محض کئی کئی ماہ سے ایشو کر واکر اچھی خاصی تاخیر سے کتابوں کی واپسی تک ہی محدود ہوتی تو بھی شاید علم اور متعلم کا اتنا بڑا نقصان نہ ہوتا لیکن ماجرہ تو کچھ یوں بھی تھا اکثر کتابوں کی تو کبھی واپسی بھی ممکن نہ ہوئی تھی اور وہ کئی کئی سالوں سے غائب تھیں۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ سند ہے کہ ایک دن کتاب ایشو کرواتے ہوئے میری نظر کاؤنٹر پر کھڑی ایک خاصی رکھ کھاؤ والی خوش مزاج، خوش لباس خاتون پر پڑی۔ وہ اچھی خاصی تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر آسودہ حال دکھائی دے رہی تھیں۔ ان کے ہاتھوں میں چار یا پانچ ضخیم قسم کے، لیکن کٹی پھٹی جلدوں کے کتابی نسخے تھے۔ جو کاؤنٹر پر بڑی عجلت اور دیدہ دلیری سے رکھتے ہوئے وہ گویا ہوئیں، “جناب آج سے تقریباً پانچ یا چھ سال پہلے میرے بیٹے نے اپنے پی ایچ ڈی تھیسز کی تیاری کے لئے یہ کتابیں ایشو کروائی تھیں۔ اب تو خیر سے وہ پی ایچ ڈی مکمل کر کے بیرون ملک ملازمت بھی کرنے لگا ہے۔ اس کے کمرے کی صفائی ستھرائی میں یہ کتابیں آڑے آتی ہیںسو میں نے سوچا انہیں واپس ان کی جگہ پر پہنچا دوں۔ “حیرتوں کے پہاڑ میرے شعور پر بری طرح گرنے لگے تھے۔ میں کتنی ہی دیر اس سوال سے الجھی رہی کہ کیا پڑھے لکھے، باشعور طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ایسی غیر ذمے داری، غفلت، بے حسی یا مطلب پرستی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟

ایک ماں اپنے بچے کو پی ایچ ڈی کے لئے تیار کر سکتی ہے لیکن اسے ایمانداری سکھا پانے میں ایسی غافل کس طور ہو سکتی ہے۔ لیکن آج کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے وہ خاتون خاصی عظیم معلوم ہوتی ہیں کہ ان ضخیم نسخوں کو ردی کے کاغذ بنا کر چند سکوں کے عوض بیچ ڈالنے کی بجائے کم سے کم انہوں نے انہیں ان کے اصل مقام پر پہنچانے کا کشٹ تو اٹھایا۔ میں نے زمانہءطالبعلمی میں ایسے طالب علموں کو بھی دیکھا ہے جو اچھے خاصے آسودہ حال خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے لیکن اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انہوں نے جعلسازی سے اپنی فیس زکواة کے زمرے میں معاف کروا رکھی تھی۔ یہ ایسی ہیرا پھیریاں ہیں جن میں براہ راست والدین بھی شریک کار ہوتے ہیں۔ ایسی ہی ابتدا کے حامل نوجوان اگر بعد ازاں صحت مند لوگوں کے جعلسازی سے گردے نکال کر بیچنے لگیں، پروفیسر بن کر اپنے ہی طلبہ کے تحقیقی مقالے اپنے نام سے چھپوانے لگیں، بھاری رشوت لے کر مقدمات کے فیصلے بدلنے لگیں، افسر بن کر حکومتی مال اسباب میں ہیر پھیر کرنے لگیں تو ہمیں حیران نہیں ہونا چاہئے۔ پڑھے لکھوں کی چوری کسی ایک نوعیت کی نہیں اس کا اظہار و انداز بہت متنوع اور لامحدود ہے۔ امریکہ سے محض تین ڈالر میں خریدے گئے سٹنٹ چار یا پانچ لاکھ میں بیچنے والے، غریبوں کے لئے حکومتی امداد سے ملنے والی ادویات بیچ کر کھاجانے والے، بڑے بڑے ادباءاور شعراءکی لکھائی اور شاعری کی زمینیں چرانے والے، مال اسباب کی فراوانی کی خاطر حکومتی قصیدے پڑھنے والے، حکومتی ایوانوں میں بیٹھ کر کروڑوں، اربوں کے گھپلے کرنے والے، عمارتوں، سڑکوں کی تعمیر میں ناقص میٹیریل استعمال کرنے والے یہ ڈاکٹرز، انجنیئرز، پروفیسرز، وکلائ، جج، اعلیٰ افسران، دانشور، ادیب اور سیاستدان بھی اس باشعور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو عموماً معاشرے کی تعمیر و ترقی کا زمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ہمارا یہ طبقہ مطلب پرستی اور ہوس پرستی سے عبارت خواہشوں کے بھنور میں کھو کر راہزن اور قزاق بن چکا ہے۔

گویا مسئلہ یہ نہیں کہ ترقی و نیک نامی کی راہ میں جہالت اور غربت آڑے آ رہی ہے مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے مہذب بننے کے راستے میں حیاتیاتی ضرورتوں کے انبار اور اخلاقی پستی کے اسباب حائل ہو رہے ہیں۔ محض کتابی علم کی فراہمی اگر گمراہی، بے شعوری، اخلاقی و شخصی انحطاط اور گراوٹ کو روکنے کے قابل ہوتی تو انسانی معاشرے کا ہر پڑھا لکھا فرد با کردار، مہذب، اور ایماندار ہوتا۔ حضرت عیسیٰؑ کا حواری یہودہ سب سے زیادہ تعلیم یافتہ تھا۔ لیکن اس نے انہیں محض تیس چاندی کے سکوں کے عوض بیچ دیا۔ قدیم معاشرے لالچ کے اس ناسور سے اس قدر متاثر نہیں تھے جتنا کہ آج۔ کیونکہ آج ہماری ترجیحات میں خاصا بدلاؤ آ چکا ہے۔ تعلیم ہی ہماری ترجیحات کو بدلاؤ دے رہی ہے جو مادی ضرورتوں کی بے لگام تکمیل و تشکیل پر مبنی ہے۔ تعلیم ایک ایسے کاغذی ٹکڑے کے حصول کی کشمکش تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جسے مارکیٹ میں کمائے جانے والے ممکنہ سرمائے کی قدر کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ یہ معاشی منفعت سے عبارت تعلیم جس کا ہمارے کردار یا شخصیت سازی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ہمیں اپنی سچائی دریافت کرنے اور عیاں کرنے کی بجائے، ہمیں ہمارے باطن کو ڈھانپنے اور چھپانے کے گر بتاتی ہے۔ ہماری وحشتوں اور غیر انسانی رویوں کو نقاب اوڑھانے کے ایک سو ایک راز سکھاتی ہے۔ یہ ہمیں نفس پرست اور موقع شناس بناتی ہے جس کا آغاز اور انتہا لالچ سے عبارت ہے۔ ہمارا حاصل اور مطلوب محض دولت اور شہرت کی تمنا گاہ تک پہنچنے کے سفر تک محیط ہو کر رہ گیا ہے۔

پڑھے لکھے اور جاہل چور میں بہت بڑا فرق ہے۔ جاہل قانون کے ڈراوے میں آ جاتا ہے۔ اور پکڑے جانے پر شرمسار بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنی چوری کو مان بھی لیتا ہے اور سب سے بڑی بات اس کی چوری کی کوئی نہ کوئی حد ضرور ہوتی ہے۔ جب کہ پڑھا لکھا امیر شخص اس معاملے میں زرا برابر بھی اعلیٰ ظرفی نہیں دکھاتا۔ وہ قانون اور منصف کو اپنے گھر کی باندی سمجھتا ہے۔ وہ انصاف کو اپنی جیب کے سکوں سے خرید لینا چاہتا ہے۔ وہ پکڑے جانے پر شرمسار بھی نہیں ہوتااور تو اور کمال ڈھٹائی سے وہ اپنی چوری کو چوری سمجھنے سے ہی منکر ہو جاتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کا لالچ اور طمع اس کی موت تک بے انت ہی رہتا ہے۔

ہمارے مجموعی طور پر کرپٹ اور بد دیانت ہو چکنے کی ایک بڑی وجہ ہماری سرشت کی سستی اور کاہلی بھی ہے۔ محنتی لوگ ہمیشہ پر امید، باحوصلہ، کامیابی کے لئے گرمجوش اور اپنے زور بازو پر یقین رکھنے والے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ نفس کی خواہشوں کو پورا کرنے سے کہیں زیادہ نفس کی عزت اور احترام کو فوقیت دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے لئے ہماری ذات کا احترام و تقدیس کوئی معنی نہیں رکھتا۔ گویا گمراہی اور جہالت سے نکلنے کے لئے ہمیں ہمارے سچ کو دریافت کرنا ہو گا۔ جو تعلیمی فلسفوں، تصورات، اور الفاظ میں ڈھونڈنے سے کبھی نہیں مل سکتا بلکہ مذید گمراہی اور الجھاؤ ہمارا مقد ر بن جائے گا۔ سچائی کا حصول خود اپنے اندر جھانکنے اور اپنی قدر اور مقام کو دریافت کرنے سے ممکن ہے۔ وہ مقام جو مادی لالچ و لوبھ سے بالا تر ہے۔ جو بھوک برداشت کرنے کو چوری اور لوٹ کھسوٹ سے افضل سمجھتا ہے۔

 

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: