کیا مفاد پرست سچ بولتے ہیں؟ عتیق بیگ

0
  • 55
    Shares

مولانا مودودی صاحب کا ایک فقرہ بہت ہی اچھا لگتا ھے انہوں نے کہا تھا کہ”یہ دنیا کھوٹے کو کھرا تو مانتی ہی نہیں اور کھرے کو بھی بنا پرکھے کھرا نہیں مانتی” مگر افسوس کہ وہ دنیا والے اور ہیں۔ ہم تو بس سر جھکا کر سب تسلیم کرنے والوں میں سے ہیں۔ وہاں سے ایسٹ انڈیا کمپنی آئے تو سر ماتھے پر۔ فضول قسم کے نظریات آئیں تو بھی سبحان اللہ۔ اُن کے مفادی تیار کردہ ایجنٹ آئیں تو بھی وہ ہمارے ہاں کم از کم وزیراعظم کا عہدہ تو مفت میں ہی حاصل کر لیتے ہیں۔ حتی کہ ابھی تک ہمارا تعلیمی نظام، ہمارا عدالتی نظام، ہمارا تھانے کا نظام، ہمارا جمہوری نظام سب غیروں کا ہے۔ آج کل عرب، چینی اور روسی ہمیں جو بھی دیں سب معطر لگتا ھے۔ چاہے کل کو یہ خوشبو ہماری سونگھنے کی حس کو ہی ختم کر دے۔ لیکن سب کچھ بعد میں دیکھا جائے گا۔ فی الحال تو جیبیں بھر رہی ہیں نا۔
گوروں یا عربوں یا پاکستان سے باہر کہیں سے بھی کچھ برآمد ہو جائے یا برآمد کر لیا جائے بلا وجہ ہی اسے تسلیم نہیں کرنا چاہیے اس کا سچ ماننا تو بہت دور کی بات ھے۔ پہلے غور و فکر سے اس پر مکمل تحقیق کرنا چاہیے۔ اور آخر میں نتیجہ اخذ کیا جانا چاہیے۔ جلد بازی فقط نقصان کے اور کچھ نہیں دیتی۔
جن لوگوں نے ابھی تک ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کو تسلی سے مکمل پڑھا تک نہیں وہ لوگ بھی تبصرہ فرما رھے ھیں اور ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اس کتاب کو لیکر اپنے ہی ملک میں سب سے زیادہ قربانی دینے والے ادارے کی مخالفت میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ اور افسوس کی بات ان تبصرہ کرنے والوں میں اکثر اس حد تک جاہل ہیں کہ انگلش پڑھنا انہیں تو کیا ان کے بڑوں کو بھی نہیں آتی وہ لوگ بھی شورش کاشمری بننے کے چکر میں ہیں۔
یقینا ریمنڈ ڈیوس کی رہائی ہماری اجتماعی غیرت پر ایک سوالیہ نشان تھی۔ وہ تمام لوگ جو اس رہائی میں سہولت کار تھے ان سب کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیں تھیں۔ اور جن جن لوگوں نے اس رہائی سے مفاد اٹھایا خواہ وہ فہیم اور فیضان کے خاندان والے ہی کیوں نا ہوں خواہ ہمارے سیاستدان یا حکومتی کارندے ہی کیوں نا ہوں سب کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے تھا۔ لیکن یہ سب کون کرتا۔ غلام قوموں کی غیرت کے معیار بھی تو عالی شان ہوا کرتے ہیں نا۔ وہ تو ماضی تھا گزر گیا۔ اس گزرے ماضی پر مٹی بھی ڈال دی گئی اب تو فقط چند سچے جھوٹے لفظ ہیں جنہیں سچ یا جھوٹ بھی آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا۔ تو اب کاہے کا واویلا؟؟
حضور میڈیا کو تو روز بیچنے کے لئے کوئی نیا چورن درکار ہوتا ھے لیکن ہم ؟؟
ریمنڈ ڈیوس ایجنسیوں کا کارندہ تھا تب بھی جب وہ پاکستان میں تھا اور اب بھی جب وہ پاکستان میں نہیں ھے۔ اس کتاب کو صرف ایک آدمی کی کاوش مت سمجھا جائے ایجنسیوں کا سچ جھوٹ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ جو بھی کرتی ہیں اپنے مفاد کے لئے کرتی ہیں۔ اس لئے اس کتاب میں جس جس پاکستانی ادارے پر تنقید ہوئی ہے۔ غور کیا جائے کہیں وہی ادارے تو پاکستان کی سالمیت کے لئے صحیح کردار ادا نا کر رھے ہوں۔؟؟؟ کہیں وہی ادارے تو امریکہ بہادر کے کام میں روڑے نا اٹکا رہے ہوں ؟؟؟ کہیں وہی ادارے تو پاکستانی کی بقاء کی ضمانت نا ہوں۔ باقی پھر تماشہ تو روز ہی ہر پاکستانی دیکھتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: