میرے اشکِ شجر: معلمہ ریاضی

0

چاول ختم ہوگیا تھا، خریدنے گئے اور اپنی مخصوص دکان پہ پہنچے تو دکاندار نے ایک بڑا خاکی لفافہ موڑ تڑوڑ کر دکان سے باہر پھینکا اورہماری طرف دیکھ کر بولا، جی! کیا چا ہیئے؟

’چاہیے کو مارو گولی‘ ہم نے برہمی سے کہا ’یہ لفافہ باہر کیوں پھینکا ہے؟‘ ہم اپنا ٹیچر پنا دکھانا کہیں نہیں بھولتے، اہلِ محلہ بھی لحاظ کر جاتے ہیں دکان دار کھسیانی ہنسی ہنسا، ’ابھی سارا کوڑا جمع کر کے جلا دونگا‘

’ہیں؟ یعنی ایک کے بعد دوسرا غلط کام۔۔‘ ہمیں غصہ آگیا

’چھوڑیں نا، چاہیے کیا آپ کو؟‘ دکاندار نے گھبرا کر بات پلٹ دی۔

 

دو ڈھائی مہینے پہلے کی بات ہے، ہمارے ’قبول ہے‘ پہ شجر کاری کا بھوت سوار ہوا، یو ٹیوب پہ شجر کاری کی ویڈیوز دیکھیں اور چار گملے خرید لائے اور فخریہ اعلان کیا کہ ہرا دھنیا اور ہری مرچ لگائیں گے۔ چلیں جناب لگا دیا۔ اور چار دن بعد خمار اتر گیا اب ہمارے گھر میں پورے چار گملے ہیں جس کی روزانہ کی بنیاد پہ چیونٹیاں مٹی کھودتی رہتی ہیں اور ہم جھاڑو دے دے کر دل ہی دل میں قبول ہے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیں نا سب باتیں کہنے کی نہیں ہوتیں۔۔۔

یہ دو رویے آپ کو جا بجا نظر آئیں گے۔ ہر سنگین معاملے کو ہلکا لینا اور وقتی جوش پہ کوئی کام شروع کر کے اسے بھول جانا بہت عام بات ہے۔

سنا ہے شجر کاری مہم چلائی جا رہی ہے۔ ہمیں اس مہم سے اختلاف نہیں، جب پابندیء ثمر مہم چلائی گئی تو ہم نے اپنے ’قبول ہے‘ کو پھل لانے سے منع کر دیا۔ ذیادہ پریشانی کی بات نہیں تھی کہ معاملہ فقط تین یوم کا تھا۔ مگر جناب یہ شجر کاری تین دن کی تو بات نہیں، پودے لگاؤ یا جانور پالو کم و بیش دونوں کاموں میں اولاد کی پرورش اور دیکھ بھال میں، ایک جیسی مشقت اور محبت درکاھر ہوتی ہے اور وہ بھی مسلسل۔۔۔

ہمیں شجر کاری مہم کے کرتا دھرتا ارکان کی نیت پہ ایک فیصد بھی شک نہیں۔ مگر کیا کہیں کہ وقتی جوش میں اچھلنا اور پھر دبک کے بیٹھ جانا ہمارا قومی مزاج بنتا جا رہا ہے۔

 

بہر حال جو لوگ شجر کاری مہم چلا رہے ہیں، اللہ انہیں استقامت دے اورتا قیامت دے۔ مگر ہم جیسے لوگ جو پودا نہیں لگا رہے، خاص کر ہماری جیسی گھریلو خواتین۔

ہمارا انکو مشورہ ہے اور واضح کردیں کہ یہ مشورہ ہم اپنے محلے کی خواتین، دوستوں اور شاگردوں کو بھی تواتر سے دیتے رہے ہیں اور اونا پونا ان سے عمل بھی کروا لیتے ہیں۔۔۔۔

خواتین صرف اتنا کر لیں کہ گھر کے صاف کچرے کو الگ جمع کر لیا کریں، کولڈ ڈرنک کی خالی بوتلیں، چائے کے ڈبے، کاغذ کی صاف تھیلی جس میں تیل یا شیرہ وغیرہ نہ لگا ہو المختصر ہر طرح کی پلاسٹک، شیشے، لوہے اور گتے یا کاغذ کی فالتو اشیاء ایک الگ شاپر میں جمع کرتے جائیں۔ جب شاپر بھر جائے تو اپنے صفائی پسند المعروف کچرے والے کو یا گلی میں کاغذ چننے والے کسی بچے کو دے دیے جائیں۔ یہ سوکھا کچرا ری سائیکل ہوسکتا ہے جسے ہم اپنی سہل پسندی کی بناء پر تربوز، آلو، پیاز اور آم کے چھلکوں کے ساتھ ملا کر ضائع کردیتے ہیں اور کچرے کے ڈھیر میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ ہم تو پلاسٹک کے شاپر بھی جمع کر کے کبھی سبزی والے کو تو کبھی پھل والے کو دیتے ہیں کہ اسے استعمال کرلیں اور یقین کریں وہ لوگ بڑے خوش ہوکر ہم سے یہ ’سوغات‘ وصول کرتے ہیں کہ انکے چار پیسے نئے شاپر خریدنے سے بچ جاتے ہیں۔

اگر آپ کے گھر کیاری ہے تو سبزی اور پھلوں کے چھلکے اور اگر اللہ نہ کرے کسی وجہ سے کھانا خراب ہوجائے تو وہ کھانا بجائے کچرے میں پھینکنے کے اس کیاری میں ڈال کر اوپر سے مٹی ڈال دیں۔ کھاد بھی مفت مل جائے گی۔

اگرکوئی خاتون اعتراض کریں کہ کون اتنا کھڑاک پالے تو یقین کیجئے ہم سے ذیادہ سست الوجود شاید ہی کوئی ہو اور اگر ہم پچھلے کئی سال سے تواتر سے شاپر بھر بھر کر کچرے والے کو بیچنے کا سامان مہیا کر رہے ہیں تو آپ بھی کر سکتی ہیں۔

بس ایک خیال ہمیں اس کام سے ہاتھ کھیچنے نہیں دیتا کہ جب ہم باہر نکلتے ہیں اور شہر بھر میں کچرے کے بڑے بڑے بدبودار ڈھیر دیکھتے ہیں تو دل میں سکون رہتا ہے کہ اس گندگی میں کم سے کم ہمارا حصہ نہیں ہے۔ آپ بھی اسی خیال کو اپنے اندر راسخ کر لیجئے۔ شاید بات بن جائے ورنہ جہانگیر خان جتنا بھی کچرا اٹھا لے، نور الہدیٰ شاہین جتنے بھی درخت لگا لے ہم آپ ساتھ نہیں تو کچھ نہیں۔

وہی مثال ہوگی کہ ایک پاگل ایک طرف سے قالین کھولتا جا رہا تھا اور دوسرا پاگل پیچھے سے اسے لپیٹتا جا رہا تھا۔ پھرلہذا درخت بھی لگائیں اور کچرا بھی صحیح سے ٹھکانے لگائیں۔

شجر شاد تو انسان آباد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: