چھبا مستری اور بارش کا پانی : محمود فیاض

0

دوستو! کچھ سال پہلے میرا گھر گلی کے لیول سے نیچا ہو گیا، اور بارش کا پانی میرے گھر آنا شروع ہو گیا۔ دوستوں کے مشورے سے میں نے چھبے مستری کو بلایا، اور اسکا بندوبست کرنے کا کہا۔ چھبا مستری بڑا کاما بندہ ہے، ہر وقت پورے محلے میں کوئی نہ کوئی کام کرتا رہتا ہے، لوگ اسکی بڑی تعریف کرتے ہیں، اسلئے میں نے بھی اسکی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا سوچا۔

خیر چھبا مستری آیا، پانی سے بھرا میرا صحن دیکھ کر اسکی آواز دکھ سے بھر گئی ۔ بھائی جی، آپ کا کام ہو جائے گا، بڑا افسوس ہو رہا ہے آپ کو اس حالت میں دیکھ کر۔ اسنے کچھ خرچہ بتایا، میں نے کچھ پیسے دیئے اور وہ چلا گیا۔

اگلے سال پھر بارشیں آ گئیں، میرا صحن پانی سے پھر بھر گیا ۔ بچے کاغز کی کشتیاں کھیلنے لگے تو چھبا مستری میرے دروازے پر نمودار ہوا۔ میری بیوی کو بالٹی سے پانی نکالتے دیکھ کر آبدیدہ ہو گیا۔ بھابی کیا کر رہی ہیں۔ اپنے بھائی کے ہوتے آپ یہ کریں گی ۔ اسنے بالٹی میری بیوی کے ہاتھ سے لے کر پانی نکالنا شروع کر دیا۔ ایسا اپنائیت والا بندہ ہے وہ، میرا بھی دل بھر آیا۔ اسنے کچھ خرچہ مانگا اور لے کر چلا گیا۔ جاتے جاتے بولا بس کچھ مٹی کی ٹرالیاں، اینٹیں، اور آپ کا مسئلہ حل ۔ بھائی جی فکر نہ کرنا ۔ میرا دل شاد ہو گیا۔

تیسرے سال بارش کیا ہوئی، پہلے میرا صحن لبا لب ہوا، پھر پانی اندر کمروں میں آنے لگا۔ بچوں کو کشتیاں کھیلنے کی بجائے میں نے پانی نکالنے کا کہا اور برستی بارش میں چھبے مستری کو ڈھونڈنے نکلا ۔ مجھے وہ گلی میں ہی مل گیا۔ بھائی جی میں آپ کی طرف ہی آ رہا تھا۔ پانی تو بہت آیا ہو گا آپکی طرف ۔ میرے بولنے سے پہلے ہی وہ بول اٹھا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھتے ہوئے بولا، بھائی جی ! میں تو آپ کی ہمت کو سلام کرتا ہوں، اتنی بارش، اتنا پانی، آپ پھر بھی گزار ہی لیتے ہو یہ سب ۔ بس یہ بارشیں رک جائیں انشاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کچھ مٹی، اینٹیں …. میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر اسکو مزید کچھ رقم دی تو وہ اور آبدیدہ ہو گیا، بھائی جی آپ خیال رکھتے ہیں تو میں بھی غافل نہیں ہوں، یہ لیں بھابی اور بچوں کے لیے میں کھانا لے کر آ رہا تھا ۔ آپ کو اس حالت میں چولہا جلانا مشکل ہو گا۔ کھانا ہاتھ میں لے کر واپسی پر میں سوچ رہا تھا، کتنا بیبا بندہ ہے یہ چھبا مستری، لوگ ٹھیک ہی اسکی تعریف کرتے ہیں۔

چوتھے سال پہلی بارش میں سامنے والا کمرہ بنیادوں میں پانی جانے کی وجہ سے دھڑام سے گر گیا۔ اللہ کا شکر بیوی بچے محفوظ رہے۔ محلے کے لوگ اکٹھے ہو گئے ۔ سب نے اپنی اپنی سی مدد کی ۔ مگر چھبا مستری سب سے آگے نکل گیا ۔ تین دن تک کھانا لاتا رہا۔ ہر آنے جانے والے کو بھی چائے پانی پلاتا رہا ۔ بار بار میرا کندھا دباتا، بھائی جی فکر نہ کرنا، میں ہوں ناں ۔ سچی بات ہے ان تین دنوں میں مجھے یوں لگا کہ وہ ہمارے خاندان کا ہی ایک فرد ہے۔ جاتے جاتے میں نے اسے تاکید سے رقم دی کیونکہ وہ بار بار حساب بتا رہا تھا، کہ اینٹیں، مٹی، ریت …

پانچویں سال برسات سے پہلے میرا چھوٹا بھائی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ امریکا سے سیدھا میرے گھر آ ٹھہرا۔ سالوں سے امریکا رہنے سے سب کے سب مغربی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ پاکستان کی ہر بات میں ان کو خرابی ہی نظر آتی تھی۔ اب رشتہ چھوٹے بھائی کا تھا، مروت کچھ کہنے نہ دیتی تھی۔
خیروہی ہوا، بارش کے ساتھ پانی صحن اور کمروں میں آنے لگا۔ میں نے بیوی نے بالٹیاں سنبھالی ہی تھیں کہ باہر چھبے مستری کی آواز آئی ۔ بھائی جی، خیر سے گھر ہی ہیں ناں ؟ یہ کھانا لے لیں، تھوڑا زیادہ لایا ہوں، آپ کے مہمان بھی تو آئے ہوئے ہیں ناں ۔ اور پانی کی فکر نہ کرنا، اللہ سب خیر کرے گا۔ چھبا مستری جی دار بندہ تھا ۔ کھانے کے ساتھ میٹھا حلوہ بھی لایا تھا۔ اور چائے کا تھرماس بھی ۔ کھانا دے کر چھبا جاتے ہوئے بولا، بھائی جی کل آتا ہوں، وہ مٹی کی ٹرالیوں کا خرچہ وغیرہ لینے، ابھی اچھا نہیں لگتا مہمان بھی بیٹھے ہیں۔ عجیب خیال رکھنے والا بندہ تھا ۔

دروازہ بند کر کے واپس مڑا تو چھوٹے بھائی کو گھورتے پایا ۔ یہ وہی مستری ہے، جس کو آپ پچھلے کئی سال سے پانی روکنے کے لیے پیسے دیتے آ رہے ہیں ؟ اور اس نے آج تک آپ کے صحن کے پانی کا مسئلہ حل نہیں کیا ؟، چھوٹے بھائی کو بچوں نے شائد بتا دیا تھا ۔

ہاں، بہت اچھا بندہ ہے یہ چھبا مستری، ہر اوکھے سوکھے ویلے ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، میں نے کہا تو چھوٹا بھائی سر پیٹتے ہوئے بولا، بھائی جی، کس دنیا میں جی رہے ہیں آپ ؟ وہ ہر سال آپ سے ہزاروں روپے مرمت کے نام پہ لے جاتا ہے ۔ سال پورا کچھ نہیں کرتا، اور پھر بارش پہ کچھ روپوں کا کھانا آپکو دے کر پھر ہزاروں کا حساب آپکے کھاتے میں بنا لیتا ہے۔ اور آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ اچھا بندہ ہے۔ وہی تو اس سارے مسئلے کی جڑ ہے۔

بس چھوٹے بس، اپنی امریکی عقل اپنے پاس ہی رکھو۔ مجھے مت سکھاؤ کہ اچھا کیا اور برا کیا ہے ؟ تم چھوٹے ہو چھوٹے ہی رہو ۔ ہر بات پر پیسہ پیسہ، کیا پیسہ ہی ہر چیز ہوتا ہے ؟ مروت لحاظ کچھ نہیں ؟ وہ شریف آدمی ہر بارش میں ہمارے گھر کے صحن میں کھڑا ہوتا ہے۔ کیا یہ کم ہے ؟ کھانا لاتا ہے اور بچوں کے ساتھ تصویریں بنواتا ہے۔ کون ہے امریکا میں جو یہ کرتا ہے؟

بھائی جی! مجھے معاف کر دیں، میں نے تو ایسے ہی آپ کو کہہ دیا، آپ کا گھر ہے، جیسے چاہے کریں ۔ چھوٹا اب آہستہ سے بولا ۔ پچھلے سال امریکا میں ہمارے گھر کی چھت ٹپکنے لگی ۔ بلدیہ کے دفتر میں فون کر کے بولا تو اگلے دن دو بندے آ کر چھت ٹھیک کر گئے ۔ پھر چھت کا مسئلہ کبھی نہیں ہوا ۔ خیر چھوڑیں ان باتوں کو بھائی صاب، آپ اس بندے کو چھبا کیوں کہتے ہیں، اسکا نام کیا ہے؟ چھوٹے نے پوچھا ۔ ارے چھبا تو اسکا نام محلے والوں نے پیار سے رکھا ہوا ہے ۔ اسکا صحیح نام تو ہے .. شہباز … شریف آدمی ہے بیچارہ … میں یہ کہہ کر بیوی کے ہاتھ سے بالٹی پکڑ کر صحن سے پانی نکا لنے لگا ۔

نوٹ: دوستوں کہانی تو سالوں پرانی ہے مگر سیلاب آنے والے ہیں، چھبا پھر آپکے درمیان بریانی کی دیگیں، لمبے بوٹ پہنے، فوٹو شوٹ کرنے آ رہا ہے۔ تیار رہیے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: