’’دیپکاپڈو کون‘‘ اور’’پریانکا چوپڑا‘‘ہالی ووڈ میں

0
  • 56
    Shares

عالمی سینما میں شہرت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے، ہالی ووڈ میں ضرور کام کیا جائے۔ وہ خطے، خاص طورپر، جہاں کی فلمی صنعت کوبین الاقوامی حیثیت حاصل نہیں، جن میں انڈیا، پاکستان، ایران، چین، جاپان، مصر اور دیگر شامل ہیں۔ وہاں کے فنکاروں کی کوشش ہوتی ہے، وہ ہالی ووڈ میں کام کریں۔ یہاں کام کرنے کی دوڑ ہر فلمی صنعت میں ہوتی ہے، جس میں ہر کوئی فنکار اپنی بساط کے مطابق شامل ہوتا ہے، البتہ انڈیا کی فلمی صنعت بالی ووڈ میں یہ رجحان زیادہ ہے۔ پاکستانی اداکارائوں نے ایک زمانے میں توکام کیا، مگر اب فی الحال ان کی منزل بالی ووڈ ہوتی ہے۔ 

انڈیا کے بعض فنکاروں نے ہالی ووڈ میں کام کرنے کے لیے، اپنے مقامی منصب کی پرواہ بھی نہ کی۔ ان فنکاروں نے کئی ایسے کردار، جن کے وہ اہل نہیں تھے، یا اپنے مقامی فلمی امیج کو سامنے رکھتے ہوئے، ان کونہیں کرنے چاہیے تھے۔ اس کی ایک واضح مثال امیتابھ بچن کی ہے، جن کوانڈیا اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہرت ہے، مگر انہوں نے ہالی ووڈ کی ایک فلم ’’The Great Gatsby ‘‘ میں کام کیا، جس میںان کا صرف ایک سین ہے، جس میں ان کے ساتھ Leonardo DiCaprioاور Tobey Maguire بھی نظر آتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے، اس فلم کی عکس بندی کے دوران اورفلم کے پریمیئر پر امیتابھ بچن کو بہت توجہ اور عزت ملی، مگر یہ حقیقت ہے، اس فلم میں ان کا کردار بے حد مختصر تھا۔ اسی طرح انڈیا کے دیگر فنکاروں نے ہالی ووڈ میں کام کیا، جن میں سرفہرست نصیرالدین شاہ، اوم پوری، انیل کپور شامل ہیں۔ 
پاکستان سے ہالی ووڈ میں کام کرنے والے فنکاروں میں ماضی سے ضیامحی الدین اورحال میں فرحان طاہرنمایاں ہیں۔ ضیامحی الدین نے برطانوی تھیٹراورٹیلی وژن میں تو نمایاں کردار ادا کیے مگر ہالی ووڈ کی فلموں میں ان کے کردار مختصر تھے، البتہ عہد حاضر میں معروف پاکستانی فنکار نعیم طاہر کے صاحب زادے فرحان طاہر ہالی ووڈ میں نمایاں کرداروں میں کاسٹ ہو رہے ہیں، اس کی ایک روشن مثال، 2013میں ریلیز ہونے والی فلم Escape Plan ہے، جس میں انہوں نے آرنلڈ شوازنیگر اور سلورسز اسٹائلون کے ساتھ کام کیا اور دیگر کئی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ 

عہدِ حاضر کے بالی ووڈ میں رجحان میں تبدیلی آئی ہے، اب وہاں کے فنکار ہالی ووڈ میں مرکزی کرداروں میں شامل ہونے لگے ہیں، اس کی تازہ مثال مردفنکاروں میں عرفان خان ہیں، جنہوں نے گزشتہ برس inferno میں Tom Hanks کے ساتھ کام کیااورمرکزی کردارنبھایا، اس سے پہلے بھی وہ بڑے بینرکی فلموں میں مرکزی کردارنبھاچکے ہیں۔ ماضی کا رجحان دیکھیں تومردفنکاروں کی ہالی ووڈ میں کام کرنے کاتناسب زیادہ ہے، مگراب اداکارائوں نے بھی اس دوڑمیں شامل ہونے کا فیصلہ کیاہے۔ اس کی ایک مثال 2015میں ریلیزہونے والی Spy ہے، جس میں نرگس فخری نے ایک فائٹرکردارنبھایا۔ رواں برس2017میں اس فہرست میں دیپکاپڈوکون اورپریانکا چوپڑابھی شامل ہوگئی ہیں۔ رواں برس جنوری میں ریلیز ہونے والی فلم xXx: Return of Xander Cage میں اداکاروین ڈیزل کے ساتھ، دیپکاپڈوکون نے ہالی ووڈ میں اپناکیرئیر شروع کیاہے، جبکہ مئی میں ریلیز ہونے والی فلم Baywatch ہے، جس کے ذریعے پریانکاچوپڑانے ہالی ووڈ میں اپنے کیرئیر کی ابتداکی ہے۔ 

ہالی ووڈ میں ان اداکارائوں کی دونوںفلموں نے اوسط بزنس کیا، مگراس کافائدہ ان دونوں کوہوا، پوری دنیامیں ان کی شہرت ہوئی۔ ان دونوں میں سے پہلی فلم ایکشن تھی، جس میں دیپکاپڈوکون نے اپنی فنی صلاحیتوں کاخوب مظاہرہ کیا، بالی ووڈ میں وہ رومانوی کرداروں میں الجھی رہیں، مگرہالی ووڈ میں انہوں نے ایکشن کردارکوچیلنج کے طورپرقبول کیا، ان کواس فلم میں دیکھتے ہوئے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’’باجی رائو مستانی‘‘ کی مستانی ہے یافرح خان کی فلم ’’اوم شانتی اوم‘‘ کی شانتی پریاہے۔ 2006سے اپنافلمی کیرئیرشروع کرنے والی اس اداکارہ نے ایک دہائی میں نہ صرف بالی ووڈ بلکہ ہالی ووڈ میں بھی اپنالوہا منوایا۔ 

اسی سال مئی میں ریلیز ہونے والی فلم Baywatch میں Dwayne Johnson کے ساتھ اپنے کیرئیر کی ابتداکی۔ یہ فلم موضوع کے اعتبارسے ہلکی رہی، پریانکا چوپڑاکاکردارمختصرمگرمرکزی تھا، بدقسمتی سے باکس آفس کو بھی یہ فلم متاثر نہ کرسکی۔ اس میں پریانکاچوپڑانے ایک منفی اوربولڈکردارنبھایا، فلم میں اس کردار کو نبھاتے ہوئے اس کا اعتماد قابل تحسین ہے۔ اپنے مختصرکردارکے باوجود اس نے اپنا کردارعمدگی سے نبھایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکی ٹیلی وژن سیریز، جس کا نام Quantico ہے، اس میں بھی بولڈ مگراہم کردارنبھارہی ہیں۔ ایسالگتاہے، پریانکاچوپڑاجلدی ہالی ووڈ میں اپناراستہ بنالیں گی، کیونکہ ان کو بے باک ہونے میں کوئی عارنہیں، جس کی وجہ ان کے ماڈلنگ کا پس منظراورمس ورلڈ ہونے کا ٹائٹل بھی ہے۔ گلوکاری کی طرف بھی رجحان ہے اوراپنے گائے ہوئے گیتوں کی ماڈلنگ میں بھی مغربی بے باکی کومدنظررکھتے ہوئے ویڈیوزبناتی ہے۔ 

پاکستانی فنکاروں میں زیادہ ترکی دوڑبالی ووڈ تک ہے، کیونکہ وہاں کام کرنے کے بعد، پاکستان میں ان کو کام ملنے میں آسانی ہوجاتی ہے اوریہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میںشائقین اورمیڈیابھی انہیں زیادہ توجہ دینے لگتاہے۔ ہمارے اداکاروں نے ہالی ووڈ میں کام کرنے کانہیں سوچا، البتہ حادثاتی طورپرکوئی موقع مل جائے، تو الگ بات ہے، جس طرح 2007میں ریلیز ہونے والی فلم A Mighty Heartمیں عدنان صدیقی کوانجلینا جولی کے ساتھ کام کرنے کاموقع ملا۔ اس فلم میں کام کرنے کے لیے پاکستانی فنکاروں کے لیے ایک پورے آڈیشن سیشن کا اہتمام کیا گیا، اس میں سے عدنان صدیقی منتخب ہوئے، لیکن یہ کوئی شاہانہ اندازنہ تھا، جس طرح عرفان خان یا فرحان طاہر ہالی ووڈ میں کام کرتے ہیں۔ 

بالی ووڈ میں مقابلے کی فضا بہت سنجیدہ ہے، جس کو سمجھ کر فنکاراپنے کیرئیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ فنکار، جوبالی ووڈ کے ساتھ ہالی ووڈ اورعالمی سینمامیں بھی اپنی شناخت بنانے کے لیے کوشاں ہیں، ان کے لیے کیرئیر دیرپاہونے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں، مگردیکھنایہ ہے، آپ کوجوکام ملاہے، اس کی نوعیت کیاہے، باکس آفس پراس کی اہمیت کتنی ہے، اسی کی بنیادپرمستقبل کے فیصلے ہوتے ہیں۔ 
دیپکاپڈوکون اورپریانکا چوپڑا اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں ہالی ووڈ اورمغربی میڈیا میں بے انتہا توجہ ملی ہے، ان فلموں کی وجہ سے عالمی شائقین تک، ان کا تعارف بھی پہنچ گیاہے، اس لیے فی الحال تووہ اپنی دیگرہم عصراداکارائوں سے دوقدم آگے ہیں، ان کے مزید فلمی منصوبے ان کامیابیوں میں اضافہ کریں گے، عالمی سینما میں صرف نام بکتاہے، ان دونوں اداکارائوں نے نام بننے کا ابتدائی مرحلہ عبورکرلیا ہے، اب دیکھتے ہیں، ان کاحسن اورفن، انہیں کہاں تک لے جاتے ہیںاوران کی تقلید میں کتنی اداکارائیں بالی ووڈ سے ہالی ووڈ جاتی ہیں۔ 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: