دردِ بے زباں —— حیا ایشم — قسط 6

0

رابعہ نے حبہ کی جانب پانی کا گلاس بڑھایا، ہچکیاں لیتا وجود آہستہ آہستہ سنبھلنا شروع ہوا، حبہ نے رابعہ کے چہرے کی جانب بمشکل دیکھا، اور اسکے چہرے پر جانے کیا تاثرات تھے، کہ حبہ کو لگا جتنا اس کو بتا کر وہ ہلکا محسوس کر رہی ہے کاش اس نے سب کچھ اسے پہلے بتا دیاہوتا، رابعہ کی آںکھوں میں اسے اس کے لئے تھام لئے جانے کا احساس محسوس ہوا، وہ آنکھیں انہیں جج نہیں کر رہی تھیں، نہ ہی اس پر ترس کھا رہی تھیں، نہ ہی نفرت یا بےزاری کا احساس لئے تھیں، حبہ نے قدرے پرسکون محسوس کیا۔۔

“ہممم ۔۔۔ بہت تکلیف دہ رہا ہو گا سب آپ کے لئے، مگر مجھے محسوس ہو رہا ہے آج یہ سب کہہ کر آپ کچھ ہلکا محسوس کر رہی ہیں۔”
حبہ نے اثبات میں سر ہلایا،
“ہاں مجھے لگ رہا ہے جیسے سالوں سے ایک اژدھے کی قید میں جکڑی ہوئی تھی، اور آج پہلی بار کھل کر سانس لی ہے۔۔ اس بندش سے نکلتا محسوس کر رہی ہوں” 
اچانک اس کے ذہن میں کوئی سانپ سرسرایا۔
۔”آپ یہ باتیں میرے شوہر کو تو نہیں بتائیں گی؟” وہ بے حد خوفزدہ ہو گئی
“آپ کیا چاہتی ہیں، میں بتاؤں یا نہیں؟
 حبہ خاموش رہی.
“اگر انہیں پتہ چلا تو وہ مجھے چھوڑ تو نہیں دیں گے؟”
” رابعہ کو حبہ کے خوف  پر دکھ بھری حیرت ہوئی.  وہ بھی اسی معاشرے میں رہتی تھی،  اور کسی کے کئے گئے ظلم کی سزا کسی اور کو ملتے دیکھنا اسی ظالم معاشرے کا عام رواج بنتا دیکھتی آ رہی تھی،
“حبہ، یہ جو سب آپ کے ساتھ ہوا، اس میں آپکی کوئی غلطی تھی؟”
حبہ کچھ دیر خاموش ہو گئی.
“سچ کہوں بظاہر میری کوئی غلطی نہیں تھی، مگر پتہ نہیں کیوں میں اس واقعے کے بعد ہمیشہ خود کو ہی برا اور قصوروار گردانتی رہی، میں اسکی گھٹیا حرکت کے لئے کسی طرح ذمہ دار نہیں تھی سواٰئے اسکے کہ میں اپنی ماں کی اجازت سے اس کے گھر میں تھی، اور اسکی ہر بات بحیثیت استاد مان رہی تھی، شاید یہی وجہ تھی کہ میرے اندر کسی سے ملنے کا کانفیڈنس ختم ہو گیا، قوت فیصلہ، خود اعتمادی، دوسروں پر بھروسہ سب ختم ہو گیا۔ میں کسی کو ہاں یا ناں کیا کرتی میں نے سب سے بہترین فرار کی راہ جانی”۔۔۔۔

“آپ کو پتہ ہے میرا کبھی دل چاہتا میں سگریٹ پیوں، یا سگریٹ سے خود کو داغ دار کروں، بلیڈ سے کٹ لگاؤں، میں نے کوشش بھی کی، اور جن دنوں میرے اندر یہ احساس زیادہ ہو گیا، انہی دنوں میری شادی طے پا گئی، اور نتیجے میں میری بیماری کا یہ شدید اٹیک سامنے آیا”۔۔

حبہ خاموش ہو گئی اور سوچنے لگی کیا شادی کی وجہ سے اسکی بیماری بڑھ گئی، رابعہ نے فورا اسکو مثبت راہ دکھائی کہ بیماری ہر نعمت کو مصیبت بنا کردکھاتی ہے.

“میرا خیال ہے یہ تعلق اللہ کی رحمت رہا آپ پر، اس شدید اٹیک نے ہی آپ پر علاج کی راہ کھولی، ورنہ تو آپ اندر ہی اندر گھٹتی رہتیں، اور حنظلہ اور آپ ایک سچے رشتے کی خوبصورتی سے آہستہ آہستہ محروم ہو جاتے، آپ کو نہیں  لگتا اب آپ کے اندر زندگی کی رمق پھوٹ رہی ہے؟” حبہ نے آہستگی سے اثبات میں  سر ہلایا۔۔۔۔

“مجھے خوف محسوس ہوتا ہے اگر حنظلہ کو اس واقعے کا پتہ چلا تو وہ مجھے چھوڑ دیں گے”

رابعہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہ گئی،  اب بھی یہ لڑکی اسی معاشرے کے لئے  سروائیو کرنا چاہ رہی ہے. جبکہ وہ اصل حبہ کو زندہ ہوتا دیکھنا چاہتی تھی۔ وہ جانچنا چاہتی تھی آیا حبہ یہ حنظلہ کی محبت میں کہہ رہی ہے یا ابھی بھی بیمار خوف ہی اسے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہے.
“ہممم بالفرض وہ چھوڑ دیں گے تو کیا ہو گا؟
” حبہ نے دہل کر اسے دیکھا”اللہ نہ کرے۔۔ اس زمانے میں ایک شوہر کی چھوڑی ہوئی عورت کا کیا وجود ہو سکتا ہے، میری ماں ، وہ تو جیتے جی مر جائیں گی۔۔ یہ معاشرہ انہیں جینے نہیں دے گا.”

بے ساختہ ہی حبہ کی آںکھوں سے آنسو بہنے لگے،۔۔ “زمانہ۔۔ معاشرہ ،۔ ۔۔۔ ہمم تو آپ اس تعلق کو صرف معاشرے میں نام کے لئے بحال رکھنا چاہتی ہیں۔۔ اور حنظلہ؟؟”

حبہ پل بھر کو خآموش سی ہو گئی،وہ رابعہ کا سوال سمجھ گئی تھی. حنظلہ کے نام پر اس کے دل کی دھڑکن مس ہو ئی تھی. وہ اسکے بنا یہ سوچ بھی اسے سوہان روح سی لگی تھی۔
“مجھے ایسے کیوں لگتا ہے کہ میں انکے قابل نہیں ان جیسی پاکیزہ نہیں، اور شاید یہی سوچ مجھے انکے قریب نہیں جانے دیتی۔ “

” حبہ جو بھی ہوا اس میں آپ کی ا پنی کوئی نیت نہیں تھی۔ یہ وہ ظلم تھا جو آپ پر ہوا، اور اس پر آپ نے خود پر ظلم یہ کیا کہ آپ اس ظلم میں دھنس کر رہ گئیں، اور الٹی منفی سوچوں سے بجائے یہ کہ اس دلدل سے نکلتی اور الٹا دھنستا چلی گئیں، کیونکہ آپکی بیماری آہستہ آہستہ آپ سے اختیار چھین رہی تھی، ہاں اس وقت آپ بے بس تھیں، مگر آپ اب اپنی سوچوں پر اختیار رکھتی ہیں، آپ ہی چاہیں تو ان جھوٹٰ ظالم سوچوں کا  اللہ کے سچ سے سامنا کر سکتی ہیں۔۔۔”

حبہ نے حیرانٓی سے دیکھا .
“وہ کیسے؟”
“دیکھیں حبہ،، یہ زندگی موت تک آزمائش ہے، آپ کے ساتھ جو ہوا وہ بہت تکلیف دہ تھا، آپ ڈیزرو نہیں کرتی تھیں، مگر یہ ایسا سانحہ بھی نہیں کہ آپ اپنی زندگی ختم کر دیں، ایک انسان کے ظلم کی سزا آپ خود کو اور اپنے شوہر کو کیسے دے سکتی ہیں، اور یقینا یہ آپ نہیں آپکی بیماری ہے، جو آپ سے آپکے ہاتھوں آپ پر ظلم کروا رہی ہے، کیونکہ مجھے محسوس ہوتا ہے آپ بذات خود تو اپنے شوہر سے محبت کی طرف بڑھ رہی ہیں اور انکے ساتھ ایک خوشگوار زندگی گزارنا چاہتی ہیں”.

اچانک حبہ کے آںسو پھر سے امڈنا شروع ہوئے ۔۔ یہی سچ تھا، وہ ایک پرسکون بے خوف اور خوشگوار زندگی جینا چاہتی ہے مگر یہ سوچیں اسے نہیں چھوڑتیں۔۔

۔” کچھ درد ناسور بنا دیتے ہیں ہم خود ہی، اگر ان کی بروقت صفائی نہ کی جائے، اللہ بڑا مرہم ہے وہ اپنے بندوں کو زخموں میں نہیں دیکھنا چاہتا، اب وقت ہوا چاہتا ہے کہ آپ اپنے اس زخم بلکہ ناسور کو اپنے اندر سے نکال پھینکیں اور اصلی حبہ کو زندہ ہونے دیں جو بہت اچھی بہت پیاری اور بہت سچی ہے،”
“وہ حبہ کیسے آئے گی؟

” اس نے بے ساختہ معصومیت اور سادگی سے پوچھا،
  “ان شاء اللہ آئے گی، بلکہ کہیے آنا شروع ہو گئی ہے” رابعہ نے مسکراتے ہوئے اسکا یقین اجاگر کرتے کہا۔ اور جب تک آپ نہیں کہیں گی میں آپکے شوہر کو کچھ نہیں بتاؤں گی”.

حبہ کو اپنے دل و ذہن سے ایک بہت بڑا بوجھ ہٹتا محسوس ہوا، اسے رابعہ پر یقین ہونا شروع ہو گیا تھا۔
“حبہ ابھی آپ بتا رہی تھیں کہ آپ نے اللہ سے بات کرنا چھوڑ دی تھی۔۔”
حبہ خاموش سی ہو گئی ۔۔۔۔۔پھر کچھ توقف کے بعد بولی، اس نے فیصلہ کر لیا تھا اب اسے اس ناسور کو اکھاڑ پھینکنا ہے تو سب سچ بتائے گی.
“میں اکثر سوچتی تھی میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ کبھی سوچتی میں تو اللہ کا کلام پڑھنے جاتی تھی اللہ کو خود مجھے اس درندے سے بچانا چاہئے تھا، پھر اپنی ماں کو دیکھتی ہر وقت اللہ سے دعا مانگتا دیکھتی لیکن جس شوہر کے لئے روتی تھیں اس نے کبھی انہیں نظر بھر کر نہیں دیکھا، سب نے کہا ان سے خلع لے لو، لیکن نہیں مانیں،  میری حالت دیکھتیں تو انہیں لگتا تھا مجھے کوئی مسئلہ ہے . شاید باپ کی عدم توجہی کے سبب میں ایسی ہو گئی ہوں، کبھی میری بہتری میرے اچھے نصیبوں کے لئے دعائیں مانگتی، مجھے غصہ آتا کہ میرے تو نصیب اجڑ گئے ہیں وہ کونسی دعائیں مانگتی ہیں، بس کہتیں مجھے اپنے اللہ پر بھروسہ ہے، انکو دیکھ کر مزید میں کڑھتی، میرا دل چاہتا انہیں روکوں کہ مت مانگا کریں دعائیں۔۔۔۔”

“اب کہتی ہیں دیکھو، اللہ نے سن لی، حنظلہ جیسا شوہر دیا اللہ نے، مگر ابھی جب بیماری کا اٹیک زیادہ ہو رہا تھا تو ایک دن کہہ اٹھیں کہ کسی کی نظر نہ لگ گئی ہو مجھے،  میں دل میں سوچ رہی تھی ابھی بھی ان کا اللہ سے اعتبار کیوں نہیں اٹھا، کہ وہ دعائیں نہیں سنتا.

رابعہ اسکو بس بولنے دے رہی تھی۔۔۔اسکے خاموش ہو نے کے بعد بولی.
..” الحمدللہ دعائیں تو قبول ہو رہی ہیں آپکی امی کی۔۔ دیکھو اب آپ زندگی کی طرف واپس آ رہی ہو، اور حنظلہ واقعی ایک اچھے شوہر ہیں بقول آپکے” .
حبہ آمادگی کے احساس سے دیکھتی رہی۔۔ رابعہ جانتی تھی یہ بیماری ایک عجب طرح کی خودترسی میں جکڑ لیتی ہے جس کو سچ کے آئینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ درد کوئی بھی ہو رب کہتا ہے ناں اللہ کسی کو اسکی سکت سے زیادہ نہیں آزماتا، تو یہ سکت انسان کے نفس کا ظلم یا رحم طے کرواتا ہے۔۔ حبہ کو بس اسے آئینہ دکھانا تھا۔۔ محبت سے سچ کا!اب جب سچ واضح ہو رہا تھا تو حبہ نے چاہا دل سے ہر کدورت نکال دے کہ وہ خود اب نڈھال ہو رہی تھی ناراض رہ کر۔۔۔ 

“ہاں مگر وہ دن ۔۔۔ وہ میری یادداشت میں جب آتا ہے تو اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ اذیت بن جاتا ہے اس دن اللہ نے میری مدد کیوں نہیں کی۔”؟

” اللہ ۔۔۔۔۔ کے راز عجب ہیں، سمجھا جائے تو اس نے تو آپکی مدد کے لئے اس شخص کی بیوی کو بھیجا، پھر آپکو یہاں بھیجا، اور نہ سمجھا جائے تو آپکا ذہن بس اس ضد میں اٹک جائے کہ وہ دن ہی زندگی میں کیوں آیا۔۔ آپ نے بتایا اس شخص ک زندگی تباہ ہو گئی طلاق ایکسیڈنٹ، دربدری ۔۔ اور جانے کیا کیا ذلت ۔۔۔۔ اور خدا ہدایت دے ورنہ اس نے تو خود پر اس نفسیاتی اور روحانی بیماری کے ظلم کی کوئی انتہا نہیں چھوڑی ۔۔ حبہ نفس بڑی آزمائش ہے، اسکے نفس کی آزمائش نے آپکو آپکے نفس کی آزمائش میں ڈال دیا، اب یہ آپ پر منحصر ہے آپ اپنے نفس کے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہو، وہ رب بے نیاز ہے، مگر لا پرواہ نہیں۔  اس زندگی میں بے حد آزمائشیں ہیں، انبیاء کو قتل کر دیا گیا، مریم ؑ کے کرادر پر تہمت حضرت عائشہ ؑ کے کردار پر الزام۔۔۔ حضرت یوسفؑ پر بہتان، آزمائشوں نے کسی کو نہیں بخشا۔۔ طرح طرح کی آزمائشیں آئیں،، اور اللہ کے بندوں نے جانا کہ ہر شے اللہ کی طرف سے ہے ۔۔۔ جان مال ، خاندان والدین، عزت آبرو سب۔ سو کسی بھی شے کی آزمائش میں الجھ کر ہی اس کو خدا نہیں بنا لینا کہ اس کے لئے زندگی میں ہی خود پر موت لازم کر لیں، رب ظلم نہیں کرتا، وہ تو بندے پر بھیجی جانے والی آزمائشوں میں بھی انہیں نکھارنے کا رمز رکھتا ہے، اب یہ بندے کا نفس ہے کہ وہ اس سے کیا کشید کرتا ہے۔ رحم یا ظلم! اذیت یا حلم! ہاں کبھی کبھی بے بسی میں جکڑایا جاتا ہے مگر تب بھی رب اپنی رحمتوں کے دروازے کھلواتا ہے جیسے آپ کے لئے اس نکاس کا راستہ کھلوایا، مجھے سچ بتائیں کیا آپ ہلکا محسوس نہیں کر رہیں؟”
حبہ نے بے اختیار ہاں میں سر ہلایا، اسکی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے مگر اب ان میں کوئی تعلق تھا اس ذات کے حضور جو ان آنسوؤں کے برسانے پر قادر تھی، کہ پہلے تو وہ چیخ چیخ کر رونا چاہ کر بھی نہیں رو پاتی تھی۔ اور آج جیسے کوئی چشمہ سا تھ احساس کا جو اس ساکت جسم پر رواں تھا۔
“ہاں وہ اللہ ہی ہے جو آپ کو آپ کی بہتری کےلئے یہاں تک لایا ہے، یہ میں نہیں ہوں ۔۔ یہ وہی ہے جو آپکی بہتری کا خیال میرے دل میں آپکے شوہر کے دل میں  ڈال رہا ہے کیوں؟ کیونکہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے، یہ وہی ذات ہے جس نے آپکی امی کے دل میں آپکی محبت بھر دی کہ ہر دعا میں آپکا سکون و محبت مانگتی ہیں، ایک واقعے نے آپکو اللہ سے اتنا بدظن کر دیا مجھے بتایئے اس ایک کے مقابلے میں آپ اس کی  بے بہا عطاء کو سوچیں تو کیا آپ کا دل اسکے حضور سجدے میں نہیں جھکتا؟ ! حبہ ایک دن آئے گا جب اس دنیا کی ان عزت جان کی آزمائشوں کی کوئی حقیقت نہیں رہے گی حقیقت رہے گی تو بس یہ کہ ہم نے ان آزمائشوں میں کیا کیا؟”.

حبہ حیران سی سن رہی تھی، اسے تو اسکے خود ساختہ دکھ کے حصار اور شکووں شکایتوں نے اس طرح سوچنے ہی دیا۔۔ یہ کونسا رخ تھا جو رابعہ اسے دکھا رہی تھی، حبہ کو لگ رہا تھا وہ کسی غفلت سے کسی بیداری میں آ رہی تھی۔۔ اور اسکا دل رب کا استغفار و شکر کر رہا تھا کہ اسکا دل جاگ رہا ہے،، بے اختیار اس نے اپنے احساسات کو محسوس کیا تو اپنے زندہ ہونے کے احساس سے اسکا روم روم سربسجود ہوتا لگا۔۔۔

۔۔۔جاری ہے۔۔۔

اس کہانی کا پانچواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: