اطلاعات کی بھرمار اور علم کا فقدان: قیصر شاہ

1
  • 65
    Shares

اطلاع یا معلومات جسے خبر یا انفارمیشن بھی کہا جاتا ہے، آخر کیا ہے؟
کوئی بھی خبر سب سے پہلے مرحلے میں ہماری شارٹ ٹرم میموری کا حصہ بنتی ہے اس کے بعد اگلا مرحلہ اس خبر کے طویل مدتی یاداشت میں منتقل ہونے کا ہے بشرط یہ کہ کوئی دوسری غیر متعلقہ اطلاع یا کوئی واقعہ اس میں رکاوٹ نہ ڈالے۔
اس خبر کے لانگ ٹرم میموری میں منتقلی کے بعد ہی ہمارا دماغ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اس “خبر” کا تجزیہ کرسکے۔
جب دماغ اطلاع کو کھنگالتا ہے تو وہ مختلف حصوں کو آپس میں مربوط کر کے یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مطابقت میں ہیں یا نہیں؟
اگر مطابقت میں ہیں تو وہ خبر کو درست تصور کرتا ہے اور عدم مطابقت کی صورت میں خبر پر سوالیہ نشان چھوڑ دیتا ہے، البتہ دونوں ہی صورتوں میں وہ خبر طویل مدتی یاداشت میں “سوچ سمجھ کر کیے گئے اضافے” کی حیثیت سے محفوظ ہوجاتی ہے۔
اگر اس کے بعد پھر کبھی ایسی خبر کچھ وقت کے بعد دوبارہ کسی شکل میں پیش آئے تو دماغ میں پہلی خبر سے موازنہ کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور نتیجہ میں اضافہ کر کے زہن نشین کر لیتا ہے، اور یہ “سوچ سمجھ کر” کیا جانے والا اضافہ ہی “علم” کہلاتا ہے، جس کی نوعیت، کیفیت اور کیمیت کچھ بھی ہوسکتی ہے۔
گویا، اطلاع کو علم بننے کے لیے بہت سے مرحلے درکار ہوتے ہیں
بقول غالب:- آہ کو چاہیئے اِک عمر اثر ہونے تک
دھیان دینے کی بات یہ ہے کہ اطلاع سے علم بننے تک کا سفر زہن کی صلاحیت بیدار کرتا ہے اگر اطلاع سے اطلاع کا سلسلہ تیز رفتاری سے چلے اور درمیان میں غیر متعلقہ اطلاع کا دخل ہو تو علم ناقص اور ادھورا ہوگا دونوں صورتوں میں یہ زہن کو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
اب اس ضمن میں تجزیہ کیجئیے ہمارا میڈیا کیا کردار ادا کر رہا ہے؟
دورِ حاضر میں اطلاعات کا بے ہنگم ہجوم اور انٹرنیٹ پر مجازی سماجی ہجوم (virtual social crowd) کی الل ٹپ سرگرمیوں کا نتیجہ یہ رہا ہے کہ ہم دن بہ دن منتشر ہوتے جارہے ہیں ۔
نیوز چینلوں میں بڑھتے ہوئے مقابلے بریکنگ نیوز میں اضافہ کرتے جارہے ہیں جس میں اضافت معیار گِرا رہی ہے اور خبریں منفی تاثر قائم کرنے میں سبقت لے جارہی ہے۔
متعلق اور غیر متعلق کا امتیاز کھو رہی ہیں عوام کی طبیعت کو مایوسی اور منفی سوچ کی طرف مائل کر رہی ہیں ۔
ذرائع ابلاغ کی اجتماعی نفسیات دیکھیے تو وہاں
Good news is no news
کی سوچ حاوی نظر آتی ہے۔
خبر کے دوہرانے کے عمل کو فالو اپ کہا جاتا ہے جس میں مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق دل و زہن دہلا دینے والی خبریں رکھی جاتی ہیں ۔
یہ تیز رفتار اور غیر متعلقہ خبریں نئی نسل کو زہنی معزور بنا رہی ہیں۔
وہ کیسے؟
وہ ایسے کہ اگر دماغ میں اطلاع کے علم بننے کا عمل مسلسل تعطل کا شکار رہے تو پھر اس کے لیے علم تک رسائی حاصل کرنا دشوار سے دشوار ہوجاتا ہے اسے اطلاع کو علم تک پہنچانے کی مشق ہی نہیں رہتی، اور جب یہ مشق نہیں رہتی تو پھر کند زہنی جنم لیتی ہے پھر وہ لوگ صرف اطلاع میں بھٹکتے رہ جاتے ہیں، جیسا کہ آجکل سوشل میڈیا پر نظر آرہا ہے۔۔۔۔۔
یہ فکر کو تباہ کرنے والا سیلاب ہے جسے کچھ دانشور انقلاب سمجھ رہے ہیں ۔
اس کا ادراک کر کے سدِباب کرنا ضروری ہے ورنہ خاکم بدہن، آنے والے برسوں میں ہمارے پاس “نئی نسل” کے نام پر محض ایک انسانی ریوڑ ہی رہ جائے گا جدید ترین سہولیات سے آراستہ، سمجھدار آلات سے لیس لیکن فکری و علمی طور پر معذور انسانوں کا ریوڑ۔
اس کے بارے میں مزید جاننا چاہیں تو ٹرم “انفارمیشن اوورلوڈ ” جو غالباً 1997 میں سامنے آئی تھی ضرور دیکھیں۔

 

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: