ریمنڈ ڈیوس کی کتاب ۔ ۔ ۔ محمودفیاض

0

جس جس کو حیرت ہوئی ہے وہ شائد پاکستان میں رہتا نہیں۔ رہتا ہے تو اپنے اردگرد پر غور نہیں کرتا۔ اور اگر غور بھی کرتا ہے تو اس سردار کی طرح تجزیہ کرتا ہے جو مکھی کے پر کاٹ کر اسکے بہرہ ہونے کا نتیجہ نکالتا ہے۔

آئیے مثال سے سمجھتے ہیں۔

آپ نے شاہ زیب خان کے قتل اور شاہ زیب جتوئی کیس تو دیکھا ہی تھا ناں۔ یوں سمجھ لیجیے، شاہ زیب وہ دو مقتول ہیں جو ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ اور ریمنڈ ڈیوس وہ وڈیرہ زادہ ہے جس کا نام شاہ رخ جتوئی تھا۔ پاکستانی ریاست جو مقتولوں کی ماں تھی، شاہ زیب کی ماں کو سمجھ لیجیے۔ اب شاہ زیب کی ماں کا آخری بیان زہن میں لائیے ، کہ انصاف چاہتی تو ہوں مگر میری دو جوان بیٹیاں ہیں۔ امریکہ اس وقت دنیا کا اسکندر جتوئی (شاہ رخ جتوئی کا باپ) ہے۔ اسکا بیٹا کسی کا بھی قتل کر دے تو وہ بچا لیا جائے گا۔

پاکستان کی دنیا کی قوموں کے درمیان کمزوری کا اکثر رونا روتا ہوں۔ یہی ہے وہ کمزوری، جب آپ کی پارلیمان سیاستدانوں کی رکھیل، آپ کی عدلیہ کے ججز آپ کے سیاستدانوں کے فون کے منتظر اور آپ کے جرنیل اپنی دفاعی ضروریات کے لیے امریکن ٹیکنالوجی اور ٹریینگ کے محتاج ہوں تو آپ کے ملک کی دنیا میں حیثیت شاہ زیب خان کی غریب ماں جیسی ہی ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے قرض لیکر آپ نے اپنی جوان بیٹیوں کی عزت کی حفاظت اگر کرنا ہے تو مسکین کی بے بسی سے چپ چاپ جوان بیٹوں کی موت کو حلق کے اندر ہی سسکیوں میں دفن کر دینا ہے۔


اقبال نے بھی یہی سمجھایا تھا، ؎ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔

اب آئیے اداروں اور سیاسی لیڈران کی طرف۔
ہمارے لونڈے لمڈے پاکستانی حکمرانوں کو امریکہ کے سامنے ڈٹ جانے کا کہتے ہیں تو انکے بڑے بوڑھوں کے کھنگورے حلق میں گھٹ جاتے ہیں۔ کیونکہ وینزویلا اور کیوبا کے حکمرانوں کے امریکہ کا سامنے ڈٹ جانے والوں کے پانامے نہیں ہوتے، اور نہ ہی انکے سوئس بینکوں میں اربوں کھربوں ہوتے ہیں۔
ہماری فوج اگرچہ دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے۔ مگر اسکے بھی ہزاروں کام امریکہ سے ہی نکلتے ہیں۔ ٹریننگ، دفاعی معاملات، اور سفارتی دباؤ بالاخر جرنیلوں پر بھی آتا ہے۔ اور ہمارے جرنیل بھی اسی دنیا میں رہتے ہیں۔

ریمنڈ ڈیوس نے صرف تفصیل بیان کی ہے، اور یہ بھی سمجھ لیجیے کہ اس نے اپنی طرف کی کہانی بیان کی ہے۔ اور اپنی کہانی بیان کرنے والا اپنے آپ کو صاف بچا لے جاتا ہے۔ مگر اس نے جو کچھ سچ بھی بیان کیا ہے، میرے اندازے کے مطابق ہمارے ملک کے ہر سوچنے اور سمجھنے والے کو پہلے سے اندازہ تھا۔ جب پارلیمان، عدالت، اور بارڈر تینوں کو نظر انداز کر کے کوئی بھی عمل سر انجام پائے تو بدھو سے بدھو کو بھی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ فوج، جج اور سیاستدان ایک ہی صفحے پر ہیں۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: