عشق کی انتہا :ایودھیا سے اندلُسیا تک — قیصر شہزاد

0
  • 159
    Shares

ریاست کوشالہ کی راج دھانی ایودھیا میں ہر طرف جشن کا سماں تھا اور کیوں نہ ہو تا بڑی تپسیا کے بعد راجا دسرتھ کے من کی مراد بر آئی تھی اور وہ بھی کچھ یوں کہ اس کی تینوں بیویوں کی کوکھ سے چار لڑکوں نے جنم لیا تھا: پہلی بیوی کوشلیا سےرام، منجھلی بیوی سمترا سے جڑواں بیٹے لکشمن اور شتروگن جبکہ تیسری اور کم عمر ترین بیوی کیکئی سے بھرت پیدا ہوئے تھے۔ بچےبڑے ہوئے تو شتروگن بھر ت کابھگت اور لکشمن کا من رام کا دیوانہ بن گیا۔ ایک لکشمن ہی کیا، اپنی دانائی اور رحمدلی اور ہمدردی کے سبب رام اپنے پرائے، دوست دشمن سب کے دل میں بستا تھا۔ جوان ہونے پر رام کی شادی ریاست مثیلا کے فلسفی بادشاہ جنک کی بیٹی سیتا سے ہوئی، یہ شادی کس طرح ہوئی یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے لیکن ابھی یہ سب جانے دیں۔

بالوں میں چاندی کے تاردیکھے تو راجا دسرتھ کا جی راج پاٹ سے اوبنے لگا۔ اس نے تاج رام کے سپرد کر کے جوگ لینے کی ٹھان لی اور رام کی تاج پوشی کا ڈنکا بجوادیا۔ لوگ راجا سے پیار تو بہت کرتے تھے اور اسی کو تخت پر بیٹھا دیکھنا چاہتے تھے لیکن رام نام سن کران کی اداسی خوشی میں بدل گئی۔ راجدھانی میں تاجپوشی کی تیاریاں دھوم دھام سے ہونے لگیں۔ سارا شہر رنگ اور خوشبو میں ڈوب گیا۔

آسمانوں پر ایک شریردیوی سراسوتی کو یہ سب ایک آنکھ نہ بھایا اور اس نے راجا کی من چاہی رانی کیکئی کی داسی منٹھارکو ان خوشیوں کو خاک میں ملانے کا ایک منصوبہ سجھا دیا۔ منٹھار اپنی لومڑی سی مکاری سے مالکن کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ تخت پر بیٹھنے کے بعد رام اور اس کی ماں آنکھیں پھیر لیں گے اور کیکئی اور بھرت سے ان کا پیار ماضی کا قصہ بن کر رہ جائے گا۔ اس لیے رام کی تاجپوشی جیسے بن پڑے رکوادی جائے۔ برسوں پہلے ایک مرتبہ کیکئی نے راجا کی جان بچائی تھی جس پر خوش ہوکر اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ اس کی کوئی سی دو خواہشیں ہر قیمت پر پوری کرے گا کیکئی نے دسرتھ کو اسی قسم کے شکنجے میں جکڑنے کی تیاری کرلی۔ راجا رات کو جب رانی کے پاس پہنچا تو اس کو کسی ناگن کی طرح پھنکار تے پاکر اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ دسرتھ کو دیکھتے ہی وہ اس پر برس پڑی کہ راجا کو جرات کیسے ہوئی کہ اس سے پوچھے بنا رام کو سنگھاسن پر بٹھانے کا ارادہ کرلیا؟ تخت پر اس کے بیٹے بھرت کا حق ہے۔ ۔ راجا نے اسے منانے کی بہتیری کوشش کی لیکن یہ سب کوششیں بے سود گئیں کیکئی نے راجا سے کہہ دیا کہ اب اس کے سامنے دو ہی صورتیں ہیں یا تو اپنی قسم پوری کرے اور اس کی دوفرمائشیں مان لے: پہلے یہ کہ رام کی بجائے بھرت کو راجا بنا دے اور دوسرے یہ کہ رام و سیتا کو چودہ برسوں کےلیے بن باس دے دے یا پھر اپنی قسم توڑ کر ہمیشہ کی بدنامی مول لے۔

 رام کی تاجپوشی کا فیصلہ راجا نے کیکئی کے مشورے کے بغیر کیا تھا اس لیے اپنی قسم پوری کرنے کے لیے بیوی کا پہلا مطالبہ تو مان گیا لیکن دوسرا مطالبہ اسے پہاڑسے بھاری محسوس ہوا۔ کہنے لگا: “مجھے بتاو تو سہی آخر رام کا دوش کیا ہے؟ سبھی اس کی اچھائی مانتے ہیں یہانتک کہ خود تم بھی اس سے پیار جتایا کرتی ہو۔ جس سے اس کے دشمن تک خوش ہوں، آخر اس کی اپنی ماں کیوں اس کی دشمن ہوگئی؟ بھرت تو میرا خون ہے اسے راجا کیوں نہ بناوں گا لیکن رام کو مجھ سے جدا نہ کرو! مچھلی جل کے بِنا جی سکتی ہے لیکن میں رام کو آنکھوں سے اوجھل کرکے جی نہ پاوں گا!” لیکن رانی کے پتھر دل پر کسی بات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ اپنی بات پر جمی رہی۔ یہ ہٹ دھرمی دیکھ کر راجا رانی کے پاوں میں گرپڑا اور اسے رام کی جلاوطنی کے بدلے اپنا سر تک پیش کردیا لیکن پتھر میں جونک نہ لگ سکی۔ غم سے بے حال ہوکر آخر کو راجا زمین پر گرپڑا اور لگا رام کو پکارنے۔ رام پہنچا تو باپ کو کسی بھوکی شیرنی کے سامنے پڑے بوڑھے ہاتھی کی طرح بےبس ولاچار پایا۔ رانی نے بے شرمی سے ساراقصہ رام کو کہہ سنایا۔ رام نے باپ کی قسم کا پاس رکھنے کے لیے ہنسی خوشی بن باس لینے کو تیار ہوگیا۔ رام نے اپنی بیوی سیتاکے ہمراہ راجدھانی کو الوداع کہنے کی تیاری کی اور سنیاسیوں کا سا لباس پہن جنگل کو روانہ ہوا تو اس کی محبت میں سوتیلا بھائی لکشمن بھی ساتھ ہولیا۔

اپنی اور رعایا کی تمناوں کا خون ہوتے راجا دسرتھ نہ دیکھ سکا اور چل بسا، دیکھتے ہی دیکھتے جشن مناتی راج دھانی پر ماتم چھا گیا۔

یہ سارا قصہ بھرت اور شتروگن کی غیر موجودگی میں پیش آیا تھا۔ جب انہیں باپ کی موت اور رام کی بن باس کا باعث بننے والی داسی منٹھار کی مکاری اور کیکئی کے لالچ کی خبر ہوئی تووہ غم و غصے سے بے حال ہوگئے۔ شتروگن یعنی عدو کش نے منٹھار کو مار مار کر ادھ موا کردیا۔ بھرت رام کی سوگوار ماں کوشلیا کے سینے لگ کر کہنے لگا: “ماتا! مجھ سے بڑھ کر سارے سنسار میں منحوس بیٹا کون ہوگا کہ جس کے کارن تمہیں یہ دن دیکھنے پڑرہے ہیں۔ کاش میری ماں نے جنم ہی نہ لیا ہوتا اور اگر پیدا ہو ہی گئی تھی تو کاش وہ بانجھ ہی رہتی اور مجھےجنم نہ دیا ہوتا، میں تو اپنے پریوار کےلیے بانسوں کے جنگل میں لگی آگ کی مانند ہوں! “

راجا کی چتا کو آگ لگانے کے بعد سب نے بھرت کو تخت سنبھالنے کا کہا پر اس نے یہ کہہ کر راج پاٹ ٹھکرا دیا: ” جب رام اور سیتا کے پوتر چرن نہ ہوں تو یہ تخت و تاج کس کام کا؟ رام اور سیتا کو واپس لا کر راجا رانی بنائے بغیر چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ “

ایک لمبے سفر کے بعد بھرت، تین رانیوں، بڑے درباریوں اور ایودھیا باسیوں پر مشتمل یہ قافلہ جنگل پہنچا۔ پہلے تو بچھڑے بھائی مل کر مرے باپ کو خوب روئے۔ ایک آدھ روز بعدبھرت نے رام کو رام کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ کسی صورت باپ سے کیے وعدے کو توڑ کر راجدھانی واپس جانے پر راضی نہ ہوتا تھا۔ بھر ت نے ہر حربہ آزما لیا۔ سب لنے اپنی سی کرلی لیکن کوئی منت سماجت، کوئی دلیل رام کے پہاڑ جیسے ارادے کو ہلا نہ سکی۔ دوسری جانب بھرت بھی اپنی ہٹ کا پکا تھا، مکاری اور عیاری سے خالی کرائے گئے تخت پر بیٹھنے کا نام بھی لینے نہ دیتا تھا۔ اس کی ضد یہی تھی کہ یا رام واپس جائے یا اسے بھی اپنے ساتھ جنگل میں رہنے دے اور ایودھیا کا تاج و تخت کسی دوسرے بھائی کو دے دے۔ دو بھائیوں کی اس ضد کے نتیجے میں ریاست کا وجود ہی خطرے میں پڑتا دکھائی دینے لگا۔ ہر کوئی اسی سوچ میں تھا کہ اس بند گلی سے باہر کیسے نکلا جائے۔ اسی وقت رام کے گیانی سسر مہاراج جنک کی آمد کا شور مچ گیا۔ دونوں بھائیوں نے پیار اور دھرم کی اس لڑائی کا فیصلہ مہاراج جنک کے سپرد کیا۔ اگلے روز جنگل میں سبھا ہو ئی۔ ایک طرف رام دوسری طری بھرت۔ درمیان میں مہاراج جنک اور سامنے زمین پر ایودھیا کا تاج اور رسمِ تاجپوشی میں کام آنے والی سب چیزیں دھری تھیں۔ رام کو فرض سے اپنی محبت اور بھرت کو اپنے جذبے کی سچائی پر یقین تھا اور یوں دونوں میں سے ہر ایک سمجھ رہا تھا کہ جیت اسی کی ہوگی۔ ہر ایک کی نظر جنک پر جمی تھی کہ اس گتھی کو کیسے سلجھائیں گے۔

مہاراج جنک کہنے لگے: ” تاج و تخت کے حصول کی خاطر بھائیوں کی لڑائیا ں ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ لیکن پیار اور قربانی کی یہ لڑائی ایسی انوکھی ہے کہ خود دیوتا بھی اسے حیرت سے دیکھ رہے ہوں گے۔ ایک جانب راست بازی کا مجسمہ رام ہے تو دوسری جانب پیار کی اوج بھرت! دھرم اور پریم کی اس جنگ کا فیصلہ کرنا بہت کٹھن ہے۔ اپنے بل بوتے پر تو میں یہ گتھی کبھی نہ سلجھا پاوں گا۔ اس لیے میں بھگوان سے پرارتھنا کروں گا اور اس سمے میرے دل میں جو وہ ڈال دیں کہہ دوں گا۔ ” کچھ دیر خاموشی سے سرجھکائے رکھنے کے بعد انہیں نے لب کھولے:

 ” سارا سنسار دھرم اور قاعدے قانون پر ہی چلتا ہے اگر دھرم کی پابندی نہ رہے تو یہ سب تلپٹ ہوجائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر کوئی اپنے کہےپر جما رہے اور ہرگز اپنی بات سے نہ پھرے۔ ” یہ سن کر لوگ سمجھ گئے کہ رام کی جیت ہوئے اور بھرت کی محبت ہار گئی۔ لیکن مہاراج نے اپنی بات ا بھی پوری نہ کی تھی:

” لیکن سچی اور بے لوث محبت ایسی طاقت ہے جس کے سامنے کوئی دھرم، کوئی قاعدہ، کوئی قانون نہیں ٹھہر سکتا۔ پیار کی خاطرتو بھگوان بھی اپنا قانون توڑ دیا کرتا ہے۔ اس لیے دھرم اور پیار کی لڑائی میں جیت، بھرت، تمہاری ہوئی۔ “

اب بھرت اور ایودھیا سےآئے سب لوگوں کے من کی مراد پوری ہوگئی۔ انہیں لگا کہ اب ان کے دیس پر آئی ایک بڑی بلا ٹل گئی ہے۔ لیکن مہاراج جنک نے پورا فیصلہ ابھی سنانا تھا، انہوں نے ہاتھ سے اشارے سے لوگوں کو خاموش کیا اور کہا:

۔

اس کے بعد کی داستان کو ابھی یہیں رہنے دیجئے اور ذرا ایودھیا سے اندلسیا چلیے جہاں عشق کے ایک عظیم رمز شناس ابنِ عربی ہمیں کچھ بتانا چاہتے ہیں۔

آتشِ ہجراں میں تنہا جلنا میرے لیے

وصال کی ہم آغوشی سے لذیذ ترہے

کہ وصال میں تو میں اپنی چاہت کا پجاری بن جاتا ہوں

لیکن اپنے محبوب کی اصل غلامی مجھے ہجر میں ہی نصیب ہوتی ہے۔ (فتوحات مکیہ)

اب آئیے ایودھیا واپس چلتے ہیں جہاں مہاراج جنک پریم اور دھرم کی کھینچا تانی میں پھنسے دوبھائیوں کے درمیان اپنا حتمی فیصلہ سنانے والے تھے۔ ابھی تک ان کی بات سے یہی معلوم ہوا تھا کہ محبت اور قانون آمنے سامنے آجائیں تو قانون سر جھکادیتا ہے، وہ قانون انسانی ہو یا خدائی۔ لیکن یہاں بات ختم نہ ہوئی تھی، مہاراج کچھ اور بھی کہنے والے تھے:

“بھرت یاد رکھو، پریم کے آگے کوئی دھرم یا قانون نہیں ٹھہر سکتا لیکن پریم کا اپنا بھی ایک قانون ہو کرتا ہے۔ وہ یہ کہ پریم کبھی خود غرض نہیں ہوتا۔ پریمی دینے والا ہوتا ہے، اپنے محبوب سے کبھی کچھ مانگتا نہیں۔ اس لیے اگر تم سچے پریمی ہو تو رام کے چرنوں میں بیٹھ کر اسی سے پوچھو کہ وہ تم سے کیا چاہتا ہے۔ ” ایک سچے پریمی کی طرح بھرت یہی کہتا ہے کہ وہ رام کی خاطر اپنی جان دے سکتا ہے لیکن جنک اسے پھر سمجھاتے ہیں کہ جان دینا مشکل کام نہیں بلکہ اپنے محبوب کے لیے زندہ رہنا اصل امتحان ہے۔

 جب بھرت کی آنکھوں سے پردے ہٹ گئے تو وہ مہاراج جنک کے کہے پر بھائی کی مرضی پوچھنے کے لیے اس کے چرنوں پر جھک گیا۔ رام بھی اب وہ پہلے والا رام نہ رہا تھا پیار سے اپنے چھوٹے بھائے کو اٹھایا اور کہا۔ ۔ ۔ ۔ ” مجھے پہنانے کے لیے جو تاج تم لے کر آئے ہو میں اسے قبول کرتا ہوں اور ایودھیا کا راج سنبھالنے کو تیار ہوں۔ لیکن کیا تم یہ چاہو گے کہ ہمارا باپ جس نے آخری سانس اس یقین کے ساتھ لی تھی کہ اس کا بیٹا اس کی بات کا پاس کرے گا، شرمندہ ہو ؟، اس لیے تم سے میری درخواست ہے کہ چودہ برس میرے نام پر تم ایودھیا کے تخت پر بیٹھو۔ اور بن باس پورا ہونے پر میں لوٹ کر تم سے وہ واپس لے لوں گا۔ ” بھرت نے اپنی خواہش کو بھائی کے حکم پر قربان کردیا اور اس کے جوتے لے کر سر پر رکھے اور تینوں ماتاوں اور ایودھیا باسیوں کے ساتھ راج دھانی کو آنسووں بھری آنکھوں کے ساتھ چل دیا۔

رام بھگت لے چلا رے رام کی نشانی

شیش پر کھڑاوں، اکھیوں میں پانی

بھرت کی اکھیوں میں یہ پانی کیوں؟ کیا اس نے پریم کا قانون مان نہیں لیاتھا ؟ کیا اس نے اپنی خواہشِ وصال کو محبوب کے حکمِ فراق پر قربان نہیں کردیا تھا؟ اس کے آنسو ظاہر کرتے ہیں کہ اس نے اپنی خواہش اور ارادے کو تو قربان کردیا لیکن اپنی روح تک قربانی نہ لے جاسکا۔ مکمل قربانی وہ ہے جس میں اپنی خواہش کے ناموافق بات سمجھ بھی آجائے اس پر عمل بھی ہوجائے اور دل کو قرار بھی آجائے۔ بھرت کی آنکھوں کا پانی بتاتا ہے کہ اسے سمجھ تو آگئی، اس نے کر بھی دکھایا، مگر اسے صبر نہ آیا۔ لیکن عاشق سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ عاشق بھی کہلائے اور جدائی کو برداشت نہ کرے بلکہ جدائی کو “پسند کرے “کیا اس سے ناممکن کی توقع نہیں۔ ابنِ عربی نے اسی ناممکن کو ممکن کردکھانے کا دعوی کیا تھا۔ ایودھیا سے اندلسیا پہنچیے تو یہی پتہ چلے گا کہ عشق کی انتہاء دو انتہاوں کو آپس میں ملادینا ہے!

 شاید اقبال نے اسی لیے کہا تھا

تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں!


حوالہ جات:

۱) تلسی داس، رام کاریتامناس (گورکھ پور، ۲۰۱۳)

۲)رامائن، دور درشن ٹی وی سیریز، ۱۹۸۶ (قسط ۲۵) رامائن پر بے شمار فلمیں ڈرامیں اور کارٹون بن چکے ہیں لیکن یہ سیریز اس حوالے سے اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں رامائن کے متعدد سنسکرت، تامل، اردو نسخوں کو جمع کرکے مکمل ترین صور ت میں داستان پیش کی گئی تھی۔ اس زمانے میں اس سیریز کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پورے بھارت میں بسوں اور ریل گاڑیوں کے نظام الاوقات اس سیریز کے وقت سے مطابقت میں تیار کیے جاتے تھے۔

۳) ابنِ عربی، الفتوحات المکیہ،

۴) ہم نے رامائن، ابن عربی اور ۱۹۴۱ کی فلم کاسابلانکا کے تناظر میں انگریزی میں ایک تحریر اپنے بلاگ پر پہلے تحریر کی تھی لیکن اس میں تلسی داس کی کتاب سےجس میں یہ سب تفصیلات سب سے زیادہ موجود ہیں، رجوع نہیں کیا تھااس کے علاوہ وہاں تجزیہ اجمالی اور عبوری نوعیت کا تھا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: