ہم کس گلی جا رہے ہیں: سحرش عثمان

0

ہم کس گلی جا رہے ہیں___ ارے ارے رکیے تو آپ لوگ ہلکا سا صحیح اور ہلکا سا غلط سمجھ رہے ہیں_ ہم ابھی سر لگانے کے موڈ میں نہیں_ گوکہ عاطف اسلم جتنے سریلے تو ہم ہیں ہی اور بولیں تو ایسے ہی لگتا ہے کوئل کوک ووک رہی ہے_ لیکن ایک دفعہ پھر رکیے ہم یہاں اپنے سریلے آہنگ کی ایڈورٹیزمنٹ ہرگز نہیں کرنے والے_ ہم تو یہاں ایڈورٹیزمنٹ کی دنیا کے سُر بلکہ بے سُرے راگ بیان کرنے کی جسارت کرنے لگے ہیں_ بات وہاں سے شروع ہوئی جب ہم حسب عادت حسب معمول اور حسب ذائقہ فون استمال کرتے ہوئے ٹی وی دیکھنے میں بری طرح مصروف تھے_کہ لیمن میکس کا ایڈ نظر سے گزرا جسمیں بیٹا ماں باپ بہن بھائیوں سے چھپا کہ بیوی کے لیے بریانی قورمہ لاتا ہے_ اور جھوٹ بولتا ہے کہ اسے بھوک نہیں بعد میں ‍ سارے گھرانے سے چھپ کے اپنی بیوی کے ساتھ وہ بریانی کھاتا ہے_ واہ کیا ہی خیال آفرینی تھی ایڈ میں_ اگلا ایڈ کیو موبائل کا تھا ماہیرہ خان انتہائی غیر مناسب لباس میں بہترین سیلفی لینے پیرس نیویارک گھوم رہی تھیں_تیسرے ایڈ میں وسیم بادامی آبشار کے سرہانے سے حسن یوسف چرا کر صابن بناتے ہوئے پائے گئے_ کہانی میں ٹوئسٹ آیا اور پیپسی کے بتائے ہوئے ابا جی کے ظلم وستم پر ہماری آنکھیں بھیگ بھیگ گئیں- اور کوک نے جب میرے “چلر” کو دگنا کرنے کا بتایا تو جی چاہا جمبو سائز بوتل میں سٹرا ڈال کہ پیا کرو کیا ہی نیک دل لوگ ہیں یہ__ اور جب آخری ایڈ میں سجل خان کے بتانے پر ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ انتہائی واہیات لگنے لگا_ تو ہم نے گھبرا کر ٹی وی بند اور اپنا فون آن کر لیا_ بھئی ہماری بلا سے جو ٹی وی دیکھتے ہیں ان کا ہیڈک ہے ہم کیوں سر کھپاتے پھریں_ لیکن ٹوٹل تین منٹ ہی فون استمال کیا ہوگا کہ اندر کے ہٹ دھرم فسادی نے کانسنٹریٹ کرنے سے انکار کردیا_ اب جیسا کہ تقریبا آپ سبھی کو معلوم ہے کہ سکرین سکرول اپ اور سکرول ڈاؤن کرنا کسقدر توجہ طلب کام ہے- اور اس منتشر خیالی کے ساتھ یہ کرنا ممکن نہیں تھا- لہذا فون گود میں رکھ کر لگے سوچنے کہ یہ “ہم کس گلی جا رہے ہیں؟ کہاں گئے وہ سب مشرقی روایات والے سوشل مینرز والے ایٹی کیٹس کے ٹے پر ناک سکورنے والے سب کیا ہوئے؟ یہ ہم ایڈورٹیزمنٹ کے نام پر کیا سلو پوائزن بلکہ سویٹ پوائزن اپنی نسلوں کو دے رہے ہیں چپ چاپ بلکہ ہنسی خوشی؟ کبھی گھی پر پورا خاندان ناچتا ہے تو کبھی اماں ابا سے چھپا بلکہ اپیرنٹلی انہیں دھوکہ دے معاملات سلجھاتا ہے- کولا ڈرنکس پی کر بچے باپ سے زیادہ باشعور ہونے لگتے ہیں- شاعر آج کہتے تو یوں کہتے ہم ایسے کل کمرشلز قابل ضبطی سمجھتے ہیں_ کہ جن کو دیکھ کر بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں- یہ ایڈز کسقدر خاموشی سے جھوٹ کو دھوکے کو خوش نماء کر کے پیش کرتے ہیں کہ ہمیں گمان بھی نہیں گزرتا کہ جس بات کی تبلیغ کی جا رہی ہے وہ غلط ہے- آج کی دنیا میں ہمیں تو اپنے بچوں کو سچ بولنا سیکھانا ہے_ تاکہ وہ اپنے معاملات میں کھرے ہوں دنیا انہیں دھوکے باز بدیانت نہ سمجھے. ہمیں تو اپنے بچوں کو کمٹمنٹ نبھانے والا بنانا ہے__تاکہ وہ اوروں کے ساتھ کیے وعدے پورے کریں تاکہ دنیا ان کے ساتھ ڈیلنگز کرتے ہوئے ڈرے نہیں. پر افسوس ہم عجیب قوم ہیں چار چار سال کے بچے کے ہاتھ میں ٹی وی کا ریمورٹ دے کر ہم مطمئن زندگی گزارتے ہیں- باپ اے ٹی ایم مشینں اور مائیں برینڈ ایمبیسڈرز- پھر دو چار سال گزر جائیں تو یہ ماں باپ شکوہ کرتے ہیں بچے بات نہی سنتے.بچے جھوٹ بولتے ہیں بچے دھوکہ دیتے ہیں- بچے ایگریسو ہیں اور بچے غصیلےہیں- کیا ہم پاگل ہیں؟ بند گلی کی مساافرت اختیار کرکے ہم منزل پر پہنچنا چاہتے ہیں- ذرا سے تھوڑا زیادہ سوچیے!یہ بچے یہ نسلیں میری آپکی ہم سب کی ذمہ داری ہیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیے- ورنہ زمانہ تو چال قیامت کی چل ہی رہا ہے-

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: